10/20/2025
دبئی ائیرپورٹ سے گزشتہ ماہ امارتی ائیرلائن کی نیویارک کے لیے اڑان بھرتے وقت خوبصورت اور دلکش مناظر کو اپنے موبائل فون کے کیمرے سے محفوظ کیا تھا ۔ ہوائی جہاز کی کھڑکی سے دبئی کا رات کا نظارہ کافی شاندار اور دلکش ہے، نیچے شہر کے منظر کی روشنیاں ٹمٹماتی ہیں اور روشن شاہراہوں کو دیکھ کر ایک انوکھا اور خوبصورت منظر پیدا ہوتا ہے۔
ہر چھٹی کا اپنا ایک دورانیہ ہوتا ہے، اور ہر ملاقات کا اختتام جدائی پر منتج ہوتا ہے۔ اس بار بھی گزشتہ ماہ، اپنے وطن پاکستان، اپنے پیاروں کے سنگ حسین لمحات گزارنے کے بعد، وہ وقت آ گیا تھا جب پردیس کی طرف دوبارہ کوچ کرنا تھا ۔
یہ واپسی کا سفر ہمیشہ جذباتی ہوتا ہے۔ دل میں ایک کسک، آنکھوں میں نمی اور ذہن میں ہزاروں یادیں لیے جب ایئرپورٹ کی طرف قدم بڑھتے ہیں، تو ہر قدم بوجھل محسوس ہوتا ہے۔
وطن کی مٹی، اس کی خوشبو، گلیوں کا شور، دوستوں کی محفلیں، یہ سب کچھ چھوڑ کر جانا ایک امتحان سے کم نہیں ہوتا۔
جہاز میں بیٹھتے ہی، ذہن ایک بار پھر
بیتے دنوں کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ وہ ہنسی مذاق، وہ گپ شپ، وہ چھوٹے چھوٹے جھگڑے اور پھر پل بھر میں صلح ہو جانا۔ سب کچھ جیسے خواب سا لگتا ہے۔ پردیس کی زندگی ایک مستقل دوڑ ہے، جہاں انسان کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے دن رات ایک کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس دوڑ میں جب کبھی تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے، تو وطن کی یہی میٹھی یادیں نئے سرے سے جینے کا حوصلہ دیتی ہیں۔
اب آسمان کی بلندیوں پر بیٹھا یہ
مسافر جانتا ہے کہ پردیس میں اس کا انتظار ایک نئی جدوجہد اور ذمہ داریوں کا سمندر کر رہا ہے۔ لیکن اس کے دل میں یہ یقین ہے کہ وہ جلد ہی دوبارہ اپنے وطن لوٹے گا، اور تب تک کے لیے، وہ ان یادوں کو اپنے سینے سے لگا کر رکھے گا جو اسے جینے کا سلیقہ سکھاتی ہیں۔