Amir shehzad

Amir shehzad Muhammadi

Melbourne 💡
07/12/2025

Melbourne 💡

Lights of Melbourne
25/11/2025

Lights of Melbourne

16/09/2024

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

Melbourne 💥
24/01/2024

Melbourne 💥

نبی کے نام پر جھوٹ مندرجہ ذیل واقعات احادیث یا سیرت کی کتابوں میں بالکل نہیں لکھے ہیں بلکہ نبی کریم  ﷺ، صحابہ کرام اور د...
28/10/2021

نبی کے نام پر جھوٹ

مندرجہ ذیل واقعات احادیث یا سیرت کی کتابوں میں بالکل نہیں لکھے ہیں بلکہ نبی کریم ﷺ، صحابہ کرام اور دیگر کے ساتھ جھوٹ منسوب ہیں۔ اگر کوئی ہم سے حوالہ مانگے تو بے وقوف ہے کیونکہ ہم تو کہہ رہے ہیں کہ یہ واقعات کسی بھی کتاب میں نہیں ہیں، اگر کوئی کہتا ہے کہ میرے پاس ریفرنس ہے تو وہ ہمیں دے کر ہم پر احسان کرے۔ غور و فکر کریں کہ کیا آپ بھی یہ جھوٹے الفاظ اور واقعات سُنا رہے ہیں، ایک نظر ڈال لیں۔

(1) اہلسنت کے نزدیک حضور ﷺ کو اللہ کریم کا دیدار ہوا مگر کسی کتاب میں یہ الفاظ نہیں لکھے کہ "اللہ کریم نے فرمایا ہو کہ نعلین سمیت عرش پر آ جا"۔
(2) سیدنا بلال کی آواز بہت خوبصورت اور دور تک جاتی تھی لیکن یہ جو مشہور ہے کہ ان کی زبان میں لکنت تھی اسلئے س کو ش پڑھتے تھے یہ جھوٹ ہے۔
(3) یہ واقعہ بھی جھوٹا ہے کہ حضور ﷺ کے دندان مبارک زخمی ہونے پر حضرت اویس قرنی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے سارے دانت نکلوا دئے۔
(4) مصلے کا کونا موڑ دینا چاہئے ورنہ شیطان نماز پڑھتا ہے یہ بات جھوٹ ہے ورنہ مساجد کی ساری صفوں پر شیطان نماز ادا کرتا ہو گا۔

مزید جھوٹ:
(5) ایک قبر میں سے 70 مردے نکلیں گے ایسی کوئی حدیث نہیں۔
(6) دنیا آخرت کی کھیتی ہے، ایسی کوئی حدیث نہیں۔
(7) عورت حضور ﷺ پر کوڑا پھینکتی تھی ایسا کوئی واقعہ کسی کتاب میں نہیں ہے۔
(8) عورت مکہ چھوڑ کر جانے لگی کیونکہ یہاں نعوذ باللہ محمد ﷺ جھوٹا نبی جادوگر آ گیا ہے، ایسا کوئی واقعہ نہیں ہے۔
(9) سیدنا عمر فاروق کے پاس ایک قتل کا مقدمہ پیش ہوا، بندے کو اس کے بدلے قتل کی سزا ہوئی، اُس نے کہا تین دن میں واپس آ جاؤں گا، پوچھا تیری گواہی کون دے گا، اُس نے سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا۔۔ ایسا کوئی واقعہ نہیں۔
(10) نماز مومنین کی معراج ہے یہ کسی حدیث کے الفاظ نہیں ہیں۔
(11) ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لے کر جائے گی، ایسی کوئی حدیث نہیں۔
(12) میں چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ میں جانا جاؤں تو خلقت کو پیدا کیا۔ جھوٹ
(13) ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے اور ہو گا وہی جو میری چاہت ہے۔
(14) سیدنا بلال کا نکاح جنت کی سردار حور سے ہو گا، بالکل جھوٹ۔
(15) ہر انسان کے تین باپ ہوتے ہیں استاد، والد، سسر، ایسی کوئی حدیث نہیں۔

کچھ اور جھوٹ
(16) اگر جھک جانے یعنی عاجزی اختیار کرنے سے تمہاری عزت گھٹ جائے تو قیامت کے دن مجھ سے لے لینا۔
(17) رمضان کے آخری جمعہ میں دو نفل پڑھنے سے ساری عمر کی نمازیں قضا ادا ہو جاتی ہیں۔
(18) حضور ﷺ نے تندور میں روٹی لگائی تو وہ پکی ہی نہیں، بالکل جھوٹ واقعہ
(19) یہ بھی جھوٹ ہے کہ حضور ﷺ نے کسی صحابی کو رزق میں اضافے کے لئے چار نکاح کرنے کا مشورہ دیا۔
(20) اللہ کریم 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے ایسی بھی کوئی حدیث نہیں ہے۔
(21) حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھے بچوں کی پانچ عادتیں اچھی لگتی ہیں رو رو کر مانگتے ہیں اور اپنی بات منوا لیتے ہیں، مٹی میں کھیلتے ہیں اور غرور و تکبر خاک میں ملا دیتے ہیں، جو مل جائے کھا لیتے ہیں، زیادہ جمع یا ذخیرہ کرنے کی ہوس نہیں رکھتے، لڑتے ہیں جھگڑتے ہیں اور پھر صلح کر لیتے ہیں، مٹی کے گھر بناتے ہیں، کھیل کر گرا دیتے ہیں، ایسی کوئی حدیث نہیں ہے۔

(22) سیدنا عمر فاروق کے بیٹے سیدنا عبداللہ کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنا غلام کہہ دیا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے بیٹا کاغذ پر لکھوا لاؤ، ایسا کوئی واقعہ کتابوں میں نہیں ہے۔
(23) نعت کے یہ الفاظ جھوٹ ہیں کہ سمت نبی ابوجہل گیا اس نے نبی سے کہا کہ یہ تو بتا میری مٹھی میں ہے کیا، ایسا کوئی واقعہ نہیں ہے۔
(24) فجر چھوڑنے پر چہرے کا نور ختم، ظہر چھوڑنے پر رزق، عصر چھوڑنے پر وجاہت ایسی کوئی حدیث نہیں ہے۔
(25) نماز چھوڑنے والا قیامت کے دن اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کے چہرے پر لکھا ہو گا اے اللہ کے حق کو ضائع کرنے والے، اے اللہ کے غصے کے مستحق ۔۔ ایسی کوئی حدیث نہیں۔

(26) حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی رات کو روزانہ پانچ کام کر کے سویا کرو (۱) چار ہزار دینار صدقہ (۲) ایک قرآن شریف پڑھکر (۳) جنت کی قیمت ادا کر کے (۴) دو لڑنے والوں میں صلح کرو کر (۵) ایک حج کر کے یعنی چار مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھو، تین مرتبہ سورہ اخلاص، دس مرتبہ درود، دس مرتبہ استغفار وغیرہ، ایسی کوئی حدیث نہیں ہے۔
(27) ماں کی گود سے قبر کی گود تک علم حاصل کرو، ایسی کوئی حدیث نہیں۔
(28) بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے۔
(29) معلوم ہو جائے کہ کل قیامت آنے والی ہے تب بھی جو درخت لگا رہے ہو لگاؤ۔
(30)۔ بی بی فاطمہ، بی بی زینب کے معجزے سب جھوٹ ہیں ۔
(31)۔ سیدنا علی کے ہر اخبار پر قول لگتے ہیں حالانکہ یہ سب اہلتشیع کا جھوٹ ہے، اتنے الفاظ سیدنا علی سے منسوب کرنا جھوٹ ہے۔ اگر سچے ہیں تو اہلتشیع حضرات پنجتن سے اپنی ایک نماز ثابت کر دیں، ہر گز ثابت نہیں کر سکتے۔

چور چور: یہ یاد رہے کہ اہلتشیع کے پاس اہلسنت کی طرح صحیح اسناد اور راوی کے ساتھ حضور ﷺ، صحابہ کرام و اہلبیت یعنی سیدنا علی، سیدنا حسن و حسین، سیدہ فاطمہ کی احادیث کی کتابیں (بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، نسائی، ابوداود) نہیں ہیں اور نہ ہی اہلسنت کے ائمہ کی طرح فقہ کے مجتہد ہیں۔
اہلتشیع امام جعفر کے اقوال کی کتابیں (1) الکافی ابو جعفر کلینی 330ھ نے یعنی امام جعفر صادق سے 180 برس بعد (2) من لا یحضرہ الفقیہ جو محمد بن علی ابن یایویہ قمی 380ھ تقریباً 230 سال بعد (3,4) تہذیب الاحکام اور استبصار جو محمد بن طوسی 460ھ تقریباً 310 برس بعد کو احادیث کہتے ہیں اور یہ اقوال بھی اہلسنت کی کتابوں سے چوری کر کے سند و راوی و کچھ متن بدل کر کتابیں تیار کی گئی ہیں۔

حقیقت: اہلتشیع کا دین پنجتن والا نہیں ہے۔ اہلبیت نے کسی بھی حدیث میں اہلتشیع کو نہیں کہا کہ تم فدک، جمل و صفین، امامت وغیرہ میں اہلسنت سے بدلہ لینا کیونکہ ان پر ظلم اہلسنت نے کیا نہیں اور اگر اہلتشیع سمجھتے ہیں تو اپنی کتابوں سے ثابت کریں مگر اہلسنت کی احادیث کی کتابوں سے نہیں کیونکہ ان کتابوں کی شرح اہلسنت کریں گے۔

نتیجہ: صحیح بخاری 108میں حضورﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ اس کا مطلب ہوا کہ جو حضورﷺ کی سچی احادیث بیان کرے وہ اپنا ٹھکانہ جنت میں بنا لے۔ اہلتشیع کا ٹھکانہ کیا ہوا؟

جھوٹ: دیوبندی اور بریلوی کوئی دو مسلک نہیں ہیں بلکہ خلافت عثمانیہ والے ایک مکتبہ فکر کے ہیں سوائے دیوبندی علماء کی چار کفریہ عبارتوں کے اصولی اختلاف کے۔ دیوبندی و بریلوی دونوں جماعتوں کی تعلیم سعودی عرب کے وہابی علماء پلس اہلحدیث جماعت کے نزدیک بدعت و شرک ہے۔ حقیقتا اہلحدیث اور سعودی عرب کے وہابی علماء غلطی پر ہیں اور ان کی وجہ سے مسلمان رافضیت کی طرف جا رہے ہیں۔ آپس میں علماء بیٹھیں گے نہیں۔

تحقیق: اسلئے ہم عوام کو سمجھا رہے ہیں کہ جس مرضی جماعت میں رہیں کوئی مسئلہ نہیں لیکن قیامت والے دن اپنا جواب دینے کے لئے اپنی جماعت کی تحقیق کر لیں اور وہاں یہ نہ کہنا کسی نے بتایا نہیں تھا۔ البتہ ہم نے قرآن و سنت پر چلنے والا مسلمان بننا ہے اسلئے دیوبندی، بریلوی، وہابی یا اہلتشیع نہیں بننا۔

15/10/2021

😍

رفع یدین  اور  اتحاد امت1۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک رفع یدین نہیں کرتے اور امام شافعی اور امام حنبل رحمتہ اللہ علیھم...
12/09/2021

رفع یدین اور اتحاد امت

1۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک رفع یدین نہیں کرتے اور امام شافعی اور امام حنبل رحمتہ اللہ علیھم رفع یدین کے قائل ہیں۔ ان چاروں ائمہ کرام کے ماننے والے اپنے اپنے امام کی ”تقلید“ قرآن و سنت کے مطابق کر کے ”اتباع رسول“ کرتے ہیں۔ امام مالک کی موطا امام مالک میں ”رفع یدین“ کی حدیث موجود ہے مگر اس کے باوجود ان کی نماز میں رفع یدین نہیں ہے۔یہ وہ چارائمہ ہیں جو صحاح ستہ (بخاری، مسلم، ترمذی، ابن ماجہ، نسائی، ابوداود) سے پہلے کے ہیں۔

2۔ صحیح بخاری احادیث نمبر735، 736، 737، 738، 739 صحیح مسلم 861، 862، 864، 865، 896 سُنن ابو داؤد 721 722، 723، 726، 730، 733، 739، 741، 742، 743، 744، 745، 746، 757، 761، جامع ترمذی 255، 256، 304، 342 سنن نسائی 890، 1038، 1065، 1066، 1094، 1097 ابن ماجہ 858، 859، 860، 861، 862، 863، 864، 865، 866، 867، 868، 1061میں رفع یدین کی احادیث موجود ہیں۔

3۔ یہ سب صحاح ستہ کی احادیث 1100سال پہلے کی ہیں۔ جن علماء نے ان کو صحیح احادیث کہا انہوں نے تقلید کا قانون بھی منظور کیا کیونکہ ساری دُنیا میں اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) موجود تھے اور آپس میں اختلافات ختم نہیں ہو رہے تھے۔(اختلاف کی وجوہات کمنٹ سیکشن میں)

4۔ خلافت عثمانیہ کے دور میں اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کی سفارشات پر چار مصلے خانہ کعبہ میں رکھے گئے (چار مصلوں کا مطلب ہے کیونکہ چار انداز میں ساری دُنیا میں نماز ہو رہی تھی تو خانہ کعبہ آ کر عوام کو پریشانی سے بچانے کے لئے) تاکہ اپنے اپنے امام کے قرآن و سنت کے طریقے کے مطابق نماز ادا کرے۔یہ چار مصلے کوئی ایک دو سال نہیں بلکہ 400سال رہے۔

5۔ تقلید کو بدعت و شرک حضور ﷺ نے نہیں فرمایا بلکہ سعودی عرب کے وہابی علماء (محمد بن عبدالوہاب کے ماننے والوں) نے کہا کیونکہ محمد بن عبدالوہاب صاحب دین کو حضور ﷺ کے دور کے مطابق دیکھنا چاہتے تھے اور ان کے نزدیک خلافت عثمانیہ کے اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) عرس، میلاد، پیری مریدی، دم درود، تعویذ دھاگے، تقلید کی وجہ سے بدعتی و مُشرک تھے۔

6۔ البتہ 1924میں سعودی عرب مُلک بننے سے چار مصلے ختم کر دئے گئے مگر سعودی عرب نے فنکاری کرتے ہوئے غیر مقلد مصلہ نہیں بچھایا بلکہ سرکاری طور پر حنبلی مذہب کے مطابق فیصلے کرنے کا قانون نافذ کیا۔ اسلئے اب وہاں کا مصلہ حنبلی ہے مگر ہیں وہ غیر مقلد۔ کیا ایسا نہیں ہے؟

7۔ پاکستان میں اہلحدیث حضرات سعودی عرب کے علماء کا دفاع کرتے ہیں مگر ان کی طرح سرکاری طور پر حنبلی نہیں بنتے بلکہ ان کا مشن رافضیوں کی طرح ہے جنہوں نے اہلبیت کے لبادہ اوڑھ کر صحابہ کرام کو برا بھلا کہا اور اہلحدیث جماعت نے قرآن و سنت کے نام پر 1200سالہ چار ائمہ کرام کی کاوش کو مٹانے کے لئے سعودی عرب کے کہنے پر زور لگایا مگر اپنے مجتہد،ا مام یا باپ کا نام نہیں لیتے۔ اسلئے رفع یدین کی بحث کیسی اور کیوں کر رہے ہیں۔

8۔ دیوبندی اوربریلوی علماء ترک رفع یدین پر دلائل دے کر غلط کر رہے ہیں کیونکہ یہ کہنا چاہئے کہ اہلسنت علماء(حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) میں سے کسی ایک کی قرآن و سنت کے مطابق”تقلید“ کر کے اتباع رسول میں رفع یدین، اونچی آمین، امام کے پیچھے قرآت کریں اور اہلحدیث حضرات سے پوچھیں کہ تقلید کو بدعت و شرک کس نے کہا اور صحیح احادیث میں کس مجتہد کے مقلد ہیں؟

9۔ موجودہ دور میں اہلحدیث جماعت اور دیوبندی حضرات جو سعودی عرب کے امام کعبہ کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں اور پاکستان میں امام کعبہ جن کو امامت کرواتا ہے تو دیوبندی حضرات حنفیت چھوڑ کر اور اہلحدیث حضرات غیر مقلدیت چھوڑ کو سعودی عرب کی طرح حنبلی مصلہ اختیار کر لیں تاکہ امت ایک ہو کیونکہ عثمانیہ خلافت، اجماع امت، اہلسنت علماء کرام پیچھے دیکھتے ہیں تو رافضی۔۔ ہیں اور آگے سعودیہ کی وجہ سے بند گلی میں ہیں۔ دونوں جماعتیں بتائیں کہ اہلسنت کا قاتل کون؟؟

10۔ اہلتشیع حضرات سے تو ایک ہی سوال ہے کہ اہلبیت اور صحابہ کرام کا دین ایک تھا یا نہیں؟ قیصر و کسری فتح کرنے والوں نے کونسا دین پھیلایا؟ یزید بن معاویہ اگر قرآن و سنت کے مطابق نہیں تھا تو گناہ گاہ تھا اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے ناناکے دین کے مطابق حق پر تھے لیکن دین سب کا ایک ہی تھا۔ اہلتشیع دین اسلام پر نہیں تو اہلبیت کے ساتھ کیسے ہیں؟

عقائد اہلسنت (اتحاد اُمت)1۔ شاہ بیبرس کے سامنے اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) نے اکٹھے ہو کر فیصلہ کیا کہ...
10/09/2021

عقائد اہلسنت (اتحاد اُمت)

1۔ شاہ بیبرس کے سامنے اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) نے اکٹھے ہو کر فیصلہ کیا کہ ساری دُنیا میں چار اُستادوں کی فقہ چل رہی ہے اسلئے خانہ کعبہ میں ساری دنیا سے آئے نمازیوں کے لئے چار مصلے (مقام) اور چار امام کعبہ (حنفی، شافعی،مالکی، حنبلی) مقرر کر دئے جائیں۔ اسلئے چار مصلے خانہ کعبہ میں رکھے گئے اور اسی فیصلے کو سلطنت عثمانیہ کے 625سالہ دور میں برقرار رکھا گیا۔

2۔ فرقہ عقائد میں فرق سے بنتا ہے اور فقہ میں مسائل کی وجہ سے فرق ہوتا ہے اسلئے فقہ کے اختلاف کو فرقہ نہیں کہتے۔اس 625سالہ دور میں خانہ کعبہ میں اہلسنت علماء کرام (حنفی،شافعی، مالکی، حنبلی) کا پینل بیٹھتا تھا جن سے ساری دُنیا کی عوام فتوی لیتی تھی۔ اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) نے دس قانون منظور کئے جوفتاوی رضویہ کی جلد29صفحہ نمبر339پر تحریر کئے گئے ہیں اور دیوبندی علماء کی المہند کتاب میں بھی اس کی کچھ شقیں مل سکتی ہیں:

قانون نمبر1 یعنی عقیدۂ ِ اُولیٰ: اس عقیدے کے مطابق اللہ کریم کی ذات و صفات میں کوئی شریک نہیں ہے۔

صوفی کا فلسفہ وحدۃ الوجود ہو یا وحدۃ الشہود ہو۔ اہلسنت علماء کرام کا حضورﷺ کو مجازی طور پر شاہد (حاضر ناظر)، مُختار کُل، عالم الغیب (یہ الزام ثابت کیا جائے کہ اہلسنت علماء نے عالم الغیب کس کتاب میں حضور کے لئے بولا ہے) یا نورو بشر کہنے کا مسئلہ ہو لیکن حضورﷺ اللہ کریم کے برابر نہیں ہو سکتے۔

قانون نمبر2 یعنی عقیدۂ ِ ثانیہ: حضورﷺ کی شان میں گستاخی کرنا جُرم ہے۔

اس قانون کے مطابق دیوبندی علماء (جناب اشرف علی تھانوی، جناب رشید احمد گنگوہی، جناب قاسم نانوتوی، جناب خلیل احمد انبیٹھوی صاحبان) کو سعودی عرب نے نہیں بلکہ سلطنت عثمانیہ کے 36 اہلسنت علماء کرام نے ان کی چار عبارتوں کی وجہ سے کافر قرار دیا۔ یہ اصولی اختلاف دیوبندی اور بریلوی علماء کرام کے درمیان ہے۔ اگر ملک حجاز والے عقائد میں بدعت و شرک تھا تو دیوبندی اور بریلوی دونوں مشرک ہیں۔ اگر ملک حجاز کے متفقہ عقائد میں بدعت و شرک نہیں تو سعودی عرب والے غلط ہیں جنہوں نے چار مصلے ہٹائے، دیوبندی علماء کو چاہئے عوام کو اصل حقائق بتائیں۔

قانون نمبر3 یعنی عقیدۂ ِ ثالثہ: انبیاء کرام میں سے کسی کی شان میں ”گستاخی“ کرنا کُفر ہے۔
اسلئے مولوی طارق جمیل صاحب کو حضرت یوسف علیہ السلام کا مُنہ کالا(نعوذ باللہ) کرنے کے قصے پر کافر کہہ کر توبہ کے لئے کہا گیا۔

قانون نمبر4 یعنی عقیدۂ رابعہ: حضرت جبرائیل، میکائیل،اسرافیل، عزرائیل علیھم السلام اللہ کریم کے رسول فرشتے ہیں اُنکی شان میں ”گستاخی“ کرنا بھی کُفر ہے۔

قانون نمبر5 یعنی عقیدۂ خامسہ: اہلبیت اور صحابہ کرام دونوں معصوم نہیں بلکہ محفوظ ہیں۔ ان کی شان میں گستاخی کرنا بھی کُفر ہے۔جنید جمشید مرحوم صاحب نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا قصہ اسطرح سُنایا جس سے اہلبیت جھوٹی محسوس ہو رہی تھیں، عقائد اہلسنت کا قانون توڑا گیا تھا، اسلئے جنید جمشید کو تھپڑ مارے گئے۔

قانون نمبر6 یعنی عقیدۂ ِ سادسہ: عشرہ مبشرہ (دس جنتی صحابہ کرام رضی اللہ عنھم) اور چاروں خلفاء کرام جناب حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی اللہ عنھم کی توہین جُرم ہے۔

قانون نمبر7 یعنی عقید ہ سابعہ: اہلبیت کے اہلبیت سے ”معاملات“جیسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ جمل، اہلبیت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کا باغ فدک کا مسئلہ، اہلبیت کا صحابہ کرام کے خلاف معاملات جیسے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ صفین، صحابہ کرام کا صحابہ کرام کے ساتھ اختلاف پر اہلسنت نے قانون بنایا کہ اہلبیت اور صحابہ کرام کے ”معاملات“ میں خاموشی اختیار کی جائے کیونکہ کسی ایک کا ساتھ دیں گے تو دوسرے کو کیا نعوذ باللہ ظالم ثابت کریں گے؟ اہلبیت اور صحابہ کرام سے رسول اللہ راضی گئے، اسلئے ہم بھی اُن کے معاملات پر خاموشی اختیار کریں گے۔ ایک دوسرے کے مقابلے میں لا کر ایک کی تعریف نہیں کریں گے البتہ ہر صحابی کی علیحدہ علیحدہ تعریف ضرور کریں گے۔ رافضی اس کو بھی ناصبیت کہتے ہیں۔

قانون نمبر8 یعنی عقیدۂ ِ ثامنہ: اجماع صحابہ کے مطابق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پہلے نمبر پر ہے، اسلئے امامت ابوبکر کے مُنکر کو کافر کہا گیاہے۔اہلبیت کے امام بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ دما دم مست قلندر علی دا پہلا نمبر یا روحانی طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلند کرکے پہلے نمبر پر بھی لانا جائز نہیں۔

قانون نمبر9 یعنی عقیدۂ ِ تاسعہ: ضروریاتِ دین ان چیزوں کو کہتے ہیں جن کے ماننے سے کوئی مسلمان ہوتا ہے اور جن میں سے کسی ایک کے انکار سے بھی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

قانون نمبر10یعنی عقیدۂ عاشرہ: کتابوں میں سب سے اوپر قرآن پھر احادیث پھر فقہاء کی کتابیں اور اُس کے نیچے تصوف کی کتابیں آتی ہیں۔ اس قانون کے مطابق صوفی قرآن و احادیث کے خلاف نہیں ہو سکتااور صوفی پیر فقیر کے لئے قرآن و احادیث اور فقہ کا علم ضروی ہے ورنہ وہ صوفی نہیں ہو سکتا۔ شریعت کے خلاف کسی بھی صوفی کی کتاب کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

قانون: ان قوانین کے خلاف مرزا انجینئر، مودودی صاحب، بابا اسحاق،پیر عبدالقادر جیلانی، پیر ریاض شاہ، طارق جمیل، ڈاکٹر طاہرالقادری اوربنو امیہ کے خلاف بولنے والے حنیف قریشی صاحبان، نعت خوانوں کو بھی رافضی، تفسیقی، تفضیلی کہا جارہا ہے۔ اہلسنت وہی ہے جو ملک حجاز کے چار مصلے والے عقائد اہلسنت پر ہے۔

سوال: کیا دیوبندی اور بریلوی علماء نے اپنی اپنی عوام کو بتایا ہے کہ ہم چار مصلے والے اہلسنت (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے متفقہ عقائد پر ہیں، اسلئے دیوبندی اور بریلوی ہونا لازمی نہیں بلکہ عقائد اہلسنت سیکھنا ضروری ہے، اگر علماء نے بھی نہیں سکھائے اور عوام اب بھی نہیں پوچھتی تو کل قیامت والے دن اللہ کریم کے سامنے یہ نہ کہے ہمیں کسی نے بتایا نہیں تھا۔ عوام علماء کو اپ ڈیٹ کریں اور علماء عوام کو اپ ڈیٹ کریں کیونکہ یہ عقائد کا مسئلہ ہے۔ اگر عقیدہ درست نہیں تو اعمال بھی اکارت ہیں۔

سعودی عرب: 1924میں سعودی عرب کے ساتھ وہابی علماء نے مکہ و مدینہ پر کنٹرول سنبھال کر تمام مزارات گرائے اور چار مصلوں کی جگہ اپنا مصلہ رکھا۔ چار مصلے رکھنا حضورﷺ کا حُکم نہیں تھا مگر علماء کرام کا متفقہ فیصلہ تھا۔ اسی طرح چار مصلے ختم کر نے کا بھی حضورﷺ نے حُکم نہیں دیا تھا کہ میری امت بدعتی و مشرک ہو گئی ہے اسلئے چار مصلے ختم کرو۔ اہلسنت علماء کرام کے فیصلے کو علماء کرام کی مشاورت سے ختم کرنا بہتر تھا مگر طاقت و سیاست سے کام لیا گیا اور ساری دنیا کے اہلسنت کو بدعتی و مشرک کہا گیابلکہ چار مصلے وغیرہ کے نقشے بھی جلا دئے۔اسلئےآج تک طریقہ کار کا بھی علم نہیں ہو سکا۔

رافضی: اہلتشیع بے بنیاد مذہب ہے مگر وہ عوام کو جاہل بنانے میں کامیاب ہے کیونکہ سعودیہ کی طرف سے بھی کوئی علمی مذاکرات نہیں۔ اسلئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قاتل ابو لولو فیروز کا ایران میں مزار بنانے والوں سے تحفظات بھی ہیں۔

اتحاد امت: پاکستان میں عوام مذہبی انتشار دور کر سکتی ہے اگر بریلوی اور دیوبندی جماعتوں کو ”مافیا“ سے آزاد کروا لیں۔ دونوں جماعتیں 625سالہ ملک حجاز کے خانہ کعبہ میں چار مصلے والی حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اہلسنت علماء کرام کے متفقہ عقائد پر ہے۔ اسلئے دیوبندی اور بریلوی علماء اپنی اپنی عوام کے ساتھ سب کو بتا دیں کہ وہ چار مصلے والے ہیں جن کو سعودی عرب کے وہابی علماء نے بدعتی و مشرک کہا۔ دونوں جماعتوں کا اصولی اختلاف چار کفریہ عبارتوں پر ہے۔دونوں جماعتیں بتا دیں کہ اذان سے پہلے درود، نماز کے بعد کلمہ، جمعہ کے بعد سلام، قل و چہلم نہ کرنے والے کو جو جاہل وہابی کہتا ہے وہ اہلسنت نہیں۔

اہلتشیع: اہلتشیع پر علمی کام اہلسنت بریلوی عالم جناب علامہ محمد علی صاحب، بلال گنج لاہور والوں نے عقیدہ جعفر، فقہ جعفر اور تحفہ جعفری کتابیں لکھ کر کیا ہےاور عملی طور پر دیوبندی نے کھلم کھلا ان کے عقائد کو عوام کے سامنے پیش کیا۔ اہلسنت کبھی اہلتشیع نہیں ہو سکتا کیونکہ اہلتشیع بے بنیاد مذہب ہے۔ اہلحدیث سارے ہیں البتہ اہلحدیث کی گمراہی تقلید کو بدعت و شرک کہنا ہے، اپنے مجتہد کا نام نہ بتانا ہے، اپنے مدارس کے فتوی کی اندھی دھند تقلید کرنا ہے۔ اسلئے اس تقیہ بازی سے توبہ کریں اور تقلید کو بدعت و شرک کہنا بند کریں۔قرآن و احادیث کے مزید حوالے یا بحث کمنٹ سیکشن میں کر سکتے ہیں۔

دُعا: یا اللہ پاکستان میں دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث کومُلک حجاز کے چار مصلے والے اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے متفقہ عقائد پر اکٹھا فرما کر امت کو متحد کر دے۔

Address

Melbourne, VIC

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amir shehzad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Amir shehzad:

Shortcuts

Share