04/09/2025
فرینکفرٹ، جرمنی – ایک مختصر مگر یادگار ٹرِپ
گزشتہ اتوار، فرینکفرٹ میں ایک پاکستانی چرچ کی جانب سے عبادت میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی۔ پاکستان سے پاسٹر خالد ناز صاحب تشریف لا رہے تھے۔ ایسی عبادات میں شرکت سے نہ صرف دیگر دیسی بہن بھائیوں سے ملاقات کا موقع ملتا ہے، بلکہ روحانی ترقی کے لیے بھی کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
میں نے چند دوستوں کو ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ چند مہینے قبل میری ملاقات آکاش بھائی سے ہوئی تھی، جو کچھ ہی عرصہ قبل پاکستان سے جرمنی آئے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ہم عبادت سے پہلے شہر گھومیں، دیسی کھانا کھائیں، اور پھر چرچ چلیں۔
مزید دوستوں کو دعوت دی تو فرینکفرٹ میں مقیم ایک اور پاکستانی بھائی، علی صاحب بھی ساتھ شامل ہو گئے۔ میں اور آکاش بھائی نے کافی اور کیک کے ساتھ سفر کا آغاز کیا۔ ہم نے "آئس برگ" نامی کیک کھایا، جو جرمن کلچر میں نسبتاً غیر معروف ہے اور ان دنوں ایک بیکری چین نے بطورِ خاص محدود مدت کے لیے پیش کیا ہے۔ یہ کیک منفرد، دلچسپ اور نہایت لذیذ تھا۔ اندرونی حصے میں کریم، آم اور غالباً کسی اور پھل کا مکسچر تھا، جبکہ بیرونی سطح پر سفید چاکلیٹ اور ناریل پاؤڈر تھا۔ غالباً اس کی شکل و رنگ کی مناسبت سے اسے "آئس برگ" کا نام دیا گیا تھا۔ کیک کی کریم کی وجہ سے اسے ایک نشست میں مکمل کھانا مشکل تھا، لہٰذا آدھا کھایا، باقی ساتھ لے لیا، اور ہم جرمن ریل میں سوار ہو کر فرینکفرٹ کی طرف روانہ ہو گئے۔
فرینکفرٹ پہنچ کر علی بھائی بھی ہم سے آ ملے۔ ہمارے پاس گھومنے کے لیے تقریباً دو گھنٹے تھے، لیکن کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔ علی بھائی نے بتایا کہ قریب ہی دریا کے کنارے ایک میلہ لگا ہوا ہے۔ چنانچہ ہم شہر کی مرکزی گلیوں سے گزرتے ہوئے دریا کنارے پہنچ گئے۔
فرینکفرٹ جرمنی کے ان چند شہروں میں سے ہے جہاں بلند و بالا عمارتیں اور جدید طرزِ تعمیر ایک بڑے شہر کا احساس دلاتی ہیں۔ جرمنی آنے والے اکثر لوگ فرینکفرٹ ایئرپورٹ سے اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں، لیکن اکثر وہ ایئرپورٹ سے سیدھے اپنی منزل کی طرف چلے جاتے ہیں۔ فرینکفرٹ جرمنی کا مالیاتی (فنانشل) مرکز بھی ہے۔
دریائے رائن کا شفاف پانی، اطراف میں سرسبز گھاس، خوبصورت پل، اور میلے میں سجی رنگا رنگ دکانیں ماحول کو اور بھی دلکش بنا رہی تھیں۔ ہم دکانیں دیکھتے، باتیں کرتے، اور میلے سے لطف اندوز ہوتے آگے بڑھتے رہے۔ علی صاحب سے تاریخ، سیاست، اور ثقافت جیسے موضوعات پر نہایت شاندار گفتگو ہوتی رہی۔
اسی میلے میں تھائی ایئرلائن کے زیرِ سرپرستی تھائی لینڈ کا ثقافتی ایونٹ بھی جاری تھا، جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ دریا میں کشتیوں کی ریس بھی ہو رہی تھی، جس میں لفتھانزا سمیت کئی ٹیمیں شریک تھیں۔ یہ تمام سرگرمیاں میلے کو مزید پُررونق اور دلچسپ بنا رہی تھیں۔
وقت کی کمی کی وجہ سے ہم جلد ہی میلے سے نکلے اور دیسی کھانے کی تلاش میں نکل پڑے۔ حسبِ معمول، میں نے آن لائن سرچ کیا اور قریب ہی ایک پاکستانی ریسٹورانٹ مل گیا، جس کے ریویوز کافی مثبت تھے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ نئے کاروبار عموماً معیار پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ ہم نے نہاری اور کڑاہی آرڈر کی۔ ذائقہ لاجواب، معیار شاندار، البتہ مقدار اور قیمت کے لحاظ سے بہتری کی گنجائش موجود تھی۔ وقت کم تھا، اس لیے کھانے کے فوراً بعد چرچ کی جانب روانہ ہو گئے جہاں ہمیں پاسٹر خالد ناز صاحب کے ساتھ عبادت میں شریک ہونا تھا۔
اگرچہ یہ سیر مختصر تھی، لیکن آکاش اور علی بھائی کی معیت نے اسے ایک خوشگوار یاد میں بدل دیا۔
اگر آپ جرمنی میں مقیم ہیں اور آئندہ کسی ٹرپ میں ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہیں تو ضرور رابطہ کریں—چلیں، مل کر آوارہ گردی کریں!