30/09/2024
مفتی طارق مسعود صاحب سے گزارش
مفتی صاحب مختلف مکاتب فکر نے اپنی استطاعت اور بساط کے مطابق ترہین مذہب اور توہین رسالت کے قوانین سے فائدہ اٹھایا ہے جس کا جتنا بس چل سکا اس نے اتنے مخالفین کو مارا ، مروایا اور پھنسایا۔
ہم تو سیدھے سادھے لوگ ٹھہرے ان قاتلوں کو گلوریفائی تو آپ ہی کے پیٹی بھائیوں نے کیا
کبھی بھی کسی کا موقف نہیں سنا گیا نہ ہی اس موقف کو میڈیا پر پیش کیا گیا۔
اب آپ نے اپنے آپ کو مبرا کر لیا اور اپنا موقف سوشل میڈیا پر پش کر دیا لوگ اسے سن کر اس پر اپنی رائے پیش کر رہے ہیں۔
عوام دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔
خدا راہ اس عوام کو تقسیم ہونے سے بچایئے
کوئی فرق نہیں پڑتا آپ اپنی جان کی قربانی دے دیجیے۔
جس دھج سے کوئی مقتل گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
اور ویسے پنجابی کی ایک کہاوت ہے
ماڑے دی مر گئی ماں تے کوئی لیندا نئیں ناں
تگڑے دا مرگیا کتا تے پنڈ سارا نئیں ستا
جناب تسی تگڑے او
اگر آپ جان کی قربانی دیں گے تو ہی اس قربانی کی کوئی وقت ہوگی اس بات پر بحث ہوگی
لوگ رائے دیں گے کہ توہیں کا الزام کسی بے گناہ کے سرپر تھوپنا نہیں چاہیے۔
اور اگر ایسا الزام کوئی لگاتا ہے تو الزام ثابت نہ ہونے پر وہی پھانسی کا پھندہ لگانے والے کے گلے میں ڈالنا چاہیے۔
اب اگر آپ ایسے چھپتے پھریں گ تو بات کیسے بنے گی۔
ڈریں نہیں یہ تو دین کی اور معاشرے کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔
اللہ نے آپ کو موقع دیا ہے
آئیں کینڈا کے خوبصورت مناظر کو چھوڑیں اللہ کی جنّت کینیڈا سے بہت زیادہ خوبصورت ہے۔
وہاں دودھ شہد کی نہریں بہ رہی ہوں گی۔ اور ستر ستر حوریں ہوگی۔
حوروں کے حوالے سے تو آپ کا اور مولانا طارق جمیل صاحب کا شغف بھی کافی دلچسپ پے۔
حضور ھر کہوں گا یہ جان تو آنی جانی ہے۔
دیکھیں کشمیر کے نام پر افغان جہاد کے نام پر بھی تو ہزاروں مسلمان شہید ہوےئ تھے ناں
اگر وہ بھی امریکہ کینڈا میں چھپ کے بیٹھ جاتے تو دین کی خدت کیسے ہوتی
کہاں سے بنتے جامعات کے تنے بڑے کیمپسز کہاں سے آتیں کروڑوں کی لگژری گاڑیاں جن پر سواری کرکے علمائے کرام دین کی مزید خدمت کے لیے جوانوں کو ابھارتے مزید شہادتیں ہوتیں۔
مولانا دین تو لہو مانگتا ہے اور اگر آج دین کی سرفرازی کے لیے آپ کو لہو دینا پڑ رہا ہے تو عار کیسی؟
مولانا آپ تو خوش قسمت ہیں اللہ نے آپ کو اس مقصد کے لیے چنا۔
آئیے بسم اللہ کیجیے اور اپنا وجود مجاہدین ختم نبوت اور محبن و عاشقان رسول کے حوالے کر دیجیے۔ ہوسکتا ہے آپ کی غلطی کی تلافی توبہ سے نہ ہوتی ہو اس کے لیے کفارہ لازم ہو۔
اور یہ لہو آپ کے کفارے کا سبب بھی بن جائے۔
مولانا یہی جملے ہمارے نوجوان کئی عشروں سے سن سن کر جانیں دیتے آئے ہیں۔
آج اگر اپ کوئی ویسی ہی دین کی خدمت کے لیے ابھار رہا ہے تو تردد کیسا؟
امید ہے آپ ملک و ملت کے مفاد کے لیے بہتر فیصلہ کریں گے۔
وسیم لیاقت