31/12/2025
ہمارے ہاں تعلیم کو اب بھی ایک ہی پیمانے سے ناپا جاتا ہے:
میٹرک، انٹر، بی اے، ایم اے… اور پھر شاید نوکری۔
اگر اس لائن سے ذرا سا بھی ہٹ جائیں تو فوراً جملہ آتا ہے:
“یہ بچہ پڑھائی میں کمزور ہے۔”
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہر بچہ ایک ہی راستے پر چلنے کے لیے بنا ہوتا ہے؟
میٹرک سے پہلے کی عمر دراصل بچے کی سمت تلاش کرنے کی عمر ہوتی ہے، مگر ہم اسے “مارکس کی دوڑ” بنا دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ یا تو دباؤ میں آ جاتا ہے، یا دل ہی دل میں پڑھائی سے نفرت کرنے لگتا ہے۔
یہ بات ماننی پڑے گی کہ
ہر بچہ ڈاکٹر، انجینئر یا افسر نہیں بن سکتا —
اور یہ کوئی ناکامی نہیں۔
اصل ناکامی یہ ہے کہ ہم بچے کی صلاحیت پہچاننے سے انکار کر دیں۔
اکثر والدین محبت میں، یا معاشرتی دباؤ میں، یہ بھول جاتے ہیں کہ
بچہ اُن کا خواب پورا کرنے کی مشین نہیں۔
اگر بچہ:
چیزیں کھول کر دیکھتا ہے
موبائل، کمپیوٹر، مشینوں میں دلچسپی رکھتا ہے
ڈرائنگ، ہینڈ ورک یا ڈیزائننگ پسند کرتا ہے
سوال زیادہ کرتا ہے، نمبر کم لیتا ہے
تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ نالائق ہے،
بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روایتی نظام سے مختلف سوچتا ہے۔
بدقسمتی سے ہم ایسے بچوں کو فوراً “کمزور طالب علم” کا لیبل لگا دیتے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ میٹرک ایک اہم مرحلہ ہے،
مگر یہ زندگی کا آخری دروازہ نہیں۔
دنیا بھر میں آج:
اسکل بیسڈ ایجوکیشن
ٹیکنیکل ٹریننگ
شارٹ کورسز
ڈیجیٹل مہارتیں
زیادہ اہم ہو چکی ہیں۔
ہمارے ہاں مگر اب بھی کامیابی کا مطلب صرف کتابوں کا بوجھ سمجھا جاتا ہے،
چاہے بچہ اندر سے ٹوٹ جائے۔
میٹرک سے پہلے کے بچوں کو سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے:
بات سنے جانے کی
حوصلہ افزائی کی
رہنمائی کی، زبردستی کی نہیں
بچے سے یہ پوچھیں:
“تمہیں کیا اچھا لگتا ہے؟”
“تم کیا بننا چاہتے ہو؟”
ہوسکتا ہے جواب فوراً نہ ملے،
مگر یہ سوال اس کے اندر سوچ پیدا کرے گا۔
اور یاد رکھیں،
سوچنے والا بچہ ہی آگے چل کر کچھ نیا کرتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ بچہ:
صبح سے شام تک پڑھتا رہے
موبائل نہ دیکھے
کھیل کود نہ کرے
سوال نہ پوچھے
اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ وہ:
خوداعتمادی کیوں کھو بیٹھا؟
فیصلے کیوں نہیں کر پاتا؟
ہم نے اسے روبوٹ بنانے کی کوشش کی،
انسان بننے کا موقع ہی نہیں دیا۔
میٹرک سے پہلے کی تعلیم کا مقصد صرف امتحان پاس کروانا نہیں،
بلکہ بچے کو خود کو سمجھنے کا موقع دینا ہے۔
اگر ہم نے آج بچے کو صحیح سمت دکھا دی،
تو کل وہ خود راستہ بنا لے گا۔
اور یاد رکھیں:
ہر کامیاب انسان کے پاس ڈگری ہوتی ہے،
مگر ہر ڈگری والا کامیاب نہیں ہوتا۔
حبیب محسود
سعودی عربیہ
31-12-2025