05/07/2025
❤اس ویڈیو پر کم از کم 10k لاٸک ھونے چاھیں❤
**"یہ ویڈیو صرف ایک منظر نہیں، بلکہ 14 گھنٹے کی مسلسل محنت، تھکن، دعا اور جذبے کا عکس ہے۔**
زندگی اور موت کی کشمکش میں طے کیا گیا یہ سفر ہمیں لے آیا وہاں… جہاں انسان کم، حوصلے زیادہ پہنچتے ہیں۔
**ٹورمالین جھیل** — ایک خواب جیسا مقام، ایک جادو جیسا لمحہ!
ہم نے نہ صرف بلندیوں کو چھوا، بلکہ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر وہ تاریخ رقم کی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
یہ جھیل اب ہمارے قدموں کی چاپ، ہمارے جذبے کی گواہ بن چکی ہے۔
**یہ سفر صرف ایک سفر نہیں، ایک داستان ہے… بہادری، عزم اور خوبصورتی کی داستان!"**
ٹورملین جھیل۔۔۔
ٹورملین جھیل کے بارے میں بہت سے لوگوں نے سوال پوچھا تھا کہ وہاں کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟ کتنے دن کا سفر ہے؟ راستہ کیسا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اسلیے میں آج تفصیل سے اس جھیل کی معلومات فراہم کررہی ہوں تاکہ جو لوگ اس سال جانا چاہتے ہیں وہ اس معلومات سے مستفید ہوسکیں۔۔۔
ٹورملین جھیل کا پیدل سفر جانوائی گاؤں سے شروع ہوتا ہے جو کیل سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقعہ ہے۔۔۔ کیل سے کم از کم تین دن میں ہم اس سفر کو مکمل کر سکتے ہیں دو دن میں یہ سفر مکمل کرنا ممکن نہیں ہے۔۔۔ جانوائی گاؤں سے مقامی گائیڈ کی خدمات حاصل کرنا ضروری ہے کوشش کریں کہ گائیڈ سے پہلے ہی معاملات طے کر لیں۔۔۔ جانوائی گاؤں سے تقریباً پانچ گھنٹے کے پیدل سفر کے بعد آپ جانوائی کی بہک میں پہنچ جائیں گے، یہاں آپ کو ایک رات خیموں میں قیام کرنا پڑے گا، خیمہ اور کھانا وغیرہ آپ کو اپنے ساتھ لے جانا پڑے گا۔۔۔
بہک سے تین سے چار گھنٹے کی مشکل چڑھائی ہے ، یہاں سے راستہ تھوڑا مشکل تو ہے ہی مگر کچھ خوفناک بھی ہے اسی لیے یہاں تک آنے والے بیشتر لوگ جهیل دیکھے بنا ہی واپس مڑ جاتے ہیں۔۔۔ لیکن بس اسی راستے پر آپ نے ہمت کرنی ہے آپ کا خوف کم کرنے کے لیے ایک بات آپ کو بتاتی چلوں کہ اس راستے پر ٹورملین پتھر کثیر مقدار میں پایا جاتا ہے جس کی قیمت فروخت ایک سے ڈیڑھ لاکھ فی کلو ہے۔۔۔ بس آپ نے کھائی کی طرف نہیں دیکھنا اور یہ سوچنا ہے کہ آپ کو پتھر مل گیا تو وارے نيارے ہو جائیں گے۔۔۔ بس پھر آپ کا راستہ اتنی آسانی سے کٹ جاۓ گا اور آپ جهیل پر پہنچ بھی جائیں گے۔۔۔
ویسے مذاق کے علاوہ جب آپ جهیل پر پہنچ جائیں گے تو آپ کو پتھر کے ملنے جیسی خوشی ملے گی۔۔۔ یہ جهیل حجم میں بہت بڑی نہیں مگر خوبصورت ہے اور اب تک اس جهیل کو بہت کم لوگ دیکھ پائیں ہیں اس لیے یہ سیاحوں کے لیے منفرد جگہ بھی ہے۔۔۔
اگر آپ اس جهیل پر جانا چاہتے ہیں تو اگست کا مہینہ بہترین ہے۔۔۔
تحریر: اسد محمود