18/07/2025
2014. جب یہ نالا پار کرنا ہمارے لیےاک چیلنچ بن گیا
نانگا پربت کے بیس کیمپ پہ موجود ایک چھوٹی سی اکلوتی دکان پہ ابلے دیسی انڈے کھانے اور چائے پینے کے بعد سب دوستوں کی فیری میڈوز کی طرف واپسی کا کوئی قدرے چھوٹا اور آسان رستہ ڈونڈھنے کی کوشش ہمیں ایک انجانے اور پر خطر رستے کی طرف لے آئی۔ نکلتے وقت ہمیں دکاندار نے اس رستے کی دشواری سے خبردار بھی کیا
"یہاں نالہ آپ کو رستہ نہیں دے گا"
لیکن تھکے ہونے کیفیت نے مختصر رستہ اختیار کرنے پہ ڈٹے رکھا۔ قدم کبھی مسلسل پتھروں پہ پڑتےتو کہیں شکار شدہ جانوروں کی ماندہ ہڈیوں کے ڈھانچے دوستوں میں خوف پیدا کرتے۔ اب دن کی روشنی سبک روی سے مغرب میں ڈوبنے کے لیے جلد بازی میں تھی۔اس لیے واپسی کا کوئی امکان نہ تھا۔ چلتے چلتے ہم چوٹی میں پگھلتے برف کے گلیشیئرز کے انتہائی ٹھنڈے پانی کے کشادہ نالے تک پہنچے۔یہ تھا...
ہم کہسار نوردوں کا امتحان اول... اس نالے کا پھیلاو ہم میں ہیبت اور سرد مہری اس میں اترتے پاؤں کی نصوں میں خون جما دینے والی دھمکیوں سے بھری پڑی تھی۔
اس پر ستم...
کہ یہ سرعت سے پہاڑوں سے اترتا نالہ جس گہرائی کے کشادہ اور عمیق سینے میں لمبے خنجر کی طرح کھب تھا وہ گہرائی بھی کسے اندھے کنویں سے کم نہ تھی۔ اسی لیے نالے میں اترنے کی جرات گہنی جا چکی تھی کہ اگر خدا نخواستہ تیز پانی میں پڑے پھسلن والوں پتھروں سے پاؤں پھسلا تو انجام سامنے تھا۔ بے تابی نے خوب دوڑایا کہ کہیں سے نالہ تنگ ہو تو پار کیا جائے۔
مگر
بے سود....
سوچا تھا کہ نماز عصر منزل پہ جا پڑھیں گے لیکن انہیں چکروں میں وقت بھی کافی ہو چکا تھا.
نماز یقیناً نجات ہے... سوچا کہ نماز کی تاخیر بھی اس امتحان کا سبب ہو سکتی ہے. پھر ہم نے بڑے بڑے پتھروں کے غیر ہموار مصلوں پہ عصر ادا کی...
اللہ کہ اس فرمان کی تعبیر مل گئی... کہ مدد طلب کرو صبر اور نماز سے...
کیوں کہ جونہی نماز سے فراغت ہوئی تو اس سفر کے امیر کارواں اور امید کارواں جمشید بھائی (اللہ ان کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنائے.آمین) مژدہ سنانے لگے کہ انہیں رستہ مل گیا ہے جہاں سے نالے کو عبور کرنا ممکن ہے...خیر وہ پاٹ بھی چھلانگنا دل گردے کا کام تھا. بہر حال امید تو دکھائی دی. وگرنا وہاں نہ بجلی، نہ فون، نہ 1122،نہ کوئی گھر،
اور پھر ہمارا اس نوعیت کا یہ پہلا سفر تھا..