20/06/2026
لمحۂ فکریہ
پرتھ کے دوستوں کے نام
(یہ کوئی مارکیٹنگ تحریر نہیں، بلکہ درد اور محبت سے لکھے گئے چند الفاظ ہیں۔ مہربانی فرما کر اسی جذبے سے پڑھیے گا۔)
کل شام پرتھ کے ایک معروف پاکستانی ریسٹورنٹ، Pind Restaurant، جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم تقریباً دس دوست تھے، اور سبھی کافی عرصے سے پرتھ میں مقیم ہیں۔ کھانے میں سلیمانی کڑاہی، چکن کڑاہی اور پلاؤ منگوایا گیا۔ کھانا انتہائی لذیذ تھا اور یوں محسوس ہوا جیسے پاکستان کی یادیں تازہ ہو گئی ہوں۔ میرے تمام دوستوں کی بھی تقریباً یہی رائے تھی۔
لیکن ایک چیز نے ہم سب کو بہت افسردہ کیا۔ جمعہ کی شام، جو عموماً ریسٹورنٹس کے لیے مصروف ترین وقت ہوتا ہے، ریسٹورنٹ تقریباً خالی تھا۔ معلوم ہوا کہ کچھ عرصے سے مختلف ذرائع اور مہمات کے ذریعے اس کاروبار کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا ہے، اور بدقسمتی سے اس میں ہمارے اپنے لوگ بھی شامل رہے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اکثر اپنے لوگوں کو آگے بڑھتا ہوا دیکھنے کے بجائے ان کی ٹانگ کھینچنے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ ہم آج بھی اپنے ہی بھائیوں کی کامیابی سے خوش ہونے کے بجائے اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
میاں محمد بخشؒ فرماتے ہیں
"پائی پائیاں دے دردی ہوندے پائی پائیاں دیاں باواں”
اگر ہم واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کا دستِ بازو بننا ہوگا۔ ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی، اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، اور ان کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھنا ہوگا۔ آخر ہم سب ایک ہی درخت کی مختلف شاخیں ہیں۔ کوئی بھی سمجھدار شخص ساتھ والی شاخ کو کٹتے دیکھ کر خوش نہیں ہوتا، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد کسی اور کی باری بھی آ سکتی ہے۔
میری آپ سب سے صرف اتنی گزارش ہے کہ ایک مرتبہ ضرور جائیے اور خود تجربہ کیجیے۔ اس کے دو ہی نتائج ہو سکتے ہیں:
1. آپ کا وقت اور پیسہ ضائع ہو جائے — جس کے امکانات میرے نزدیک نہ ہونے کے برابر ہیں۔
2. آپ کو کھانا پسند آئے، آپ اچھا وقت گزاریں، ایک پاکستانی کاروبار کو فائدہ پہنچے، اور آپ کو ایک بہترین ریسٹورنٹ بھی مل جائے۔
اور ہاں، ایک خوشخبری بھی!
جو دوست آئندہ دو ماہ کے دوران جائیں، وہ ہنان بھائی کو میرا نام ضرور بتائیں۔ ان شاء اللہ آپ کے بل پر 10% ڈسکاؤنٹ بھی دیا جائے گا۔
میرا خیال ہے کہ اتنا تو ہم اپنے لوگوں کے لیے کر ہی سکتے ہیں۔ یہ کوئی بہت بڑی قربانی نہیں جسے ہم ادا نہ کر سکیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور ہمیں آسانیاں بانٹنے والا بنائے۔ آمین۔
والسلام
نیاز مند،
عاطف علی