Pak Virsa پاک ورثہ

Pak Virsa  پاک ورثہ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pak Virsa پاک ورثہ, Tourist Information Center, مری روڈ ایبٹ آباد, Abbottabad.
(4)

پاکستانی ثقافت۔تاریخی جگہیں۔سیر گاہیں۔پرانے کھیل رسم و رواج۔علاقاٸی ثقافت۔شہروں گاٶں کا محل وقوع۔دریاٶں نہروں پہاڑوں چشموں آبشاروں کی معلومات۔وطن عزیز سے نکلنے والے قدرتی خزانے بہت سی تاریخ اور پاکستان میں سیاحت کہ فروغ کی کوشش۔

شاہ پور ضلع سرگودھا دریاۓ جہلم کے قریب آباد شہر  یہ شہر ایسے شہروں میں سے ہے جو کبھی ضلع ہوا کرتا تھا اور آج یہ اپنے ہی ...
27/07/2026

شاہ پور
ضلع سرگودھا دریاۓ جہلم کے قریب آباد شہر یہ شہر ایسے شہروں میں سے ہے جو کبھی ضلع ہوا کرتا تھا اور آج یہ اپنے ہی ایک قصبے کی تحصیل ہے جس کی ضلعی حیثیت ختم ہوگٸ ہے
کبھی اس کو جب 1849 میں ضلع کا درجہ ملا تو خوشاب۔سرگودھا سمیت بھیرہ ۔ساہیوال۔کوٹ مومن۔بھلوال۔نور پور تھل۔ مٹھہ ٹوانہ۔ اس ضلع کے حصہ تھے اس ضلع کا پہلا ڈپٹی کمشنر E.c bayley تھا
1853 میں خوشاب کو ضلع لیہ سے علیحدہ کر کے شاہ پور ضلع میں شامل کیا گیا 1857میں مٹھہ ٹوانہ کو بھی ضلع لیہ سے الگ کر کے شاہ پور ضلع سے جوڑا گیا
1862 میں نور پور تھل کو ضلع بنوں سے الگ کیا گیا اور اسے بھی ضلع شاہ پور میں شامل کر دیا گیا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا اور 1893 تک یہ مکمل ضلعی حیثیت قاٸ کر چکا تھا
انگریز نے یہاں بہت سے کام کیے جن میں ریلوے لاٸٸن تعلیم و صحت شامل ہیں اسی دوران یہاں سکھ گردوارے ہندو مندر بھی تعمیر کیے گۓ جن کے آثار آج بھی یہاں موجود ہیں
گزرتے وقت کے ساتھ اس بہت بڑے ضلع کی حیثیت قاٸم نا رہ سکی آخر قیام پاکستان سے پہلے 1940 میں اس ضلع کو ختم کر کے نٸ اور تیزی سے پھیلی آبادی سرگودھا میں شامل کر کے اس ضلع کو سرگودھا کا نام دے دیا گیا اور پھر یہ سلسلہ قیام پاکستان کے بعد 1960 میں انتظامی طور قاٸم ہونے والے ضلع سرگودھا کی ایک تحصیل کے درجہ پہ رکا اور آج ایک عظیم ضلع ایک تحصیل کے طور پہ جانا جاتا ہے کبھی اس کا حصہ رہنے والا آج کا بڑا شہر سرگودھا آج ڈویژن ہے اور نور پور تھل الگ سے شہر ہے اور خوشاب بھی ایک بہت بڑے ضلع کے طور پہ جانا جاتا ہے اسی طرح تاریخی شہر بھیرہ بھی الگ سے شہر ہے جیسے بھلوال اور کوٹ مومن شہر ہیں
اگر اب اس شہر کی آباد کی بات کی جاۓ تو 2017 کی مردم شماری میں اس شہر کی آبادی 3 لاکھ 50 سے اوپر تھی اس شہر کا مکمل رقبہ 769 کلومیٹر ہے
اپنی حیثیت کے عروج سے زوال تک کے سفر کو دیکھتا یہ شہر آج بھی قاٸم ہے یہاں کٸ ایک تعلیمی ادارے صحت و سہولت اور تاریخی اہمیت کی حامل عمارتیں کھڑی ہیں یہ تحصیل بھی سرگودھا کی دیگر تحصیلوں کی طرح کافی زرخیز ہے اور کٸ ایک فصلیں پیدا کرتی ہے
کیونکہ یہ شہر دریاۓ جہلم کے کنارے آباد ہے جو کے اس شہر کے مغرب کی طرف سے گزرتا ہے اس لیے یہاں اچھی فصلیں ہوتی ہیں اور زیادہ تر لوگوں کا پیشہ زراعت ہے

21/07/2026

ضروری گزارش
موجودہ بارشوں کی وجہ سے پہاڑی علاقوں کے ندی نالوں میں سخت سیلابی صورتحال ہے زیادہ بارشیں ہیں لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی ہے اس لیے غیر ضروری سفر سے گریز کریں نشیبی علاقوں کو رخ نا کریں۔
Copy

19/07/2026

خوشیوں کا تعلق آپ کے حالات سے ہو نہ ہو لیکن آپ کے فیصلوں کی مظبوطی سے ضرور ہوتا ہے

دیسی مہینےان کا تعارف اور وجہ تسمیہبرِصغیر پاک و ہند کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس خطے کا دیسی کیلنڈر دنیا کے چند قدیم ترین ...
14/07/2026

دیسی مہینے
ان کا تعارف اور وجہ تسمیہ
برِصغیر پاک و ہند کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس خطے کا دیسی کیلنڈر دنیا کے چند قدیم ترین کیلنڈرز میں سے ایک ہے۔ اس قدیمی کیلنڈر کا آغاز 100 سال قبل مسیح میں ہوا۔ اس کیلنڈر کا اصل نام بکرمی کیلنڈر ہے، جبکہ پنجابی کیلنڈر، دیسی کیلنڈر، اور جنتری کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔

بکرمی کیلنڈر کا آغاز 100 قبل مسیح میں اُس وقت کے ایک ہندو بادشاہ "راجہ بِکرَم اجیت” کے دور میں ہوا۔ راجہ بکرم کے نام سے یہ بکرمی سال مشہور ہوا۔ یہ شمسی سال "چیت” کے مہینے سے شروع ہوتا ہے۔

بکرمی کیلنڈر (پنجابی دیسی کیلنڈر) میں ایک دن کے آٹھ پہر ہوتے ہیں، ایک پہر جدید گھڑی کے مطابق تین گھنٹوں کا ہوتا ہے.
جن کے نام
1۔ دھمی/نور پیر دا ویلا:
صبح 6 بجے سے 9 بجے تک کا وقت

2۔ دوپہر/چھاہ ویلا:
صبح کے 9 بچے سے دوپہر 12 بجے تک کا وقت

3۔ پیشی ویلا: دوپہر 12 سے سہ پہر 3 بجے تک کا وقت

4۔ دیگر/ڈیگر ویلا:
سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک کا وقت

5۔ نماشاں/شاماں ویلا:
شام 6 بجے سے لے کر رات 9 بجے تک کا وقت

6۔ کفتاں ویلا:
رات 9۔بجے سے رات 12 بجے تک کا وقت

7۔ ادھ رات ویلا:
رات 12 بجے سے سحر کے 3 بجے تک کا وقت

8۔ سرگی/اسور ویلا:
صبح کے 3 بجے سے صبح 6 بجے تک کا وقت

لفظ "ویلا” وقت کے معنوں میں برصغیر کی کئی زبانوں میں بولا جاتا ہے۔ گجر ۔راجپوت۔ جاٹ ۔اور اراٸیں لوگوں کے ہاں خاص کر یہی زبان بولی جاتی تھی۔

تین سو پینسٹھ (365 ) دنوں کے اس کیلینڈر کے 9 مہینے تیس (30) تیس دنوں کے ہوتے ہیں، اور ایک مہینہ وساکھ اکتیس (31) دن کا ہوتا ہے، اور دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ بتیس (32) بتیس دن کے ہوتے ہیں۔

1- چیت/چیتر (بہار کا موسم)
2- بیساکھ/ویساکھ/وسیوک (گرم سرد، ملا جلا)
3- جیٹھ (گرم اور لُو چلنے کا مہینہ)
4- ہاڑ/اساڑھ/آؤڑ (گرم مرطوب، مون سون کا آغاز)
5- ساون/ساؤن/وأسا (حبس زدہ، گرم، مکمل مون سون)
6۔ بھادوں/بھادروں/بھادری (معتدل، ہلکی مون سون بارشیں)
7- اسُو/اسوج/آسی (معتدل)
8- کاتک/کَتا/کاتئے (ہلکی سردی)
9۔ مگھر/منگر (سرد)
10۔ پوہ (سخت سردی)
11- ماگھ/مانہہ/کُؤنزلہ (سخت سردی، دھند)
12- پھاگن/پھگن/اربشہ (کم سردی، سرد خشک ہوائیں، بہار کی آمد)

1: 14 جنوری۔۔۔ یکم ماگھ
2: 13 فروری۔۔۔ یکم پھاگن
3: 14 مارچ۔۔۔ یکم چیت
4: 14 اپریل۔۔۔ یکم بیساکھ
5: 14 مئی۔۔۔ یکم جیٹھ
6: 15 جون۔۔۔ یکم ہاڑ
7: 17 جولائی۔۔۔ یکم ساون
8: 16 اگست۔۔۔ یکم بھادروں
9 : 16 ستمبر۔۔۔ یکم اسوج
10: 17 اکتوبر۔۔۔ یکم کاتک
11: 16 نومبر۔۔۔ یکم مگھر
12: 16 دسمبر۔۔۔ یکم پوہ
Pak Virsa پاک ورثہ

صوفی برکت علی رحمتہ اللہ میرے مرشدؒحضرت قبلہ صوفی برکت علی لدھیانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہحضرت صوفی برکت علی لدھیانوی علیہ ...
01/07/2026

صوفی برکت علی رحمتہ اللہ
میرے مرشدؒ
حضرت قبلہ صوفی برکت علی لدھیانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ
حضرت صوفی برکت علی لدھیانوی علیہ الرحمة کا مختصر تعارف یہ ہے کے آپ 27 اپریل 1911 کو برہمی ضلع لدھیانہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام میاں نگاہی بخش تھا۔ برکت علی لدھیانوی اپنے وقت کے مشہور و معروف بزرگ شیخ سید امیر الحسن سہارنپوری کے شاگرد تھے۔
صوفی برکت علی نے19 اپریل 1930 کو فوج میں شمولیت اختیار کی۔ 1933 میں آپ انڈین ملٹری اکیڈمی کے وائی کیڈٹ منتخب ہو گئے۔ فوج میں ملازمت کے دوران آپ اپنے فرائض سے فارغ ہو کر ،، اکثر و بیشتر کلیر شریف میں علاؤ الدین علی احمد صابر کے مزارِ پر حاضری دیتے۔ اور وہاں ساری ساری رات درس سننے میں گزار دیتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ آپ کا دل دینی تعلیم سے لبریز ہوتا گیا۔ آپ کی حالت روز بروز بدلتی گئی۔ بالآخر آپ نے 22 جون1945 کو فوج سے استعفٰی دے دیا۔
قیامِ پاکستان کے بعد آپ نے کچھ عرصہ گجرات میں قیام کیا۔ اس کے بعد حافظ آباد کے گاؤں سکھیکی میں کیمپ لگایا۔ اور یہاں ایک سال تک مقیم رہے۔ اس کے بعد آپ نے سانگلاہل کے ساتھ سالار والا (موجودہ دارالاحسان) کو اپنی دینی، تبلیغی و رفاعی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ جو جلد دنیائے اسلام میں دارالاحسان کے نام سے مشہور ہو گیا۔
اس مقام پر آپ نے ایک خوبصورت مسجد، ایک دینی درسگاہ۔ قرآن کریم محل، مینار بیاد اصحاب بدر اور ایک بہت بڑا فری ہسپتال قائم کیا۔
1984ء میں آپ فیصل آباد کے قریب دسوہا سمندری روڈ پر تشریف لے گئے۔ اس مقام کو المستفیض دارالاحسان سے منسوب کیا گیا۔ یہاں بھی آپ نے ایک خوبصورت قرآن کریم محل اور ایک بہت بڑا فری ہسپتال قائم کیا۔آپ نے تین سو سے زائد کتب و رسائل تصنیف کیں، جن میں حسب ذیل شامل ہیں:

•مکشوفات منازلِ احسان،
•مقالات حکمت،
•ترتیب شریف ۔
ترتیب شریعت آپ نے قریبا ً40 برس کی محنت کے بعد تصنیف کی۔ آج یہ کتاب مدینہ یونیورسٹی کے سلیبس میں شامل ہے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ ۔وہ وقت دور نہیں ہے اقوام عالم کے فیصلے پاکستان میں ہونگے یعنی پاکستان کی ہاں میں سب کی ہاں ہوگی
صوفی برکت علی 85 سال کی عمر میں 16 رمضان المبارک۔ بمطابق 26 جنوری 1997 کو دار فانی سے رخصت ہوۓ۔ فیصل آباد کا گاؤں چک نمبر 242 آر بی دالووال کیمپ دارلاحسان میں دفن کیا گیا۔
نوٹ ۔یہ دربار وطن عزیز کہ واحد درباروں میں سے ہے جہاں نا عورتوں کا داخلہ ہے نا گاڑی موٹرساٸیکل پارک کرنے کہ پیسے ہیں نا جوتے جمع کرنے نا کوٸی نظر نیاز لی جاتی ہے بلکہ سال میں دو مرتبہ یہاں آنکھوں کا ہسپتال قاٸم کیا جاتا ہے جہاں مفت آپریشن اور طبعی سہولیات دی جاتی ہیں ہر وقت استغفار ۔درود پاک ۔اور اللہ کہ زکر سے ماحول معطر رہتا ہے

کڑک چائے کڑک چائے کا سائنسی راز چائے پھینٹنے کی سائنسکبھی چائے والے کو چائے کو بلندی سے برتن میں انڈیلتے دیکھا ہے؟ وہ جو...
23/06/2026

کڑک چائے
کڑک چائے کا سائنسی راز چائے پھینٹنے کی سائنس
کبھی چائے والے کو چائے کو بلندی سے برتن میں انڈیلتے دیکھا ہے؟ وہ جوش سے بھری دھار، جو ایک برتن سے دوسرے میں سفر کرتی ہے، صرف کرتب نہیں — یہ چائے کے ذائقے، رنگ اور خوشبو کو جگانے کا سائنسی عمل ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ پھینٹنا آخر چائے کے ساتھ کرتا کیا ہے:

1. جھاگ کی جادوگری:
دودھ میں موجود پروٹین اور چکنائی، ہوا کے بلبلوں کو تھام لیتی ہیں۔ نتیجہ؟ ایک ملائم جھاگ دار چائے جو صرف زبان سے نہیں، دل سے بھی محسوس ہوتی ہے۔

2. آکسیڈیشن کا کمال:
چائے کے پتے پولی فینولز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ جب انہیں آکسیجن سے ملوایا جائے — جیسے پھینٹنے سے ہوتا ہے — تو ذائقہ گہرا، رنگ شوخ اور خوشبو تیز ہو جاتی ہے۔
یعنی چائے محض اُبلتی نہیں، تیار ہوتی ہے!

3. خوشبو کا رقص:
پھینٹنے سے پیدا ہونے والی حرکت، طیران پذیر مرکبات (volatile compounds) کو آزاد کرتی ہے، جو خوشبو بن کر ہوا میں تیرتے ہیں — اور پھر ناک سے دل تک کا سفر کرتے ہیں۔

4. گرمی کا توازن:
چائے کو پھینٹنے سے اس کا درجہ حرارت متوازن ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ نہ بہت گرم رہتی ہے، نہ ٹھنڈی — بس ایک دم "پینے کے قابل"!

یہ سادہ سا عمل دراصل تھرموڈائنامکس، فلوڈ مکینکس اور کیمیکل آکسیڈیشن کا حسین امتزاج ہے۔
یہ صرف چائے نہیں، کپ میں بند سائنس ہے!

شاعر نے کیا خوب کہا ہے
سبھی سسکیوں کی ہائے لایا ہوں
اہل غم بیٹھو میں چائے لایا ہوں

22/06/2026

سربن ٹاپ ایبٹ آباد

راۓ خان احمد کھرل شہیدجنگ آزادی کا بہادر شیر دل سپوت پنجاب دا لاڑا "راوی دا کھرل ہووے تے کسی حاکم وقت دے اگے جھک جاوے می...
16/06/2026

راۓ خان احمد کھرل شہید
جنگ آزادی کا بہادر شیر دل سپوت
پنجاب دا لاڑا
"راوی دا کھرل ہووے تے کسی حاکم وقت دے اگے جھک جاوے میں نہیں من دا"۔
ہم اپنی تاریخ سے عاق کردہ بخت کے دھتکارے ہوئے لوگ ہیں۔ جن کے پاس برصغیر پر حملہ آوروں اور لوٹ مار کرنے والے کے قصے کہانیاں موجود ہیں مگر انگریز اس کی سپاہ جاسوس چاپلوس فیوڈلوں کے ساتھ آزادی کی جنگ لڑنے والے احمد خان کی کوئی تقریر ہدایت کوئی اقوال کوئی نصیحت کوئی وصیت کچھ بھی نہیں ہے۔نہ مرادفتیانہ اور کرنل برکلے کی دست بستہ لڑاٸی پھر مرادفتیانہ کے نیزے پر سر ٹانگ کر فتح کا اعلان۔جنگ اور گولیوں کی برسات میں ڈھول بجاتے دِلو ؔ کا مستانہ رقص۔گولی سے زخمی ہو کر بھی بے جگری سے لڑنے والے مجاہد واہگھ ؔولد ریحان۔تن تنہا انگریز فوجیوں کو ہلاک کرنے والے نوجوان قادر اور رائے صاحب کی وفادار گھوڑی "ساوی" جس پر چڑھ کر لڑتے تھے.اب یہ قصے صرف مقامی شاعری اور گیت میں ہی ملتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ رائے احمد خان کھرل کی تقریر اور اقوال چی گویرا فیڈرل کاسترو اور دوسرے باغی لیڈروں کی تقریروں سے بھی بڑھ کر روح کو گرمانے والے ہوں گے۔تاریخ کو مسخ کرنے والوں نے کتنا کچھ ہمارا گنوادیا ہے۔آج ہم خالی ہاتھ ہیں۔
مگر اب نہیں میں نے آپ نے سب کو بتانا ہے کہ پنجاب غیرت مند اور زبان والے وفادار لوگوں کی سر زمین ہے۔جن کا سر ظالم کے آگے کبھی جھکے گا نہیں۔پنجاب کی سر زمین کو جن جنگجوں پر فخر ہے ان میں ایک روشن نام رائے احمد خان کھرل بھی ہے۔جنگ آزادی کا وہ ہیرو جس کو سوچی سمجھی سازش کے تحت فراموش کر دیا گیا۔رائے احمد خان کھرل وہ غیرت کا پہاڑ تھا۔جس کا غیرت مند کردار تاریخ میں ایک علامت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اس 83 سال کے بوڑھے شیر نے انگریز سامراج کو دن میں تارے دکھا دیے اور انگریز سامراج کو للکارا اور ان کی بالادستی کو تسلیم کرنے ان کو ماننے ان کے سامنے جھکنے اور گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر کے نازک مزاج سامراج کے غضب کی پیشانی پر بہت سارے بَل ڈال دیے۔جس کی بہادری اور شجاعت نے ایک ایسی کہانی رقم کی جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔جو برصغیر پر قابض ایسٹ انڈیا کمپنی سامنے نامساعد حالات اور قلیل ترین وسائل ہونے کے باوجود سینہ تان کر کھڑا ہو گیا اور انگریز فوج کی اوکاڑہ ہڑپہ گوگیرہ بچانے ہانپتا دوڑتے مٹی پھانکتا ان کی چیخیں لاہور ملتان چھاؤنی بہاولپور تک بازگشت کرتیں۔اور بالآخر ان کے خلاف لڑتے انمٹ نقوش چھوڑ کر اپنی جان بھی قربان کر دی۔

1776ء کو جھامرہ کے سر کا جھومر اور ساندل بار کی بہار ضلع فیصل آباد میں رائے نتھو خان کے گھر پیدا ہوئے۔بچپن سے ہی نیزہ بازی، تلواربازی، گھڑ سواری کے ماہر اور قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ سرپھرے بہادر باغی طبیعت اور عظیم سیاسی بصیرت کے مالک تھے۔
رائے صاحب کے آباء واجداد کی وفاداری مغل سلطنت کے ساتھ تھی ان کی علاقے میں عزت و احترام کی وجہ سے گوگیرہ کی جاگیر اورنگزیب عالمگیر نے ان کے آباء واجداد کو الاٹ کردی تھی۔راجہ رنجیت سنگھ اور رائے احمد خان کی پہلی ملاقات سیدوں والا میں ہوئی تھی جہاں راجہ رنجیت سنگھ رائے صاحب کی رعب دار شخصیت سے بہت متاثر ہوا پھر راجہ رنجیت سنگھ نے رائے صاحب کو پگڑی بدل بھائی بنا لیا۔
انگریزوں نے برصغیر پر حملہ کرنے کے بعد بہت مشکلات سے سب سے آخر میں پنجاب کو فتح کیا۔پنجاب کا امن وامان میں خون کی ہولی کھیلی گئی ایک سکاٹش آفیسر لارڈ جنرل برکلے اُس وقت ساہیوال کے علاقے کا کمانڈر تھا اور گوگیرا دارالخلافہ تھا۔

دہلی میرٹھ اور دوسرے علاقوں میں انگریز حکومت نے جنگِ آزادی کو ناکام بنادیا۔رائے صاحب جب بھی انگریزوں کے ظلم و ستم دیکھتے تو آگ بگولہ ہو جاتے لیکن بڑوں نے اُنہیں ہمیشہ یہی سبق دیا کہ ابھی صیحح وقت نہیں آیا جب وقت آیا تو ضرورت پلٹ وار کریں گے۔رائے احمد خان کھرل انگریزوں کے ارادے بھانپ لیے تھے۔اس بوڑھے شیر نے کمال سیاسی بصیرت کے ساتھ گردونواح کے سارے علاقے کے لوگوں اور سرداروں کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔اپنی اور دشمن کی طاقت کا تخمینہ لگا کر داؤ پیچ اختیار کرنے کا منصوبہ شروع کیا۔
کچھ اسلحہ باروکے دانے دنکے اکٹھے کیے۔اس دوران کم ہی عرصے کے اندر فرنگی سے آزادی حاصل کرنے کا جذبہ قرب وجوار میں ہر جگہ جاگ چکا تھا۔پھر 1857 کی جنگِ آزادی وہ وقت آن پہنچا جس کا ہر غیرت مند کو انتظار تھا۔
لارڈ برکلے نے رائے صاحب سے ملاقات کی اور بغاوتوں کو کچلنے کے لیے رائے صاحب کا ساتھ اور فوج میں بھرتی کے لیے لوگ اور اچھی نسل کے گھوڑوں کا تقاضا کیا۔اس کے بدلے لندن سے بڑا اہم سرکاری اعزاز لے کر دینا کا کہا۔رائے صاحب نے برکلے کی درخواست رد کرکے اسے صاف انکار کردیا اور برکلے کو کہا کہ

" ہم کبھی بھی کسی حال میں گھوڑے عورت اور زمین کسی کے حوالے نہیں کرتے"

اور اپنے گاؤں جھمرہ واپس آ گئے۔ایسٹ انڈیا کمپنی کو اس جواب کی توقع نہیں تھی انہوں نے بزوربازو اور بزورپیسہ بہت سے مقامی سرداروں کو خرید لیا تھا۔
برکلے اس رویہ سے بہت برہم ہوا اور اس کو اپنی بے عزتی اور توہین سمجھا اور ساہیوال کے مارٹن کو لکھا جس نے پھر ملتان کے میجر ہملٹن کو لکھا۔تھوڑے ہی دنوں میں ملتان سے لاہور تک احمد خان کے انکار کے چرچے، چھاؤنیوں اور کچہریوں تک زبان زد عام ہونے لگے۔احمد خان نے انگریزوں کی نیند حرام کی ہوئی تھی ۔
انگریزوں نے ’جاٹ بغاوت‘ کا نام دیا۔
اس ہی دوران برکلے نے نیلی بار کے لوگوں پر ظلم ستم شروع کردیا۔اس ظلم کے خلاف لوگ بول پڑے اور لگان و مالیہ دینے سے انکار کر دیا نتیجتاً بہت سے مقامی لوگوں کو گرفتار کرکے گوگیرہ جیل میں بند کر دیا گیا اور مال مویشی ضبط کرلیے۔معصوم اور بے گناہ لوگوں کی گرفتاری رائے صاحب کو کسی طرح قبول نہیں تھی۔وطن پرستوں کے مقدس دلوں کا یہ لاوا پھٹنے کے لیے تیار ہو گیا۔منٹگمری کو بغاوت کی بو آنی شروع ہو گئی اور اس نے برکلے کو ان کے خلاف کارروائی کا فری ہینڈ دے دیا مگر فرنگیوں کو یہ نہیں پتہ تھا کہ راوی کا یہ کھرل ان کے لیے ایک بڑی مشکل ثابت ہو گا۔ان نے انگریزی فوج کے گوگیرہ بیس کیمپ پر ایک تباہ کُن حملہ کر کے بہت سے انگریز فوجی مار ڈالے اور بہت سارا اسلحہ لوٹ لیا۔
اس حملے کے بعد رائے احمد انگریز حکومت کے لیے دہشت کی علامت بن گئے انہوں نے مقامی لوگوں کو یکجا کردیا اور کئی برادریوں کے لوگ بھی رائے احمد خان کھرل کو اپنا کمانڈر ماننے لگے۔کھیتی باڑی میں مصروف عام محنت کش یک دم اپنا پیشہ بدل کر گوریلا جنگ لڑنے احمد خان کے ہاتھ بیعت ہونے شروع ہو گئے۔ایسی گوریلا جنگ کہ انگریز کا ذہنی جسمانی سکون برباد ہوچکا تھا۔
83 سال کی عمر میں گھوڑے پر جنگ لڑنا کوئی معنی رکھتی ہے۔انگریز حکومت چٙین سے نہیں بیٹھی اور انگریز فوج نے رائے صاحب کے خاندان کو تنگ کرنا شروع کر دیا اور ان کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی۔جسکی وجہ سے احمد خان کھرل نے خود کو انگریز حکومت کے حوالے کردیا وہ کچھ دن تو حراست میں رہے لیکن ساہیوال کے سارے قبائل نے رائے احمد خان کھرل کے لیے اکٹھے ہو کر انگریز حکومت پر دباو بڑھانا شروع کردیا اور انگریزوں کو ایک بڑی بغاوت نظر آنے لگی پھر اُنہوں نے مجبوراً کھرل صاحب کو رہا کر دیا لیکن یہ پابندی عائد کر دی کہ کھرل صاحب قانونی طور پر گوگیرہ رینج کی حدود سے باہر نہیں جا سکتے۔
لیکن کھرل صاحب نے راوی پار کے تمام سرداروں اور چوہدریوں کو ساتھ ملا کر ایک بڑے اور خونریز حملے کا پروگرام بنایا جس میں وہ ساہیوال اور آس پاس کے علاقہ میں موجود انگریز فوج کے تمام چھوٹے بڑے بیس کیمپ اور چوکیوں پر قبضہ کر لینا چاہتے تھے۔جس کے لیے اُنہوں نے مختلف علاقوں کے کئ نمبردار چوہدریوں اور سرداروں کو اعتماد میں لیا اور سب کو اس پروگرام کو خفیہ رکھنے کی تلقین کی کہ اچانک حملے سے انگریز فوج کے پاٶں ایسے اُکھڑیں گے کہ وہ پنجاب سے باھر پھینک دیئے جائیں گے۔اس مہم جوئی کے لیے مسلم قبائل کے ساتھ ساتھ کئی سکھ قبائل اور دوسری برادریوں کے لوگوں نے کھرل صاحب کا بھر پور ساتھ دینے کا عزم کیا۔ لیکن! اس پروگرام میں شامل کمالیہ کے نمبردار سرفراز اور ایک سکھ سردار نیہان سنگھ بیدی دونوں غداری اور انگریزوں کے دئیے لالچ میں آکر سب راز انگریز فوج کو بتادیا۔

16 ستمبر کو رائے احمد خان کھرل نے حملے کا پروگرام بنایا تھا تب تک کمانڈر برکلے نے لاہور سے کمک منگوا لی اس آزادی لشکر کے خلاف دس فوجی دستے کرنل پیٹن، لفٹینٹ چیسٹر، کیپٹن چیمبرلین،کیپٹن سنو،کیپٹن میک اینڈ ریو،لیفٹینٹ نیوائل اور برکلے کی کمان میں بھیجے دیے اور گوگیرا سے تمام سرکاری ریکارڈ جیل سے قیدی کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دئیے۔ برکلے نے راوی کے کنارے بھاری توپوں بندوقوں کے ساتھ اپنی فوج کی ایک بڑی تعداد اکٹھی کرلی۔

دو چرواہوں چگوگا ؔاور میروؔ نے اپنے سردار دھاڑا سنگھ کو مطلع کردیا کہ باغی یہاں چھپے ہوئے ہیں۔انگریزوں کے وفادار دھاڑا سنگھ نے فوراً ڈپٹی کمشنر کو اطلاع دی۔21ستمبر کے دن انگریز نے مخبری کی بنیاد پر گشکوری کے جنگل میں ”نورے دی ڈال” پر حملہ کیا۔فرنگیوں نے اپنی ساری فوج کا رخ گشکوری کے قریبی جنگل کی طرف موڑدیا۔کیپٹن بلیک اور لیفٹیننٹ چی چیسٹر گھڑ سوار فوج لے کر آگے بڑھے۔لیکن اتنے میں کھرل صاحب مجاہدین کے ساتھ راوی پار کرکے انگریزوں کے سر پر آن پہنچے۔انگریز فوج نے مجاہدین پر بارود کی بارش کر دی۔جانبازوں کے پاس صرف تلواریں اور خنجر وغیرہ تھے اور وہ بارود کا مقابلہ زیادہ دیر نہ کر سکے اور پیچھے ہٹنے لگے برکلے نے پیچھے ہٹتے مجاہدین کا تعاقب کیا لیکن یہ تعاقب اُسکی بہت بڑی غلطی ثابت ہوئی اور مجاہدین کا پلٹ وار بہت خطرناک تھا وہاں بہت سے انگریز فوجیوں کی لاشیں چھوڑ کر برکلے کو بھاگنا پڑا اور مجاہدین دوبارہ روپوش ہو گے۔انگریز حکومت نے پوری فوجی طاقت جھونک دی۔ایک خونریز جنگ شروع ہو گئی یہ جنگ تین دن جاری رہی.برکلے کو لاہور سے کمک پہنچتی رہی اور دوسری طرف آس پاس کے علاقوں میں جیسے جیسے احمد خان کھرل کی بہادری کی خبر پہنچتی غیرت مند میدان میں پہنچتے جاتے۔تین دن کے گھمسان کے رن میں احمد خان اور اس کے ساتھی بہادری اور ایمان کے ساتھ لڑتے رہے۔یوں بہادروں نے انگریز کا یہ بڑا حملہ پسپا کردیا۔کہتے ہیں کہ انگریز دو میل پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا۔مگر انگریزی فوج کا ایک چھوٹا حصہ وہیں جنگل میں چھپ گیا۔آزادی پسندوں کی نگاہ میں انگریز بھاگ گیا تھا اور جب جنگ کے بادل اور گردچھٹ گئے تو مطمئن احمد خان عصر کی نماز کے لیے اٹھا۔

اور پھر ایک مقام ۔نورے دی تھل۔میں دوران نماز برکلے رائے احمد خان پر گولی مارو کا آرڈر دیا، دھاڑے سنگھ یا گلاب رائے بیدی کی گولی جیسے ہی کھرل سردار کو لگی سردار سجدے میں گر گیا۔رائے احمد خان کھرل اور سارنگ کھرل اپنے اکثر ساتھیوں کے ہمراہ اس معرکہ میں شہید ہوئے۔اپنی فتح کا جشن منانے کے لیے کمپنی نے باغی دیہاتوں کو آگ لگا دی۔رائے احمد خان کھرل کا سر تن سے جدا کرکے گوگیرہ جیل کے اوپر رکھ دیا تاکہ مقامی لوگ عبرت پکڑیں۔تین دن تک رائے صاحب کے سر کا چراغ جیل پر رکھے رکھا۔یہ وہ سر تھا جو انگریزوں کے سامنے تاحیات سرنگوں نہیں ہوا۔

کھرل صاحب کی شہادت کے بعد انگریزوں نے پنجاب میں تحریکِ آزادی کو کافی حد تک ناکام بنا دیا۔
احمد خان کھرل کی شہادت کے فوراً بعد مراد فتیانہ نے مجاہدین آزادی کی کمان سنبھال کر انگریز فوج کے خلاف راوی کے بیلہ میں زبردست گوریلہ جنگ لڑی۔
راۓ صاحب کو جھامرہ میں سپرد خاک کیا گیا ان کا خاندان آج بھی فیصل آباد میں آباد ہے۔
اور برکلے کو گوگیرہ کے مقامی قبرستان میں دفن کیا گیا نیچے دی گٸ تصاویر میں وہ قبر موجود ہے

رائے احمد خان کھرل اور ان کے جنگجو ساتھیوں کی دلیرانہ جہدوجہد ہمیشہ تاریخ کے سنہری اوراق میں ہمیشہ روشن رہے گی

جرنیلی سڑکٹرنک روڈ شیر شاہ سوری عظیم سپہ سالار 1486 میں پیدا ہونے والا فرید خان جسے تاریخ نے شیر شاہ سوری کی نام سے پہچا...
15/06/2026

جرنیلی سڑک
ٹرنک روڈ شیر شاہ سوری عظیم سپہ سالار 1486 میں پیدا ہونے والا فرید خان جسے تاریخ نے شیر شاہ سوری کی نام سے پہچان دی تاریخ کا ہر طالب علم اس بہادر انسان کو جانتا ہے ناصرف اس کی بہادری بلکہ اس کہ کاموں کو جو کارنامے تھے اور موجود بھی ہے اور کٸ تو وقت اور محکمانہ غفلت کی نظر ہو کر ختم ہو چکے
اس سپہ سالار نے تاریخ رقم کی ہے بہت سے تاریخی کام جن میں انسانی فلاح کہ انمٹ کارنامے ہیں اسلامی تعمیر مساجد ہوں اللہ والوں کہ مزارات ہوں پانی کی قلت دور کرنے کہ لیے سڑھیوں والے کنویں(باٶلیاں) ہوں کوس مینار ہوں قلعہ جات ہوں یا دیگر بہت سی تعمیرات یا آج کا زکر جرنیلی سڑک ہو اپنی چند سال کی حکمرانی میں جس کا عرصہ پانچ سال بنتا ہے اس انسان نے لاتعدار شاہکار تعمیر کرواۓ اور اپنی طرز حکمرانی کی چھاپ چھوڑی ہے
یہ عظیم جرنیلی سڑک جسے 1540 میں شروع کیا گیا اور بہت عرصہ میں اس کی تعمیر مکمل کر کے تین ملکوں پاکستان ہندوستان اور افغانستان کو آپس میں ایک سڑک سے ملا دیا اتنے کم عرصہ میں ناصرف اس 2500 کلو میٹر کی سڑک کو مکمل کیا بلکہ اس کہ ہر تین میل پہ ایک مینار تعمیر کیا جسے کوس مینار کہ نام سے جانا جاتا ہے(یاد رہے اس وقت راٸج پیماٸش کا پیمانہ کوس ہی ہوتا تھا یعنی آج کا تین کلومیٹر ایک کوس ہوتا تھا) ان کوس میناروں کی تعداد 1700 کہ لگ بھگ تھی یہ مینار نا صرف مسافروں کی درست سمت کو ظاہر کرتے تھے بلکہ یہاں آرام کیا جاتا جانوروں سے سامان اتار کر یہاں رکھ دیا جاتا جانوروں کو آرام دیا جاتا بلکہ یہاں فوجی بھی حفاظت پہ معمور ہوتے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر کوس مینار پہ ایک طبیب(ڈاکٹر) موجود ہوتا یعنی ہر طرح سے مسافر کی سہولت و صحت کا مکمل خیال رکھا جاتا تھا
اس سڑک کا مقصد تجارتی صنعتی فروغ بلکہ ڈاک و رسد اور بہتر سفری سہولیات کا فراہم کرنا تھا
اس سڑک کہ زریعے کسان یا صنعت کار کو اپنے سامان کو دیگر منڈیوں تک پہنچانے اور باحفاظت پہنچانے میں مکمل مدد ملتی
2500 کلومیٹر طویل یہ سڑک افغانستان کہ صوبے کابل سے شروع ہو گر پاکستان کہ لاہور اور ہندوستان کہ کلکتہ سے ہوتی ہوٸی چٹاکانگ بنگلہ دیش تک جاتی تھی
آخر میں اس راز کو سے پردوہ اٹھاتے ہیں جس کہ گیت ہمارے انگریزی سرکار کہ گن گانے والے گاتے ہیں انگریز نے ریلوے لاٸن اسی جرنیلی سڑک کہ ساتھ ساتھ بچھاٸی تھی اسی سڑک کو دیکھ کر ۔ گویا آج یہ جرنیلی سڑک یا ٹرنک روڈ اپنا وجود کھو چکا ہے لیکن تاریخ میں سنہری حروف کی طرح جگمگا رہا ہے اور اس عظیم سپہ سالار کو یاد کرتا ہے جس نے چند سال کی حکمرانی عوام الناس کی بہتری اور فلاح کہ لیے عوام کہ دلوں پہ کی۔
ہم اس عظیم جنگجو سپہ سالار کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں

اسلام علیکم آپ سب کو دلی عید مبارک ہو اللہ پاک آپ پہ اپنی رحمت ہمیشہ رکھے سلامتی و عزت والی زندگی دے
27/05/2026

اسلام علیکم آپ سب کو دلی عید مبارک ہو اللہ پاک آپ پہ اپنی رحمت ہمیشہ رکھے سلامتی و عزت والی زندگی دے

Address

مری روڈ ایبٹ آباد
Abbottabad
22010

Telephone

+923129963969

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pak Virsa پاک ورثہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pak Virsa پاک ورثہ:

Shortcuts

Share