19/06/2026
سعودی عرب کی 15 سالہ لڑکی ثبیّہ الشہرانی اپنے گھر کے آس پاس غیر معمولی دکھنے والے پتھر اکٹھے کرتی تھی۔ یہ ان کی عادت بن چکی تھی۔ یہ لڑکی شاید ہی جانتی تھی کہ اس کی یہ عادت اسے اس مقام تک لے جائے گی۔
ہم تاریخ کتابوں میں پڑھتے ہیں یا ویڈیوز میں دیکھتے سمجھتے ہیں لیکن ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو پتھروں کے ذریعے تاریخ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ثبیّہ الشہرانی بھی انہی میں سے ثابت ہوئیں۔ یہ 2014 کی بات ہے۔ سعودی عرب کی پندرہ سالہ لڑکی ثبیّہ الشہرانی تجسس کے مارے اپنے گھر اور علاقے کے آس پاس پتھر جمع کرتی رہی۔ ایک روز ان کے پاس 705 پتھر جمع ہوگئے۔
یہ پتھر سعودی عرب کے ماہرین آثار قدیمہ تک پہنچے۔ ماہرین نے جب ان پتھروں کا معائنہ کیا تو ان میں سے 19 پتھر ایسے نکلے جو جزیرہ نما عرب کی قدیم تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے اصلی آثار قدیمہ تھے۔ ثبیّہ نے یہ تمام دریافتیں متعلقہ حکام کے حوالے کر دیں۔
سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے ان آثار کو قومی آثار قدیمہ کے فہرست میں شامل کرتے ہوئے انہیں نیشنل میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا اور ثبیّہ کو خصوصی ایوارڈ سے نوازا۔ اگست 2025 میں 'ثبیّہ' کے نام سے اس غیر ارادی اور اتفاقاً کھوج پر ایک ڈاکومنٹری بنائی گئی تاکہ اس چھوٹی بچی کے تجسس اور کھوج سمیت سعودی عرب کی سرزمین پر پتھروں پر کندہ تاریخ کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے۔
ثبیّہ کی یہ کوشش دراصل اس حقیقت کا ایک چھوٹا سا باب ہے کہ سعودی عرب کی سرزمین میں تاریخ کے کتنے راز آج بھی موجود ہیں۔ اسی سلسلے میں آج بھی سعودی ہیریٹیج کمیشن مملکت بھر میں آثار قدیمہ کی کھوج میں مصروف عمل ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ تاریخی پتھر بھی ہے جس پر حضرت عمر (رض) سے متعلق عبارت کندہ کی گئی ہے۔
سعودی ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ منورہ کے ضلع المہد میں آثار قدیمہ کے سروے کا دوسرا سیزن حال ہی میں مکمل کیا۔ اس دوران تین علاقوں میں مجموعی طور پر 1774 آثار دریافت ہوئے۔ ان میں 461 اسلامی کتبے، 34 ثمودی کتبے، 1259 راک آرٹ پینلز، 11 پتھر کی تعمیرات، 3 تاریخی محلات، 2 قافلوں کے راستے اور 4 کنویں شامل ہیں۔
ان آثار قدیمہ سے تاریخ دانوں کو معلوم ہوا کہ دریافت ہونے والی ہر شے میں ایک الگ ہی کہانی چھپی ہے اور بتاتی ہے کہ کسی وقت میں یہاں کوئی انسان اس زمین پر رہا، چلا، بیٹھا، دعا کی اور زندگی جیتا رہا۔۔۔
ان 1774 دریافتوں میں سے سب سے زیادہ توجہ ایک چٹان پر کندہ چند الفاظ نے حاصل کی۔ اس کتبے پر خلیفہ حضرت عمر ابن الخطاب (رض) کا نام درج ہے۔ کمیشن کے مطابق کتبے پر 'اللہ دنیا اور آخرت میں عمر ابن الخطاب کا ولی ہے۔ لا الہ الا اللہ۔' درج ہے۔ یہ کتبہ حجازی رسم الخط میں لکھا گیا ہے جو ابتدائی اسلامی دور میں عربی زبان کی قدیم ترین تحریری اشکال میں سے ایک ہے۔
اس حوالے سے مزید تحقیق جاری ہے کہ چٹان پر یہ عبارت ممکنہ طور پر کس نے کب لکھی ہوگی؟ وہ کہاں سے آیا ہوگا؟ یہاں قیام کیوں کیا ہوگا؟ فی الوقت اس حوالے سے تاریخ خاموش ہے تاہم یہ عبارت آج 14 سو سال بعد بھی موجود ہے۔
اس وقت ماہرین یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ اس کتبے کی اہمیت اس بات میں نہیں کہ یہ حضرت عمر (رض) سے متعلق کوئی ذاتی ثبوت ہے یا ان کی لکھی عبارت ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اس دور میں ان کا نام اتنی گہری مذہبی اور سیاسی علامت بن چکا تھا کہ لوگ صحرا کی چٹانوں پر ان کے لیے دعائیں لکھ رہے تھے۔ ساتھ ہی ماہرین نے اسے قبل از اسلام، خانہ بدوش تہذیب اور تیزی سے پھیلتی اسلامی ریاست کے درمیان ایک تاریخی پل قرار دیا ہے کیونکہ اسی مقام پر ثمودی کتبے بھی ملے جو صدیوں سے جزیرہ نما عرب کے خانہ بدوش قبائل استعمال کرتے تھے۔
اگرچہ اس چٹان کے سیاق و سباق کے تعین کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے لیکن بظاہر یہ کتبہ ابتدائی مسلم کمیونٹی کی گہری مذہبی اٹیچمنٹ اور جزیرہ نما عرب کے طول و عرض میں جذبہ ایمانی کے پھیلاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
اس حوالے سے ایک تحریر پڑھ رہا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ تاریخ اسی طرح زمین میں دبی ہوتی ہے اور چٹانوں پر کندہ ہوتی ہے۔ ہیریٹیج کمیشن نے المہد کی دریافتوں کو 'تاریخ اسلامی کی ایک کھلی کھڑکی' قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہر کتبہ اور ہر نقش اس خطے کے ورثے کو دستاویز شکل فراہم کر رہا ہے۔
تدوین
ادیب یوسفزئی