14/05/2021
,
گڈانی ساحل سے نکلے تو سورج مغرب کے کنویں میں اتر رہا تھا,حب چوکی کے بعد بلوچستان کے دوسرے چھوٹے سے شہر وِندر پہنچے تو مغرب کی اذان ہو گئی , کراچی کے ایک فیسبک دوست جناب عبدالوحید طارق ( Abdul-Waheed Tariq )صاحب سے رات کے قیام کا مشورہ کرنے کی نیت سے رابطہ کیا اور ان کی محبت سے لبریز آواز میں پر خلوص مشورے سنے جو بہت کام آئے, وندر کے بعد زیرو پوائنٹ سے سڑک دو لخت ہو رہی ہے ایک سیدھی اوتھل سے ہوتی ہوئی کوئیٹہ جاتی ہے اور بائیں ہاتھ پر گوادر کا راستہ ہے, مسافروں نے رات اوتھل میں قیام کا فیصلہ کیا ہوا ہے لہذا زیرو پوائنٹ سے 15 کلومیٹر سیدھا جا کر اوتھل شہر میں رکے "ژوب مسافر خانہ" میں کمرہ لیا اور پٹھان میزبان کو کرایہ دینے کے بعد ایک دوسرے ہوٹل میں کھانا کھایا, کھانے کے بعد اوتھل شہر کا ایک چکر لگایا اور مسافر خانے کے سامنے گاڑی پارک کر کے سامان نکال کر کمرے میں پہنچے, رات اچھی گزری, صبح طلوعِ آفتاب سے پہلے تیاری کی اور ناشتہ کیے بغیر سوئے منزل روانہ ہوئے, زیرو پوائنٹ سے گوادر سڑک پر سفر جاری ہے , سڑک ویران ہے کبھی کبھی کوئ بس یا ٹرک راستے میں نظر آ جاتا ہے کچھ کاریں بھی دکھائ دے جاتیں ہیں مگر زیادہ تر سفر اکیلے ہی طئے ہو رہا, زیرو پوائنٹ سے 139 کلومیٹر بعد کُنڈ ملیر ساحلِ سمندر ہے, عبدالوحید طارق صاحب کے مشورے پر عمل نا کر سکنے کی وجہ سے گاڑی کا پیٹرول ختم ہو رہا ہے اور اب انہی کی معلومات کے مطابق زیرو پوائنٹ سے گوادر تک کے 530 کلومیٹر میں ہمیں کھلے ایرانی پیٹرول پر گزارہ کرنا ہے, کُنڈ ملیر کا ساحل گڈانی سے زیادہ خوبصورت ہے یہیں سڑک کے دائیں ہاتھ ایک ہوٹل پر ناشتہ کیا اور پیٹرول کی معلومات لے کر آگے چلے تو چند منٹ بعد نیلگوں سمندر کو خشک پہاڑوں سے بغل گیر دیکھا, کُنڈ ملیر کا ساحل , گڈانی ساحلِ سمندر کی طرح صاف شفاف مگر سمندری لہریں نسبتاً جوشیلی ہیں اور ان کا شور بھی زیادہ ہے, ہوا کی رفتار یہاں کچھ زیادہ تھی اور سڑک سے ساحل تک تقریباً 300 قدم کا فاصلہ سمندری ریت سے بھرا ہوا ہے, یہ تین سو قدم کا فاصلہ صبح کی ورزش کا میدان ثابت ہوا اور واپسی پر چند لمحے رک کر دیکھنے کے بعد قدرے مختصر اور بہتر راہ لے کر گاڑی تک پہنچے,
سمندر کا منظر کوسٹل ہائی وے پر 4 چار بار نظروں کے سامنے آتا ہے اور ہر بار مسافر رکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں, ہر منظر پہلے سے جدا اور شاید ذیادہ خوبصورت, کبھی پہاڑی کی چوٹیوں سے سر نگوں تو کبھی وادیوں سے بالکل سامنے ,
سڑک نے ایک بڑے پہاڑی موڑ کی چڑھائ سے کروٹ لی اور مسلسل مگر آہستہ آہستہ بائیں طرف کی پہاڑیوں میں جانے لگی, چڑھائیاں ایسی کی گاڑی کا انجن بے بس ہوتا محسوس ہونے لگے اور اترائیاں ایسی کے سامنے کی بَل کھاتی ہوئی دور تک نظر آنے والی سڑک دیکھ کر ہمیشہ کے لیے یہیں رک جانے کو دل مچلنے لگے
پیچ و تاب کھاتی سڑک مسافر کی یاد داشت کو آواز دے رہی ہے اور خیال کا اڑن کھٹولا ننگر پارکر سے کشمیر اور پتریاٹہ و مری سے خنجراب و سکردو کی سڑکوں پر محوِ پرواز ہے
پہاڑیوں کی ہئیت الف لیلوی داستانوں کے برباد محلات کی واضح تصاویر پیش کر رہی ہے, برآمدے, چھولداریاں, دالان, کمرے, بلند قامت ستون, اور انسانی و حیوانی شبیہیں, کیا کچھ ہو سکتا ہے جس کو تصور میں لائیں اور سامنے نا دیکھ سکیں ,
اچانک ایک قدرے کھلی وادی میں کچھ کاریں کھڑی ہوئ نظر آتی ہیں اندازوں اور اندیشوں میں گھرے مسافر قریب پہنچتے ہی تو پرنسز آف ہوپ کا بورڈ امید کی دیوی کی طرف تیر کے نشان سے اشارہ کرتا نظر آتا ہے, سواری سڑک کنارے لگی اور مسافر محبت سے سرشار امید کی دیوی پر نگاہِ محبت جمائے ورطۂ حیرت میں مبتلا ہے ,
آج ہی کے دن غروبِ آفتاب کا منظر گوادر کے ساحل سے دیکھنے کی امید لیے مسافر جلد بازی کا شکار ہے, امید کی دیوی کو واپسی پر شایانِ شان وقت دینے کا ارادہ ہے اور تسلی کے بعد روانگی کا نعرہ بلند کرتے ہوئے سفر کا سلسلہ شروع ہوتا ہے
کوسٹل ہائی وے کے خوبصورت ترین حصے میں سفر کرتے ہوئے مسافر کو خوش نصیبی کا احساس ہو رہا ہے, بُوزی پاس / بُوزی ٹاپ کی ایک اونچی پہاڑی کی چوٹی پر آدھ گھنٹے کے لیے رکے , اس طلسمِ ہوشربا پر اپنے ہوش حواس لٹائے اور
" ایک بار دیکھا ہے بار بار دیکھنے کی حسرت ہے"
کا ورد کرتے ہوئے روانہ ہوئے, اگلی منزل اورماڑہ کا شہر اور اورماڑہ ساحلِ سمندر ہے
گڈانی ساحل سے نکلے تو سورج مغرب کے کنویں میں اتر رہا تھا,حب چوکی کے بعد بلوچستان کے دوسرے چھوٹے سے شہر وِندر پہنچے تو مغرب کی اذان ہو گئی , کراچی کے ایک فیسب...