Trips and Tips

Trips and Tips (ٹوکن فیس ١٠٠٠ روپے/ ١٠ ڈالر).

ٹریپ اینڈ ٹپ
بیرون ملک سفر کرنا، لوگوں سے ملنا، طرز زندگی کا مشاہدہ کرنا، علم میں اضافہ کرتا اور سوچ کو وسعت دیتا ہے. لیکن بیرون ملک سفر کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ اخراجات ہیں. لیکن اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں. آپ کے ٹریپ کو آسان، آرامدہ اور کم خرچ بنانے کے لئے ہم ٹپس دیں گے.
اگر آپ سپر سستی ہوائی ٹکٹ خریدنا چاہتے ہوں؟
ویزا سے متعلق بنیادی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہوں؟
مناسب رہائش انتہائی کم قیمت م

یں چاہتے ہوں؟
کس شہر میں جانا ہے، کیا کچھ دیکھنا ہے، کہاں سے کیا کھانا ہے؟
کیا ساتھ لے کر جانا ہے، کیا ساتھ لے کر آنا ہے؟
نیز اگر یورپ کا ٹریپ ہو تو بطور گائیڈ بھی خدمات پیش کر سکتا ہوں.
یہ سب معلومات اور سروسز نہایت معقول چارجز پر آپ کو "ٹریپ اینڈ ٹپ" دے گا.
---------------------------------------------------------
ان تمام سروسز اور معلومات کے لئے بہت وقت اور محنت درکار ہوتی ہے. اس لئے صرف سنجیدہ پلان ہونے کی صورت میں ٹوکن نمبر لے کر رابطہ کریں.

04/09/2025

فرینکفرٹ، جرمنی – ایک مختصر مگر یادگار ٹرِپ

گزشتہ اتوار، فرینکفرٹ میں ایک پاکستانی چرچ کی جانب سے عبادت میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی۔ پاکستان سے پاسٹر خالد ناز صاحب تشریف لا رہے تھے۔ ایسی عبادات میں شرکت سے نہ صرف دیگر دیسی بہن بھائیوں سے ملاقات کا موقع ملتا ہے، بلکہ روحانی ترقی کے لیے بھی کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

میں نے چند دوستوں کو ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ چند مہینے قبل میری ملاقات آکاش بھائی سے ہوئی تھی، جو کچھ ہی عرصہ قبل پاکستان سے جرمنی آئے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہم عبادت سے پہلے شہر گھومیں، دیسی کھانا کھائیں، اور پھر چرچ چلیں۔

مزید دوستوں کو دعوت دی تو فرینکفرٹ میں مقیم ایک اور پاکستانی بھائی، علی صاحب بھی ساتھ شامل ہو گئے۔ میں اور آکاش بھائی نے کافی اور کیک کے ساتھ سفر کا آغاز کیا۔ ہم نے "آئس برگ" نامی کیک کھایا، جو جرمن کلچر میں نسبتاً غیر معروف ہے اور ان دنوں ایک بیکری چین نے بطورِ خاص محدود مدت کے لیے پیش کیا ہے۔ یہ کیک منفرد، دلچسپ اور نہایت لذیذ تھا۔ اندرونی حصے میں کریم، آم اور غالباً کسی اور پھل کا مکسچر تھا، جبکہ بیرونی سطح پر سفید چاکلیٹ اور ناریل پاؤڈر تھا۔ غالباً اس کی شکل و رنگ کی مناسبت سے اسے "آئس برگ" کا نام دیا گیا تھا۔ کیک کی کریم کی وجہ سے اسے ایک نشست میں مکمل کھانا مشکل تھا، لہٰذا آدھا کھایا، باقی ساتھ لے لیا، اور ہم جرمن ریل میں سوار ہو کر فرینکفرٹ کی طرف روانہ ہو گئے۔

فرینکفرٹ پہنچ کر علی بھائی بھی ہم سے آ ملے۔ ہمارے پاس گھومنے کے لیے تقریباً دو گھنٹے تھے، لیکن کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔ علی بھائی نے بتایا کہ قریب ہی دریا کے کنارے ایک میلہ لگا ہوا ہے۔ چنانچہ ہم شہر کی مرکزی گلیوں سے گزرتے ہوئے دریا کنارے پہنچ گئے۔

فرینکفرٹ جرمنی کے ان چند شہروں میں سے ہے جہاں بلند و بالا عمارتیں اور جدید طرزِ تعمیر ایک بڑے شہر کا احساس دلاتی ہیں۔ جرمنی آنے والے اکثر لوگ فرینکفرٹ ایئرپورٹ سے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں، لیکن اکثر وہ ایئرپورٹ سے سیدھے اپنی منزل کی طرف چلے جاتے ہیں۔ فرینکفرٹ جرمنی کا مالیاتی (فنانشل) مرکز بھی ہے۔

دریائے رائن کا شفاف پانی، اطراف میں سرسبز گھاس، خوبصورت پل، اور میلے میں سجی رنگا رنگ دکانیں ماحول کو اور بھی دلکش بنا رہی تھیں۔ ہم دکانیں دیکھتے، باتیں کرتے، اور میلے سے لطف اندوز ہوتے آگے بڑھتے رہے۔ علی صاحب سے تاریخ، سیاست، اور ثقافت جیسے موضوعات پر نہایت شاندار گفتگو ہوتی رہی۔

اسی میلے میں تھائی ایئرلائن کے زیرِ سرپرستی تھائی لینڈ کا ثقافتی ایونٹ بھی جاری تھا، جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ دریا میں کشتیوں کی ریس بھی ہو رہی تھی، جس میں لفتھانزا سمیت کئی ٹیمیں شریک تھیں۔ یہ تمام سرگرمیاں میلے کو مزید پُررونق اور دلچسپ بنا رہی تھیں۔

وقت کی کمی کی وجہ سے ہم جلد ہی میلے سے نکلے اور دیسی کھانے کی تلاش میں نکل پڑے۔ حسبِ معمول، میں نے آن لائن سرچ کیا اور قریب ہی ایک پاکستانی ریسٹورانٹ مل گیا، جس کے ریویوز کافی مثبت تھے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ نئے کاروبار عموماً معیار پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ ہم نے نہاری اور کڑاہی آرڈر کی۔ ذائقہ لاجواب، معیار شاندار، البتہ مقدار اور قیمت کے لحاظ سے بہتری کی گنجائش موجود تھی۔ وقت کم تھا، اس لیے کھانے کے فوراً بعد چرچ کی جانب روانہ ہو گئے جہاں ہمیں پاسٹر خالد ناز صاحب کے ساتھ عبادت میں شریک ہونا تھا۔

اگرچہ یہ سیر مختصر تھی، لیکن آکاش اور علی بھائی کی معیت نے اسے ایک خوشگوار یاد میں بدل دیا۔
اگر آپ جرمنی میں مقیم ہیں اور آئندہ کسی ٹرپ میں ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہیں تو ضرور رابطہ کریں—چلیں، مل کر آوارہ گردی کریں!

Frankfurt
04/09/2025

Frankfurt

29/08/2025

امریکہ کے گولڈن چلیں

گزشتہ ماہ جولائی میں مجھے خدا نے امریکی ریاست کولوراڈو جانے کا موقع دیا۔ وہاں امریکی سائنسدانوں کی ایک نشست میں شرکت کی دعوت ملی تھی، جس میں نئے تعلقات بنانے، سیکھنے اور سکھانے کا موقع نصیب ہوا۔ اس سفر میں بہت کچھ اچھا رہا لیکن سب سے قیمتی تجربہ یہ تھا کہ شاندار، نیک دل اور فراخ دل انسانوں سے ملاقات ہوئی۔ اس سفر کی مزید تفصیلات وقتاً فوقتاً آپ سے شیئر کرتا رہوں گا۔

کانفرنس کی آخری دوپہر ریاست کولوراڈو کے ایک خوبصورت سیاحتی قصبے "گولڈن" کی سیر کا موقع ملا۔ یہ قصبہ 1859 میں قائم ہوا تھا۔ کبھی کان کنی کی وجہ سے اہمیت رکھتا تھا، اور آج یہ اپنے شفاف دریا، قدرتی مناظر اور سیاحت کی وجہ سے مشہور ہے۔ ہم کولوراڈو کرسچین یونیورسٹی کی بس میں گولڈن کی طرف روانہ ہوئے۔ امریکہ میں اب بھی فرنٹ انجن والی بسیں عام ہیں، خاص طور پر اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ پرانی بسیں صرف فلموں میں دیکھی جاتی ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی جدید شکل دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔

بس پہاڑوں کے درمیان کشادہ اور خاموش سڑکوں پر چلتی ہوئی گولڈن جا پہنچی۔ کولوراڈو مشرقی ریاستوں کی طرح گنجان آباد نہیں ہے، اس لیے راستے میں شاذونادر ہی آبادی نظر آتی تھی۔ لیکن گولڈن پہنچتے ہی منظر یکسر بدل گیا۔ دریا کے کنارے سینکڑوں لوگ گرمی سے بچنے کے لیے موجود تھے۔ کچھ ہوا بھری ٹیوبوں پر اور کچھ چپو والی کشتیوں پر دریا کے تیز بہاؤ میں بہتے جا رہے تھے۔ میں نے بھی ان خوش باش اور زندگی سے بھرپور لوگوں کے ساتھ چند لمحے گزارے۔ بہتے پانی میں اپنا عکس دیکھا، پہاڑوں کو سر اٹھا کر سلام کیا، سبزے پر خدا کا شکر ادا کیا اور لمحہ بھر کے لیے دنیاوی مشاغل سے آزاد ہو گیا۔

بچپن میں جب ٹیوب ویل چلتا تھا تو گھنٹوں شفاف پانی میں کھیلتے رہتے تھے اور دل کبھی نہ بھرتا تھا۔ اسکول کے دنوں میں سینٹ جوزف ہاسٹل کے لڑکوں کے ساتھ نہر پر جانا یاد آتا ہے، جو دریا جیسی شفاف نہ سہی لیکن کشادہ اور گہری ضرور تھی۔ ایک بار ایبٹ آباد میں بھی ایسا دریا دیکھا جہاں لوگ چارپائیاں ڈال کر پانی میں بیٹھے تھے۔ کولوراڈو کا موسم ان سب سے مختلف تھا: گرمیوں میں شدید گرمی، سردیوں میں شدید سردی، اور فضا اتنی خشک کہ دو دن میں ہی جلد پر اثر ڈالتی ہے۔

ہمارے پاس نہ ٹیوب تھی، نہ کشتی، اور وقت بھی محدود تھا، اس لیے ہم دریا کنارے چہل قدمی کرتے رہے۔ ساتھ ساتھ بات چیت اور مناظر پر تبصرے بھی ہوتے رہے۔ سفر اور چہل قدمی انسان کو نہ صرف مناظر بلکہ ایک دوسرے کے قریب بھی کر دیتے ہیں۔ گرمی کے باعث ہم ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھ گئے اور سب نے ڈرنک آرڈر کیا۔ پندرہ برس یورپ میں رہنے کے باوجود مجھے آج تک ڈرنک کلچر سمجھ نہیں آیا۔ پیاس زیادہ ہو تو ڈرنک جلدی ختم کر دیتا ہوں، اور پیاس نہ ہو تو لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ سوشل ڈرنک کے طور پر اب بھی چائے ہی بہتر لگتی ہے۔ دوستوں کے مشورے سے موکٹیل لی، جو رنگ برنگے شربتوں کا امتزاج تھا۔ ذائقہ میٹھا اور ترش تھا، مگر قیمت عام ڈرنک سے چار گنا زیادہ۔ مجھے یاد آیا کہ ہمارے ہاں لاری اڈوں پر بھی ایسے مشروبات ملتے ہیں۔ مثلاً خانیوال کا شربت بادام خاصا مشہور تھا۔

آپ بتائیے، آپ کے علاقے میں سب سے اچھا لوکل ڈرنک کون سا ہے؟ لیکن براہ کرم پیپسی یا کوک نہ کہیے گا، ورنہ کمنٹ حذف کرنا پڑ جائے گا۔ بس لوکل ڈرنک، لوکل سیاحت — کمنٹ میں ضرور درج کریں۔

شہر کے مرکز کی طرف بڑھے تو منظر اور بھی دلکش تھا۔ یہ قصبہ کسی اسکاٹ لینڈ یا سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی گاؤں کی یاد دلاتا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ سڑکوں کی کشادگی صاف بتا رہی تھی کہ یہ یورپ نہیں بلکہ امریکہ ہے۔ میں نے ایک دکان سے پوسٹ کارڈ خریدے اور کئی جگہ ونڈو شاپنگ کی۔ ویسے، ونڈو شاپنگ کو اردو میں کیا کہا جائے؟ یہ سوال میں عموماً فخر لالہ صاحب یا سرفراز تبسم صاحب سے پوچھتا ہوں۔

گولڈن میں امریکہ کی بھینس کا فولادی مجسمہ بڑا متاثر کن لگا۔ دریا پر لوہے کے تاروں سے بندھا پل بھی توجہ کا مرکز رہا۔ ایک طرف پہاڑیاں، درمیان میں دریا اور ساتھ ہی خوبصورت مارکیٹ — یہ سب منظر دل کو بہت بھا گئے۔ ساتھیوں کے ساتھ یہ مختصر سفر ہمیشہ کے لیے خوبصورت یادوں میں محفوظ ہو گیا۔

30/12/2018

نیا سال، نئی پیشکش__
اگر آپ امارت آئرلین سے سفر کر رہے ہیں تو ہم آپ کو پانچ سو سے ایک ہزار روپے تک دیں گے.
تفصیلات کے لئے انبکس میں رابطہ کریں، لیکن صرف تب اگر آپ کے پاس ٹکٹ موجود ہے یا ٹکٹ خریدنے والے ہوں.
نیز سستی انٹرنیشنل ٹکٹ اور بہترین سفری خدمات و تفصیلات جاننے کے لئے رابطہ کریں.

It was rainy, windy, cold, crowded but memorable, beautiful, amazing. Venice, Italy
12/11/2018

It was rainy, windy, cold, crowded
but memorable, beautiful, amazing.
Venice, Italy

03/10/2018

کیا آپ سیر کے لئے بیرون ملک لئے جانا چاہتے ہیں؟
کیا آپ کم خرچ میں بہترین تفریح چاہتے ہیں؟
کیا آپ سیر کو تفریح کے ساتھ معلوماتی بھی بنانا چاہتے ہیں؟
اگر ہاں
تو "ٹرپس اینڈ ٹپس" کے ساتھ 'باکو" چلیں.
تمام اخرجات صاف شفاف آپ کے سامنے تاکہ آیندہ آپ اپنا ٹریپ خود پلان کریں.
(سروس فیس لاگو ہو گی.)

25/04/2018

بیرون ملک جانا....

ضرور، سب کو زندگی کا کچھ عرصہ، کم از کم ایک مہینہ تو ضرور کسی دوسرے ملک میں گزرنا چاہئیے. ان کے ساتھ،ان کی طرح کچھ عرصے کے لئے زندگی گزارنی چاہئیے. اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے. خصوصی طور پر خود پسندی میں کمی واقع ہوتی ہے، احساس برتری کم کرنے میں مدد ملتی ہے. دنیا اور زندگی کو ایک سے زیادہ انداز میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے اور اپنے عقائد میں نرمی پیدا کر کے انسان کو انسان سمجھنے کی تربیت ہوتی ہے.
اب سوال پیدا ہوتا ہے، کہاں جانا چاہئیے؟
تو جناب، جہاں آپ نہ بجٹ اجازت دے. کسی دوسرے شہر میں، صوبے میں یا ملک میں. لیکن سہولت کے ساتھ، بجٹ دیکھ کر. یاد رہے، یورپ اور امریکہ کے علاوہ بھی دنیا ہے. ہمارے پڑوسی ملک نہایت شاندار ہیں، نیپال، سرلنکا، بھوٹان اور بہت سارے.
اچھا تو پھر جانا کیسے چاہئیے؟
اگر تو امیر ملک میں جانا ہے تو ویزا مشکل ہے. ایجنٹ سے دھوکہ تو مل سکتا ہے، لیکن ویزا نہیں مل سکتا. انسانی سمگلر آپ کو شائد پنچا تو دے لیکن راستے میں مرنے اور لاش سمندر میں پھینکے جانے کا بھی قوی امکان ہے.
چلیں پھر ترقی یافتہ ممالک جانے کے قانونی راستوں کی بات کر لیتے ہیں. تو یاد رہے، کسی بھی قانونی راستے کے لئے آپ کے پاس کم از کم دس سے بیس لاکھ موجود ہونے چاہیں اور آپ کی آمدن پچاس ہزار روپے ماہانہ تک ہونی چاہئیے. ایک تو ٹوریسٹ ویزا ہے، عام طور پر تین مہینے کے لئے ملتا ہے. دوسرا سٹوڈنٹ ویزا ہے، اس کے لئے زبان کا امتحان پاس کرنا، یونیورسٹی کی ڈگری موجود ہونا اور اگلی ڈگری میں داخلہ ملا ہوا ہونا، پندرہ سے بیس لاکھ روپے ہونا ضروری ہے. تیسرا راستہ بزنس امیگریشن ہے، اس کے لئے پانچ کروڑ کے آس پاس کی رقم موجود ہونی چاہئیے. اس کے علاوہ بھی طریقے ہیں لیکن شائد وہ زیادہ مشکل ہیں.
ایک اچھی بات یہ ہے کے ترقی پذیر ممالک کے ویزے آسان ہیں اور کچھ ممالک اور جزیروں پر تو ویزے کے بغیر بھی سیر کی جا سکتی ہے.
مزید معلومات کے لئے میرے پیج Trips and Tips کو وزٹ کریں. سوالات ہوں ہو تو صرف پانچ سو روپے ادا کر کے تفصیلی گفتگو کریں. اب یہ پانچ سو روپے کی شرط اس لئے لگانی پڑی کہ صرف سنجیدہ دوست رابطہ کر سکیں. آپ کے سوالات کے جوابات کے لئے میں گھنٹوں کام کروں اور پتا چلے آپ تو ایسے شوق سے پوچھ رہے تھے. ضرور، شوق بھی اچھا ہے لیکن اس کے لئے خود گوگل استعمال کریں اور ایمبسی کا پیج وزٹ کریں. وہاں ساری معلومات مل جائیں گی اور آپ کے پانچ سو روپے بچ جائیں گے.

ٹریپ اینڈ ٹپ بیرون ملک منتقل کیسے ہوں؟---------------بیرون ملک منتقل ہونا بہت مشکل لیکن ممکن ہے. اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ...
28/01/2018

ٹریپ اینڈ ٹپ
بیرون ملک منتقل کیسے ہوں؟
---------------
بیرون ملک منتقل ہونا بہت مشکل لیکن ممکن ہے. اس میں سب سے بڑی رکاوٹ پیسوں کی ہے اور دوسری تعلم کی ہے. اگر آپ کی پاکستان میں اچھی نوکری ہے تو میرا مشورہ ہے، آپ منتقل ہونے کا نہ سوچیں، کیونکہ یہاں آپ کو صفر سے آغاز کرنا ہو گا. بہتر ہو گا، اگر آپ اپنے بچوں کو بیرون ملک منتقل کریں.
بیرون ملک جانے کی خواہش رکھنے والوں کے لئے، چند قابل عمل اور قانونی تجاوزات پیس ہیں.
١. سب سے آسان اور تیز طریقہ ہے، سٹوڈنٹ ویزا. یہ اتنا آسان ہے کہ سٹوڈنٹس کو اکثر اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ بیرون ملک منتقل ہونا ایک مشکل کام ہے. یوں تو مختلف تعلیم و ٹریننگ پروگرامز کے لئے جایا جا سکتا ہے. لیکن عام طور پر آپ سولہ سالہ تعلم (بی.ایس) مکمل کر کے اپنی پسند کے ملک میں ماسٹر ڈگری پروگرام میں داخلہ لے لیں، آپ انگریزی کا امتحان اعلی نمبروں سے پاس کر لیں، آپ کے پاس بیس لاکھ روپے کے قریب رقم ہو، تو آپ کا ویزا لگنے کے روشن امکانات ہیں. میرا مشوره ہے آسٹریلیا یا کینڈا کا انتخاب کیا جائے. وہاں خرچ تو زیادہ آتا ہے، لیکن سیٹل ہونے کے مواقعے زیادہ ہیں.
٢. بزنس ویزا بھی بہت اچھا آپشن ہے لیکن صرف ان کے لئے جو دو سے تین کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں. آپ اپنا بزنس پلان بنا کر دیتے ہیں، پھر آپ کو ویزا ملتا ہے. آپ کاروبار کرتے ہیں، شرائط کو پورا کرتے ہیں تو آپ کو شہریت مل جاتی ہے.
٤. ورکر ویزا بہت سی اقسام کی خدمات سر انجام دینے والے ورکرز کو مل سکتا ہے. لیکن ٹریننگ اور کاغذات مکمل ہونے چاہیں. اس بارے میں مجھے زیادہ معلومات نہیں، اکثر زیادہ فراڈ بھی ورکر ویزے کے نام پر ہوتے ہیں، اس لئے میں مزید رائے نہیں دے سکتا. البتہ، کینڈا کا اعلی مہارت رکھنے والے ورکرز کے لئے پروگرام بہترین ہے، آپ کو اپنے کوائف کی بنیاد پر اپنا سکور چیک کرنا ہوتا ہے. اگر آپ درکار سکور حاصل کر لیں تو آپ درخواست دے سکتے ہیں. یہ معلومات بدلتی رہتی ہیں، اس لئے متعلقہ ملک کے سفارتخانے یا ویب سائٹ سے مزید معلومات حاصل کریں.
٥. ایک اور طریقہ ہے، جس سے آپ سب واقف ہیں، یعنی کسی پروگرام میں شرکت کرنے، یا وزٹ کے لئے بیرون ملک سفر کریں اور....... سیر کریں.
آپ جو بھی طریقہ اپنائیں، کوشش کریں، زیادہ سے زیادہ کام خود کریں اور کسی بھی شک کی صورت سفارتخانے سے تصدق کریں. تمام معلومات ان.لائن موجود ہیں، بس کچھ دنوں تک محنت کرنے کی ضرورت ہے. اگر آپ محنت نہیں کرنا چاہئیے تو "ٹریپ اینڈ ٹپ" یا کسی اور کو ادائیگی کریں اور معلومات حاصل کریں.

15/01/2018
14/01/2018

مسیحی مقامات کی زیارت
"ٹریپ اینڈ ٹپ"
---------------
اگر آپ خود فارم فل نہیں کرنا چاہئیے، لائن میں نہیں لگنا چاہتے، کاغذات بنا کر فائل بنا پر پوسٹ نہیں کرنا چاہتے تو پھر آپ کسی ٹور آپریٹر کو ١ یا ١.٥ لاکھ اضافی دیں اور سہولت سے سیر کریں.
اگر آپ یہ سب کام خود کر سکتے ہیں تو "ٹریپ اینڈ ٹپ" کو دس ہزار روپے فیس ادا کریں، آپ کو مکمل معلومات اور راہنمائی کے علاوہ سستا ترین ایئر ٹکٹ اور آپ کی مرضی کے مطابق ہوٹل ملے گا. آپ کم خرچ میں بہتر سفر اور قیام کریں گے.

آپ جس بھی ایئر لائن پر سفر کریں. اس کی ممبرشپ ضرور حاصل کریں. ممبرشپ عام طور پر مفت ہوتی ہے. ہر ممبر کو سفر کے بدلے اعزا...
12/11/2017

آپ جس بھی ایئر لائن پر سفر کریں. اس کی ممبرشپ ضرور حاصل کریں.
ممبرشپ عام طور پر مفت ہوتی ہے. ہر ممبر کو سفر کے بدلے اعزازی پوانٹس ملتے ہیں. جنہیں ٹکٹ کی خریداری اور دیگر سہولیات کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے.
مفت ہے، کوئی ذمداری بھی نہیں تو پھر کیوں نہ فائدہ اٹھایا جائے.

12/11/2017

ٹپ اینڈ ٹریپ کیا ہے؟
---------------------
یہ سروس میں نے سیر و سیاحت کے شوقین دوستوں کے ساتھ مل کر شروع کی ہے. یہ دوستوں ایئر لائن کنکشن، انتہائی کم قیمت ٹکٹ خریدنے کے طریقوں، رہائش کا اعلی اور قم قیمت انتظام کرنے میں مہارت رکھتے ہیں. ہم جس شوق اور ذمداری سے اپنے ٹریپ کو اعلی اور کم قیمت بناتے ہیں. اسی طرح آپ کے ٹریپ کی پلاننگ بھی کریں گے. اس سب کے لئے بہت وقت درکار ہوتا ہے اور کم قیمت افر صرف چند لمحوں کے لئے موجود ہوتی ہے، جسے دبوچنا پڑتا ہے.
ماضی میں ایسی خدمات مفت پیش کی جاتی رہیں. لیکن چونکہ وقت اور محنت درکار ہوتی ہے. اس لئے اب آپ کے ٹریپ کے لئے ٹپس کا انتظام کرنے والوں کو کیش کی صورت میں ٹپ درکار ہے. ماضی کے تجربات کے پیش نظر ٹوکن سسٹم کا آغاز کیا گیا، اس کا مقصد صرف شوق کے لئے معلومات لینے اور ہم سے گھنٹوں کام کروانے والوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے. لیکن حقیقی طور پر سیر و سیاحت کے شوقین افراد کے لئے، بہت محبت، بہت جذبے اور نیک خواھشات کے ساتھ حاضر ہیں.
سوال و جواب.
١) ٹریپ اینڈ ٹریپ سستی افر کا بندوبست کیسے کرتا ہے؟
جواب: ایک تو ہم ریگولر سفر کرنے والے ہیں اور افرز سے متعلق معلومات رکھتے ہیں اور معلوماتی رسالوں کی ممبر شپ حاصل کرتے ہیں.
دوسرا ہم خود سے آپشنز کو سامنے رکھ کر کنکشن بناتے ہیں تاکہ سفری اخراجات میں نمایاں کمی آ سکے.
تیسرا ہمارے پاس اپنے سفر کے بدلے ایئر لائن، ہوٹل چین اور کریڈٹ کارڈ کمپنی کی طرف سے اعزازی افرز موجود ہوتی ہیں. جنہیں ہم آپ تک منتقل کر دیتے ہیں.
٢) پیمنٹ کیسے ہوتی ہے؟
جواب. آپ خود اپنے کارڈ سے ڈائریکٹ ایئر لائن کو پیمنٹ کریں گے. یا ہمارے لاہور آفس میں پیمنٹ کرنا ہو گی. آپ بینک ٹرانسفر بھی کر سکتے ہیں.
٣) آپ کی سروس کے کیا اخراجات ہوں گے؟
جواب. اگر ہم آپ کو بہترین بچت دلانے میں ناکام رہے تو معمولی فیس چارج کریں گے. لیکن اوسط فیس پچاس یورو ہے. یہ فکس نہیں ہے. نیز اس سروس کا اولین مقصد آپ کے سیر و سیاحت کے شوق کو بڑھاوا دینا اور آسان بنانا ہے.
٤) کیا ٹوکن فیس ضروری ہے؟
جواب. جی ہاں. ماضی کے تلخ تجربات کے پیش نظر معمولی ٹوکن فیس رکھی گئی ہے. آپ اپنے پاس موجود افر بتا سکتے ہیں. اگر ہم اس سے کم افر نہ دے سکے تو آپ کو شروع میں ہی بتایا دیا جائے گا.

Adresse

Weinheimer
Heidelberg
69198

Telefon

+4917634962063

Webseite

Benachrichtigungen

Lassen Sie sich von uns eine E-Mail senden und seien Sie der erste der Neuigkeiten und Aktionen von Trips and Tips erfährt. Ihre E-Mail-Adresse wird nicht für andere Zwecke verwendet und Sie können sich jederzeit abmelden.

Teilen