27/07/2026
شاہ پور
ضلع سرگودھا دریاۓ جہلم کے قریب آباد شہر یہ شہر ایسے شہروں میں سے ہے جو کبھی ضلع ہوا کرتا تھا اور آج یہ اپنے ہی ایک قصبے کی تحصیل ہے جس کی ضلعی حیثیت ختم ہوگٸ ہے
کبھی اس کو جب 1849 میں ضلع کا درجہ ملا تو خوشاب۔سرگودھا سمیت بھیرہ ۔ساہیوال۔کوٹ مومن۔بھلوال۔نور پور تھل۔ مٹھہ ٹوانہ۔ اس ضلع کے حصہ تھے اس ضلع کا پہلا ڈپٹی کمشنر E.c bayley تھا
1853 میں خوشاب کو ضلع لیہ سے علیحدہ کر کے شاہ پور ضلع میں شامل کیا گیا 1857میں مٹھہ ٹوانہ کو بھی ضلع لیہ سے الگ کر کے شاہ پور ضلع سے جوڑا گیا
1862 میں نور پور تھل کو ضلع بنوں سے الگ کیا گیا اور اسے بھی ضلع شاہ پور میں شامل کر دیا گیا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا اور 1893 تک یہ مکمل ضلعی حیثیت قاٸ کر چکا تھا
انگریز نے یہاں بہت سے کام کیے جن میں ریلوے لاٸٸن تعلیم و صحت شامل ہیں اسی دوران یہاں سکھ گردوارے ہندو مندر بھی تعمیر کیے گۓ جن کے آثار آج بھی یہاں موجود ہیں
گزرتے وقت کے ساتھ اس بہت بڑے ضلع کی حیثیت قاٸم نا رہ سکی آخر قیام پاکستان سے پہلے 1940 میں اس ضلع کو ختم کر کے نٸ اور تیزی سے پھیلی آبادی سرگودھا میں شامل کر کے اس ضلع کو سرگودھا کا نام دے دیا گیا اور پھر یہ سلسلہ قیام پاکستان کے بعد 1960 میں انتظامی طور قاٸم ہونے والے ضلع سرگودھا کی ایک تحصیل کے درجہ پہ رکا اور آج ایک عظیم ضلع ایک تحصیل کے طور پہ جانا جاتا ہے کبھی اس کا حصہ رہنے والا آج کا بڑا شہر سرگودھا آج ڈویژن ہے اور نور پور تھل الگ سے شہر ہے اور خوشاب بھی ایک بہت بڑے ضلع کے طور پہ جانا جاتا ہے اسی طرح تاریخی شہر بھیرہ بھی الگ سے شہر ہے جیسے بھلوال اور کوٹ مومن شہر ہیں
اگر اب اس شہر کی آباد کی بات کی جاۓ تو 2017 کی مردم شماری میں اس شہر کی آبادی 3 لاکھ 50 سے اوپر تھی اس شہر کا مکمل رقبہ 769 کلومیٹر ہے
اپنی حیثیت کے عروج سے زوال تک کے سفر کو دیکھتا یہ شہر آج بھی قاٸم ہے یہاں کٸ ایک تعلیمی ادارے صحت و سہولت اور تاریخی اہمیت کی حامل عمارتیں کھڑی ہیں یہ تحصیل بھی سرگودھا کی دیگر تحصیلوں کی طرح کافی زرخیز ہے اور کٸ ایک فصلیں پیدا کرتی ہے
کیونکہ یہ شہر دریاۓ جہلم کے کنارے آباد ہے جو کے اس شہر کے مغرب کی طرف سے گزرتا ہے اس لیے یہاں اچھی فصلیں ہوتی ہیں اور زیادہ تر لوگوں کا پیشہ زراعت ہے