Swat valley

Swat valley It’s all about Nature

14/03/2026

Narrated Mu'awiyah b. Abi Sufyan (RA): The Prophet (SAW) as saying: Lailat al-qadr is the twenty-seventh night (of Ramadan).

(Sunan Abi Dawud 1386, Book 6, Hadith 16)

قانونی طور پر گداگری کے خلاف سخت اقدامات
14/03/2026

قانونی طور پر گداگری کے خلاف سخت اقدامات

08/02/2026

REGULATORY CRACKDOWN

The Senate Standing Committee on Finance and Revenue sharply criticized commercial banks for charging customers high fees for SMS alerts and routine banking services. Lawmakers are demanding immediate intervention.

THE HIDDEN CHARGES

Senator Saleem Mandviwalla chaired the session where banks faced accusations of collecting "hundreds of millions of rupees" through SMS alert services, often without clear informed consent from customers.

STATE BANK ORDERED TO INVESTIGATE

The committee directed the Governor of State Bank of Pakistan to urgently investigate and report back at the next meeting. Meezan Bank specifically came under spotlight during questioning.

Banks are charging PKR 288-672 for SMS services and thousands for annual card fees that customers often don't realize they've authorized.

10/01/2026

🚦 سوات میں ٹریفک جام: عوام کی پریشانی، ذہنی دباؤ اور حل

سوات جو کبھی پُرسکون وادی کہلاتی تھی، آج شدید ٹریفک جام کی وجہ سے عوام کے لیے ذہنی اذیت بن چکی ہے۔ روزانہ اسکول، ہسپتال، دفاتر اور کاروبار جانے والے لوگ گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہتے ہیں، جس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ ذہنی دباؤ (Mental Stress) بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

😟 ٹریفک کی وجہ سے عوام کو درپیش مسائل

1. ذہنی دباؤ اور غصہ
مسلسل جام، ہارن، اور دیر سے پہنچنے کا خوف لوگوں کو چڑچڑا اور بے چین بنا رہا ہے۔

2. طبی مسائل میں اضافہ
بلڈ پریشر، سر درد، بے خوابی اور دل کے مریضوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

3. ایمرجنسی مریض متاثر
ایمبولینس اور ہسپتال جانے والے مریض ٹریفک میں پھنس کر جان کے خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

4. طلبہ اور ملازمین کا نقصان
اسکول کے بچے دیر سے پہنچتے ہیں، حاضری متاثر ہوتی ہے اور نوکری پیشہ افراد کو جرمانے یا تنخواہ کٹوتی کا سامنا ہوتا ہے۔

5. سیاحتی ساکھ متاثر
سیاح بددلی کے ساتھ واپس جاتے ہیں، جس سے سوات کی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔
ٹریفک صرف سڑکوں کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ عوام کی ذہنی صحت، وقت اور زندگی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اگر حکومت، انتظامیہ اور عوام مل کر سنجیدگی دکھائیں تو سوات کو دوبارہ پُرسکون وادی بنایا جا سکتا ہے۔

10/01/2026

🏥 MTI ہسپتال: اصلاح یا عوام پر نیا بوجھ؟

Medical Teaching Institution (MTI) ایک ایسا نظام تھا جسے صحت کے شعبے میں بہتری، شفافیت اور خودمختاری کے نام پر متعارف کرایا گیا۔ مگر عملی طور پر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا MTI واقعی عوام کے حق میں ہے یا یہ عام آدمی کے لیے علاج کو مزید مشکل بنا رہا ہے؟

MTI کے نفاذ کے بعد سب سے نمایاں مسئلہ علاج کا مہنگا ہو جانا ہے۔ وہ ہسپتال جو کبھی غریب مریضوں کے لیے آخری امید سمجھے جاتے تھے، اب فیسوں، ٹیسٹوں اور ادویات کی مد میں بھاری رقم وصول کر رہے ہیں۔ نتیجتاً کم آمدنی والا مریض یا تو علاج ادھورا چھوڑ دیتا ہے یا غیر معیاری پرائیویٹ علاج کی طرف چلا جاتا ہے۔

اسی طرح مفت علاج کی سہولتیں جو پہلے سرکاری ہسپتالوں کی پہچان تھیں، آہستہ آہستہ ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ لیبارٹری ٹیسٹ، امیجنگ، حتیٰ کہ بعض ایمرجنسی سروسز بھی چارجز کے بغیر دستیاب نہیں رہیں۔

ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ علاج میں کمرشل دباؤ بڑھ گیا ہے۔ مریضوں کو ضرورت سے زیادہ ٹیسٹ اور مہنگی ادویات تجویز کی جاتی ہیں، جس سے ڈاکٹر اور مریض کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہو رہا ہے۔ علاج، خدمت کے بجائے کاروبار بنتا محسوس ہوتا ہے۔

ایمرجنسی حالات میں بھی رجسٹریشن، ٹوکن اور فیس کے مراحل قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں، جو بعض اوقات مریض کی جان کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ MTI ہسپتالوں میں احتساب کا نظام کمزور دکھائی دیتا ہے، کیونکہ خودمختار مینجمنٹ کے باعث عوامی شکایات کا مؤثر ازالہ ممکن نہیں رہتا۔

دیہی علاقوں سے آنے والے مریضوں کے لیے MTI ہسپتال کسی آزمائش سے کم نہیں۔ مہنگا علاج، رہائش کے مسائل اور طویل انتظار ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ اوپر سے VIP اور سفارش کلچر عام مریض کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔

سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ صحت، جو ریاست کی بنیادی ذمہ داری اور شہری کا حق ہے، اب ایک کمرشل سروس بنتی جا رہی ہے۔ اگر یہی روش جاری رہی تو عوام کا سرکاری نظامِ صحت سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ MTI نظام کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے، غریب مریض کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے، اور صحت کو کاروبار نہیں بلکہ خدمت سمجھا جائے—کیونکہ بیمار آدمی گاہک نہیں، انسان ہوتا ہے۔

--۔

16/08/2025

مزید پڑھیں

16/08/2025
16/08/2025
16/08/2025
16/08/2025
10/07/2025

ویر چی دہ قیامت نہ کؤ نو سہ بہ کؤ
مونگ چی بغاوت نہ کؤ نو سہ بہ کؤ
تا خو مونگ پہ وینو لمبولی یو
ستا نہ چی نفرت نہ کؤ نو سہ بہ کؤ

Address

Fujairah

Telephone

+923022007891

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Swat valley posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Swat valley:

Share