21/08/2026
کنڈول درہ سے ٹکئے جھیل تک — ایک یادگار سفر
قدرت کے حسین مناظر، بلند پہاڑوں، وسیع چراگاہوں اور شفاف جھیلوں کے درمیان سفر ہمیشہ انسان کے دل پر ایک خوبصورت نقش چھوڑ جاتا ہے۔ ہمارا حالیہ سفر بھی کچھ ایسا ہی یادگار اور ناقابلِ فراموش تھا۔ اس سفر میں ہم سات ساتھی تھے، اور ہمارا مقصد کنڈول درہ کے حسین مقامات سے ہوتے ہوئے ٹکئے جھیل تک پہنچنا تھا۔
ہم صبح تقریباً نو بجے اپنے گاؤں سے روانہ ہوئے۔ راستے بھر پہاڑوں کی خوبصورتی، ٹھنڈی ہوا اور قدرتی مناظر ہمارے سفر کو مزید دلکش بناتے رہے۔ تقریباً بارہ بجے ہم کنڈول جھیل پہنچے۔ جھیل کے نیلگوں اور شفاف پانی نے تھکن کا احساس ہی ختم کر دیا۔ وہاں کچھ دیر قیام کیا اور ناشتہ کیا۔ اس کے بعد کشتی کے ذریعے جھیل کے دوسرے کنارے پہنچے اور وہاں سے ہمارے پیدل سفر کا اگلا مرحلہ شروع ہوا۔
تقریباً دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد ہم ایک نہایت خوبصورت اور پُرسکون مقام پر پہنچے، جسے کنڈول بانڈہ کہا جاتا ہے۔ بلند پہاڑوں کے درمیان واقع یہ بانڈہ اپنی قدرتی خوبصورتی اور خاموش فضا کی وجہ سے بے حد دلکش تھا۔ ہم نے وہیں کھانا تیار کیا، سب نے مل کر کھانا کھایا اور کچھ دیر آرام کے بعد دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہوگئے۔
اس کے بعد تقریباً تین گھنٹے مسلسل سفر کرنے کے بعد ہم ایک وسیع و عریض اور انتہائی خوبصورت چراگاہ میں پہنچے، جہاں حدِ نظر تک پھیلے سبز میدان اور بلند پہاڑ ایک شاندار منظر پیش کر رہے تھے۔ یہ خوبصورت مقام میدان بانڈہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دن بھر کی طویل مسافت کے بعد یہی ہمارا رات کا مسکن بنا۔ رات قدرت کے اس خاموش اور حسین ماحول میں گزاری، جہاں آسمان پر جگمگاتے ستارے اور پہاڑوں کی خاموشی ایک الگ ہی دنیا کا احساس دلا رہی تھی۔
صبح سویرے ہم نے اپنا سفر دوبارہ شروع کیا اور ٹکئے جھیل کی طرف روانہ ہوئے۔ مسلسل چڑھائی اور دشوار راستے طے کرنے کے بعد بالآخر ہم اس خوبصورت جھیل تک پہنچے، جو تقریباً 13,200 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ بلند پہاڑوں کے درمیان موجود ٹکئے جھیل کا منظر ایسا دلکش تھا کہ طویل سفر کی ساری تھکن لمحوں میں ختم ہوگئی۔ شفاف پانی، برف پوش پہاڑ اور خاموش فضا نے اس مقام کو ہمارے سفر کا سب سے یادگار حصہ بنا دیا۔
جھیل کا نظارہ کرنے اور کچھ وقت وہاں گزارنے کے بعد ہم نے واپسی کا سفر شروع کیا۔ واپسی میں میدان بانڈہ کے قریب ایک اور خوبصورت جھیل کا بھی نظارہ کیا، جس نے ہمارے سفر کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیا۔ اس کے بعد ہم دوبارہ کنڈول جھیل کی طرف روانہ ہوئے اور اسی راستے سے واپس آئے۔
یہ سفر صرف پہاڑوں، جھیلوں اور چراگاہوں کی سیر کا نام نہیں تھا، بلکہ دوستی، رفاقت، ہمت اور قدرت کے حسن کو قریب سے محسوس کرنے کا ایک خوبصورت تجربہ تھا۔ سات ساتھیوں کا یہ سفر ہمیشہ ہماری یادوں میں زندہ رہے گا۔ راستے کی تھکن، مشکل چڑھائیاں، ایک ساتھ کھانا پکانا، پہاڑوں کے درمیان رات گزارنا اور خوبصورت جھیلوں کا نظارہ—یہ سب یادیں زندگی بھر ہمارے ساتھ رہیں گی۔
کنڈول درہ سے ٹکئے جھیل تک کا یہ سفر ہمارے لیے قدرت کی ایک ایسی کتاب تھی، جس کا ہر صفحہ خوبصورتی، حیرت اور یادوں سے بھرا ہوا تھا۔