Atif Ali

Atif Ali Professional Engineer turned successful Entrepreneur

اک نقطے نے محرم سے مجرم بنا دیا ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہےNewcastle Upon Tyne , United Kingdom (2012)
23/06/2026

اک نقطے نے محرم سے مجرم بنا دیا
ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے
Newcastle Upon Tyne , United Kingdom (2012)

لمحۂ فکریہپرتھ کے دوستوں کے نام(یہ کوئی مارکیٹنگ تحریر نہیں، بلکہ درد اور محبت سے لکھے گئے چند الفاظ ہیں۔ مہربانی فرما ک...
20/06/2026

لمحۂ فکریہ
پرتھ کے دوستوں کے نام

(یہ کوئی مارکیٹنگ تحریر نہیں، بلکہ درد اور محبت سے لکھے گئے چند الفاظ ہیں۔ مہربانی فرما کر اسی جذبے سے پڑھیے گا۔)

کل شام پرتھ کے ایک معروف پاکستانی ریسٹورنٹ، Pind Restaurant، جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم تقریباً دس دوست تھے، اور سبھی کافی عرصے سے پرتھ میں مقیم ہیں۔ کھانے میں سلیمانی کڑاہی، چکن کڑاہی اور پلاؤ منگوایا گیا۔ کھانا انتہائی لذیذ تھا اور یوں محسوس ہوا جیسے پاکستان کی یادیں تازہ ہو گئی ہوں۔ میرے تمام دوستوں کی بھی تقریباً یہی رائے تھی۔

لیکن ایک چیز نے ہم سب کو بہت افسردہ کیا۔ جمعہ کی شام، جو عموماً ریسٹورنٹس کے لیے مصروف ترین وقت ہوتا ہے، ریسٹورنٹ تقریباً خالی تھا۔ معلوم ہوا کہ کچھ عرصے سے مختلف ذرائع اور مہمات کے ذریعے اس کاروبار کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا ہے، اور بدقسمتی سے اس میں ہمارے اپنے لوگ بھی شامل رہے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اکثر اپنے لوگوں کو آگے بڑھتا ہوا دیکھنے کے بجائے ان کی ٹانگ کھینچنے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ ہم آج بھی اپنے ہی بھائیوں کی کامیابی سے خوش ہونے کے بجائے اسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

میاں محمد بخشؒ فرماتے ہیں
"پائی پائیاں دے دردی ہوندے پائی پائیاں دیاں باواں”
اگر ہم واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک دوسرے کا دستِ بازو بننا ہوگا۔ ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی، اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، اور ان کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھنا ہوگا۔ آخر ہم سب ایک ہی درخت کی مختلف شاخیں ہیں۔ کوئی بھی سمجھدار شخص ساتھ والی شاخ کو کٹتے دیکھ کر خوش نہیں ہوتا، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد کسی اور کی باری بھی آ سکتی ہے۔

میری آپ سب سے صرف اتنی گزارش ہے کہ ایک مرتبہ ضرور جائیے اور خود تجربہ کیجیے۔ اس کے دو ہی نتائج ہو سکتے ہیں:

1. آپ کا وقت اور پیسہ ضائع ہو جائے — جس کے امکانات میرے نزدیک نہ ہونے کے برابر ہیں۔
2. آپ کو کھانا پسند آئے، آپ اچھا وقت گزاریں، ایک پاکستانی کاروبار کو فائدہ پہنچے، اور آپ کو ایک بہترین ریسٹورنٹ بھی مل جائے۔

اور ہاں، ایک خوشخبری بھی!

جو دوست آئندہ دو ماہ کے دوران جائیں، وہ ہنان بھائی کو میرا نام ضرور بتائیں۔ ان شاء اللہ آپ کے بل پر 10% ڈسکاؤنٹ بھی دیا جائے گا۔

میرا خیال ہے کہ اتنا تو ہم اپنے لوگوں کے لیے کر ہی سکتے ہیں۔ یہ کوئی بہت بڑی قربانی نہیں جسے ہم ادا نہ کر سکیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور ہمیں آسانیاں بانٹنے والا بنائے۔ آمین۔

والسلام

نیاز مند،
عاطف علی

میری بیٹھک میں لگا ہوا امل تاس کا پودا میں شیخوپورہ سے لے کر آیا تھا۔ اسے لگاتے وقت میں نے اس کی مثال دے کر خود بھی امید...
15/06/2026

میری بیٹھک میں لگا ہوا امل تاس کا پودا میں شیخوپورہ سے لے کر آیا تھا۔ اسے لگاتے وقت میں نے اس کی مثال دے کر خود بھی امید اور حوصلہ حاصل کیا تھا اور اپنے اسٹاف کو بھی اس کی کہانی سنائی تھی۔
گرمیوں کی توانائی، امید اور استقامت کی علامت اپنے سنہری زرد پھولوں کی آبشار کے ذریعے شاعروں اور ادیبوں کے لیے ہمیشہ سے کشش کا باعث رہا ہے۔ اس کی جھکی ہوئی شاخوں سے لٹکتے پھولوں کے خوشے تپتی دھوپ اور شدید گرمی کو بھی حسن و جمال کے ایک دلکش منظر میں بدل دیتے ہیں، گویا فطرت سخت موسم کے بیچ بھی زندگی، امید اور خوب صورتی کا پیغام دے رہی ہو۔
— عاطف علی

سخت مشکل سے پڑا آج گریباں پہ ہاتھمیں یہ سمجھتا تھا کہ فاصلہ دور نہیںدل کے ہوتے ہوئے جاتے ہو کہاں اے موسیٰؔاس میں کچھ جلو...
15/06/2026

سخت مشکل سے پڑا آج گریباں پہ ہاتھ
میں یہ سمجھتا تھا کہ فاصلہ دور نہیں
دل کے ہوتے ہوئے جاتے ہو کہاں اے موسیٰؔ
اس میں کچھ جلوے ہیں ایسے کہ سرِ طور نہیں

جگر مراد آبادی

*خوابوں کا سفر اور بلدیہ ٹاؤن کی آگ*بچپن میں آنکھ کھلی تو باقی بچوں کی طرح مجھے بھی کہانیوں کا شوق پڑ گیا. پہلی بار عمرو...
11/06/2026

*خوابوں کا سفر اور بلدیہ ٹاؤن کی آگ*

بچپن میں آنکھ کھلی تو باقی بچوں کی طرح مجھے بھی کہانیوں کا شوق پڑ گیا. پہلی بار عمرو عیار کی کہانی ہاتھ آئی اور یوں ایک ایسے سفر کا آغاز ہوا جو محض کتابوں کے صفحات تک محدود نہ رہا۔ بہت جلد اس سفر میں طارق اسماعیل ساگر مرحوم اور نسیم حجازی صاحب بھی شامل ہو گئے۔ بچپن خوابوں کا زمانہ ہوتا ہے، اور ہم بھی ان تحریروں کے سہارے خوابوں کی دنیا میں بھٹکتے پھرتے تھے۔ کبھی اندلس کے میدانوں میں گھوڑے دوڑاتے، کبھی کشمیر کی سرسبز وادیوں میں جا نکلتے، اور کبھی سیاچن کے برف زاروں میں وطن کے سپاہیوں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے۔

پھر عمر کے ساتھ شعور بھی بڑھنے لگا۔ ہمیں بتایا گیا کہ پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ ہندوستان ہے۔ یہ بھی سمجھایا گیا کہ ہماری تاریخ ایک مسلسل معرکہ ہے جو محمد بن قاسم کے دیبل کی بندرگاہ پر اترنے سے شروع ہوا تھا، اور اس سے پہلے اندلس کے میدانوں میں ہمارے ہیروز اسی خواب کی تعبیر کے لیے گھوڑے دوڑا رہے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ تاریخ، جغرافیہ، مذہب اور سیاست سب ایک ہی داستان کے مختلف ابواب ہیں۔

پھر زندگی نے پردیس کی راہ دکھائی۔ بیرونِ ملک جا کر پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ سرحدوں کے دونوں طرف رہنے والے لوگ ایک دوسرے سے اتنے مختلف بھی نہیں جتنے ہمیں دکھائے گئے تھے۔ پردیس میں اپنے گندمی رنگ، اپنی زبان اور حلال کھانوں سے محبت پہلے سے کہیں زیادہ گہری ہو گئی۔ شناخت کی اس خاموش جنگ میں پاکستان سے جذباتی تعلق مزید مضبوط ہوا۔ یا شاید یہ بھی ممکن ہے کہ ہم آج تک اندلس کے میدانوں، کشمیر کی وادیوں اور سیاچن کے برف زاروں میں اپنا کھویا ہوا بچپن تلاش کر رہے ہوں۔

مگر اسی دوران ایک اور پاکستان بھی میرے سامنے کھڑا تھا۔

وہی پاکستانی جس نے اپنا سب کچھ لٹا کر اس ملک کو اپنا وطن بنایا تھا، بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں جل رہا تھا۔ دروازے بند تھے، کھڑکیاں بند تھیں، راستے بند تھے۔ آگ صرف جسموں کو نہیں کھا رہی تھی، امیدوں کو بھی نگل رہی تھی۔ سینکڑوں خاندانوں کے خواب دھوئیں میں بدل رہے تھے۔

وقت گزرا، مگر ایسا لگا کہ آگ کبھی بجھی ہی نہیں۔ آج بھی بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری کے دروازوں پر وہی سلاخیں لگی محسوس ہوتی ہیں۔ آج بھی متاثرین کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ آج بھی ان کے لواحقین انصاف کے منتظر ہیں۔ اور آج بھی ہم یہ سنتے ہیں کہ اگر لواحقین کو فریق بنا لیا گیا تو کل دو سو مزید درخواستیں آ جائیں گی۔

شاید میرے اندر کا شہری، میرے اندر کا پاکستانی، یا میرے اندر کا انسان بہت تکلیف میں ہے۔ مگر اصل تکلیف ان لوگوں سے ہے جنہوں نے ہمیں خواب بیچے۔ جنہوں نے ہمارا بچپن کھایا۔ جنہوں نے ہمیں ریاستِ مدینہ کے خواب دکھائے، پھر ہمیں آگ کے حوالے کر دیا، اور دروازے بھی بند کر دیے۔

آج بھی میرا وہم، میرا ضمیر، میرا اندرونی انسان چیخ چیخ کر پوچھتا ہے:

“صاحب! اگر جلانا ہی تھا تو کم از کم دروازہ تو کھول دیتے۔”

اور اگر دروازہ بھی نہیں کھولنا تھا تو کم از کم جلانے والوں کو ہیرو تو نہ بناتے۔

بلدیہ ٹاؤن کی آگ صرف ایک فیکٹری میں نہیں لگی تھی۔ وہ ہمارے اجتماعی شعور میں لگی تھی۔ اس نے ان خوابوں کو بھی جلا دیا تھا جو ہمیں بچپن سے بیچے جاتے رہے تھے۔ مگر شاید المیہ یہ ہے کہ ہم اب بھی انہی خوابوں کے ملبے پر کھڑے ہیں اور اپنے مجرموں کو آزاد ہوتا دیکھ رہے ہیں۔

اور ایسے میں بار بار وہ شعر یاد آتا ہے:

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا روشن ہے بجلی کے چراغوں سے

*نوٹ: بلدیہ ٹاؤن کراچی کی فیکٹری میں 11 ستمبر 2012 کو لگنے والی آگ میں 260 سے زائد مزدور جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ یہ تحریر 11 جون 2026 کو اس سانحے سے متعلق عدالتی فیصلے کی خبر سامنے آنے کے بعد لکھی گئی ہے

10/06/2026

لان میں ایک بھی بیل ایسی نہیں
جو دیہاتی پرندے کے پر باندھ لے۔

جنگلی آم کی جان لیوا مہک
جب بلائے گی، واپس چلا جائے گا۔

ناریل کے درختوں کی پاگل ہوا،
کھل گئی بادبان، لوٹ جا، لوٹ جا۔

سانولی سرزمین پر میں اگلے برس
پھول کھلنے سے پہلے ہی آ جاؤں گا۔

ہجرت آسان کہاں ہے؟انسان زندگی کے ہر دور میں مختلف انداز سے سوچتا ہے۔ اس کا نظریۂ حیات اس کے تجربات، مشاہدات اور وقت کے س...
07/06/2026

ہجرت آسان کہاں ہے؟

انسان زندگی کے ہر دور میں مختلف انداز سے سوچتا ہے۔ اس کا نظریۂ حیات اس کے تجربات، مشاہدات اور وقت کے ساتھ سیکھے گئے اسباق سے تشکیل پاتا ہے۔ بچپن میں کاغذ کی کشتیوں اور بارش کے پانی کی اپنی خوشیاں اور اپنے دکھ ہوتے ہیں۔ لڑکپن اور جوانی کے الگ مسائل اور خواب ہوتے ہیں، جبکہ زندگی کے اگلے ادوار اپنے ساتھ نئے حالات، نئی ذمہ داریاں اور نئے سوالات لے کر آتے ہیں۔

مادّیت شاید انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ خوب سے خوب تر کی تلاش میں انسان نے سمندروں کو عبور کیا، سرحدوں کو پار کیا اور دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔ مگر اس تمام سفر میں اس کی بہت سی جذباتی ضروریات کہیں پیچھے رہ گئیں۔ شاید یہی ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے، اور اس کی شدت سب سے زیادہ مہاجر محسوس کرتے ہیں۔

مغرب میں رہتے ہوئے اپنی زبان کی محبت، بریانی کی خوشبو، جمعے کی تیاری، عیدوں کا انتظار، اور شبِ برات پر نئے کپڑے پہن کر پرانے احساسات کو زندہ کرنے کی کوششیں — یہ سب دراصل اس وطن کی یاد ہیں جو انسان کے اندر ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ وطن سے دور رہنے والے لوگ وطن کی محبت کو شاید سب سے زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ شناخت کی یہ مسلسل کشمکش بھی اسی احساس کا ایک روپ ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا زندگی یوں ہی گزر جانی ہے؟ کیا جذبات، محبتیں اور تعلقات اس مادّیت کے دور میں بے معنی ہو چکے ہیں؟ یا پھر مسئلہ یہ ہے کہ ہم زندگی کے مختلف پہلوؤں میں توازن قائم رکھنے میں ناکام رہتے ہیں؟

آسٹریلیا میں رہتے ہوئے ہم بہت سی خوشیاں، رشتے، یادیں اور دکھ پیچھے چھوڑ آتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ سب ہماری ذات کا حصہ بن جاتے ہیں اور اپنے نقوش چھوڑ جاتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے پانی پتھر پر اپنا نشان چھوڑ جاتا ہے۔ بظاہر شاید ہمیں ان کا احساس نہ ہو، مگر کبھی تنہائی میں آنسو بہتے وقت، یا دوستوں کی محفل میں کسی پرانی یاد پر بے اختیار آنکھ نم ہو جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ آج بھی ہمارے اندر زندہ ہے۔

پھر دل میں ایک سوال ابھرتا ہے: کیا ان جذبات، محبتوں اور تنہائیوں کی کوئی قیمت نہیں، جو ہم سب مہاجر اپنی زندگیوں میں ادا کر رہے ہوتے ہیں؟

— عاطف علی

“میری ایک پرانی تحریر — کبھی کبھی پیچھے دیکھنا کتنا اچھا لگتا ہے!”
24/04/2026

“میری ایک پرانی تحریر — کبھی کبھی پیچھے دیکھنا کتنا اچھا لگتا ہے!”

Address

Perth, WA

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Atif Ali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share