11/02/2024
چند حقائق/ الیکشن 2024
1۔ مسلم لیگ نون - انا للہ وانا الیہ راجعون
2۔ مک گیا تیرا شو نواز - گو نواز گو نواز
3۔ ایک پلان وہ جو لندن میں بنتا ہے اور ایک پلان میرا اللہ بناتا ہے، اور ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے
4۔ "ووٹ کو عزت دو" سے "بوٹ پالش" سے "ساڈی گل ہو گئی ہے" سے "ووٹ پہ ڈاکہ ڈالو" تک کا سفر
5۔ ساٹھ سیٹوں والے کھوتے کی وکٹری سپیچ۔ اگر انٹرنیشنل میڈیا الیکشن چوری کرنے پہ برہم نہ ہوتا تو کھوتے نے اپنے آقاؤں کی مدد سے وزیراعظم بن جانا تھا
6۔ باقی پارٹیوں کو ووٹ 8 فروری (الیکشن والے دن) پڑے اور ن لیگ کو ووٹ 9 فروری کو پڑے۔ جو 8 فروری کی رات تک الیکشن رزلٹ دیکھ کر منہ پھلائے بیٹھے تھے انہوں نے 9 فروری کو وکٹری سپیچ کر ڈالی
7۔ اچھی خاصی جاہل قوم تھی، جو کچھ بھی ہوتا تھا قوم بے خبر تھی، جو رزلٹ دیا جاتا قبول کر لیتی تھی اور یہ دو خاندان قوم پر 30 سال مسلط رہے۔ باریاں لینے پاکستان آجاتے اور پھر اپنے گھروں کو لوٹ جاتے اور اپنی اگلی باری کا انتظار کرتے۔ اب ایک بھلے انسان نے قوم کو شعور دے دیا ہے، پہلی دفعہ انہیں فارم 45 کا بتایا ہے اور ووٹ کی طاقت کا بتایا ہے اور اب قوم نے اپنی اصل طاقت دکھائی ہے۔
8۔ الیکشن کی ایک رات قبل تک بلاول نواز شریف کو گالیاں بک رہا تھا، الیکشن کی اگلی رات دونوں ساتھ بیٹھے حکومت بنانے کا سوچ رہے تھے۔ اور یہی ڈرامہ یہ لوگ پچھلے 30 سال سے کرتے آئے ہیں جسے ہم بیوقوں نے ہمیشہ سچ سمجھا۔
9۔ حافظ کہتا تھا وہ عمران خان کو آگے سیاست میں نہیں دیکھ رہا۔ قید میں بیٹھے اس خان نے سیاست کر کے دکھائی بھی اور گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور بھی کیا
10۔ جو لوگ سلیکٹڈ سلیکٹڈ کی رٹ لگائے ہوتے تھے آج انہیں کی جھولیوں میں جا بیٹھے ہیں اور اپنی زبان سے انکے تلوے چاٹ رہے ہیں۔