سیاح و ثمر

سیاح و ثمر پہاڑ ہوں یا صحرا, میدان ہوں یا جنگل آئیں ہمارے ساتھ چل

05/01/2023
صادق گڑھ پیلس ڈیرہ نواب صاحب
01/01/2023

صادق گڑھ پیلس ڈیرہ نواب صاحب

شاہراہِ قراقرم ، خوابوں کی سرزمیں میں بل کھاتی سڑک آٹھواں عجوبہ ♥️
20/07/2022

شاہراہِ قراقرم ، خوابوں کی سرزمیں میں بل کھاتی سڑک آٹھواں عجوبہ ♥️

10/02/2022

jeep rally 2022

07/02/2022

driving ❤️

❣️❣️❣️❣️
04/02/2022

❣️❣️❣️❣️

01/02/2022

جیپ ریلی 2022

22/06/2021
شکریہ روزی ❤️روزی گبرئیل ایک سیاح ہے چند برس پہلے پاکستان کی سیاحت کو نکلی اور شہروں شہروں گھومتی ہوئی بلوچستان جا پہنچی...
14/05/2021

شکریہ روزی ❤️
روزی گبرئیل ایک سیاح ہے چند برس پہلے پاکستان کی سیاحت کو نکلی اور شہروں شہروں گھومتی ہوئی بلوچستان جا پہنچی اور یہیں سے شروع ہوتی ہے روزی اور فرزانہ کی کہانی۔ مکران کوسٹل ہائی وے بلوچستان کے سحر انگیز مناظر کو دیکھتے ہوئے روزی پہنچی ایک خستہ حال سے گھر میں جہاں اس کی ملاقات فرزانہ سے ہوئی اس نے روزی کا استقبال اسی طرح کیا جیسے بلوچ اپنے مہمانوں کو عزت اور مان دے کر کرتے ہیں مگر یہ عزت اور مان تو روزی کو پاکستان کے ہر شہر ہر قصبے اور ہر صوبے کے عوام نے دی ہوگی مگر روزی کی زبان سے نابلد فرزانہ کی محبت میں کچھ تو خاص تھا کہ جس نے اسے فرزانہ کا گرویدہ بنا لیا۔ روزی ایک آدھ دن وہاں مہمان بن کر رہی فرزانہ کبھی اپنے مہمان کی چٹیا بناتی کبھی اسے اپنے ہاتھ کے کشیدہ کئے ہوئے بلوچی لباس پہناتی اس کے ہاتھ چومتی اس کی نہ سمجھ آنے والی گفتگو پر گھنٹوں گھنٹوں سر ہلاتی اور مسلسل مسکراتی رہتی اور شاید یہی وجہ ہے کہ روزی جب وہاں سے پلٹنے لگی تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے بعدازاں اس نے فرزانہ کے گھر سے نکلنے کے لمحے کو اپنا پاکستان میں سب سے جذباتی لمحہ قرار دیا۔
روزی اپنے ملک چلی گئی مگر جاتے ہی اس نے اپنی دوست اپنی سہیلی فرزانہ کے تاریکی میں ڈوبے بجلی سے محروم گھر کے لیے سولر پینل کا انتظام کیا یہ اس کا اپنی سہیلی کے لیے پہلا تحفہ تھا کچھ عرصے بعد روزی نے اسلام قبول کرلیا (جس میں فرزانہ کے خلوص کا بڑا عمل دخل تھا) اور پھر روزی نے پاکستان کے ہی ایک سیاح سے گزشتہ دنوں شادی کر لی۔ ان دنوں روزی اپنے ہنی مون ٹرپ پر ہیں اور وہ اس بار اپنے شوہر کے ہمراہ فرزانہ کو بتائے بغیر اس کے گھر پہنچ گئی اس نے اپنی سہیلی کو سرپرائز دیا اور اس بار اس نے اپنی سہیلی کو ایک اور تحفہ دینے کا پلان بھی بنا لیا ہے اس نے اپنے آفیشل پیج جس پر لاکھوں فالورز ہیں سے درخواست کی ہے کہ وہ فرزانہ کے لیے ایک کشتی خرید کے دینا چاہتی ہیں اور ساتھ ہی ایک چھوٹا سا گھر بھی تاکہ اس کی سہیلی سکون کی زندگی گزار سکے۔
روزی اور فرزانہ کی محبت کی داستان فقط یہ بتانے کے لیے بیان کی ہے کہ محبت کی کوئی زبان نہیں ہوتی اور نہ کوئی قومیت اور مذہب ہوتا ہے اس کے لیے تو صرف خلوص چاہئے ہوتا ہے وہی خلوص جو روزی کو اپنے لیے فرزانہ کے آنکھوں میں نظر آئی...!

   ,  گڈانی ساحل سے نکلے تو سورج مغرب کے کنویں میں اتر رہا تھا,حب چوکی کے بعد بلوچستان کے دوسرے چھوٹے سے شہر وِندر پہنچے...
14/05/2021

,

گڈانی ساحل سے نکلے تو سورج مغرب کے کنویں میں اتر رہا تھا,حب چوکی کے بعد بلوچستان کے دوسرے چھوٹے سے شہر وِندر پہنچے تو مغرب کی اذان ہو گئی , کراچی کے ایک فیسبک دوست جناب عبدالوحید طارق ( Abdul-Waheed Tariq )صاحب سے رات کے قیام کا مشورہ کرنے کی نیت سے رابطہ کیا اور ان کی محبت سے لبریز آواز میں پر خلوص مشورے سنے جو بہت کام آئے, وندر کے بعد زیرو پوائنٹ سے سڑک دو لخت ہو رہی ہے ایک سیدھی اوتھل سے ہوتی ہوئی کوئیٹہ جاتی ہے اور بائیں ہاتھ پر گوادر کا راستہ ہے, مسافروں نے رات اوتھل میں قیام کا فیصلہ کیا ہوا ہے لہذا زیرو پوائنٹ سے 15 کلومیٹر سیدھا جا کر اوتھل شہر میں رکے "ژوب مسافر خانہ" میں کمرہ لیا اور پٹھان میزبان کو کرایہ دینے کے بعد ایک دوسرے ہوٹل میں کھانا کھایا, کھانے کے بعد اوتھل شہر کا ایک چکر لگایا اور مسافر خانے کے سامنے گاڑی پارک کر کے سامان نکال کر کمرے میں پہنچے, رات اچھی گزری, صبح طلوعِ آفتاب سے پہلے تیاری کی اور ناشتہ کیے بغیر سوئے منزل روانہ ہوئے, زیرو پوائنٹ سے گوادر سڑک پر سفر جاری ہے , سڑک ویران ہے کبھی کبھی کوئ بس یا ٹرک راستے میں نظر آ جاتا ہے کچھ کاریں بھی دکھائ دے جاتیں ہیں مگر زیادہ تر سفر اکیلے ہی طئے ہو رہا, زیرو پوائنٹ سے 139 کلومیٹر بعد کُنڈ ملیر ساحلِ سمندر ہے, عبدالوحید طارق صاحب کے مشورے پر عمل نا کر سکنے کی وجہ سے گاڑی کا پیٹرول ختم ہو رہا ہے اور اب انہی کی معلومات کے مطابق زیرو پوائنٹ سے گوادر تک کے 530 کلومیٹر میں ہمیں کھلے ایرانی پیٹرول پر گزارہ کرنا ہے, کُنڈ ملیر کا ساحل گڈانی سے زیادہ خوبصورت ہے یہیں سڑک کے دائیں ہاتھ ایک ہوٹل پر ناشتہ کیا اور پیٹرول کی معلومات لے کر آگے چلے تو چند منٹ بعد نیلگوں سمندر کو خشک پہاڑوں سے بغل گیر دیکھا, کُنڈ ملیر کا ساحل , گڈانی ساحلِ سمندر کی طرح صاف شفاف مگر سمندری لہریں نسبتاً جوشیلی ہیں اور ان کا شور بھی زیادہ ہے, ہوا کی رفتار یہاں کچھ زیادہ تھی اور سڑک سے ساحل تک تقریباً 300 قدم کا فاصلہ سمندری ریت سے بھرا ہوا ہے, یہ تین سو قدم کا فاصلہ صبح کی ورزش کا میدان ثابت ہوا اور واپسی پر چند لمحے رک کر دیکھنے کے بعد قدرے مختصر اور بہتر راہ لے کر گاڑی تک پہنچے,
سمندر کا منظر کوسٹل ہائی وے پر 4 چار بار نظروں کے سامنے آتا ہے اور ہر بار مسافر رکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں, ہر منظر پہلے سے جدا اور شاید ذیادہ خوبصورت, کبھی پہاڑی کی چوٹیوں سے سر نگوں تو کبھی وادیوں سے بالکل سامنے ,
سڑک نے ایک بڑے پہاڑی موڑ کی چڑھائ سے کروٹ لی اور مسلسل مگر آہستہ آہستہ بائیں طرف کی پہاڑیوں میں جانے لگی, چڑھائیاں ایسی کی گاڑی کا انجن بے بس ہوتا محسوس ہونے لگے اور اترائیاں ایسی کے سامنے کی بَل کھاتی ہوئی دور تک نظر آنے والی سڑک دیکھ کر ہمیشہ کے لیے یہیں رک جانے کو دل مچلنے لگے
پیچ و تاب کھاتی سڑک مسافر کی یاد داشت کو آواز دے رہی ہے اور خیال کا اڑن کھٹولا ننگر پارکر سے کشمیر اور پتریاٹہ و مری سے خنجراب و سکردو کی سڑکوں پر محوِ پرواز ہے
پہاڑیوں کی ہئیت الف لیلوی داستانوں کے برباد محلات کی واضح تصاویر پیش کر رہی ہے, برآمدے, چھولداریاں, دالان, کمرے, بلند قامت ستون, اور انسانی و حیوانی شبیہیں, کیا کچھ ہو سکتا ہے جس کو تصور میں لائیں اور سامنے نا دیکھ سکیں ,
اچانک ایک قدرے کھلی وادی میں کچھ کاریں کھڑی ہوئ نظر آتی ہیں اندازوں اور اندیشوں میں گھرے مسافر قریب پہنچتے ہی تو پرنسز آف ہوپ کا بورڈ امید کی دیوی کی طرف تیر کے نشان سے اشارہ کرتا نظر آتا ہے, سواری سڑک کنارے لگی اور مسافر محبت سے سرشار امید کی دیوی پر نگاہِ محبت جمائے ورطۂ حیرت میں مبتلا ہے ,
آج ہی کے دن غروبِ آفتاب کا منظر گوادر کے ساحل سے دیکھنے کی امید لیے مسافر جلد بازی کا شکار ہے, امید کی دیوی کو واپسی پر شایانِ شان وقت دینے کا ارادہ ہے اور تسلی کے بعد روانگی کا نعرہ بلند کرتے ہوئے سفر کا سلسلہ شروع ہوتا ہے
کوسٹل ہائی وے کے خوبصورت ترین حصے میں سفر کرتے ہوئے مسافر کو خوش نصیبی کا احساس ہو رہا ہے, بُوزی پاس / بُوزی ٹاپ کی ایک اونچی پہاڑی کی چوٹی پر آدھ گھنٹے کے لیے رکے , اس طلسمِ ہوشربا پر اپنے ہوش حواس لٹائے اور

" ایک بار دیکھا ہے بار بار دیکھنے کی حسرت ہے"

کا ورد کرتے ہوئے روانہ ہوئے, اگلی منزل اورماڑہ کا شہر اور اورماڑہ ساحلِ سمندر ہے

گڈانی ساحل سے نکلے تو سورج مغرب کے کنویں میں اتر رہا تھا,حب چوکی کے بعد بلوچستان کے دوسرے چھوٹے سے شہر وِندر پہنچے تو مغرب کی اذان ہو گئی , کراچی کے ایک فیسب...

شاہی قبرستان قلعہ ڈیراور, بہاولپور
21/03/2021

شاہی قبرستان قلعہ ڈیراور, بہاولپور

قلعہ ڈیراور سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ریاست بہاولپور کا شاہی قبرستان ہے بہاولپور کے محلات اور قلعوں کی سیر کرنے والے سیاح ریاسے کے حکمرانوں کے جاہ و جلال اور...

اروڑ میں پراسرار غار اور کالکا دیوی کا مندر
11/03/2021

اروڑ میں پراسرار غار اور کالکا دیوی کا مندر

Address

None
Bahawalpur
63100

Telephone

+923468833108

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سیاح و ثمر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to سیاح و ثمر:

Share