14/05/2026
حقیقت اور ہی کچھ ہے، مگر ہم کیا سمجھتے ہیں
جو اپنا ہو نہیں سکتا، اُسے اپنا سمجھتے ہیں
یہ درسِ اوّلیں مجھ کو مِلا اپنے بزرگوں سے
بہت چھوٹے ہیں وہ، اوروں کو جو چھوٹا سمجھتے ہیں
نہ جانے کیوں ہماری اُنکی اک پل بھی نہیں بنتی
جو اپنا قبلۂ دِل، دولتِ دُنیا سمجھتے ہیں
اُن اہلِ نظر کی اِس شانِ استغنا کا کیا کہنا
جو تاجِ خُسروی کو خاکِ زیرِ پا سمجھتے ہیں
خدا و مصطفٰےؐ سے ہٹ کے، وہ ہیں سخت دھوکے میں
جو اپنی ذات کو تنقید سے بالا سمجھتے ہیں
بُرے اچھوں کو بھی اچھا نہیں گردانتے، لیکن
جو اچھے ہیں، بُرے لوگوں کو بھی اچھا سمجھتے ہیں
نہیں ہے احتیاجِ لب کُشائی رُو برُو اُن کے
کہ اہلِ دِل ، زبانِ دیدۂ بِینا سمجھتے ہیں
جو گُل کے آئینےمیں دیکھ سکتے ہیں رُخِ گلشن
وہ اربابِ نظر، قطرے کو بھی دریا سمجھتے ہیں
کوئی درپردہ کس سے چل رہا ہے کتنی چالیں
سمجھ ہر چند ناقص ہے، مگر اتنا سمجھتے ہیں
نہ پُوچھو کچھ ، کہ کیا کچھ دے دیا دینے والے نے
بڑا ہو لاکھ کوئی، ہم کسی کو کیا سمجھتے ہیں
بظاہر خوش تھے جو کل تک ہماری گُل فشانی پر
وہ اپنے بھی ہمیں اب راہ کا کانٹا سمجھتے ہیں
جو نکلیں جُستجو کا شوق لے کر راہِ جاناں میں
وہ ہر منزل کو اپنے پاؤں کا چھالا سمجھتے ہیں
قیامت سر پہ جو ٹُوٹے مصیبت دِل پہ جو آئے
حقیقت میں اُسے ہم مرضیِ مولا سمجھتے ہیں
لگا دی تہمتِ بادہ کشی اُن پر بھی واعظ نے
نصیرؔ اُن کی نظر کو جو مے و مِینا سمجھتے ہیں
کلام پیر سید نصیر الدین نصیرؔ جیلانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ گولڑہ شریف
Stay connected. Follow
YT • FB • Instagram • X • LinkedIn • Threads • Snapchat • TikTok • Likee