14/07/2026
تصور کریں کہ ایک صبح آپ جاگتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ آپ کا پڑوسی، دوست یا خاندان کا فرد گہری نیند میں ہے۔ آپ اسے جگانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، مگر وہ صرف چند لمحوں کے لیے آنکھیں کھولتا ہے، کچھ مبہم الفاظ بولتا ہے اور دوبارہ بے ہوشی جیسی نیند میں چلا جاتا ہے۔
یہ کوئی فلمی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسا حقیقی طبی معمہ ہے جس نے بیسویں صدی کے آغاز میں پوری دنیا کے ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ اس بیماری کو بعد میں "Sleeping Disease" یا "Encephalitis Lethargica" کا نام دیا گیا، جبکہ عام لوگ اسے "نیند کی وبا" کہنے لگے۔
یہ بیماری صرف انسان کو سلاتی نہیں تھی بلکہ اس کی شخصیت، یادداشت، حرکت اور پوری زندگی کو بدل کر رکھ دیتی تھی۔
آغاز کہاں سے ہوا؟
سن 1916 اور 1917 کے دوران یورپ پہلی جنگ عظیم کی تباہ کاریوں میں گھرا ہوا تھا۔ اسی دوران آسٹریا کے مشہور ماہرِ اعصاب ڈاکٹر کانسٹنٹین فان ایکونومو نے ایک عجیب بیماری کے مریض دیکھنے شروع کیے۔
یہ مریض عام بخار کے بعد غیر معمولی غنودگی کا شکار ہو جاتے تھے۔
ابتدا میں ڈاکٹر یہی سمجھتے رہے کہ شاید یہ انفلوئنزا یا کسی اور وائرس کا اثر ہے، لیکن جلد ہی صورتحال خوفناک ہوتی گئی۔
لوگ دن میں بیس سے بائیس گھنٹے تک سوتے رہتے۔
بعض مریض کھانا کھاتے ہوئے سو جاتے۔
کئی لوگ بات کرتے کرتے خاموش ہو کر گہری نیند میں چلے جاتے۔
کچھ مریض آنکھیں کھول لیتے تھے مگر جسم حرکت نہیں کرتا تھا، جیسے وہ اپنے ہی جسم کے قیدی بن چکے ہوں۔
یہ بیماری کتنی پھیل گئی؟
چند ہی برسوں میں یہ بیماری یورپ سے نکل کر برطانیہ، فرانس، جرمنی، امریکہ، کینیڈا اور دنیا کے کئی دیگر ممالک تک پہنچ گئی۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق تقریباً دس لاکھ افراد اس بیماری سے متاثر ہوئے۔
ان میں سے تقریباً پانچ لاکھ افراد جان کی بازی ہار گئے۔
جو زندہ بچے، ان میں سے بھی ہزاروں کبھی مکمل صحت یاب نہ ہو سکے۔
کئی افراد اپنی پوری زندگی وہیل چیئر یا بستر تک محدود ہو گئے۔
مریضوں کے ساتھ کیا ہوتا تھا؟
بیماری کا آغاز اکثر عام نزلہ، بخار یا سر درد سے ہوتا تھا۔
چند دن بعد مریض شدید تھکن محسوس کرنے لگتا۔
پھر وہ غیر معمولی نیند میں چلا جاتا۔
کئی مریضوں کو جگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا تھا۔
اگر کوئی جاگ بھی جاتا تو صرف چند منٹ کے لیے۔
وہ پانی پیتا، دو تین جملے بولتا اور دوبارہ سو جاتا۔
بعض افراد مسلسل کئی ہفتوں تک اسی کیفیت میں رہے۔
کچھ مریض مہینوں تک تقریباً بے ہوش حالت میں زندہ رہے۔
عجیب و غریب علامات
یہ بیماری صرف نیند تک محدود نہیں تھی۔
کچھ مریضوں کے چہرے کے تاثرات ختم ہو جاتے تھے۔
کئی افراد کی پلکیں مسلسل آدھی بند رہتی تھیں۔
کچھ لوگ ایک ہی جگہ گھورتے رہتے۔
کئی مریض اچانک چیخنے لگتے۔
بعض کو شدید بے چینی ہوتی۔
کئی افراد کے ہاتھ پاؤں کانپتے رہتے۔
کچھ لوگوں کے جسم مکمل طور پر اکڑ جاتے تھے۔
ڈاکٹر اس کیفیت کو سمجھنے سے قاصر تھے۔
جو لوگ جاگ گئے، ان کے ساتھ کیا ہوا؟
حیرت انگیز طور پر بہت سے مریض مکمل طور پر صحت مند حالت میں واپس نہ آ سکے۔
کئی افراد کی شخصیت بدل گئی۔
کچھ لوگ بہت خاموش ہو گئے۔
کچھ حد سے زیادہ غصہ کرنے لگے۔
بعض مریضوں میں پارکنسن جیسی علامات پیدا ہو گئیں۔
ان کے ہاتھ مسلسل لرزتے تھے۔
چلنا دشوار ہو گیا۔
چہرے پر تاثرات تقریباً ختم ہو گئے۔
بعض افراد اپنی مرضی سے حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے۔
کیا یہ انفلوئنزا سے متعلق تھی؟
چونکہ یہ وبا تقریباً اسی دور میں آئی جب دنیا اسپینش فلو کا سامنا کر رہی تھی، اس لیے ڈاکٹروں نے دونوں بیماریوں کے درمیان تعلق تلاش کرنے کی کوشش کی۔
ابتدائی اندازہ یہی تھا کہ شاید اسپینش فلو ہی دماغ پر حملہ کر رہا ہے۔
لیکن بعد کی تحقیق اس نظریے کو ثابت نہ کر سکی۔
کچھ مریضوں کو کبھی انفلوئنزا ہوا ہی نہیں تھا۔
اسی لیے یہ سوال آج بھی مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا۔
دماغ پر حملہ
بعد میں ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس بیماری میں دماغ کے ان حصوں کو نقصان پہنچتا ہے جو نیند، حرکت اور شعور کو کنٹرول کرتے ہیں۔
خصوصاً برین اسٹیم اور بیسل گینگلیا شدید متاثر ہوتے تھے۔
اسی وجہ سے مریض نہ صرف سوتا رہتا تھا بلکہ حرکت اور جذبات پر بھی اس کا کنٹرول ختم ہونے لگتا تھا۔
کیا یہ وائرس تھا؟
یہ سوال آج بھی سائنس کے لیے ایک معمہ ہے۔
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی وجہ کوئی نامعلوم وائرس تھا۔
دوسرے سائنسدان سمجھتے ہیں کہ شاید جسم کا مدافعتی نظام خود دماغ پر حملہ کرنے لگا تھا۔
یعنی بیماری براہ راست وائرس سے نہیں بلکہ جسم کے غلط مدافعتی ردعمل سے پیدا ہوئی۔
کئی جدید تحقیقات اسی نظریے کی حمایت کرتی ہیں، مگر حتمی ثبوت آج تک موجود نہیں۔
حیران کن مریض
اس وبا کے دوران ایسے مریض بھی دیکھے گئے جو بظاہر جاگ رہے ہوتے تھے۔
ان کی آنکھیں کھلی ہوتیں۔
وہ سامنے دیکھ رہے ہوتے۔
لیکن نہ بول سکتے تھے، نہ حرکت کر سکتے تھے۔
گویا ان کا ذہن جاگ رہا تھا مگر جسم سو چکا تھا۔
یہ کیفیت ڈاکٹروں کے لیے انتہائی پراسرار تھی۔
کئی دہائیوں بعد
1920 کی دہائی کے اختتام تک اس بیماری کے نئے کیسز کم ہونے لگے۔
پھر اچانک یہ وبا تقریباً غائب ہو گئی۔
آج بھی دنیا بھر میں اس نوعیت کے صرف چند ہی مریض سامنے آتے ہیں۔
لیکن وہ بڑی وبا دوبارہ کبھی واپس نہیں آئی۔
اسی لیے یہ سوال ہمیشہ زندہ رہا کہ آخر یہ بیماری اچانک آئی کہاں سے تھی اور پھر کہاں چلی گئی؟
خاموش زندگیاں
ہزاروں ایسے مریض تھے جو زندہ تو رہے مگر گویا وقت میں منجمد ہو گئے۔
وہ نہ عام زندگی گزار سکتے تھے، نہ کام کر سکتے تھے، نہ آزادانہ چل سکتے تھے۔
ان کے اہل خانہ برسوں ان کی دیکھ بھال کرتے رہے۔
یہ بیماری صرف مریض نہیں بلکہ پورے خاندان کو متاثر کرتی تھی۔
ایک نئی امید
سن 1960 کی دہائی میں امریکی ماہرِ اعصاب ڈاکٹر اولیور سیکس نے ایسے مریضوں پر تحقیق کی جو کئی دہائیوں سے تقریباً ساکت زندگی گزار رہے تھے۔
انہوں نے انہیں ایک نئی دوا دی جسے لیووڈوپا کہا جاتا ہے۔
ابتدا میں حیران کن نتائج سامنے آئے۔
کئی مریض برسوں بعد اچانک متحرک ہو گئے۔
انہوں نے دوبارہ چلنا، بات کرنا اور مسکرانا شروع کر دیا۔
مگر یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔
زیادہ تر مریضوں میں دوا کا اثر آہستہ آہستہ کم ہو گیا یا شدید ضمنی اثرات سامنے آئے۔
اس تحقیق پر فلم بھی بنی
ڈاکٹر اولیور سیکس کی کتاب "Awakenings" نے پوری دنیا کو متاثر کیا۔
بعد میں اسی کہانی پر ایک مشہور فلم بھی بنائی گئی جس میں دکھایا گیا کہ کس طرح برسوں سے خاموش مریض چند دنوں کے لیے دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ آئے۔
یہ منظر طب کی تاریخ کے سب سے جذباتی واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
آج سائنس کیا کہتی ہے؟
جدید ٹیکنالوجی کے باوجود اس بیماری کی اصل وجہ ابھی تک یقینی طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔
بعض سائنسدان وائرس کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
کچھ مدافعتی نظام کو۔
کچھ کا خیال ہے کہ کئی عوامل مل کر اس بیماری کا سبب بنے۔
لیکن کوئی ایک نظریہ مکمل طور پر ثابت نہیں ہو سکا۔
کیا یہ بیماری دوبارہ آ سکتی ہے؟
اب تک اس جیسی عالمی وبا دوبارہ سامنے نہیں آئی۔
تاہم ماہرین مسلسل نگرانی کرتے رہتے ہیں کیونکہ دماغ پر حملہ کرنے والے نئے وائرس یا خودکار مدافعتی امراض مستقبل میں اسی قسم کی علامات پیدا کر سکتے ہیں۔
اسی لیے دنیا بھر کے نیورولوجسٹ اس بیماری کا مطالعہ آج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔