See Pakistan

See Pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from See Pakistan, Tour guide, Bahawalpur.

آخری گاؤںگنز بلوچستان اور پاکستان کا بالکل آخری گاؤں ہے۔ یہاں آکر ہر بندہ خود کو خوش قسمت محسوس کرتا ہے کہ وہ اتنے خوبصو...
31/01/2025

آخری گاؤں
گنز بلوچستان اور پاکستان کا بالکل
آخری گاؤں ہے۔ یہاں آکر ہر بندہ خود
کو خوش قسمت محسوس کرتا ہے کہ وہ اتنے خوبصورت ساحلی مقام پر موجود ہے۔ یہ مقام اپنی مچھلی کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے اور اہم لینڈ مارک بھی ہے۔
اس مقام کو سب سے پہلے پرتگالیوں نے ڈسکور کیا۔ یہ مقام اپنی ڈالفنز کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔ گنز جیوانی کے قریب ایک چھوٹا سا گاوں ہے۔
یہ بنیادی طور پر مچھیروں کی بستی ہے۔ یہ قصبہ پاکستان کی آخری ساحلی پٹی جیوانی سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہاں کے پہاڑ بھی حیران کن ہیں اور بلوچستان کے دیگر ساحلی علاقوں کی نسبت اس کا ساحل خوبصورت ترین ہے۔ یہاں کا پانی بالکل نیلا ہے اور یہ علاقہ ابھی تک سیاحوں کی بڑی تعداد سے اوجھل ہے۔

کراچی سے زیرو پوائنٹ ریلوے اسٹیشن تک تھر ڈیزرٹ ٹرین فروری کے پہلے ہفتہ سے چلائی جائے گی ۔ اس میں دو بزنس کوچز ہوں گی یہ ...
20/01/2025

کراچی سے زیرو پوائنٹ ریلوے اسٹیشن تک تھر ڈیزرٹ ٹرین فروری کے پہلے ہفتہ سے چلائی جائے گی ۔ اس میں دو بزنس کوچز ہوں گی یہ ٹرین ہر ہفتہ کی صبح کراچی کینٹ سے روانہ ہوگی اور اتوار کی رات زیرو پوائنٹ سے کراچی کے لیے واپسی ہو جائے گی ۔ سندھ ثقافت ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے یہ ایک اچھا اقدام ہے ۔
اسٹاپ : کراچی ، حیدرآباد ، میرپور خاص ، چھور ، زیرو پوائنٹ ۔

قلعہ موج گڑھ صحرائے چولستان میں فورٹ عباس اور یزمان کے درمیان واقع ہے۔ یہ قلعہ بہاول پور سے 120 کلومیٹر یزمان 70کلومیٹر ...
17/01/2025

قلعہ موج گڑھ صحرائے چولستان میں فورٹ عباس اور یزمان کے درمیان واقع ہے۔ یہ قلعہ بہاول پور سے 120 کلومیٹر یزمان 70کلومیٹر فورٹ عباس90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مٹی اور اینٹوں سے بنا ہوا یہ قلعہ معروف خان کہرانی نے 1743ء میں تعمیر کروایا تھا۔ یہ قلعہ انڈیا، پاکستان کے سرحد کے بالکل قریب ہے۔ قلعہ موج گڑھ بہاول پور کے عباسی دور میں بنائے گئے قلعوں میں سے ایک قلعہ ہے۔ یہ قلعہ بھی اپنی تباہی کی آخری منزلوں پر ہے اور حکومتی اداروں کی توجہ کا طلب گار ہے۔ یہ قلعہ پکی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا تھا، اس کی فصیل بہت بلند ہے۔ قلعہ کی خوب صورت مسجد اور معروف خان کا مقبرہ دیکھنے کے قابل ہے۔ قلعہ کے مشرق میں تالاب سوکھا پڑا ہے۔ یہ قلعہ قلعہ مروٹ سے سے 33 کلومیٹر، قلعہ جام گڑھ سے 43 کلومیٹر‘ قلعہ میر گڑھ سے 50 کلومیٹر اور قلعہ دراوڑ سے 83 کلومیٹر دور واقع ہے

Beautiful Pakistan
29/12/2024

Beautiful Pakistan

Faisal Masjid Islamabad
29/12/2024

Faisal Masjid Islamabad


اگر آپ سکردو کی خوبصورتی اور ثقافت کو حقیقی معنوں میں دیکھنا چاہتے ہیں، تو یہ مضمون آپ کے لیے ہے۔سکردو گلگت بلتستان کے ا...
04/11/2024

اگر آپ سکردو کی خوبصورتی اور ثقافت کو حقیقی معنوں میں دیکھنا چاہتے ہیں، تو یہ مضمون آپ کے لیے ہے۔
سکردو گلگت بلتستان کے ایک بڑے اور مشہور شہر کا نام ہے، جو سیاحتی مقامات اور قدرتی مناظر سے بھرا ہوا ہے۔ سیاحت کے لحاظ سے گلگت بلتستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

سکردو ٹور
ہنزہ ٹور
سکردو ٹور جگلوٹ سے شروع ہو کر مختلف جغرافیائی، تاریخی اور ثقافتی مقامات سے گزرتا ہوا دیوسائی، کے ٹو، سیاچن، اور منی مرگ جیسی خوبصورت وادیوں پر ختم ہوتا ہے۔ جبکہ ہنزہ ٹور جگلوٹ سے شروع ہو کر خنجراب ٹاپ پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

سکردو بذریعہ جہاز یا بذریعہ سڑک قابل رسائی ہے۔ اگر آپ فضائی راستے سے آتے ہیں تو سکردو شہر سے تمام سیاحتی مقامات کے لیے سفری سہولیات موجود ہیں، اور اگر سڑک کے ذریعے سفر کریں تو آپ جگلوٹ سے سکردو شاہراہ بلتستان کے ذریعے سفر کر سکتے ہیں۔

سکردو کے سیاحتی مقامات:
1. ضلع سکردو
یہ ضلع روندو وادی سے شروع ہوتا ہے اور سرمک پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ سکردو شہر میں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ پر امن زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں کے اہم مقامات میں شامل ہیں:

دیوسائی نیشنل پارک
کھرفوچو قلعہ
شنگریلا ریزورٹ
کچورا جھیل
سدپارہ ڈیم
2. ضلع گانچھے (وادی خپلو)
ضلع گانچھے، جو کریس سے شروع ہو کر سیاچن گلیشئر پر ختم ہوتا ہے، بلند ترین پہاڑوں اور گلیشیئرز کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں کے اہم مقامات میں شامل ہیں:

خپلو فورٹ
چقچن مسجد
ہلدی کونز ویو پوائنٹ
سیاچن گلیشئر
3. ضلع شگر
شگر، جو سکردو سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، بلند پہاڑوں اور تاریخی مقامات کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں کے اہم مقامات میں شامل ہیں:

شگر فوڑٹ
blind lake
سرفہ رنگا ریگستان
K2 پہاڑ
4. ضلع کھرمنگ
یہ ضلع اپنی آبشاروں اور شفاف پانی کے ذخائر کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کے مقامات میں شامل ہیں:

منٹھوکھا واٹر فال
وادی شیلا
غندوس لیک
5. ضلع استور
یہ ضلع دیامر ڈویژن میں واقع ہے مگر اس تک سکردو کے ذریعے رسائی ممکن ہے۔ استور کے مشہور مقامات میں شامل ہیں

روپال فیس ننگا پربت
راما میڈوز
منی مرگ
یہ مقامات سکردو کے انمول خزانے ہیں اور ان تک رسائی ممکن بنانا ایک زندگی بھر کا تجربہ بن سکتا ہے

چلے آو پہاڑوں کی قسم
31/10/2024

چلے آو پہاڑوں کی قسم

Nathia Gali Muree
27/10/2024

Nathia Gali Muree






کینجھر جھیل، جسے کلری جھیل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پاکستان کی سب سے بڑی مصنوعی جھیل ہے، جو صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ می...
27/10/2024

کینجھر جھیل، جسے کلری جھیل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پاکستان کی سب سے بڑی مصنوعی جھیل ہے، جو صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں واقع ہے۔ یہ عظیم آبی ذخیرہ کراچی سے تقریباً 120 کلومیٹر دور ہے، جس کی لمبائی تقریباً 24 کلومیٹر اور گہرائی 8 میٹر ہے۔

کینجھر جھیل ایک اہم پانی کا ذریعہ ہے جو کراچی اور ٹھٹھہ کے شہروں کو پینے کا پانی فراہم کرتی ہے اور قریبی زرعی زمینوں کو سیراب کرنے میں بھی مددگار ہے۔ اس جھیل کو مون سون کی بارشوں اور دریائے سندھ کے پانی سے بھرپور کیا جاتا ہے۔

عملی فوائد کے علاوہ، کینجھر جھیل جنگلی حیات کے لیے بھی ایک اہم مسکن ہے۔ سردیوں میں یہاں مختلف مہاجر پرندے آتے ہیں، جبکہ اس میں کئی اقسام کی مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں، جو مقامی ماہی گیری کی صنعت کا حصہ ہیں اور بہت سے لوگوں کی روزی کا ذریعہ ہیں۔ یہ جھیل نہ صرف علاقے کی پانی کی ضروریات پوری کرتی ہے بلکہ اس کی حیاتیاتی اہمیت بھی ہے جو جنگلی حیات اور مقامی آبادی کے لیے نہایت قیمتی ہے۔





Do you want to plan adventure tour?Link in 1st comment
26/10/2024

Do you want to plan adventure tour?
Link in 1st comment





Adventure Tourism in paksitan
26/10/2024

Adventure Tourism in paksitan





25/10/2024

Neelum Valley Azad Kasmir





Address

Bahawalpur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when See Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category