Pak Virsa پاک ورثہ

Pak Virsa  پاک ورثہ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Pak Virsa پاک ورثہ, Tourist Information Center, مری روڈ ایبٹ آباد, Abbottabad.
(4)

پاکستانی ثقافت۔پوشیدہ تاریخی جگہیں۔سیر گاہیں۔پرانے کھیل رسم و رواج۔علاقاٸی ثقافت۔شہروں گاٶں کا محل وقوع۔دریاٶں نہروں پہاڑوں چشموں آبشاروں کی معلومات۔وطن عزیز سے نکلنے والے قدرتی خزانے بہت سی تاریخ اور پاکستان میں سیاحت کہ فروغ کی کوشش۔

اسلام علیکم آپ سب کو دلی عید مبارک ہو اللہ پاک آپ پہ اپنی رحمت ہمیشہ رکھے سلامتی و عزت والی زندگی دے
27/05/2026

اسلام علیکم آپ سب کو دلی عید مبارک ہو اللہ پاک آپ پہ اپنی رحمت ہمیشہ رکھے سلامتی و عزت والی زندگی دے

19/05/2026

نواں شہر مندر
خوبصورتی میں اپنی مثال ایبٹ آباد کے دامن میں سمٹی دلکش و دلفریب وادی نواں شہر جو تعارف کی محتاج نہیں جہاں اس علاقے کی پہچان الیاسی مسجد اور اس کی گلی گلی میں بکھری تاریخی عمارتیں گھر دکانیں آج بھی عہد گزشتہ کی داستان سناتی دکھائی و سنائی دیتی ہیں آج کا زکر یہاں موجود 100 سال پرانا مندر بھی ہے جس میں ہندوستانی تحریک آزادی کے رہنما بھی قیام کر چکے ہیں کہا جاتا ہے یہاں جواہر لال نہرو۔مہاتما گاندھی یہاں قیام کر چکے ہیں پھر انڈیا کے پہلے بننے والے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد کو ان کے والد نے مندر سے کندھوں پہ اٹھا کر 108 سیڑھیاں اتار کر مندر کے نیچے موجود اشنان گھاٹ تک لے کر گے تھے اسی اشنان گھاٹ کو آج کل ہماری مقامی زبان میں ناڑے کہا جاتا ہے اور بچے بڑے یہاں گرمی کے دنوں میں خوب نہاتے ہیں۔ اس وقت یہاں دو گھاٹ الگ الگ تھے جو کہ ایک مسلمانوں کے لیے تھا اور ایک ہندو لوگوں کے لیے تھا۔ دو منزلہ یہ مندر جس کا نیچے والا حصہ پتھروں سے بنا ہوا ہے اور اوپر والی منزل دیودار کی خوبصورت مقامی لکڑی سے بنائی گئی ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مندر کاشی ناتھ کے مندروں کا سلسلے کا ہی ایک مندر ہے ۔ اب اپنی زبوں حالی کی داستان سناتا یہ مندر کسی بچھڑ جانے والے کی طرح منتظر کھڑا نظر آتا ہے ۔ نواں شہر بازار سے اگر مرکزی مسجد کے راستے نیچے ڈوڈھیال کی طرف جائیں یا نواں شہر بازار سے پانی والی ٹینکی کے پاس سے گزر کر نیچے جائیں تو سڑھیاں آپ کو مندر تک لے جاتی ہیں وہاں سے ہی آپ ناڑوں تک مزید نیچے کی طرف جاتے ہیں

مسجد کوٹ فتح خان 200 سال پرانی مسجدضلع اٹک کی تحصیل فتح جنگ کے ایک قصبے کوٹ فتح خان میں قدیم مسجد موجود ہے۔ یہ تاریخی نو...
14/05/2026

مسجد کوٹ فتح خان
200 سال پرانی مسجد
ضلع اٹک کی تحصیل فتح جنگ کے ایک قصبے کوٹ فتح خان میں قدیم مسجد موجود ہے۔ یہ تاریخی نوعیت کا ایسا نادر شاہکار ہے۔ اس مسجد کی تعمیر کی تاریخ 1860 ہے۔ لیکن کوٹ فتح خان کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ ’’یہ مسجد 1836ء کے قریب تعمیر کی گئی۔ کیونکہ ہم نے بچپن میں اس پر کندہ سن تعمیر دیکھا تھا جو اب مٹ گیا ہے‘‘۔ بہرحال یہ مسجد مغل طرز تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہے۔ جو کوٹ فتح خان گاٶں شروع ہوتے ہی دکھائی دیتی ہے۔ سفید رنگ کی یہ خوبصورت مسجد چھ میناروں اور تین گنبدوں پر مشتمل ہے۔ اس کے چار مینار سامنے اور دو مینار عقبی سمت میں تعمیر کیے گئے ہیں۔ جبکہ اس کے صحن میں سفید سنگ مرمر لگایا گیا ہے۔ راولپنڈی سے فتح جنگ کوہاٹ روڈ پر قصبہ جعفر کے بعد کوٹ فتح خان کو بائیں جانب ایک لنک روڈ نکلتا ہے۔ اگرچہ روڈ ایک طرفہ اور تنگ ہے۔ لیکن کارپٹ روڈ ہے۔ کوٹ فتح خان پہنچ کر قدیم جامع مسجد کو تلاش کرنا کچھ مشکل امر نہیں ہے۔ جیسے ہی گاٶں میں داخل ہوں اس کے سفید اور خوبصورت مینار دور سے دکھائی دے جاتے ہیں۔ مین روڈ جو کہ ملک عطا محمدخان کے محل کی جانب جاتی ہے۔ اسی پر دائیں جانب ملک عطا محمدخان کے دیگر رشتہ داروں کے گھر ہیں اور انہیں گھروں کے ساتھ یہ مسجد واقع ہے۔ یہ قدیم گھر سردار فتح خان کے دور میں تعمیر کیے گئے۔ جو آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔ اگرچہ ان کے مکین (چوہدی شیر علی خان) اب یہاں ش*ذ و نادر ہی آتے ہیں۔اس لیے ان کی دیکھ ریکھ نہیں ہو رہی۔ لیکن ملازمین خاصی تعداد میں اس گھر میں موجود ہیں۔
مسجد کا بیرونی دروازہ دو سو برس سے اپنی اصل حالت میں موجود ہے جو پانچ سال میں تعمیر ہوا ۔معمار نے فرمائش کی تھی کہ مجھے ایسی لکڑی چاہیے جس کی چوڑائی اور لمبائی برابر ہو۔ میں خود ہی اس میں سے اینگل نکالوں گا۔ چنانچہ اس نے اس دروازے پر پانچ برس صرف کیے۔
بزرگ سردار فتح خان نے یہ تاریخی جامع مسجد تعمیر کرائی، جو آج بھی اسی خاندان کے زیر نگرانی ہے۔ مسجد کی خاص بات یہ ہے کہ یہ عام گھروں سے نسبتاً خاصی اونچائی پر تعمیر کی گئی ہے۔ بلکہ اس کے ساتھ اس وقت سردار فتح خان کے گھر اور عدالت کا احاطہ موجود ہے۔ اس سے بھی یہ اونچی ہے۔ دروازے سےچودہ سیڑھیاں چڑھنے کے بعد مسجد کا صحن آتا ہے
مسجد کے صحن سے بائیں جانب دیکھا جائے تو سردار فتح خان کا قدیم گھر موجود ہے۔ جو محل نما ہے۔ اسی محل کا مسجد سے متصل ایک بڑا احاطہ ہے۔ جو اپنے وقت میں سردار فتح خان کی عدالت کہلاتی تھی۔ یعنی مسجد کے زیر سایہ عدالت لگائی جاتی تھی۔ ا س بات سے ریاست کوٹ فتح خان کے بانی کی مذہبی عقیدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ’’آج بھی کوٹ فتح خان کے رئیس نماز روزے کے اس قدر پابند ہیں کہ شاید ہی علاقے بھر میں کوئی دوسرا مسلمان اس قدر پابندی کرتا ہوگا‘‘۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ قدیم مسجد اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے۔
کوٹ فتح خان میں مسجد کی تعمیر کے لیے کاریگر اٹک سے منگوائے گئے تھے اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ترکی سے بھی آئے تھے۔ اس وقت اٹک مقامی ثقافت اور تہذیب کا ایک مرکز تھا۔ اٹک کے معمار اس وقت شاندار طرز تعمیر کے لیے مشہور تھے۔ ان کا کام ان کے جدید طرز تعمیر میں اب بھی دکھائی دیتا ہے۔

کمادی ککڑکمادی کوا، سرخاب کوا، کمادی ککڑ(Greater Coucal/Crow pheasent)۔پاکستان میں خاص طور پر پنجاب میں پایا جاتا ہے۔بھا...
07/05/2026

کمادی ککڑ
کمادی کوا، سرخاب کوا، کمادی ککڑ
(Greater Coucal/Crow pheasent)

۔پاکستان میں خاص طور پر پنجاب میں پایا جاتا ہے۔بھارت،بنگلہ دیش،برما،انڈونیشیا اور ملائشیا میں بھی پایاجاتا ہے
آنکھیں گہری لال،کمر بھوری سے نارنجی،گردن اور پیٹ نیلا مائل سیاہ ہوتا ہے
اس کی عمر کا بھی یہ ہی اندازہ ہے یہ لمبی عمر جیتا ہے
یہ پرندہ اڑنے میں سستی سے کام لیتا ہے ۔اکثر نیچی اڑان بھرتا ہوا یا کسی درخت یا جھاڑی پر بیٹھا نظر آتا ہے یا زمین پر دوڑتا رہتا ہے ۔۔۔۔۔پانی کے تالابوں کے گرد عام پایا جاتا ہے
اس کی خوراک میں بیج پھل کیڑے ،سنڈیاں دوسرے پرندوں کے بچے اور انڈے وغیرہ شامل ہیں
عمومی طور پہ یہ کسان دوست پرندہ ہے جو کھیتوں سے چوہے سانپ بچھو اور فصلوں کے نقصان دے کیڑے کھاتا ہے لیکن اسے کھیتوں سے بیج کھاتے بھی دیکھا جاتا ہے اور وہی کوؤں والی عادت دوسرے پرندوں کے بچے بھی کھاتا ہے اور اپنے بچوں کو بھی انہی پرندوں کے بچوں کا شکار بھی کھلاتا ہے
یہ 5 انڈے دیتے ہیں جن سے 15 دن میں بچے نکلتے ہیں
یہ پرندہ شکار کو اپنے پنجے سے دبوچ کر کھاتا ہںے اور اس کی اس عادت کا اکثریت کو علم نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اس کے نام میں کوّا ( CROW ) استعمال ہںوتا ہںے جو ظاہر کرتا ہںے کہ یہ کوّے کی قسم ہے۔۔۔اسکی چونچ، سر کی بناوٹ اور پنجے بھی کوّے سے ملتے ہیں
نوٹ اس کا تعلق کوے کے خاندان سے ہے اور اسی لیے بہت سے لوگوں کے نزدیک اسے کھانا حلال نہیں ہے دوسری بات اس کی عادت کوے کی طرح پنجے میں پکڑ کے کھانے کی ہے جبکہ حلال پرندے ایسا نہیں کرتے اور اگر دیکھا جائے تو اس کا سر چونچ اور پاؤں بلکل کوے جیسے ہی ہوتے ہیں۔
جبکہ اس کی آواز کک کک کک ہوتی ہے اور دھیمی ہوتی ہے اس لیے لوگ اسے کمادی ککڑ یا جنگلی ککڑ کہتے ہیں اور اس کا شکار دلچسپی سے کرتے ہیں اور اسے کھایا جاتا ہے شاید یہ درست عمل نہیں ہے۔
دوسری جانب یہ کسان دوست ہے تو بھی ایسے پرندے کا شکار اچھی بات نہیں ہے اور پھر یہ بلکل ناپید ہوتا جارہا ہے بہت سے دوست تو شاید اس کے بارے پہلی مرتبہ جان رہے ہوں

تربوز   تربوز کی افادیت اور غزاٸیت دیگر رنگین پھلوں کی طرح لاجواب ہے تربوز۔چکندر۔سٹرابری۔شہتوت۔ گلابی امردو۔چیری۔اور دیگ...
02/05/2026

تربوز
تربوز کی افادیت اور غزاٸیت دیگر رنگین پھلوں کی طرح لاجواب ہے
تربوز۔چکندر۔سٹرابری۔شہتوت۔ گلابی امردو۔چیری۔اور دیگر سرخ یا گلابی رنگ کے پھلوں میں پایا جانے والا لاٸیکوپین جو کہ ان کہ رنگوں کو برقرار رکھتا ہے اور ہماری جلد کہ اور دیگر کہ لیے بہت فاٸدے مند ہے
گرمیوں کا موسم اپنے عروج پر ہے اور اس موسم میں تربوز ایک ایسا پھل ہے جو ہر طرح سے بہترین ہے۔بہت سے لوگوں کو یہ پھل بہت پسند بھی ہے ،بہترین صحت بقرار رکھنے میں بہترین مددگار پھل ہے اس مزیدار پھل کے کچھ فوائد دیکھیں

تربوز صحت کے لیے انتہائی مفید ہوتا ہے، اس میں 95 فیصد پانی کے ساتھ وٹامنز اور معدنی اجزاء بھی پائے جاتے ہیں اس سے ٹھنڈک ملتی ہے اور یہ جسم میں ہونے والی جلن سے بھی راحت دیتا ہے۔اس میں اعلی سطح کا ایسڈ فولک بیٹکاروٹن ، پوٹاشیم، وٹامن سی اور اے موجود ہوتے ہیں جو صحت برقرار رکھتے ہیں۔اس میں موجود پوٹاشیم جسم سے سوڈیم کو نکالنے کا کام کرتا ہے جس سے ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔اس سے وزن بھی کم ہوتا ہے کیونکہ اس میں شوگر اور کیلوری کی مقدار زیادہ نہیں ہوتی ہے یہ دل کی بیماری اور کینسر سے بھی بچاتا ہے۔اس میں وٹامن اے ہوتا ہے جو جلد کو صحت مند بنانے میں مدد کرتا ہے، اس سے جلد کا روکھاپن ختم ہو جاتا ہے۔آنکھوں کی بیماریوں۔گھبراہٹ۔قبض۔معدہ کی بیماریوں شوگر کہ لیے بہت اہم ہے
تربوز میں کچھ ایسے مادے ہوتے ہیں جو جسم کو کینسر سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یہ اینٹی آکسیڈینٹ ہے اور اس میں فلیوونائڈز ہوتے ہیں جو جسم کو کینسر جیسے چھاتی، بڑی آنت اور دیگر بہت سے مسائل سے بچانے میں مدد کرتے ہیں۔اس میں موجود وٹامنز جسم میں انفیکشن کا علاج کرتے ہیں۔ یہ جوڑوں کی سوزش کے علاج میں بھی مدد کرتا ہے۔اس میں پوٹاشیم اور مینگنیشیم جیسے اہم عنصر بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے پر کام کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تربوز میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس سکلیروسیس کے خلاف خون کی شریانوں کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔تربوز جسم سے نمک کے جمع ہونے کو ختم کرتا ہے اور خون میں یورک ایسڈ کی مقدار کو بھی کم کرتا ہے جس سے پوٹاشیم کی موجودگی کی وجہ سے گردے میں پتھری ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔تربوز کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ یہ دل کے مسائل کو ٹھیک کرتا ہے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے، تربوز میں وافر مقدار میں پوٹاشیم ہوتا ہے جو دل کی بیماریوں کے علاج کے لیے ضروری ہے۔ یہ آپ کے دل کو صحت مند رکھتا ہے۔تربوز الٹرا وائلنٹ شعاعوں، یووی کے زیادہ اثر کو کم کرتا ہے، تربوز میں لائکوپین نامی روغن کی موجودگی جسم کو الٹرا وائلنٹ شعاعوں سے بچاتی ہے۔سب سے اہم یہ دماغ کو تازگی دیتا ہے۔ تربوز دماغی طاقت کو بڑھاتا ہے کیونکہ اس میں وٹامن بی 6 اور پانی کی اچھی مقدار ہوتی ہے جو دماغ کے لیے سب سے اہم ہے یہ آپ کا جسم، جلد، بال اور آپ کے جسم کے کچھ حصوں کو جوان اور تر و تازہ رکھتا ہے
ضروری احتیاط ہم چھلکے والے پھل کو دھونا پسند نہیں فرماتے اگر دھوتے ہیں تو بس براۓ نام تو جناب اچھی طرح دھوٸیں کھیت سے لیکر آپ تک بہت ست مراحل سے گزرتا ہے بہت سے جراثیم موجود ہوتے ہیں دوسری بات وہ ٹک لگوا کہ چیک کرنے والی نا ہی کریں تو بہتر ہے کیونکہ دکاندار ایک ہی بڑی سی چھری سے دن میں کٸ بار ٹک لگا لگا کہ دے چکا ہوتا ہے اس چھری پہ احتیاط نہیں کی ہوتی صفاٸی ستھراٸی کی جو خطرناک ہوسکتی ہے باقی احتیاط اور ضروری گزارشات پہلے کومنٹ میں دیکھ لیں
تربوز کھاٸیے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں کیونکہ وہ خالق کاٸنات بڑا ہی حکمت والا ہے۔

01/05/2026

انتہائی خوبصورت مسجد۔ مسجد زیتون قاضی آباد اوگی روڈ بھیرکنڈ ضلع مانسہرہ

چھٹاکی وٹہ یعنی چھٹانک کا پتھر اٹک شہر سے پنڈی گھیپ یا راولپنڈی روڈ پہ کوٸی 42 کلومیٹر سفر پہ واقع یہ پتھر جو مین روڈ پہ...
26/04/2026

چھٹاکی وٹہ
یعنی چھٹانک کا پتھر اٹک شہر سے پنڈی گھیپ یا راولپنڈی روڈ پہ کوٸی 42 کلومیٹر سفر پہ واقع یہ پتھر جو مین روڈ پہ تھٹہ موڑ سے مڑ کر ناڑہ گاٶں کی طرف جاتے ہوۓ مڑیالہ نامی گاٶں سے زرا پہلے روڈ کی ایک جانب یہ بڑا سا پتھر پڑا ہے جس کا نام چھٹاکی پتھر ہے اس علاقے کا نام بھی اسی پتھر کی وجہ سے ہی مشہور ہے
بظاہر تو یہ چھٹاکی یعنی پچاس گرام کا نہیں ہے ٹنوں کے حساب سے وزنی ہے
لیکن اس کے بارے وجہ تسمیہ جان کے حیرانی ہوتی ہے عقل ماننے کے لیے تیار نہیں لیکن مشہور یہ ہی بات ہے جو اہل علاقہ سناتے ہیں
چھٹاکی پتھر کے بارے مشہور ہے کہ اسے محظ ایک جوان نے راستے سے ہٹایا تھا اور ہٹانے کے بعد بولا تھا یہ چھٹاکی کا پتھر ہے یعنی بہت معملوی پتھر
ہوا کچھ یوں مقامی لوگوں کے مطابق برسوں پہلے یہ پتھر قریبی پہاڑی سے سرکتا ہوا یہاں اس روڈ میں آگیا جس سے اہل علاقہ کی گزر گاہ بند ہو گٸ
اہل علاقہ کہ بہت سے جوانوں بوڑھوں کی تعدبیر کہ باوجود بھی یہ پتھر راستے سے ہٹایا نا جاسکا
آخر فیصلہ یہ کیا گیا یا راستہ بند ہونے کی بات جب پھیلی تو یہاں قریب ہی ایک رستم زمان قسم کا نوجوان رہتا تھا جو پتھر کے قریب آیا اور سب کو پیچھے ہٹا کہ بولا اسے میں اکیلا ہی ہٹا دوں گا میرے سامنے یہ پتھر چھٹانک کا بھی نہیں تو اس نے ایسا ہی کیا اور اکیلے ہی یہ پتھر رستے سے ہٹا دیا
جب سے اب تک یہ پتھر اسی جوان کے کہے گۓ محاورے کہ میرے نزدیک یہ پتھر چھٹاکی کا بھی نہیں اسی نام سے ناصرف یہ پتھر بلکہ اس کے قریب تعمیر مسجد اور اس گاٶں کا نام بھی چھٹاکی وٹہ ہی مشہور ہے
کہانی اس کہ پیچھے صرف کہانی ہو یا حقیقت ہے بڑی دلچسپ
مقامی لوگوں کہ مطابق یہ کہانی نہیں حقیقت ہے

24/04/2026

مایوس نا ہوں زرا سوچیں اگر اللہ نے ہماری دعا قبول نہ کرنی ہوتی تو وہ ہمارے دل کو دعا پر ہی کیوں روک دیتا۔؟ اگر قبول نہ ہونی ہوتی تو وہ ہمارا دل بھی تو بدل سکتا تھا یا ہمیں دعا مانگنے سے روک سکتا ہے۔ لیکن جب دل بار بار دعا کے لیے تڑپے، تو یہ اللہ کی حکمت اور رحمت کی نشانی ہے۔ یقین رکھیں، وہ دعا کو سن رہا ہے اور بہترین وقت پر قبول کرے گا۔

23/04/2026

مانگنے کا حق اُسنے ہمیں دیا ہے، جب اُس نے سورہ العمران میں فرما دیا ہے کے دُعا پہاڑوں کو بھی اُنکی جگہ سے سرکا سکتی ہے تو قبولت کا شک تو بنتا ہی نہیں، اللہ نے مقدر لکھنے کا اختیار ہمیں دیا ہے کے چاہو تو دُعا کا تسلسل بڑھا لو اور چاہو تو مایوس بیٹھ جاؤ، چاہو تو سجدوں کو طویل کر لو اور چاہو تو تھک کر رُک جاؤ، مت بھولیں کے ہمارا کام صرف التجا کرنا ہے، تدبیریں تو وہ خود نکالتا ہے۔

Address

مری روڈ ایبٹ آباد
Abbottabad
22010

Telephone

+923129963969

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pak Virsa پاک ورثہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pak Virsa پاک ورثہ:

Share