25/06/2026
زندگی کا سب سے گہرا راز یہی ہے کہ جو دل دنیا میں کبھی قرار نہ پکڑے، وہی دل موت کے وقت سب سے زیادہ مطمئن ہوتا ہے۔ یہ بے قراری کوئی بے سکونی نہیں، بلکہ طلب کی وہ آگ ہے جو انسان کو اپنے خالق کی طرف کھینچتی رہتی ہے۔ جو شخص یہاں سکون تلاش کرتا ہے، وہ مرتے وقت بے چین ہوتا ہے، اور جو یہاں بے قرار رہتا ہے، وہی وہاں سکون پاتا ہے۔
بے قراری: طلب کا دوسرا نام
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس بے قراری کو طلب اور جدوجہد سے جوڑا ہے:
وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا
"اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں، ہم انہیں ضرور اپنے راستے دکھا دیتے ہیں۔" (سورۃ العنکبوت، 29:69)
یہ بے قراری دراصل جہاد بالنفس ہے — اپنے آپ سے، اپنی خواہشات سے، اپنی غفلت سے مسلسل برسرِ پیکار رہنا۔ جو دل اس کشمکش میں رہتا ہے، اللہ خود اس کی رہنمائی کرتا ہے۔
ذکر کی بے قراری، دل کا سکون
عجیب بات یہ ہے کہ بے قراری اور سکون ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بے قراری عمل میں ہے، سکون ذکر میں:
الَّذِينَ آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ
"جو لوگ ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، سن لو! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔" (سورۃ الرعد، 13:28)
امام غزالی رحمہ اللہ "احیاء علوم الدین" میں لکھتے ہیں کہ دل کی اصلاح مجاہدہ کے بغیر ممکن نہیں۔ جو دل اپنا محاسبہ کرتا رہتا ہے، رات کو سوتے وقت اپنے اعمال کا حساب لیتا ہے، وہی دل بتدریج اس کیفیت تک پہنچتا ہے جسے حسنِ خاتمہ کہا جاتا ہے — یعنی موت کا سکون۔ یہ سکون کبھی کاہلی سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ مسلسل بے قرار رہنے سے، اپنے نفس کو ٹٹولتے رہنے سے ملتا ہے۔
مولانا رومی کا چنے کی کہانی
مثنوی میں مولانا رومی نے ایک خوبصورت تمثیل بیان کی ہے: ایک چنا دیگ میں ابلتے ہوئے بار بار اوپر اچھلتا اور چیختا ہے کہ مجھے کیوں جلایا جا رہا ہے۔ باورچی اسے سمجھاتا ہے کہ یہ ابال، یہ بے قراری، تمہیں نرم کر رہی ہے تاکہ تم گوشت کے ساتھ مل کر انسان کی غذا بن سکو اور اس کی جان کا حصہ بن جاؤ۔ یہی حال دل کا ہے — جو دل دنیا کی آگ میں، آزمائش کی دیگ میں بے قرار رہتا ہے، وہی نرم ہو کر اللہ کے قرب کے لائق بنتا ہے۔
ابنِ عطاء اللہ السکندری: تدبیر سے سکون نہیں ملتا
"الحکم" میں ابنِ عطاء اللہ السکندری بار بار اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان کی اصل بے قراری اپنی تدبیروں اور خواہشوں میں الجھے رہنے سے ہے، جبکہ حقیقی سکون اس وقت ملتا ہے جب بندہ اپنی تمام تر بے قراری اللہ کی طلب میں صرف کر دے، نہ کہ دنیا کی طلب میں۔ جو بے قراری اللہ کی طرف لے جائے، وہ رحمت ہے۔ جو بے قراری دنیا کی طرف لے جائے، وہ زحمت ہے۔
نفسِ مطمئنہ: بے قراری کا انجام
قرآن نے اس پوری روحانی سفر کا خلاصہ ایک ہی منظر میں بیان کر دیا ہے — وہ روح جو دنیا میں طلب کی آگ میں جلتی رہی، موت کے وقت اسے یوں پکارا جاتا ہے:
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي
"اے اطمینان پانے والی روح! اپنے رب کی طرف لوٹ چل، اس طرح کہ تو اس سے راضی ہو اور وہ تجھ سے راضی ہو۔ پس میرے بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔" (سورۃ الفجر، 89:27-30)
یہی وہ مقام ہے جو ابنِ عربی رحمہ اللہ "فصوص الحکم" میں فنا کی منزل کہتے ہیں — جہاں طالب کی تمام بے قراری اپنے آپ میں فنا ہو کر بقا میں بدل جاتی ہے، اور سکون اس کا مقدر بن جاتا ہے۔
تو اگر سکون سے مرنا ہے، تو زندگی کو سکون کی تلاش میں ضائع مت کرو۔ بے قرار رہو — ذکر میں، طلب میں، اپنے رب کی رضا کی کھوج میں۔ یہی بے قراری وہ کشتی ہے جو بالآخر سکون کے ساحل پر لنگر انداز ہوتی ہے۔
اے اللہ! ہمیں ایسی بے قراری عطا فرما جو تیری طلب میں ہو، اور ایسا سکون نصیب فرما جو تیری رضا میں ہو۔ ہمارا خاتمہ ایمان پر کر، اور ہماری روح کو نفسِ مطمئنہ بنا کر اپنی طرف بلا آپ نبی پاک جی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی نظرِ کرم کے صدقے اطہر سے آمین ثم آمین۔🌹❤️🎉🥰🥳