Noor e Nazar

Noor e Nazar history and information,health and beauty news and health care

زندگی کا سب سے گہرا راز یہی ہے کہ جو دل دنیا میں کبھی قرار نہ پکڑے، وہی دل موت کے وقت سب سے زیادہ مطمئن ہوتا ہے۔ یہ بے ق...
25/06/2026

زندگی کا سب سے گہرا راز یہی ہے کہ جو دل دنیا میں کبھی قرار نہ پکڑے، وہی دل موت کے وقت سب سے زیادہ مطمئن ہوتا ہے۔ یہ بے قراری کوئی بے سکونی نہیں، بلکہ طلب کی وہ آگ ہے جو انسان کو اپنے خالق کی طرف کھینچتی رہتی ہے۔ جو شخص یہاں سکون تلاش کرتا ہے، وہ مرتے وقت بے چین ہوتا ہے، اور جو یہاں بے قرار رہتا ہے، وہی وہاں سکون پاتا ہے۔

بے قراری: طلب کا دوسرا نام

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس بے قراری کو طلب اور جدوجہد سے جوڑا ہے:

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا
"اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں، ہم انہیں ضرور اپنے راستے دکھا دیتے ہیں۔" (سورۃ العنکبوت، 29:69)

یہ بے قراری دراصل جہاد بالنفس ہے — اپنے آپ سے، اپنی خواہشات سے، اپنی غفلت سے مسلسل برسرِ پیکار رہنا۔ جو دل اس کشمکش میں رہتا ہے، اللہ خود اس کی رہنمائی کرتا ہے۔

ذکر کی بے قراری، دل کا سکون

عجیب بات یہ ہے کہ بے قراری اور سکون ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بے قراری عمل میں ہے، سکون ذکر میں:

الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
"جو لوگ ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، سن لو! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔" (سورۃ الرعد، 13:28)

امام غزالی رحمہ اللہ "احیاء علوم الدین" میں لکھتے ہیں کہ دل کی اصلاح مجاہدہ کے بغیر ممکن نہیں۔ جو دل اپنا محاسبہ کرتا رہتا ہے، رات کو سوتے وقت اپنے اعمال کا حساب لیتا ہے، وہی دل بتدریج اس کیفیت تک پہنچتا ہے جسے حسنِ خاتمہ کہا جاتا ہے — یعنی موت کا سکون۔ یہ سکون کبھی کاہلی سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ مسلسل بے قرار رہنے سے، اپنے نفس کو ٹٹولتے رہنے سے ملتا ہے۔

مولانا رومی کا چنے کی کہانی

مثنوی میں مولانا رومی نے ایک خوبصورت تمثیل بیان کی ہے: ایک چنا دیگ میں ابلتے ہوئے بار بار اوپر اچھلتا اور چیختا ہے کہ مجھے کیوں جلایا جا رہا ہے۔ باورچی اسے سمجھاتا ہے کہ یہ ابال، یہ بے قراری، تمہیں نرم کر رہی ہے تاکہ تم گوشت کے ساتھ مل کر انسان کی غذا بن سکو اور اس کی جان کا حصہ بن جاؤ۔ یہی حال دل کا ہے — جو دل دنیا کی آگ میں، آزمائش کی دیگ میں بے قرار رہتا ہے، وہی نرم ہو کر اللہ کے قرب کے لائق بنتا ہے۔

ابنِ عطاء اللہ السکندری: تدبیر سے سکون نہیں ملتا

"الحکم" میں ابنِ عطاء اللہ السکندری بار بار اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان کی اصل بے قراری اپنی تدبیروں اور خواہشوں میں الجھے رہنے سے ہے، جبکہ حقیقی سکون اس وقت ملتا ہے جب بندہ اپنی تمام تر بے قراری اللہ کی طلب میں صرف کر دے، نہ کہ دنیا کی طلب میں۔ جو بے قراری اللہ کی طرف لے جائے، وہ رحمت ہے۔ جو بے قراری دنیا کی طرف لے جائے، وہ زحمت ہے۔

نفسِ مطمئنہ: بے قراری کا انجام

قرآن نے اس پوری روحانی سفر کا خلاصہ ایک ہی منظر میں بیان کر دیا ہے — وہ روح جو دنیا میں طلب کی آگ میں جلتی رہی، موت کے وقت اسے یوں پکارا جاتا ہے:

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي
"اے اطمینان پانے والی روح! اپنے رب کی طرف لوٹ چل، اس طرح کہ تو اس سے راضی ہو اور وہ تجھ سے راضی ہو۔ پس میرے بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔" (سورۃ الفجر، 89:27-30)

یہی وہ مقام ہے جو ابنِ عربی رحمہ اللہ "فصوص الحکم" میں فنا کی منزل کہتے ہیں — جہاں طالب کی تمام بے قراری اپنے آپ میں فنا ہو کر بقا میں بدل جاتی ہے، اور سکون اس کا مقدر بن جاتا ہے۔

تو اگر سکون سے مرنا ہے، تو زندگی کو سکون کی تلاش میں ضائع مت کرو۔ بے قرار رہو — ذکر میں، طلب میں، اپنے رب کی رضا کی کھوج میں۔ یہی بے قراری وہ کشتی ہے جو بالآخر سکون کے ساحل پر لنگر انداز ہوتی ہے۔

اے اللہ! ہمیں ایسی بے قراری عطا فرما جو تیری طلب میں ہو، اور ایسا سکون نصیب فرما جو تیری رضا میں ہو۔ ہمارا خاتمہ ایمان پر کر، اور ہماری روح کو نفسِ مطمئنہ بنا کر اپنی طرف بلا آپ نبی پاک جی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی نظرِ کرم کے صدقے اطہر سے آمین ثم آمین۔🌹❤️🎉🥰🥳

یہ وہ مکالمہ ہے جو انسان کی تخلیق سے پہلے آسمانوں میں ہوا تھا… اور آج بھی ہماری حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔القرآن - سورۃ ...
15/06/2026

یہ وہ مکالمہ ہے جو انسان کی تخلیق سے پہلے آسمانوں میں ہوا تھا… اور آج بھی ہماری حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔

القرآن - سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 30

ترجمہ:
پھر ذرا اس وقت کا تصوّر کرو جب تمہارے ربّ نے فرشتوں سے کہا تھاکہ”میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں“ انہوں نے عرض کیا ” کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں، جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرےگا؟ آپ کی حمد و ثناء کے ساتھ تسبیح اور آپ کےلیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں“ فرمایا ” میں جانتا ہوں،جو کچھ تم نہیں جانتے“

سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کا تعلق اس کتابِ ہدایت کے ساتھ جوڑا۔ پہلے فرمایا کہ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، پھر انسان کو چیلنج دیا کہ اگر تمہیں اس کلام کے بارے میں شک ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔

اور اب اسی کتاب کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو اس کی اصل حقیقت کی طرف لے جا رہے ہیں؛ کہ انسانیت کی ابتدا کیسے ہوئی، انسان کو زمین پر کس مقصد کے لیے بھیجا گیا، اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق میں وہ کون سا راز تھا جسے فرشتے بھی جاننا چاہتے تھے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔”

یہاں غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے مشورہ نہیں کیا، بلکہ انہیں اپنے فیصلے کی خبر دی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر کمی، ہر احتیاج اور ہر مشورے سے پاک ہے۔ وہ جو چاہتا ہے، اپنے کامل علم اور حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔

“خلیفہ” کے کئی معنی بیان کیے گئے ہیں۔ ایک معنی یہ ہے کہ انسان زمین پر نسل در نسل آنے والی مخلوق ہوگا۔ ایک نسل جائے گی، دوسری آئے گی۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ انسان کو زمین پر اختیار، ارادہ اور فیصلے کی صلاحیت دی جائے گی۔ وہ محض مجبور مخلوق نہیں ہوگا، بلکہ اسے نیکی اور بدی کے راستے میں انتخاب کی آزادی دی جائے گی۔

یہی انسان کی آزمائش بھی ہے اور یہی اس کی عظمت بھی۔

فرشتے اللہ تعالیٰ کی نہایت پاکیزہ مخلوق ہیں۔ وہ نافرمانی نہیں کرتے، ہر وقت اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مصروف رہتے ہیں، اور ہر حکم کو کامل اطاعت کے ساتھ بجا لاتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، تو فرشتوں نے عرض کیا:

“کیا آپ اس میں ایسے کو بنائیں گے جو زمین میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا؟ حالانکہ ہم آپ کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔”

یہ اعتراض نہیں تھا، بلکہ سوالِ فہم تھا۔ فرشتے اللہ کے فیصلے پر معاذ اللہ تنقید نہیں کر رہے تھے، بلکہ اس حکمت کو سمجھنا چاہتے تھے جو ان کے علم میں نہیں تھی۔

اور اگر ہم تاریخِ انسانیت کو دیکھیں تو فرشتوں کی بات بظاہر سچ نظر آتی ہے۔ انسان نے زمین میں فساد بھی کیا، خون بھی بہایا، ظلم بھی کیا، نافرمانی بھی کی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا علم فرشتوں کے علم سے کہیں وسیع تھا۔ اللہ جانتا تھا کہ اسی انسان میں انبیاء بھی آئیں گے، صدیقین بھی، شہداء بھی، صالحین بھی، توبہ کرنے والے بھی، محبتِ الٰہی میں رونے والے بھی، اور وہ بندے بھی جو اپنی کمزوری کے باوجود اللہ کی طرف لوٹتے رہیں گے۔

یہی وہ پہلو تھا جو فرشتوں کے سامنے ابھی واضح نہی ہوئی تھی وہ انسان کی کمزوریوں کو دیکھ رہے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ اس صلاحیت کو جانتا تھا جو اس نے انسان کے اندر رکھی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اسی مٹی سے بننے والی مخلوق میں ایسے دل پیدا ہوں گے جو اس کی محبت میں دھڑکیں گے، ایسی زبانیں پیدا ہوں گی جو اس کا ذکر کریں گی، اور ایسی پیشانیاں پیدا ہوں گی جو اس کے حضور سجدہ ریز ہوں گی۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔"

یہ صرف فرشتوں کے لیے جواب نہیں تھا، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک پیغام بھی ہے۔ جب انسان اپنی کمزوریوں، غلطیوں اور گناہوں کو دیکھ کر مایوس ہونے لگے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا رب اس کے اندر وہ صلاحیتیں بھی جانتا ہے جو شاید وہ خود بھی نہ جانتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو محض زمین پر رہنے کے لیے نہیں بنایا، بلکہ اسے اپنے قرب، اپنی معرفت اور اپنی رضا حاصل کرنے کی صلاحیت دے کر پیدا فرمایا ہے۔

سورۂ بقرہ کی یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی اصل عظمت اس کی طاقت، دولت یا علم میں نہیں، بلکہ اس صلاحیت میں ہے کہ وہ اپنی مرضی رکھتے ہوئے بھی اپنے رب کی طرف رجوع کرے، اس کی اطاعت اختیار کرے، اور زمین پر اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ یہی وہ راز تھا جسے اللہ جانتا تھا اور فرشتے ابھی نہیں جانتے تھے۔





۔

*ہماری تاریخ میں بہت بڑا خوبصورت نام عبداللہ بن زید رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی ...
14/06/2026

*ہماری تاریخ میں بہت بڑا خوبصورت نام عبداللہ بن زید رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی بڑھاپا آیا ایک دن بیٹھے حدیث مبارکہ پڑھ رہے تھے تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ:*

*"جنت میں کوئی اکیلا نہیں ہو گا جو نکاح کی عمر میں نہیں پہنچا یا پہنچا بھی تو کسی وجہ سے نہیں ہوا اور وہ مسلمان ہی مرا تو اللہ مسلمان مردوں اور عورتوں کا جنت میں آپس میں نکاح کر دے گا"۔*

*جب یہ حدیث پاک پڑھی تو دل میں خیال آیا کہ یہاں تو نکاح نہیں کیا تو جنت میں ہونا ہی ہونا ہے تو جنت میں میری بیوی کون ہو گی دعا کی کہ یا اللہ مجھے دکِھا تو سہی جنت میں میری بیوی کون ہو گی؟*

*پہلی رات دعا قبول نہیں ہوئی دوسری رات بھی دعا قبول نہیں ہوئی تیسری رات دعا قبول ہو گئی، خواب میں کیا دیکھتے ہیں کالے رنگ کی عورت ہے حضرت بلال حبشی کے دیس کی رہنے والی حبشہ کے دیس کی اور وہ کیا کہتی ہے کہ:*

*"میں میمونہ ولید ہوں اور میں بصریٰ میں رہتی ہوں"۔*

*پتہ مل گیا آنکھ کھلی حضرت کی تہجد کا وقت تھا نوافل پڑھے نماز فجر باجماعت ادا کی اور سواری لے کر حضرت عبداللہ بن زید بصریٰ گۓ وہاں لوگوں نے بڑا استقبال کیا حضرت کا نام ہی بہت بڑا تھا بیٹھا کر پوچھا حضرت بتاۓ بغیر کیسے آنا ہوا خیر تو ہے آپ نے پوچھا یار یہ تو بتاؤ یہاں کوئی میمونہ ولید رہتی ہے لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا حضرت آپ اتنے دٗور سے چل کر میمونہ ولید سے ملنے آۓ ہیں آپ نے فرمایا کیوں اُس سے کوئی نہیں مل سکتا نہیں حضور وہ تو دیوانی ہے لوگ اُسے پتھر مارتے ہیں، حضور نے پوچھا کیوں مارتے ہیں حضور کام ہی ایسے کرتی ہے کوئی رو رہا ہو تو اسے دیکھ کر ہنسنے لگتی ہے اور کوئی ہنس رہا ہو تو رونا شروع کر دیتی ہے اور وہ اجرت پر پیسے لیکر لوگوں کی بکریاں چراتی ہے آج بھی وہ ہماری بکریاں لیکر جنگل میں گئ ہے آپ آرام فرمائیں عصر کے بعد آ جائے گی آپ مل لیجیے گا۔*

*حصْرت نے فرمایا عصر کس نے دیکھی کہا وہ کس سمت گئ ہے لوگوں نے کہا حضور جنگل نہ جائیں بہت خوفناک جنگل ہے آپ نے فرمایا بتاؤ کس طرف گئ ہے لوگوں نے بتایا آپ فرماتے ہیں کہ میں نکل گیا آپ فرماتے ہیں کہ جب میں جنگل گیا واقعی خوفناک جنگل تھا جنگلی جانوروں کی بھرمار تھی قدم قدم پر کوئی نہ کوئی چیز کھڑی ہے آپ فرماتے ہیں کہ قربان جاؤں اس عورت کی مردانگی پر وہ اس جنگل میں کس طرح بکریاں چرا رہی ہے شیروں نے اس کی بکریوں کو ابھی تک کھایا نہیں اتنے درندے ہیں سارے مل کر حملہ کر دیں تو کیا کرے یہ اکیلی عورت کس کس کو روکے گی؟ خیر آپ فرماتے ہیں کہ وہ جگہ جہاں لوگوں نے مجھے بتائی تھی میں وہاں پہنچ گیا جب میں وہاں پہنچا تو منظر دیکھ کر میں حیران رہ گیا دو حیران کر دینے والے منظر تھے۔*

*پہلا میمونہ ولید ؒ بکریاں نہیں چرا رہی تھی بلکہ اُس جنگل میں جاۓ نماز بچھا کر نوافل پڑھ رہی تھی پر بکریاں چرانا تو بہانہ تھا یہ تو بہانہ تھا کنارہ کشی کا، لوگ یہی سمجھتے تھے میمونہ سارا دن بکریاں چراتی ہے لیکن میمونہ بکریاں نہیں چرا رہی تھی۔*

*دوسرا کیا دیکھا کہ میمونہ تو نماز پڑھ رہی ہیں پھر بکریاں کون چرا رہا ہے بکریاں تو ایک جگہ نہیں رکتی کہیں اِدھر جاتی ہیں کہیں اُدھر آپ فرماتے ہیں کہ میمونہ نماز پڑھ رہی تھی اور شیر بکریاں چرا رہے ہیں بکریاں چر رہی ہیں شیر انکے اردگرد گھوم رہے ہیں اگر کوئی بکری بھاگتی ہے اس کی فطرت ہے شرارت کرنا تو شیر اُسے پکڑ کر واپس لے آتا ہے لیکن کہتا کچھ نہیں۔*

*آپ فرماتے ہیں میں حیران و پریشاں کھڑا تھا کہ یہ کیسے ہو گیا ہے یہ فطرت کیسے بدل گئ لوگ کہتے ہیں فطرت نہیں بدلتی یہ شیروں اور بکریوں میں یاری کیسے ہو گئ آپ فرماتے ہیں میں دنگ حیران و پریشاں کھڑا ہوں مجھے نہیں پتہ کہ کب میمونہ ولید نے نماز ختم کر دی اور مجھے مخاطب کر کے کہتی ہیں کہ:*

*"اے عبداللہ ملنے کا وعدہ تو جنت میں تھا آپ یہاں آ گئے"۔*

*آپ فرماتے ہیں میں حیران رہ گیا اس سے پہلے تو ملاقات بھی نہیں ہوئی تو حضرت میمونہ ولید کو میرا نام کیسے پتہ چل گیا*

*تو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت میمونہ ولیدؒ سے سوال کیا اِس سے پہلے ہم ملے نہیں ملاقات نہیں ہوئی ہماری تو میرا نام کیسے پتہ چلا آپ کو تو جواب کیا ملا حضرت میمونہ ولیدؒ فرماتی ہیں عبداللہ جس اللہ نے رات کو تجھے میرے بارے میں بتایا ہے اُسی اللہ نے مجھے آپکے بارے میں بتایا ہے*

*آپ فرماتے ہیں کہ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھا کہ یہ فطرت کیسے بدلی میں نے حضرت میمونہ ولید ؒ سے پوچھا آپ یہ تو بتاؤ یہ شیروں نے بکریوں کے ساتھ یاری کیسے کر لی یہ تو غذا ہے انکی اگر شیر بکریوں کے ساتھ یاری لگاۓ گا تو کھاۓ گا یہ معاملہ کیسے ہو گیا تو حضرت میمونہ ولید ؒ فرماتی ہیں جب سے میں نے رب سے صلح کر لی ہے اُس دن سے اِن شیروں نے میری بکریوں کے ساتھ صلح کر لی ہے۔*

*ہم سب بھی صلح کر لیں، یاری لگا لیں کہیں دیر نہ ہو جاے رب کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کر لیں، کتنے سال گزر گئے ہم نے کوئی اللہ کی بات مانی لیکن وہ کِھلا بھی رہا ہے، پِلا بھی رہا ہے، دِکھا بھی رہا ہے، سُنا بھی رہا ہے، سُلا بھی رہا ہے، جگا بھی رہا ہے، نماز پڑھیں اللہ کی یاد میں زندگی بسر کریں، یہی حقیقی کامیابی ہے.

23/05/2026
محبوب تک پہنچنے کا راستہ محبت نہیں ہے محب ہے،محبوب تک پہنچنے کا وسیلہ محب ہے، تم اُس تک پہنچ ہی نہیں سکتے پہلے اس سے محب...
23/05/2026

محبوب تک پہنچنے کا راستہ محبت نہیں ہے محب ہے،
محبوب تک پہنچنے کا وسیلہ محب ہے، تم اُس تک پہنچ ہی نہیں سکتے
پہلے اس سے محبت کرنے والے تک پہنچو، وہ کہتا ہے
جو مجھ سے محبت کرنے والے تک پہنچ گیا وہ مجھ تک پہنچ گیا۔
اور جو اُس تک نہیں پہنچا تو جو اُس تک نہیں پہنچا وہ مجھ تک کیسے پہنچا۔
اللّہ تک پہنچنے سے پہلے اللّہ والے تک پہنچنا لازمی ہے،
اللّٰہ تک پہنچنے سے پہلے، اللّٰہ والے تک پہنچنا لازمی ہے!
تم اللّٰہ تک بھی پہنچنا چاہتے ہو اور اللّٰہ والوں کے باس بھی نہیں آتے خوشبوں باغ تک پہنچاتی ہےسورج سے پہلے کرن آتی ہے۔ سورج تک پہنچو گے راکھ ہوجاؤ گے کرن تک پہنچو گے تو آباد ہوجاؤ گے، اگر فوراً محبوب تک پہنچنے کی کوشش کی تو محبوب سے پہلے محب مارے گا اگر محب تک پہنچ گئے تو محب خود محبوب تک لے جائے گا۔
رومی

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں روم کی سرزمین میں اپنے لشکر سے بچھڑ گیا تومیری کشتی ٹوٹ گئی اور میں ایک گھن...
19/05/2026

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں روم کی سرزمین میں اپنے لشکر سے بچھڑ گیا تومیری کشتی ٹوٹ گئی اور میں ایک گھنے جنگل میں جا نکلا۔ وہاں اچانک میرا سامنا ایک شیر سے ہوا۔ میں نے شیر سے ڈرنے کے بجائے اسے مخاطب کر کے کہا:
​"اے ابو الحارث (شیر کی کنیت)! میں رسول اللہ ﷺ کا غلام سفینہ ہوں۔"
​یہ سن کر شیر نے غصہ کرنے کے بجائے اپنی دم ہلائی، میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور میرے ساتھ چلنے لگا۔ جب بھی اسے کوئی آواز سنائی دیتی، وہ اس طرف متوجہ ہوتا (جیسے میری حفاظت کر رہا ہو)۔ یہاں تک کہ اس نے مجھے میرے لشکر تک پہنچا دیا، پھر وہ دھیمی آواز میں گرجا اور واپس چلا گیا۔

(المستدرك على الصحيحين، كتاب معرفة الصحابة، رقم الحديث: ٦٤٨٠ ، امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

یہ آپ ہیں.. جب  ماں کے   پیٹ میں آپ کی عمر صرف دو ہفتے تھی​آج سے 1400 سال پہلے، نبی کریم ﷺ نے ہمیں سجدے میں ایک دعا سکھا...
13/05/2026

یہ آپ ہیں.. جب ماں کے پیٹ میں آپ کی عمر صرف دو ہفتے تھی
​آج سے 1400 سال پہلے، نبی کریم ﷺ نے ہمیں سجدے میں ایک دعا سکھائی تھی
​سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَصَوَّرَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ
میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اس کی صورت گری کی، اور اس کے کان اور آنکھوں کو چیرا /شگاف بنایا۔
​اس وقت کوئی بھی نبی کریم ﷺ کے اس لفظ شَقَّ (شگاف ڈالنا/چیرنا) کا حقیقی مفہوم نہ سمجھ سکا!
​حتیٰ کہ سال 1976 آیا، اور سویڈش سائنسدان اور فوٹوگرافر نے رحمِ مادر کے اندر جنین (ایمبریو) کے بڑھنے کے مراحل کی عکس بندی کا ایک تاریخی تجربہ کیا۔
​جب اس نے جنین کے چہرے کی تصویر کو تفصیلات واضح کرنے کے لیے 600 گنا بڑا (میگنی فائی) کیا، تو ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آئی ہماری حسیں شروع میں مکمل اعضاء یا ابھرے ہوئے حصوں کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتی بلکہ یہ حقیقت میں جنین کے سر میں گہرے شگافوں کی شکل میں بننا شروع ہوتی ہیں۔ پھر انہی شگافوں کے اندر سے بعد میں آنکھیں تخلیق پاتی ہیں اور کانوں کی ساخت مکمل ہوتی ہے۔
یہ ہے ہمارے آقاؐ کا علمی مرتبہ کہ​ صرف ایک لفظ سے ایک پیچیدہ تشریحی حقیقت کا خلاصہ کر دیا اور یہ سب کچھ صحرائے عرب میں بیٹھ کر بغیر کسی لیبارٹری کے اور جدید ترین مائیکروسکوپ سے بھی صدیوں پہلے اس کی خبر دے دی۔ سبحان الخالق العظيم۔
اسی لئے تو اللہ نے سورہ فصلت کی آیت نمبر 53 میں ارشاد فرمایا
​سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ
عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں کائنات کے کناروں میں اور خود ان کی اپنی ذات میں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ وہی حق ہے۔

شعلہ ہاۓ او صد ابراہیم سوختتا چراغِ یک مُحَمَّدﷺ بر فروختاُس کے شعلہٕ نار نے صد ابراہیموں کو سُپرد ِآتش کر دیا تاکہ ایک ...
09/05/2026

شعلہ ہاۓ او صد ابراہیم سوخت
تا چراغِ یک مُحَمَّدﷺ بر فروخت

اُس کے شعلہٕ نار نے صد ابراہیموں کو سُپرد ِآتش کر دیا تاکہ ایک اپنے محبوب ﷺ کا چراغ روشن کر سکوں !

مُرشدِ پاک، حضرت علامہ مُحَمَّد اقبال رحمتہ الله علیہ

Address

Sialkot

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noor e Nazar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share