Daily Independent Pakistan

Daily Independent Pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Daily Independent Pakistan, Travel Agency, Sialkot.

03/07/2026

2026 کے ٹاپ 20 مفت AI ٹولز جو ہر سکول، پرنسپل اور استاد کو معلوم ہونے چاہییں

کیا آپ کا سکول اب بھی ایسے کاموں پر گھنٹوں صرف کر رہا ہے جو آج مصنوعی ذہانت (AI) صرف چند منٹوں میں مکمل کر سکتی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کے تعلیمی ادارے AI کی مدد سے اپنی انتظامیہ، تدریس، امتحانات، والدین سے رابطے اور سوشل میڈیا کو زیادہ مؤثر، تیز اور کم خرچ بنا رہے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی ٹولز مفت یا مفت پلان کے ساتھ دستیاب ہیں۔
1۔ ChatGPT
اساتذہ کے لیے لیسن پلان، ورک شیٹس، امتحانی سوالات، SOPs، رپورٹس، خطوط اور تعلیمی مواد تیار کرنے کے لیے۔

2۔ Google Gemini
تحقیقی مواد، سبق کی منصوبہ بندی، پریزنٹیشن آئیڈیاز اور تعلیمی رہنمائی کے لیے۔

3۔ Microsoft Copilot
Word، Excel اور PowerPoint کے کام تیزی سے مکمل کرنے کے لیے۔

4۔ Canva AI
سکول پوسٹرز، داخلہ مہم، سرٹیفکیٹس اور سوشل میڈیا ڈیزائن بنانے کے لیے۔

5۔ MagicSchool AI
اساتذہ کے لیے خصوصی AI پلیٹ فارم، جس سے لیسن پلان، سوالنامے اور کلاس روم سرگرمیاں تیار کی جا سکتی ہیں۔

6۔ Khanmigo (Khan Academy AI)
طلبہ اور اساتذہ کی تعلیمی معاونت کے لیے۔

7۔ NotebookLM
سکول کی پالیسیز، نصاب اور دستاویزات کا خلاصہ اور سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے۔

8۔ Gamma
چند منٹوں میں پروفیشنل پریزنٹیشن تیار کرنے کے لیے۔

9۔ Napkin AI
تحریر کو خوبصورت ڈایاگرامز اور بصری خاکوں میں تبدیل کرنے کے لیے۔

10۔ Perplexity AI
مستند معلومات اور تحقیق کے لیے۔

11۔ Google Forms AI
سروے، کوئزز اور داخلہ فارم جلد تیار کرنے کے لیے۔

12۔ Quizizz AI
خودکار کوئزز اور اسیسمنٹس بنانے کے لیے۔

13۔ Quizlet AI
طلبہ کے لیے فلیش کارڈز اور امتحانی تیاری کے لیے۔

14۔ Diffit
مختلف جماعتوں کے مطابق تدریسی مواد آسان یا مشکل بنانے کے لیے۔

15۔ Curipod
انٹرایکٹو کلاس روم پریزنٹیشنز بنانے کے لیے۔

16۔ Eduaide.AI
اساتذہ کے لیے تعلیمی سرگرمیاں، سوالات اور اسائنمنٹس تیار کرنے کے لیے۔

17۔ ElevenLabs
قدرتی آواز میں آڈیو اسباق اور اعلانات ریکارڈ کرنے کے لیے۔

18۔ Grammarly
انگریزی ای میلز، رپورٹس اور نوٹسز کو بہتر بنانے کے لیے۔

19۔ Otter.ai
میٹنگز کو خودکار نوٹس میں تبدیل کرنے کے لیے۔

20۔ Google AI Studio
تعلیمی آٹومیشن اور AI تجربات کے لیے جدید مگر مفت پلیٹ فارم۔

(AI SOPs)

* ہر استاد کو AI کے استعمال کی بنیادی تربیت دی جائے، مگر تیار شدہ مواد کو استعمال کرنے سے پہلے لازماً انسانی نظرثانی کی جائے۔
* طلبہ کی ذاتی معلومات یا حساس ڈیٹا کسی بھی AI پلیٹ فارم پر شیئر نہ کیا جائے۔
* امتحانی سوالات، رپورٹس اور لیسن پلان AI سے تیار کرنے کے بعد نصاب اور سکول پالیسی کے مطابق جانچ کیے جائیں۔
* ہر شعبہ کم از کم ایک AI ٹول کو اپنے روزمرہ کام میں شامل کرے اور ہر ماہ اس کے نتائج کا جائزہ لیا جائے۔
* اے آئی (AI) کو اساتذہ کا متبادل نہیں بلکہ معاون سمجھا جائے، تاکہ تدریس کا معیار برقرار رہے۔

تعلیم کا مستقبل صرف ڈیجیٹل نہیں بلکہ سمارٹ ہے۔ وہ سکول جو آج AI کو سمجھ کر اپنائیں گے، وہ آنے والے برسوں میں وقت، اخراجات اور تعلیمی معیار—تینوں میں نمایاں برتری حاصل کریں گے۔

آپ کے سکول میں اس وقت کون سا AI ٹول استعمال ہو رہا ہے، یا آپ سب سے پہلے کون سا ٹول آزمانا چاہیں گے؟ اپنی رائے اور تجربہ کمنٹ میں ضرور شیئر کریں۔
محمد حسن عسکری
ایجوکیشنل کنسلٹنٹ اینڈ ریسرچر



02/07/2026

#الرٹ

سوشل میڈیا پر آپکا اکاونٹ ہیک کر کے فرینڈ لسٹ میں ایڈ لوگوں سے پیسے منگوانے،نفرت انگیز، فحش مواد، مذہب کے خلاف اور صحابہ کرام کی شان میں گستاخانہ مواد شیئر کرنے والا کام جاری ہے۔۔۔
ایسی صورت حال میں اگر میرے سوشل میڈیا کے اکاونٹ سے کوئی آپ کو میسج کر کے پیسے مانگے یا نفرت انگیز یا کسی بھی قسم کی کوئی غیر اخلاقی پوسٹ وغیرہ شیئر کرے تو اس سے میرا کوئی تعلق نہیں اور آپ پرسنلی مجھ سے رابطہ کر کے وضاحت طلب کر سکتے ہیں۔۔۔ شکریہ

27/06/2026

کیا آپ کا اسکول اب بھی صرف 3 گھنٹے کے امتحانی پرچے پر بچے کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے؟

​آئیے اس روایتی اور فرسودہ نظام کو بدلیں! جدید تعلیمی دنیا اب رزلٹ کارڈز سے آگے نکل کر "سٹوڈنٹ پورٹ فولیو سسٹم" پر شفٹ ہو چکی ہے۔
​فن لینڈ (Finland)، امریکہ (USA) اور سنگاپور (Singapore) جیسے ترقی یافتہ ممالک اس کامیاب نظام کو اپنے اسکولوں میں نافذ کر چکے ہیں۔ جہاں امتحانی نمبروں سے زیادہ بچے کی حقیقی صلاحیتوں کو دیکھا جاتا ہے۔
​مشہور ماہرِ تعلیم جان ڈیوی (John Dewey) نے سچ کہا تھا:
​"تعلیم زندگی کی تیاری کا نام نہیں، بلکہ تعلیم خود زندگی ہے اور یہ ایک مسلسل عمل ہے۔"
​اور اسکول اسیسمنٹ کے عالمی ماہر تھامس گسکی (Thomas R. Guskey) کا ماننا ہے:
​"روایتی گریڈز اور نمبر یہ بتاتے ہیں کہ بچہ کہاں کھڑا ہے، لیکن ایک پورٹ فولیو یہ بتاتا ہے کہ بچے نے سفر کہاں سے شروع کیا تھا اور وہ کتنی ترقی کر چکا ہے۔"

​ سٹوڈنٹ پورٹ فولیو ہے کیا؟

​یہ بچے کے پورے سال کے تعلیمی سفر، اخلاقی تربیت، تخلیقی پراجیکٹس اور اس کی بہترین کاوشوں کا ایک منظم دستاویزی مجموعہ (Collection) ہوتا ہے۔ یہ بچے کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے جو صرف آخری نتیجہ نہیں، بلکہ سیکھنے کا پورا عمل دکھاتا ہے۔

​ اس جدید سسٹم کے تینوں اسٹیک ہولڈرز کو فوائد:

​1۔ طالب علم (بچے) کو فائدہ:
​خود اعتمادی اور حقیقی مقابلہ: بچے کا مقابلہ دوسروں سے کرنے کے بجائے اس کی اپنی ذات سے ہوتا ہے، جس سے اس کا گراف اوپر جاتا ہے۔
​پوشیدہ صلاحیتوں کا نکھار: پڑھائی کے ساتھ ساتھ پراجیکٹس، آرٹ اور گروپ ورک (Group Work) سامنے آنے سے بچے کی چھپی ہوئی صلاحیتیں دنیا کے سامنے آتی ہیں۔
​کردار سازی: اخلاقی عادات اور ڈسپلن کا ریکارڈ رکھنے سے بچے کی بہترین کردار سازی (Character Building) ہوتی ہے۔
​2۔ والدین کو فائدہ:
​شکایتوں کے بجائے ثبوت: پی ٹی ایم (PTM) پر والدین کو روایتی زبانی گلے شکووں کے بجائے دستاویزی ثبوت ملتا ہے۔
​بچے کی مکمل شخصیت سے آگاہی: والدین جان پاتے ہیں کہ ان کا بچہ امتحان کے علاوہ مستقبل کی کون سی مہارتیں (Future Skills) سیکھ رہا ہے۔
​گھر پر درست رہنمائی: بچے کی بنیادی کمزوریوں (Basic Weaknesses) کا بروقت پتہ چلنے سے والدین گھر پر درست سمت میں محنت کروا سکتے ہیں۔

​3۔ اسکول اور اساتذہ کو فائدہ:
​پریمیم برانڈنگ: یہ سسٹم آپ کے اسکول کو روایتی رٹا سسٹم والے اسکولوں سے الگ کر کے مارکیٹ میں ایک پریمیم برانڈ بنا دیتا ہے۔
​والدین کے اعتراضات کا خاتمہ: رزلٹ پر والدین کے ہر اعتراض کا جواب اس فائل میں موجود "پروف" کی شکل میں ہوتا ہے۔
​داخلوں میں خود بخود اضافہ: جب مطمئن والدین اسکول کا یہ پروفیشنل نظام دوسرے لوگوں کو دکھاتے ہیں، تو اسکول کے داخلے خود بخود بڑھتے ہیں۔

​ سٹوڈنٹ پورٹ فولیو بنانے کا طریقہ (Step-by-Step Guide)
​اگر آپ اپنے اسکول میں یہ جدید سسٹم لانا چاہتے ہیں، تو ان 5 آسان مراحل پر عمل کریں:

​1️⃣ مرحلہ 1: فائل یا ڈیجیٹل فولڈر کا سیٹ اپ (The Setup)
​آف لائن کے لیے: بازار سے ہر بچے کے لیے ایک پائیدار رنگ فائل (Ring File) یا پلاسٹک کلیئر پاکٹ فائل لیں۔ فائل کے فرنٹ پر بچے کا نام, رول نمبر اور کلاس کا خوبصورت پرنٹ شدہ لیبل لگائیں۔
​آن لائن کے لیے: گوگل ڈرائیو (Google Drive) پر اسکول کے نام کا اکاؤنٹ بنا کر ہر کلاس کا الگ فولڈر اور اس کے اندر ہر بچے کے نام کا سب-فولڈر ترتیب دیں۔
​2️⃣ مرحلہ 2: فائل کو 4 حصوں میں تقسیم کریں (Sections)
فائل یا فولڈر کے اندر کلر شیٹس (Dividers) لگا کر یہ چار بنیادی حصے بنائیں:
​حصہ اول (ذاتی معلومات): بچے کی تصویر، بائیو ڈیٹا اور اس کے سالانہ تعلیمی و اخلاقی اہداف (Goals)۔
​حصہ دوم (تعلیمی سفر): بچے کے ہر ماہ کے بہترین ٹیسٹ، خوشخطی (Handwriting) کے نمونے اور ورک شیٹس۔
​حصہ سوم (مهارتیں اور پراجیکٹس): ڈرائنگ، کمپیوٹر اسائنمنٹس اور گروپ ورک (Group Work) کی تصاویر یا رپورٹس۔
​حصہ چہارم (کردار سازی): بچے کے اچھے اخلاق، نظم و ضبط اور مثبت رویے پر اساتذہ کے ماہانہ ریمارکس۔
​3️⃣ مرحلہ 3: ڈیٹا جمع کرنے کا شیڈول (Data Collection Schedule)
اساتذہ پر بوجھ ڈالے بغیر ڈیٹا جمع کرنے کا ایک آسان ایس او پی (SOP) بنائیے:
​ٹیچرز روزانہ کام جمع نہیں کریں گے، بلکہ ہر 15 دن بعد بچے کا صرف وہ کام منتخب کریں گے جو سب سے بہترین ہو یا جس میں بچے نے کوئی خاص بہتری دکھائی ہو۔
​بچے کی ریڈنگ، رائٹنگ یا ریاضی کی بنیادی کمزوریوں (Basic Weaknesses) کا ایک سادہ چیک لسٹ فارم بنائیں، جسے استاد ہر ماہ کے آخر میں ٹک کر کے فائل میں لگا دے۔
​4️⃣ مرحلہ 4: بچے کو شامل کریں (Student Reflection)
​مہینے میں ایک بار ہر بچے کو اس کی پورٹ فولیو فائل دکھائی جائے اور اس سے پوچھا جائے کہ: "اس پورے مہینے میں آپ کو اپنا کون سا کام سب سے زیادہ پسند آیا؟"
​بچے کے اس پسندیدہ کام پر ایک خوبصورت اسٹیکر یا اسمائلی فیس لگائیں۔ اس سے بچے کے اندر خود اعتمادی اور اپنے کام کی ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
​5️⃣ مرحلہ 5: پی ٹی ایم پر نمائش (The PTM Showcase)
​جب والدین پی ٹی ایم (PTM) پر آئیں، تو روایتی زبانی شکایتوں یا تعریفوں کے بجائے یہ پورٹ فولیو فائل ان کے سامنے رکھیں۔
​جب والدین اپنے بچے کا پورا تعلیمی اور اخلاقی سفر، اس کی خطاطی، پراجیکٹس اور اساتذہ کے مشاہدات دستاویزی ثبوت کے ساتھ دیکھیں گے، تو ان کا اسکول کے System پر اعتماد سو گنا بڑھ جائے گا۔

​ آف لائن اور آن لائن ڈیٹا سیکورٹی ایس او پیز (SOPs)

​آف لائن ایس او پی: تمام طبعی (Physical) فائلیں اسکول کی مخصوص الماری (Portfolio Cupboard) میں رول نمبر وائز ترتیب سے لاک رہیں گی اور کوئی بھی فائل اسکول کی حدود سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
​آن لائن ایس او پی: ڈیجیٹل فائلز کو پی ڈی ایف (PDF) فارمیٹ میں ایک مخصوص طریقہ کار(جیسے RollNo_Name_Class) کے ساتھ اپلوڈ کیا جائے گا اور والدین کو صرف ان کے اپنے بچے کے فولڈر کا "View-Only" لنک فراہم کیا جائے گا

ایک بہترین تعلیمی ادارہ وہی ہے جو وقت کے ساتھ اپنے نظام کو اپ گریڈ کرتا ہے یہ تحریر آپ کے لیے کس حد تک مددگار ھے اور کیا آپ کے اسکول میں سٹوڈنٹ پورٹ فولیو کا یہ جدید سسٹم موجود ہے یا آپ چھٹیوں میں اسکو پلان کرنے والے ہیں ؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں




26/06/2026

کہتے ہیں پہلے دور میں سبھی گجر تھے... پھر جو نہاتا گیا اپنا قبیلہ بساتا گیا...

دیکھا جائے تو جنوبی ایشیاء کی عوام گجروں کا قرض ادا نہیں کر سکتی کہ انہوں نے جانور اور انسان کے باہمی روابط کو قائم رکھنے میں ناقابل فراموش خدمات سر انجام دیں...

مغربی مفکر اس بات پر مصر رہے کہ کتا انسان کا بہترین دوست ہے مگر مسلمانوں کو یہ بات ہضم نہیں ہوئی...

اتنا ہی نہیں چاچا ڈارون نہیں تو باندروں کو ہمارا نانکا ثابت کرنے میں کوئی کسر روا نہیں رکھی...

پچھلے دنوں ایک پرانی پاکستانی فلم کا ٹکڑا دیکھنے کو ملا جس میں ثابت کیا گیا کہ "مج گجر کی ماں ہوتی ہے"

البتہ سنڈے اور ولدیت کے موضوع پر تاریخ اور فلم ساز خاموش ہیں...

لہذا گجروں نے بھارت سے سفارتی تعلقات بہتر کرنے میں بھی بہت مدد کی ہے کہ گاؤ ماتا کو پوجنے والوں کے ساتھ ایک عجیب ہمدردی کا احساس امنڈ پڑا...

گجروں نے دو قومی نظریے کو پاتھیوں پر جلا کر ہمسایوں کو محبت کی پوشل میں پرو دیا...

سنہ 81 کی بات ہے جب سلطان راہی کا سنہری دور ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ دودھ کے کاروبار میں کچھ "غیر گجر عناصر" نے قدم رکھا...

خیبر سے کراچی تک حاجی صاحبان نے نیسلے کے صاف ستھرے پانی میں دودھ کی ملاوٹ کر کے بیچنا شروع کر دیا...

دھیرے دھیرے یہ بگا پانی اور ملاوٹ کا کلچر افواہ کی طرح زمانے میں پھیل گیا...

11 سال کی آمریت نے دعا، دوا اور غذا کچھ بھی خالص نہیں چھوڑا...

یہاں تک کہ 2000 چڑھنے تک بغیر گائے کے دودھ بنانے کا نسخہ بھی مارکیٹ میں آگیا....

لوگوں نے حلیب کی جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اتنا دودھ بیچا کہ اس برینڈ سمیت ایک پوری نسل تباہ ہو گئی...

میرا دوست "ف" اپنی کتاب "حرام کی کمائی اور حلال کی Ding D**g" میں لکھتا ہے کہ:

"اگلے 200 سال میں گیزر، گائے، گیس، گوگل، گندم اور گجر کی ضرورت میں 65 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے "

گجروں کی تعداد میں کمی کی ایک بہت بڑی وجہ صفائی پسند حکمرانوں کی ستھرا پنجاب سکیم بھی ہے جس کی وجہ سے بعض گجر اپنی "مجیں" بیچ کر بنگلہ دیش کا ویزہ لگوا رہے ہیں...

سچا اور کھرا گجر محض دل کی صفائی کا قائل ہوتا ہے لہذا وہ ایمان کے بقیہ نصف حصّے کی تطہیر کے لیے کوشاں رہتا ہے...

اس تحریر میں درد کا منبع یہ ہے کہ گجر اور مولوی قوم کا سرمایہ ہیں....یہ نہ ہوتے تو ہمیں پڑھائی اور صفائی کی قدر نہ ہوتی...

میں پیدائشی کھوکھر ہوں...

بس آج کل گرمی نے گجر کیا ہوا ہے لہذا AC میں بیٹھ کر پڑھنا میری مجبوری ہے کہ میرے پُرکھوں نے ہمارے لئیے کوئی زمین اور مال ڈنگر نہیں چھوڑا...

ہم پیدائشی امیر نہیں ...

اگر آپ کا اور میرا دکھ سانجھا ہے تو آئیں مل کر پڑھتے ہیں...

90 دن والی رگڑا ٹریننگ کا اگلا بیچ شروع ہو رہا ہے...

صرف تین کلو دودھ کی قیمت فی مہینہ کہ عیوض میں آپ کو 12 ہفتوں میں 12 ڈیجیٹل سکلز سکھاؤں گا...

حلیب کی قسم میری کوشش طرح اگر اپ کی نیت بھی خالص ہو جائے تو آپ زندگی بھر خالص دودھ کو نہیں ترسیں گے...

مزید معلومات کے لیے کمینٹس میں "گجر" لکھئیے کیا پتہ نصیبو لال کا اگلا گانا آپ کی کامیابی پر مبنی ہو...
#سن Independent Pakistan # copied from fakhar khokhar

زہریلے افراد کے ساتھ نباہ کا ہنرکافی عرصے سے یہ کتاب موجود تھی۔ تاہم اتنی زیادہ کتابوں میں گھرا رہتا ہوں کہ بہت وقت گزر ...
25/06/2026

زہریلے افراد کے ساتھ نباہ کا ہنر
کافی عرصے سے یہ کتاب موجود تھی۔ تاہم اتنی زیادہ کتابوں میں گھرا رہتا ہوں کہ بہت وقت گزر جاتا ہے، مگر پڑھ نہیں پاتا۔ اس نسخے کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا ہے۔ بہر حال پڑھنے بیٹھا تو مزا آگیا۔ حد درجہ توجہ طلب کتاب ‘ جسے علامہ عبدالستار عاصم صاحب نے مجموعہ کی شکل دی ہے۔

قاسم علی شاہ نے نظر ثانی کا فرض ادا کیا ہے۔ اردگرد کے لوگوں کو دیکھیں تو بہت سے اچھے لوگ نظر آتے ہیں۔ مگر چند افراد ایسے ہوتے ہیں جن سے مل کر یا بات کر کے خوشی نہیں ہوتی۔ کوشش ہوتی ہے کہ ان سے مکالمہ کی نوبت ہی نہ آئے ۔

مگر آپ کوشش کے باوجود انھیں رد نہیں کر سکتے۔ اس کتاب میں انتہائی محنت سے یہ بتایا گیا ہے کہ زہر آلود افراد کے ساتھ کیسے پیش آیا جائے۔ حد درجہ اہم نکتہ ہے اور یہ ہنر سب کے پاس نہیں ہوتا کہ وہ منفی لوگوں سے بھی گزارا کر پائے۔ اس نسخہ سے چند اقتباسات پیش کروں گا۔

مشہور ماہر نفسیات البرٹ ایلس نے کہا تھا: ’’ہمیں کوئی شخص پریشان نہیں کر سکتا جب تک ہم خود اس کی اجازت نہ دیں‘‘۔ زندگی مختصر ہے۔ وقت قیمتی ہے۔ اسے منفی رویوں‘ لڑائی جھگڑوں غصے اور خوف میں ضائع نہ کریں۔ اس کے بجائے صبر‘ ہم دردی محبت‘ نرمی اور سمجھ بوجھ کا راستہ اختیار کریں۔ اس سے آپ اپنے رشتوں میں ہم آہنگی اور اپنی زندگی میں سکون لا سکیں گے اور دنیا کو بہترین جگہ بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔ (ڈاکٹر ڈیبی جوفی ایلس)

انسان اور سہہ میں مشابہت: انسانوں میں موجود ’’سہہ فطرت‘‘ اور ’’چبھنے والے‘‘ لوگ عام انسانوں کی طرح ہی ہوتے ہیں۔ البتہ جب وہ کسی خطرے یا مداخلت کا سامنا کرتے ہیں تب وہ بالکل سہہ کی طرح خود کو پھلا کر بڑا دکھانے اور دوسروں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بدقسمتی سے انسانوں میں پایا جانے والا یہ دفاعی رویہ دیر سے جاگتا ہے۔ یعنی یہ لوگ اس وقت رد عمل دکھاتے ہیں جب کوئی شخص ان کی حد میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ خود کو دفاعی حالت میں محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کبھی آپ ایسے شخص کی حدود میں گھس جائیں تو اس مسئلے کو حل کیسے کریں گے؟

صورت حال کو بہتر کیسے بنائیں گے اور آئندہ ٹکراؤ سے کیسے بچیں گے؟ اس سلسلے کا پہلا قدم یہ ہے کہ آپ سہہ کی فطرت والے انسان کو اچھی طرح سمجھ لیں اور اپنے رویے کو اس کے مطابق ڈھال لیں۔

اپنے کانٹے اندر ہی رکھیں: ’’چبھنے والے‘‘ لوگ جب دفاعی رویہ اپناتے ہیں تو اس کی وجہ سے دوسرے لوگوں میں بھی وہی رد عمل پیدا ہو جاتا ہے۔ زیادہ تر لوگ ان سے بحث کے دوران دفاعی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

لیکن آپ نے ایسا نہیں کرنا! آپ فوراً لڑائی شروع کرنے کے بجائے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اسے کیا تکلیف ہے۔ ایک قدم پیچھے ہٹیں گہرا سانس لیں اور دوبارہ کوشش کریں۔ اپنے کانٹوں کو اپنے قابو میں رکھیں۔

نرم گوشہ تلاش کریں: جیسے جانور کا پیٹ نرم ہوتا ہے‘ ویسے ہی ہر انسان کے اندر بھی جذباتی ’’نرم گوشہ‘‘ ضرور ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کریں کہ بھرپور توجہ اور حکمت عملی کے ذزیعے آپ اس کا نرم گوشہ دریافت کر سکتے ہیں۔

یہ ایسا موضوع ہو سکتا ہے جو اس کے چہرے پر مسکراہٹ لائے اور اسے خوشی دے دے۔ یہ کوئی شوق‘ پسندیدہ مشغلہ یا کسی اپنے کی یاد بھی ہو سکتی ہے۔ وہ باتیں ڈھونڈیں جو ’’چبھنے والے‘‘ انسان کو خوش کریں اور اس کا حوصلہ بلند کریں۔ اس تدبیر کی بدولت اسے محسوس ہو گا کہ آپ اسے عزیز رکھتے ہیں اور واقعی اس کا خیال رکھتے ہیں۔

اس کی فطرت کے مطابق بات کریں: چبھنے والا انسان جب غصے میں ہو تو اس سے بات کریں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ وہ کس وجہ سے غصے میں ہے۔ اس کا غصہ ختم کرنے کا ایک بہترین طریقہ یہ بھی ہے کہ آپ اسے بتائیں کہ آپ کو کیسی باتوں پر غصہ آتا ہے۔

جب آپ اس کی فطرت کے مطابق اس سے بات کریں گے تو اسے معلوم ہو گا کہ آپ اس کی کیفیت کو محسوس کر رہے ہیں اور اس کے ہم درد ہیں۔

’’چبھنے والے‘‘ فرد کو دل کی بھڑاس نکالنے دیں: اپنا دل ہلکا کرنے کی ضرورت ہر انسان کو ہوتی ہے۔ اگر’’چبھنے والا‘‘ شخص ایسا کرے تو اسے کرنے دیں۔ اس معاملے میں اس کی حوصلہ افزائی کرنا تبدیلی کی جانب پہلا قدم ہے۔

دراصل وہ جب بھی اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو اسے رکاوٹ محسوس ہوتی ہے ‘ اسی وجہ سے وہ ’’چبھنے والا‘‘ فرد بن جاتا ہے۔ وہ دوسرے لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈرتا ہے۔

اس لیے آپ اس کے جذبات سمجھیں۔ وہ کچھ بھی کہتا ہے تو اسے کہنے کی اجازت دیں۔ یاد رکھیں: آپ اس کی مدد کر سکتے ہیں ۔ آپ کی محبت اور توجہ ’’چبھنے والے‘‘ فرد کو پر سکون کرنے میں اہم ترین کردار ادا کر سکتی ہے۔

حدود واضح کریں: اگر آپ نے اپنی حدود واضح نہیں کی ہیں تو آپ ’’چبھنے والے‘‘ انسان پر یہ الزام نہیں لگا سکتے کہ اس نے آپ کی حدود پامال کی ہیں۔ آسان الفاظ میں‘ جب تک آپ اپنی ضروریات یا حدود واضح طور پر بیان نہیں کریں گے‘ ’’چبھنے والا‘‘ انسان ان کا احترام نہیں کر سکے گا۔ پہلا قدم آپ نے اٹھانا ہے: اپنی حدود واضح کر یں۔

ہمیشہ حق پر ہونے کی خواہش چھوڑیں: کوئی بھی انسان ہمیشہ درست نہیں ہوتا‘ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اکثر اوقات ہم درست نہیں ہوتے۔ہم نامکمل ہیں لیکن اس کے باوجود دوسروں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ سب کچھ ہمارے قابو میں ہے‘ بلکہ ہم اصرار کرتے ہیں کہ کمزوری ہم میں نہیں کسی اور شخص میں ہے۔

اگر آپ ’’چبھنے والے‘‘ انسان کے ساتھ تعلق میں بھی اس طرح کی سوچ اپنائیں گے تو یہ آپ کو تباہی کی طرف لے جائے گی۔ یاد رکھیں‘ ہمارے پاس بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کی بدولت ہم خود کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ بہت سے مواقع ہیں جہاں ہم اپنی بری عادات سے چھٹکارا پا سکتے ہیں‘ اس لیے عاجز رہیں۔ خود کو ہمیشہ حق پہ ثابت کرنے کی کوشش آپ کو فائدہ نہیں دے گی۔

عقل کا استعمال کریں جذبات کا نہیں: ’’چبھنے والے‘‘ ہم سفر سے نپٹنے کا ایک بہترین اصول عقل پسندی ہے۔ کیوں کہ ایسے انسان کے سامنے جب جذبات یا غیر منطقی رد عمل کا اظہار کیا جائے تو وہ دفاعی رویہ اختیار کر لیتا ہے۔

جب آپ مسئلے پر ٹھنڈے دل و دماغ سے روشنی ڈالیں گے تو وہ سخت رد عمل بھی نہیں دے گا۔ لہٰذا ہر مسئلے کو پر سکون اور منطقی انداز میں دیکھیں‘ اس مثبت رویے کی وجہ سے آپ کے ’’چبھنے والے‘‘ شریک حیات کی ضد اور چڑچڑا پن کم ہو جائے گا۔

موضوع پرقائم رہیں:’’چبھنے والا‘‘ انسان خود کو بچانے کے لیے مخاطب کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ الزام تراشی کرتا ہے‘ یا لمبی لمبی وضاحتیں دیتا ہے تاکہ دوسرے فرد کی توجہ اصل مسئلہ سے ہٹائے اور اسے کسی اور بحث میں مصروف کر دے۔

یہ ایک روایتی چال ہے! اس جال میں نہ پھنسیں ۔ یاد رکھیں کہ ’’چبھنے والے‘‘ انسان کے ساتھ تنازعہ جلد ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ موضوع پر ڈٹے رہیں ۔ اپنی توجہ ہٹنے نہ دیں۔

یہ بات جان لیں کہ پیچھے کب ہٹنا ہے, رحم دل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ حد سے زیادہ لچک دار یا کمزور بن جائیں۔ اگر کبھی ’’چبھنے والا‘‘ فرد کچھ مسائل کا شکار ہو اور وہ آپ سے بیان کرنا چاہتا ہو تو آپ اس کی بات سنیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ مثبت انداز میں بات کرے‘ اگر وہ باتوں باتوں میں آپ کی ذات کو نشانہ بنانا شروع کر دے تو آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کی بات سننا چھوڑ دیں اور وہاں سے ہٹ جائیں۔

ہم درد بنیں: ’’چبھنے والے‘‘ انسان سے محبت کرنے کے لیے بڑی ہمت اور حوصلہ درکار ہوتا ہے۔ خود سے سوال پوچھیں: وہ کیا محسوس کر رہا ہے؟ اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو کیسا محسوس کرتا؟

اور اگر کسی کو میرے ساتھ ایسا رویہ رکھنا پڑے تو وہ کیسا لگے گا؟ ایسے انسان کے ساتھ ذمے داری اور محبت کا رویہ اختیار کرنے کے لیے جذباتی پختگی اور ہم دردانہ سوچ ضروری ہے۔

نرم مزاجی سے حملہ روکیں: ’’چبھنے والے‘‘ افراد تب حملہ آور ہوتے ہیں جب وہ خطرہ محسوس کرتے ہیں‘ اسے روکنے کا بہترین طریقہ مہربانی اور نرم مزاجی ہے۔ مہربان الفاظ اور پیار بھرا رویہ ان کی بدمزاجی کو ختم کر دیتا ہے۔ جب ’’چبھنے والے‘‘ شخص کو معلوم ہو جائے کہ آپ اس کے لیے خطرہ نہیں ہیں تو اس احساس سے اس کا غصہ کم ہو جائے گا۔

لیکچر مت دیں: سمجھائیں ‘ بات کو کھولیں‘ لیکن لیکچر مت دیں۔ ’’چبھنے والے‘‘ بچوں کے ساتھ بات چیت کا مقصد ان کے دل کی بات باہر لانا ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر آپ لیکچر والا انداز اپنائیں گے تو وہ خاموش رہیں گے‘ تقریر کرنے کے بجائے دلچسپ انداز اپنائیں ۔

آخر میں وکٹر ہیوگو کے یہ انمول جملے رقم کرتا ہوں: زندگی کی سب سے بڑی خوشی یہ یقین ہے کہ ہم سے محبت کی جاتی ہے‘ ایسی محبت جو ہماری اصل ہستی سے ہو‘ یا یوں کہیے کہ ہماری خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود بھی ہم سے کی جاتی ہو۔

ہمیشہ حق پر ہونے کی خواہش چھوڑیں: کوئی بھی انسان ہمیشہ درست نہیں ہوتا

25/06/2026

*ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے ‏قران پاک کے 100 مختصر مگر انتہائی موثر پیغامات*

*1 گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 83

*2 غصے کو قابو میں رکھو*
سورۃ آل عمران ، آیت نمبر 134

*3 دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو،*
سورۃ القصص، آیت نمبر 77

*4 تکبر نہ کرو،*
سورۃ النحل، آیت نمبر 23

*5 دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو،*
سورۃ النور، آیت نمبر 22

*6 لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو،*
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19

*7 اپنی آواز نیچی رکھا کرو،*
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19

*8 دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 11

*9 والدین کی خدمت کیا کرو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23

*‏10 والدین سے اف تک نہ کرو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23

*11 والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو،*
سورۃ النور، آیت نمبر 58

*12 لین دین کا حساب لکھ لیا کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 282

*13 کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 36

*14 اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 280

*15 سود نہ کھاؤ،*
سورۃ البقرة ، آیت نمبر 278

*16 رشوت نہ لو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 42

*17 وعدہ نہ توڑو،*
سورۃ الرعد، آیت نمبر 20

*‏18 دوسروں پر اعتماد کیا کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*19 سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 42

*20 لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو،*
سورۃ ص، آیت نمبر 26

*21 انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 135

*22 مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 8

*23 خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 7

*24 یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 2

*‏25 یتیموں کی حفاظت کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 127

*26 دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 6

*27 لوگوں کے درمیان صلح کراؤ،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 10

*28 بدگمانی سے بچو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*29 غیبت نہ کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*30 جاسوسی نہ کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*31 خیرات کیا کرو،*
سورۃ البقرة، آیت نمبر 271

*32 غرباء کو کھانا کھلایا کرو*
سورة المدثر، آیت نمبر 44

*33 ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو،*
سورة البقرۃ، آیت نمبر 273

*34 فضول خرچی نہ کیا کرو،*
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 67

*‏35 خیرات کرکے جتلایا نہ کرو،*
سورة البقرۃ، آیت 262

*36 مہمانوں کی عزت کیا کرو،*
سورۃ الذاريات، آیت نمبر 24-27

*37 نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر44

*38 زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو،*
سورۃ العنكبوت، آیت نمبر 36

*39 لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو،*
سورة البقرة، آیت نمبر 114

*40 صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں،*
سورة البقرة، آیت نمبر 190

*41 جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو،*
سورة البقرة، آیت نمبر 190

*‏42 جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ،*
سورة الأنفال، آیت نمبر 15

*43 مذہب میں کوئی سختی نہیں،*
سورة البقرة، آیت نمبر 256

*44 تمام انبیاء پر ایمان لاؤ،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 150

*45 حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو،*
سورة البقرة، آیت نمبر، 222

*46 بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ،*
سورة البقرة، آیت نمبر، 233

*47 جنسی بدکاری سے بچو،*
سورة الأسراء، آیت نمبر 32

*48 حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 247

*49 کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو،*
سورة البقرة، آیت نمبر 286

*50 منافقت سے بچو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 14-16

*‏51 کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو،*
سورة آل عمران، آیت نمبر 190

*52 عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے،*
سورة آل عمران، آیت نمبر 195

*53 بعض رشتہ داروں سے شادی حرام ہے،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 23

*54 مرد خاندان کا سربراہ ہے،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 34

*55 بخیل نہ بنو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 37

*56 حسد نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 54

*57 ایک دوسرے کو قتل نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 29

*58 فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 135

*‏59 گناہ اور زیادتی میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2

*60 نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2

*61 اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 100

*62 صحیح راستے پر رہو،*
سورۃ الانعام، آیت نمبر 153

*63 جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 38

*64 گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو،*
سورۃ الانفال، آیت نمبر 39

*65 مردہ جانور، خون اور سور کا گوشت حرام ہے،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 3

*‏66 شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 90

*67 جوا نہ کھیلو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 90

*68 ہیرا پھیری نہ کرو،*
سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 70

*69 چغلی نہ کھاؤ،*
سورۃ الھمزۃ، آیت نمبر 1

*70 کھاؤ اور پیو لیکن فضول خرچی نہ کرو،*
سورۃ الاعراف، آیت نمبر 31

*71 نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو،*
سورۃ الاعراف، آیت نمبر 31

*72 آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو، انھیں مدد دو،*
سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 6

*73 طہارت قائم رکھو،*
سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 108

*74 اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو،*
سورۃ الحجر، آیت نمبر 56

*‏75 اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 17

*76 لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ،*
سورۃ النحل، آیت نمبر 125

*77 کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا،*
سورۃ فاطر، آیت نمبر 18

*78 غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو،*
سورۃ النحل، آیت نمبر 31

*79 جس چیز کے بارے میں علم نہ ہو اس پر گفتگو نہ کرو،*
سورۃ النحل، آیت نمبر 36

*‏80 کسی کی ٹوہ میں نہ رہا کرو (تجسس نہ کرو)،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*81 اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو،*
سورۃ النور، آیت نمبر 27

*82 اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے،*
سورۃ یونس، آیت نمبر 103

*83 زمین پر عاجزی کے ساتھ چلو،*
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 63

*84 اپنے حصے کا کام کرو۔ اللہ، اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین تمہارا کام دیکھیں گے۔*
سورة توبہ، آیت نمبر 105

*85 اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو،*
سورۃ الکہف، آیت نمبر 110

*‏86 ہم جنس پرستی میں نہ پڑو،*
سورۃ النمل، آیت نمبر 55

*‏87 حق (سچ) کا ساتھ دو، غلط (جھوٹ) سے پرہیز کرو،*
سورۃ توبہ، آیت نمبر 119

*88 زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 37

*89 عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں،*
سورۃ النور، آیت نمبر 31

*90 اللّٰه شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 48

*91 اللّٰه کی رحمت سے مایوس نہ ہو،*
سورۃ زمر، آیت نمبر 53

*92 برائی کو اچھائی سے ختم کرو،*
سورۃ حم سجدۃ، آیت نمبر 34

*93 فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو،*
سورۃ الشوری، آیت نمبر 38

*‏94 تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 13

*95 اسلام میں ترک دنیا نہیں ہے۔*
سورۃ الحدید، آیت نمبر 27

*96 اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے،*
سورۃ المجادلۃ، آیت نمبر 11

*97 غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ،*
سورۃ الممتحنۃ، آیت نمبر 8

*98 خود کو لالچ سے بچاؤ،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 32

*99 اللہ سے معافی مانگو وہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے ،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 199

*100 جو دست سوال دراز کرے اسے نہ جھڑکو بلکہ حسب توفیق کچھ دے دو،*
سورۃ الضحی، آیت نمبر 10

Independent Pakistan #

23/06/2026

جب آپ اپنا موبائل بچوں کے ہاتھ میں دیتے ہیں، تو سب سے بڑا ڈر یہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی غیر اخلاقی چیز نہ دیکھ لیں، باس کو غلطی سے واٹس ایپ میسج نہ کر دیں، یا کوئی ضروری ایپ ڈیلیٹ نہ کر دیں۔

ان تمام مسائل سے بچنے کے لیے یہ 5 بہترین فری ایپس ہیں جنہیں آپ اپنے موبائل پر سیٹ کر سکتے ہیں

1. Google Family Link

یہ گوگل کی اپنی آفیشل اور سب سے طاقتور ایپ ہے جو بچوں کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے بنائی گئی ہے۔

استعمال: اس ایپ کے ذریعے آپ یہ سیٹ کر سکتے ہیں کہ بچہ موبائل پر کون سی ایپ کھول سکتا ہے اور کون سی نہیں۔ آپ گوگل کروم (Chrome) پر ایڈلٹ ویب سائٹس کو مکمل بلاک کر سکتے ہیں، پلے اسٹور سے ان کی عمر کے حساب سے ایپس فلٹر کر سکتے ہیں، اور موبائل استعمال کرنے کا ٹائم بھی فکس کر سکتے ہیں (جیسے 1 گھنٹے بعد فون خود بخود لاک ہو جائے گا)۔

2. Kids Place (Parental Control & Child Lock)

اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچہ آپ کے موبائل کی ہوم اسکرین دیکھ ہی نہ سکے اور صرف مخصوص گیمز تک محدود رہے، تو یہ ایپ بیسٹ ہے۔

استعمال: یہ ایپ آپ کے موبائل کے اندر بچوں کے لیے ایک الگ "محفوظ زون" بنا دیتی ہے۔ آپ اس زون میں صرف وہی 2 یا 3 گیمز اور ایپس رکھیں جو بچہ چلا سکتا ہے۔ اس زون کے اندر رہتے ہوئے بچہ نہ تو کسی کو کال کر سکتا ہے، نہ واٹس ایپ میسج بھیج سکتا ہے اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کچھ سرچ کر سکتا ہے۔ اس زون سے باہر نکلنے کے لیے پن کوڈ (PIN) چاہیے ہوگا جو صرف آپ کو معلوم ہوگا۔

3. SafeLogs / Safe Vision (Kid-Friendly YouTube)

عام یوٹیوب پر کارٹونز دیکھتے دیکھتے اکثر بچے ایسی ویڈیوز پر چلے جاتے ہیں جو ان کے لیے مناسب نہیں ہوتیں۔

استعمال: یہ ایپ بچوں کے لیے یوٹیوب کو فلٹر کرتی ہے۔ آپ خود سیٹ کر سکتے ہیں کہ بچہ یوٹیوب پر صرف مخصوص چینلز یا کارٹونز ہی دیکھ سکے۔ اس میں کوئی بھی ایڈلٹ مواد، فیک نیوز یا نامناسب اشتہارات بچوں کے سامنے نہیں آتے۔

4. AppLock (by DoMobile)

اگر آپ پورا فون لاک نہیں کرنا چاہتے، بلکہ صرف مخصوص ایپس (جیسے واٹس ایپ، گیلری، فیس بک، ڈائلر) کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔

استعمال: اس ایپ کے ذریعے آپ اپنے واٹس ایپ، فون کالز، میسجز، اور گیلری پر الگ سے فنگر پرنٹ یا پاس ورڈ لگا سکتے ہیں۔ بچہ گیم کھیلتے ہوئے اگر غلطی سے واٹس ایپ پر کلک بھی کرے گا، تو ایپ آگے سے لاک مانگے گی، یوں آپ کے میسجز اور کالز محفوظ رہیں گے۔

5. Samsung Kids / Built-in Kids Mode

اگر آپ کے پاس سام سنگ، اوپو، یا ویوو کا موبائل ہے، تو آپ کو باہر سے کسی ایپ کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

استعمال: اپنے موبائل کی اوپر والی سیٹنگز بار (Quick Panel) کو نیچے کریں۔ وہاں آپ کو Kids Mode یا Kids Space کا بٹن ملے گا۔ اس پر کلک کرنے سے پورا موبائل بچوں کے موڈ میں چلا جاتا ہے جہاں نہ انٹرنیٹ چلتا ہے، نہ کالز ہوتی ہیں اور نہ ہی وہ آپ کی پرسنل ایپس کھول سکتے ہیں۔ واپس اصل اسکرین پر آنے کے لیے آپ کا فنگر پرنٹ یا لاک اسکرین پاس ورڈ چاہیے ہوتا ہے۔

22/06/2026

- ‏دو چار ہی تو ہیں دنیا میں خوشنما چہرے

اک سخی کا, اک مخلص کا, اک تیرا, اک میرا ✨💍

21/06/2026

مشتاق احمد یوسفی کے کچھ شہ پارے

مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے.

آدمی ایک بار پروفیسر ہوجائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے، خواہ بعد میں سمجھ داری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے

لہجہ لفظ کا ڈی این اے ہے، جس سے نظر کا فتور، نیت کا کھوٹ اور دل کا چور پکڑا جاتا ہے۔

لفظوں کی جنگ میں فتح کسی بھی فریق کی ہو، شہید ہمیشہ سچائی ہوتی ہے

جو ملک جتنا غربت زدہ ہوگا، اتنا ہی آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہوگا

دشمنوں کے حسب عداوت تین درجے ہیں: دشمن، جانی دشمن اور رشتے دار

مسلمان کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں

محبت اندھی ہوتی ہے، چنانچہ عورت کے لیے خوبصورت ہونا ضروری نہیں، بس مرد کا نابینا ہونا کافی ہوتا ہے

بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں ذرا فرق نہیں، سوتے میں بھی ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے

مصائب تو مرد بھی جیسے تیسے برداشت کرلیتے ہیں مگر عورتیں اس لحاظ سے قابل ستائش ہیں کہ انھیں مصائب کے علاوہ مردوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے

حجام کی ضرورت ساری دنیا کو رہے گی تاوقتیکہ ساری دنیا سکھ مذہب اختیار نہ کرلے اور یہ سکھ کبھی ہونے نہیں دیں گے

سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو رہتے ہیں

امریکا کی ترقی کا سبب یہی ہے کہ اس کا کوئی ماضی نہیں

مرض کا نام معلوم ہوجائے تو تکلیف تو دور نہیں ہوتی، الجھن دور ہوجاتی ہے

پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں
فقیر کے لیے آنکھیں نہ ہونا بڑی نعمت ہے

بدصورت انگریز عورت نایاب ہے، بڑی مشکل سے نظر آتی ہے، یعنی ہزار میں ایک۔ پاکستانی اور ہندوستانی اسی سے شادی کرتا ہے

ہم نے تو سوچا تھا کراچی چھوٹا سا جہنم ہے، جہنم تو بڑا سا کراچی نکلا

آپ راشی، زانی اور شرابی کو ہمیشہ خوش اخلاق، ملنسار اور میٹھا پائیں گے کیونکہ وہ نخوت، سخت گیری اور بدمزاجی افورڈ ہی نہیں کرسکتا

گالی، گنتی، سرگوشی اور گندہ لطیفہ اپنی مادری زبان ہی میں مزہ دیتا ہے

ہارا ہوا مرغا کھانے سے آدمی اتنا بودا ہوجاتا ہے کہ حکومت کی ہر بات درست لگنے لگتی ہے.

جس دن بچے کی جیب سے فضول چیزوں کے بجائے پیسے برآمد ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ اب اسے بے فکری کی نیند کبھی نہیں نصیب ہوگی

انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے

یہ بات ہم نے شیشم کی لکڑی، کانسی کی لٹیا، بالی عمریا اور چگی داڑھی میں ہی دیکھی کہ جتنا ہاتھ پھیرو، اتنا ہی چمکتی ہے

مرد عشق و عاشقی صرف ایک ہی مرتبہ کرتا ہے، دوسری مرتبہ عیاشی اور اس کے بعد نری بدمعاشی
آسمان کی چیل، چوکھٹ کی کیل اور کورٹ کے وکیل سے خدا بچائے، ننگا کرکے چھوڑتے ہیں

قبر کھودنے والا ہر میت پر آنسو بہانے بیٹھ جائے تو روتے روتے اندھا ہوجائے

خون، مشک، عشق اور ناجائز دولت کی طرح عمر بھی چھپائے نہیں چھپتی

تماشے میں جان تماشائی کی تالی سے پڑتی ہے، مداری کی ڈگڈگی سے نہیں

لذیذ غذا سے مرض کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ اور طاقت پیدا ہوتی ہے

نام میں کیا رکھا ہے؟ دوست کو کسی بھی نام سے پکاریں، گلوں ہی کی خوشبو آئے گی

فرضی بیماریوں کے لیے یونانی دوائیں تیر بہدف ہوتی ہیں

جس بات کو کہنے والے اور سننے والے دونوں ہی جھوٹ سمجھیں اس کا گناہ نہیں ہوتا

مطلق العنانیت کی جڑیں دراصل مطلق الانانیت سے پیوست ہوتی ہیں

یورپین فرنیچر صرف بیٹھنے کے لیے ہوتا ہے جبکہ ہم کسی ایسی چیز پر بیٹھتے ہی نہیں جس پر لیٹا نہ جاسکے

مرزا خدا کے ان حاضر و ناظر بندوں میں سے ہیں جو محلّے کی ہرچھوٹی بڑی تقریب میں،شادی ہو یا غمی، موجود ہوتے ہیں۔ بالخصوص دعوتوں میں سب سے پہلے پہنچتےاورسب کے بعد اٹھتے ہیں۔ اِس اندازِ نشست وبرخاست نے ایک کُھلا فائدہ یہ دیا کہ وہ باری باری سب کی غیبت کرڈالتے ہیں۔ان کی کوئی نہیں کرپاتا۔

میں تو جب اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم کہتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے رجیم سے یہی regime مراد ہے ۔( جنرل ضیاء کا دور )

بچپن ہی سے میری صحت خراب اور صحبت اچھی رہی ہے۔

ہم تو اسپتال میں مرنے کے خلاف نہیں۔ ویسے تو مرنے کیلئے کوئی بھی جگہ ناموزوں نہیں ، لیکن پرائیویٹ اسپتال اور کلینک میں مرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مرحوم کی جائیداد ، جمع جتھا اور بنک بیلنس کے بٹوارے پر پسماندگان کے درمیان خون خرابہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ سب ڈاکٹروں کے حصے میں آتا ہے۔

آپ نے بعض میاں بیوی کو ہواخوری کرتے دیکھا ہوگا۔ عورتوں کا انجام ہمیں نہیں معلوم لیکن یہ ضرور دیکھا ہے کہ بہت سے’’ہواخور‘‘ رفتہ رفتہ ’’حواخور‘‘ ہو جاتے ہیں۔

معتبر بزرگوں سے سنا ہے کہ حقہ پینے سے تفکرات پاس نہیں پھٹکتے۔ بلکہ میں تو عرض کروں گا کہ اگر تمباکو خراب ہو تو تفکرات ہی پر کیا موقوف ہے، کوئی بھی پاس نہیں پھٹکتا۔

اختصار ظرافت اور زنانہ لباس کی جان ہے۔

ان کی بعض غلطیاں فاش اور فاحش ہی نہیں، فحش بھی تھیں۔

جب نورجہاں کے ہاتھ سے کبوتر اڑ گیا تو جہانگیر نے اسے پہلی بار خصم گیں نگاہوں سے دیکھا۔

صاحب، میں ماکولات میں معقولات کا دخل جائز نہیں سمجھتا۔

کچھ لوگ اتنے مذہبی ہوتے ہیں کہ جوتا پسند کرنے کیلئے بھی مسجد کا رخ کرتے ہیں۔

صرف ننانوے فیصد پولیس والوں کی وجہ سے باقی بھی بدنام ہیں۔

میرا تعلق اس بھولی بھالی نسل سے رہا ہے جو خلوصِ دل سے سمجھتے ہیں کہ بچے بزرگوں کی دعاؤں سے پیدا ہوتے ہیں۔

اب تم جن نظروں سے مرغی کو دیکھنے لگے ہو ویسی نظروں کیلئے تمہاری بیوی برسوں سے ترس رہی ہے۔

عالمِ اسلام میں ہم نے کسی بکرے کو طبعی موت مرتے نہیں دیکھا۔

اندرون لاہور کی بعض گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ ایک طرف سے عورت آرہی ہو اور دوسری جانب سے مرد، تو درمیان میں صرف نکاح کی گنجائش بچتی ہے۔

جتنا وقت اور پیسہ بچوں کو ’’مسلمانوں کےسائنس پر احسانات رٹانے میں صرف کیا جاتا ہے، اس کا دسوں حصہ بھی بچوں کو سائینس پڑھانے میں صرف کیا جائے تو مسلمانوں پر بڑا احسان ہوتا۔

سمجھ دار آدمی نظر ہمیشہ نیچی اور نیت خراب رکھتا ہے۔

مونگ پھلی اور آوارگی میں یہ خرابی ہے کہ آدمی ایک دفعہ شروع کردے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ختم کیسے کرے۔

وہ زہر دے کے مارتی تو دنیا کی نظر میں آجاتی، اندازِ قتل تو دیکھو، ہم سے شادی کرلی۔

شیر دلیر ڈکٹیٹر جب ’’ ایلس ان ونڈر لینڈ ‘‘ کی بلی کی لمبی دم کی مانند فیڈ آؤٹ ہوجاتے ہیں اور فق چہروں سے افق تک کھسیانی سی مسکراہٹ باقی رہ جاتی ہے تو وہ بالکل کاغذی اور کیسے بے ضرر معلوم ہوتے ہیں !

بیسویں صدی میں جیت انہی کی ہےجن کے ایک ہاتھ میں دین ہے اور دوسرے میں دنیا، اور دائیں ہاتھ کو خبر نہیں کہ بائیں میں کیا ہے۔

بیوی سے عشقیہ گفتگو کرنا ایسے ہی ہے جیسے انسان خارش وہاں کرے جہاں نہ ہو رہی ہو۔

ایجاد اور اولاد کے لچھن پہلے سے معلوم ہوجایا کرتے تو دنیا میں نہ کوئی بچہ پیدا ہونے دیتا اور نہ ایجاد۔

کتے کی تندرستی اور نسل اگر مالک سے بہتر ہوتو وہ آنکھ ملاکر ڈانٹ بھی نہیں سکتا۔

یوں میرا دادا بڑا جلالی تھا۔ اس نے چھ خون کئے اور چھ ہی حج کئے۔ پھر قتل سے توبہ کرلی۔ کہتا تھا اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں، اب مجھ سے بار بار حج نہیں ہوتا۔

اگر کوئی شخص یہ ثابت کردے کہ اس کے پاس اتنی جائیداد اور سرمایہ ہے کہ قرض کی قطعا" کوئی ضرورت نہیں تو بینک اسے قرض دینے پر رضا مند ہو جاتا ہے.

Pakistan

Address

Sialkot

Telephone

+923441249352

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily Independent Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category