05/11/2025
ہنزہ کے دل میں واقع بلتت فورٹ تاریخ، ثقافت اور پہاڑوں کی شان کا وہ خوبصورت ملاپ ہے جو صدیوں سے خاموشی کے ساتھ اپنے اندر کئی کہانیاں سمیٹے ہوئے ہے۔ مقامی لوگ اسے “قلعہ بلتت” کہتے ہیں۔ یہ قلعہ تقریباً آٹھویں صدی عیسوی میں بنایا گیا تھا، اور تب سے یہ ہنزہ کے میر یعنی حکمران خاندان کی رہائش گاہ رہا۔ لکڑی، پتھر اور مٹی سے بنایا گیا یہ قلعہ برفیلے پہاڑوں کی گود میں ایسے کھڑا تھا جیسے قدرت نے اسے خود تراشا ہو۔ زمانے کے ساتھ اس میں کئی بار تبدیلیاں اور اضافے کیے گئے، اور ہر حکمران نے اپنے دور کے مطابق اسے سنوارا۔
کہا جاتا ہے کہ جب کشمیر سے ایک شہزادی کی شادی ہنزہ کے میر سے ہوئی تو وہ اپنے ساتھ کشمیر کے طرزِ تعمیر اور بڑھئی بھی لائی، جس کے بعد قلعے میں لکڑی کی تراش خراش، بالکونیاں اور خوبصورت ڈیزائن شامل کیے گئے۔ اس قلعے نے کئی جنگیں، سازشیں، سرد راتوں کے فیصلے اور اقتدار کی کہانیاں دیکھی ہیں۔ پندرھویں اور سولہویں صدی میں حکمران خاندان کے بھائیوں کے درمیان اقتدار کی لڑائی ہوئی جس کے بعد قلعہ حکمرانی کا مضبوط مرکز بنا رہا۔ بعد میں 1891 میں برطانوی فوج نے ہنزہ پر حملہ کیا، اور قلعے کی سیاسی حیثیت متاثر ہوئی لیکن اس کی اہمیت برقرار رہی۔
1945
میں میر خاندان نیچے نئی رہائش گاہ میں منتقل ہوگیا اور قلعہ آہستہ آہستہ خستہ حال ہونے لگا۔ دیواریں ٹوٹنے لگیں، لکڑی بوسیدہ ہو گئی، اور قلعہ تنہائی میں ڈوبنے لگا۔ پھر 1990 کی دہائی میں آغا خان ٹرسٹ فار کلچر نے مقامی ماہرین اور کاریگروں کے ساتھ مل کر اسے دوبارہ زندہ کیا۔ بحالی کا یہ عمل کئی سال جاری رہا اور قلعے کو اس کی اصل شکل کے قریب از سرِ نو تیار کیا گیا۔ آج یہ قلعہ نہ صرف محفوظ ہے بلکہ ایک میوزیم کی شکل میں دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
قلعے کے اندر سردیوں اور گرمیوں کے کمرے، لکڑی کے ستون، پرانے برتن، اسلحہ، قیمتی قالین، مہمان خانے اور وہ چھت جہاں بیٹھ کر پورا کریم آباد اور راکا پوشی کا پہاڑ نظر آتا ہے۔ قلعے کا نچلا حصہ اسٹور رومز کے لیے تھا، درمیانی منزل رہائش، اور اوپر کا حصہ گرمیوں میں استعمال ہوتا تھا۔ لکڑی اور پتھر کے استعمال نے اسے زلزلوں کے جھٹکوں سے محفوظ رکھا، اور یہ آج بھی مضبوطی سے کھڑا ہے۔
جب سورج کی پہلی کرن قلعہ بلتت کی چھت سے ٹکراتی ہے، یا جب شام کو بادل پہاڑوں کے پیچھے چھپتے ہیں، تو قلعے کی خاموش دیواریں محسوس ہوتی ہیں جیسے ماضی کی سرگوشیاں کر رہی ہوں۔ یہ قلعہ صرف ایک عمارت نہیں، ایک ورثہ ہے، ہنزہ کی پہچان اور گلگت بلتستان کی شان ہے۔
Composed by Life goes on