31/03/2026
ترکلانی قبیلے کے بارے میں کچھ حقائق!
ترکلانی ایک مشہور سڑبنی پختون قبیلہ ہے۔ دیگر پٹھان قبیلوں کی بنسبت ترکلانی یوسفزئ,مندڑ اور گگیانی کے بہت قریب ہے۔ اسکو عام زبان میں ترکانی بھی کہا جاتا ہے۔ ترکلانی یا ترکانی کے جد امجد کا نام ترک تھاجوکہ خیخی کا بیٹا اور "بسو" کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔
ترک کے دو بیٹے تھے1=موسی'2=شعیب۔
موسی'آگے سات شاخوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔
1=محمود(لوئ ماموند)2=اسماعیل3=حسن
4=عیسی'5=مدے6=ہارون7=مور۔
محمود (لوئ ماموند )کی سات زیلی شاخیں یہ ہیں۔
1=بڑوزئی، 2=ککے زئی، 3=اریازئی، 4=سالار زئی، 5=برم کازئی، 6=خلوزئی اور 7=بدل زئی۔
ککی زئی کی اولاد پانچ ذیلی شاخوں میں تقسیم ہیں۔
1=مسعود خیل، 2=ایسف خیل، 3=عمر خیل، 4=سلیمان خیل اور 5=بادین خیل اور اس وقت بھی یہ لوگ باجور میں انہی ناموں سے یاد کئے جاتے ہیں۔
ککی زئ پنجاب میں لاھور گوجرانوالہ سیالکوٹ اور ھندوستان میں جالندھر اور بٹیالہ میں مالکانہ حیثئت سے آباد ہیں۔
اسماعیل سات شاخوں میں منقسم ہیں۔
1=اکازئ2=بوجہ3=اطرافی4=کالوٹ
5=کٹور6=محمود(وڑوکےماموند)7=لوند-
وڑوکے ماموند بھی باجوڑ ضلع میں آباد ہیں۔
وہ تحصیل ماموند ضلع باجوڑ کےدیہات عمرے، سیوائی، دماڈولہ، بدان، تانی اور کمار اور افغانستان کے صوبہ کنڑ کے علاقوں ماراواڑہ اور شورتان میں رہتے ہیں۔
سلارزی ترکانڑی قبیلہ کے ذیلی شاخ کا بڑا قبیلہ ہے جو سلارزو ناواگئ چارمنگ اور چمرکنڈ تک پھیلا ہوا ہے سلارزو میں لرمدک برمدک لر سدین اور بر سدین کے ناموں پر آباد ہے ماموند اور سالارزئی قبیلہ شجروی تاریخ سے آپس میں چچا زاد بھائی ہیں ۔
عیسی'سات شاخوں میں تقسیم ہوا ہے۔
1=مست خیل(حکمران خاندان)
2=علی بیگ خیل3=موسی'خیل
4=شیخیل5=مندیزے6=سینیازئ"7 باډي خيل
مدے تین شاخوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔
1=خواجے2=معروف3=الیاس۔
ترکلانی ایک بہادر اور خوددار نسل ہے یوسفزئ قبیلے پر اس قبیلے کے بےانتہاہ احسانات ہیں ہر مشکل میں اس قبیلے نے افعانستان سے أکر یوسفزئ کی بےلوث مددکی ترکلانی افعانستان میں اپنے ریاست لغمان کے مالک تهے باجوڑ میں جب دلہ زاک نے وعدے کے مطابق علاقہ چھوڑنے سے انکار کیا اور ملک ھیبوں دلہ زاک نے یوسفزئ سے جنگ کرنے کا ارادہ کیا تو ترکلانی قبیلے نے لغمان سے اکر دلہ زاک سردار ملک ھیبوں کا سر ملک پائندہ ترلانی ککیزی نے تن سے جدا کیا اور برھان ترکلانی نے دوسرے دلہ زاک سردار جہان شاہ کا سر تن سے جدا کرکے جنگ کا فیصلہ کردیا جنگ کاٹلنگ میں بھی ترکلانی لشکر یوسفزئ کی مدد کے لیے آۓ اور شیخ تپور میں بھی یہ لوگ مدد کیلئے شامل ہوئے لیکن اس قبیلے نے شیخ ملی کی تقسیم میں حصہ لینے سے انکار کیا لیکن جب مغلوں نے ان کی ریا ست کا خاتمہ کیا تو ترکلانی قبیله وہاں سے ہجرت کر کے اپنے برادر قبیلے کے ساتھ باجوڑ اور ضلع دیر کے علاقوں میدان جندول اور براول میں آباد ہو گئے۔
کچھ ترکلانی قبائل کنڑ میں بھی آباد ہو گئے۔
جو کہ بعد میں ڈیورنڈ لائن کی وجہ سے افغانستان سے منسلک ہو گئے اور اب وہاں پر کافی تعداد میں آباد ہیں ۔
کٹور چترال اسمار اوربدحشاں میں بھی آباد ہیں۔
ترکلانی لغمان نگرھار میں بھی آباد ہیں۔
اہم شخصیت غازی عمرا خان آف جندول کا تعلق بھی ترکلانی مست خیل قبیلہ سے تھا۔
جندول میں احمد شاہ اخوند صاحب نے ترکلانی قوم کا مست علی خان کو جندول کا حاکم مقرر کیا۔
وہ بہادر,دلیر اور مالدار آدمی تھا۔اس نے اپنے پیر کے حکم پر 1721 میں اپنی حکومت کا آغاز کیا۔اسکے بعد اسکا پوتا محمد حیات خان حکمران ہوا۔اس نے باقاعدہ فوج اور پولیس بھرتی کی اور علاقے کا دفاع کیا۔اسکے وفات کے بعد عبدالغفار خان حکمران رہا۔1838 میں فیض طلب خان نے عنان حکومت سنبھال لی۔1841 میں والی افغانستان کی مدد کرتے ہوۓ جلال آباد میں انگریز فوج پر حملہ کیا۔مشہور جنگ امبیلہ فیض طلب خان اور انگریزی فوج کے درمیان لڑی گئ۔اس لڑائ میں اسکا پوتا عمرا خان بھی شریک تھا۔ اس نے کم سنی کے باوجود حیرت انگیز کارنامے انجام دئے۔1879 میں عمراخان نے اپنے بھائ محمد زمان کو معزول کرکے خود حاکم بن گیا۔23 سال کی عمر میں اس نے مثالی حکومت قائم کی۔اس نے ڈاک,بیت المال,فوج ,عدالت اور انتظامیہ کے دیگر محکمے بھی قائم کئے۔
عمراخان ایک اعلی پاۓ کا جرنیل اور مدبر تھا۔اسکی بہادری کی وجہ سے اسے افغان نپولین کہا جاتا ہے۔اسے انگریزوں کے بارے میں معلوم تھا کہ وہ دیر,چترال اور سوات پر قبضہ کرنے والے ہیں تو اس نے آگے بڑھ کر دیر کے تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا چترال کا کچھ علاقہ بھی اپنی سلطنت میں شامل کیا۔نواب دیر بھاگ کے سوات میں پناہ گزین ہوا۔چترال سے واپسی پر ادینزئ اور ملاکنڈ کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔چکدرہ میں ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا۔سخاکوٹ اور شیر گڑھ سے گزر کر جلالہ کے قریب پڑاو ڈالا اور انگریزوں کے خلاف لڑائیاں لڑی۔
انگریزوں نےدیر اور سوات کے حکمرانوں کو اپنے ساتھ ملایا اور ایک لاکھ فوج کے ساتھ عمراخان پر حملہ آور ہوۓ,تیرہدن کی خونریز جنگ کے بعد13 اپریل 1889 کو عمراخان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ شکست کے بعد عمراخان افغانستان کے حکمران سے انگریزوں کے خلاف امداد طلب کی لیکن اس نے انکار کیا۔عمران خان نے بقیہ زندگی افغانستان میں گزاری اور وہی وفات پائ۔
(ڈاکٹر احمد رشید خوگیانی)