Amazing Bhakkar

Amazing Bhakkar تاریخ,سیاست,مقامی حکومتیں اور اہم واقعات.
تاریخ بھکر س?

18/08/2026

ابو جہل کی چار بیٹیاں تھیں:

صخرہ، حَنْفاء، اسماء اور جویریہ۔

ان کی والدہ أروى بنت ابی العیص بن امیہ تھیں۔ أروى کی والدہ رقیہ بنت اسد بن عبد العزیٰ بن قصی تھیں، اور رقیہ کی والدہ خالدہ بنت ہاشم بن عبد مناف بن قصی تھیں۔

حنفاء بنت ابی جہل کا نکاح سہیل بن عمرو بن عبد شمس العامری سے ہوا تھا۔

اور اسماء بنت ابی جہل کا نکاح ولید بن عبد شمس بن المغیرہ المخزومی سے ہوا۔ ان سے ام عبد اللہ بنت الولید پیدا ہوئیں۔

پھر ام عبد اللہ بنت الولید کا نکاح عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ہوا، اور ان سے ولید اور سعید، عثمان بن عفان کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔

اور جویریہ بنت ابی جہل کا نکاح عَتّاب بن اَسِید بن ابی العِیص بن امیہ سے ہوا، جن سے عبد الرحمن بن عتاب پیدا ہوئے۔

عبد الرحمن جنگ جمل کے دن قتل ہوئے۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کی لاش کے پاس کھڑے ہوئے تو فرمایا

هذا يعسوب قريش

’’یہ قریش کا سردار ہے۔‘‘

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عتاب سے پہلے جویریہ بنت ابی جہل کو نکاح کا پیغام دیا تھا اور ان سے نکاح کا ارادہ بھی کر لیا تھا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اسے ناپسند فرمایا اور ارشاد فرمایا

إني أكره أن تجمع بين بنت ولي الله وبين بنت عدو الله

’’میں پسند نہیں کرتا کہ اللہ کے دوست کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے نکاح میں جمع ہوں۔‘‘

چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے اس ارادے کو ترک کر دیا اور بعد میں جویریہ کا نکاح عتاب سے ہو گیا۔

اور صخرہ بنت ابی جہل کا نکاح ابو سعید بن الحارث بن ہشام سے ہوا تھا۔

ابو سعید کی نسل صرف ان کی بیٹی فاطمہ بنت ابی سعید سے چلی۔ فاطمہ کا نکاح خالد بن العاصی بن ہشام بن المغیرہ سے ہوا، اور ان سے حارث بن خالد بن العاصی پیدا ہوئے۔

خالد کی والدہ عاتکہ بنت الولید بن المغیرہ تھیں۔

خالد بن العاصی کی اولاد میں حارث بن خالد بن العاصی بن ہشام بن المغیرہ تھے۔ ان کی والدہ فاطمہ بنت ابی سعید بن الحارث بن ہشام تھیں۔

حارث ایک شاعر تھے اور بہت شعر کہتے تھے۔ انہی کا یہ شعر ہے:

من كان يسأل عنا أين منزلنا
فالأقحوانة منا منزل قمن
إذا الحجاز خوى ممن نسر به
والحاج داج به مغرورق ثكن

جو شخص ہمارے بارے میں پوچھتا ہے کہ ہمارا ٹھکانہ کہاں ہے، تو جان لے کہ 'الاقحوانہ' ہی ہمارے لیے ایک مناسب مقام ہے۔ جبکہ حجاز ان لوگوں سے خالی ہو جائے جن سے ہمیں انس تھا، اور حاجیوں کی اشکبار جماعتیں وہاں سے واپس لوٹ رہی ہوں۔

یزید بن معاویہ نے حارث کو مکہ کا عامل مقرر کیا تھا، جبکہ اس وقت عبد اللہ بن زبیر مکہ میں موجود تھے، اور ابھی یزید نے ابن زبیر کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع نہیں کی تھی۔

ابن زبیر نے انہیں اقتدار سنبھالنے سے روک دیا، چنانچہ حارث اپنے گھر میں محدود ہو کر رہ گئے۔ وہ اپنے موالی اور ساتھیوں کے ساتھ گھر ہی میں نماز ادا کرتے اور ابن زبیر سے الگ تھلگ رہتے رہے۔

پھر جب عبد الملک بن مروان خلیفہ بنا تو اس نے حارث کو مکہ کا والی مقرر کیا، لیکن بعد میں معزول کر دیا۔

اس کے بعد حارث دمشق میں عبد الملک کے پاس آئے، مگر وہاں انہیں وہ عزت و توجہ نہ ملی جس کی امید تھی۔ چنانچہ ناراض ہو کر واپس چلے گئے اور یہ اشعار کہے:

عطفت عليك النفس حتى كأنما
بكفيك بؤسى أو لديك نعيمها
فما بي أن أقصيتني من ضراعة
ولا افتقرت نفسي إلى من يسومها

"میرا دل تیری طرف اس قدر مائل رہا کہ گویا میری بدحالی اور میری تمام خوشیاں تیرے ہی ہاتھوں میں ہوں۔

پس اگر تو نے مجھے دور کر بھی دیا ہے، تو اب میرے دل میں تیرے سامنے گڑگڑانے کی کوئی خواہش نہیں ہے، اور نہ ہی میرا نفس اتنا محتاج ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کا دستِ نگر ہو جو اسے نیچا دکھانے کی کوشش کرے۔‘‘

اور جب حارث دمشق پہنچے تو انہوں نے عمرہ بنت النعمان بن بشیر الانصاریہ کو نکاح کا پیغام بھیجا، اس پر عمرہ بنت النعمان نے جواب میں یہ اشعار کہے:

كهول دمشق وشبانها
أحب إلينا من الجالية
لهم ذفر كصنان التيو
س أعيا على المسك والغالية

’’دمشق کے بوڑھے اور جوان ہمیں ان پردیسیوں سے زیادہ پسند ہیں۔
ان کی ایسی بو ہے جیسے بکروں کی بو، جسے نہ مشک چھپا سکتی ہے اور نہ عمدہ خوشبوئیں۔‘‘

اس کے جواب میں حارث بن خالد نے کہا:

ساكنات العقيق أشهى إلى النفـ
س من الساكنات دور دمشق
يتضوعن إن تطيبن بالمسـ
ك صنانًا كأنه ريح مرق

’’وادیِ عقیق میں رہنے والیاں دمشق کے گھروں میں رہنے والیوں سے زیادہ دل پسند ہیں۔
جب وہ مشک لگاتی ہیں تو ان سے ایسی بو اٹھتی ہے جو دباغت کی جگہ کی بو۔"

اور حارث ہی کا یہ شعر بھی ہے:

كأني إذا مت لم اضطرب
تزين المخيلة أعطافية
ولم أسلب البيض أبدانها
ولم يكن اللهو من بالية

"گویا جب میں مر جاؤں گا تو میں بے چین نہیں ہوں گا، اور (میری) قوتِ خیالیہ میرے پہلوؤں کو سجا دے گی۔
اور میں نے خوبرو خواتین کے زیورات نہیں لوٹے، اور نہ ہی میرا مشغلہ فرسودگی اور بے کار چیزوں میں رہا۔"

محمد بن قاسم کون تھا؟محمد بن قاسم ایک مشہور عرب مسلمان سپہ سالار تھا، جس نے اموی خلافت کے دور میں سندھ کی طرف فوجی مہم ک...
16/08/2026

محمد بن قاسم کون تھا؟

محمد بن قاسم ایک مشہور عرب مسلمان سپہ سالار تھا، جس نے اموی خلافت کے دور میں سندھ کی طرف فوجی مہم کی قیادت کی۔

بنیادی معلومات

نام: محمد بن قاسم الثقفی
پیدائش: تقریباً 695ء
تعلق: عرب کے قبیلے بنو ثقیف سے
اصل علاقہ: طائف، عرب
چچا: حجاج بن یوسف
حکمران: اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک
سندھ کی مہم: تقریباً 711ء
وفات: تقریباً 715ء

وہ سندھ کیوں آیا؟

اس زمانے میں سندھ پر راجا داہر کی حکومت تھی۔
عرب ذرائع کے مطابق ایک اہم واقعہ یہ تھا کہ سمندری قزاقوں نے کچھ عرب جہازوں کو لوٹ لیا۔ حجاج بن یوسف نے راجا داہر سے اس معاملے میں کارروائی کا مطالبہ کیا، لیکن معاملہ حل نہ ہوا۔
اس کے بعد حجاج نے محمد بن قاسم کو سندھ کی طرف فوج کے ساتھ بھیجا۔
تاہم مؤرخین کے مطابق صرف یہی ایک وجہ نہیں تھی۔ اموی سلطنت کی توسیع، سیاسی مفادات اور سندھ کی اہم جغرافیائی حیثیت بھی اس مہم کی وجوہات میں شامل تھیں۔

محمد بن قاسم نے کیا کیا؟

محمد بن قاسم نے سندھ پہنچ کر سب سے پہلے اہم شہر دیبل کا محاصرہ کیا اور اس پر قبضہ کیا۔
اس کے بعد اس نے مختلف علاقوں کی طرف پیش قدمی کی، جن میں:
نیرون، سیہون، برہمن آباد اور ملتان وغیرہ شامل تھے۔
آخرکار اس کا مقابلہ راجا داہر سے ہوا۔
راجا داہر کا کیا ہوا؟
محمد بن قاسم اور راجا داہر کی فوجوں کے درمیان بڑی جنگ ہوئی۔
راجا داہر جنگ میں مارا گیا اور اس کی شکست کے بعد سندھ کے بڑے حصے پر محمد بن قاسم کی حکومت قائم ہوگئی۔
بعد میں محمد بن قاسم نے ملتان تک اپنی مہم جاری رکھی۔
کیا اس نے سب لوگوں کو زبردستی مسلمان بنایا؟
نہیں، یہ بات درست نہیں کہ سندھ کے تمام لوگوں کو فوراً زبردستی مسلمان بنا دیا گیا تھا۔
اس وقت سندھ میں ہندو، بدھ اور دوسرے مذاہب کے لوگ موجود تھے اور بہت سے لوگ اپنے مذہب پر قائم رہے۔ اسلامی حکومت نے ان کے ساتھ مختلف انتظامی اور ٹیکس کے معاہدے کیے۔
سندھ میں اسلام کا پھیلاؤ ایک طویل تاریخی عمل تھا، جو محمد بن قاسم کے بعد بھی جاری رہا۔
پھر محمد بن قاسم کو واپس کیوں بلایا گیا؟
یہ حصہ بہت دلچسپ ہے۔
محمد بن قاسم کا سب سے بڑا حمایتی اس کا چچا حجاج بن یوسف تھا۔ حجاج 714ء میں وفات پا گیا۔
اس کے کچھ عرصے بعد خلیفہ ولید بھی وفات پا گیا اور سلیمان بن عبدالملک خلیفہ بنا۔
نئی سیاسی صورتحال میں محمد بن قاسم کو سندھ سے واپس بلا لیا گیا اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔
اس کے بعد تقریباً 715ء میں اس کی وفات ہوگئی۔
اس کی موت کے بارے میں تاریخی روایات مختلف ہیں، اس لیے مشہور قصوں کی ہر تفصیل کو یقینی تاریخ نہیں سمجھا جاتا۔

یزیدی کون ہیں؟لالش سے سنجار تک ایک قدیم نسلی و مذہبی برادری کی تاریخ، عقیدہ اور المیہمشرقِ وسطیٰ کی تاریخ صرف بڑی سلطنتو...
16/08/2026

یزیدی کون ہیں؟

لالش سے سنجار تک ایک قدیم نسلی و مذہبی برادری کی تاریخ، عقیدہ اور المیہ

مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ صرف بڑی سلطنتوں، بادشاہوں اور جنگوں کی تاریخ نہیں؛ اس خطے کے پہاڑوں، وادیوں اور قدیم بستیوں میں ایسی چھوٹی مذہبی برادریاں بھی زندہ رہی ہیں جنہوں نے صدیوں کے سیاسی تغیرات، فتوحات، مذہبی کشمکش اور ظلم و ستم کے باوجود اپنی شناخت برقرار رکھی۔ یزیدی یا ایزیدی (Yazidis/Êzîdî) بھی ایسی ہی ایک قدیم نسلی و مذہبی برادری ہیں۔

آج ان کا سب سے بڑا مرکز شمالی عراق ہے، خصوصاً سنجار/شنگال، نینویٰ اور شیخان کے علاقے۔ ان کی بڑی تعداد عراق کے علاوہ شام، ترکی، آرمینیا، جارجیا اور یورپ، بالخصوص جرمنی، میں بھی آباد ہے۔ یزیدی زبان کے اعتبار سے زیادہ تر کرمانجی کردی سے وابستہ ہیں، تاہم ان کی مذہبی شناخت انہیں خطے کی دوسری کردی آبادیوں سے ممتاز کرتی ہے۔

یزیدیوں کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے: ان کے مذہب کی ابتدا کے بارے میں خود یزیدی روایات اور جدید علمی تحقیق ہمیشہ ایک ہی بات نہیں کہتیں۔ یزیدی روایت اپنے مذہب کو انتہائی قدیم سمجھتی ہے، جبکہ محققین موجودہ یزیدیت کی مذہبی اور اجتماعی صورت کو مختلف قدیم ایرانی و مقامی روایات اور قرونِ وسطیٰ کے مذہبی اثرات کے ایک طویل تاریخی ارتقا کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔

قدیم جڑیں: روایت اور تاریخ میں فرق

یزیدی مذہب کی قدیم جڑوں کے بارے میں کئی نظریات موجود ہیں۔ اس کے عقائد میں قدیم ایرانی مذہبی تصورات، مقامی میسوپوٹیمین روایات، کردی ثقافتی عناصر اور بعد کے اسلامی، خصوصاً صوفیانہ اثرات کی نشانیاں تلاش کی گئی ہیں۔

لیکن یہ کہنا کہ یزیدیت براہِ راست زرتشتیت، میتھرائی ازم، مانویت یا قدیم بابلی مذہب ہی کی موجودہ شکل ہے، تاریخی طور پر ثابت شدہ بات نہیں۔ جدید تحقیق زیادہ محتاط انداز اختیار کرتی ہے اور یزیدیت کو ایک ایسے مذہبی نظام کے طور پر دیکھتی ہے جس نے مختلف ادوار میں متعدد روایات کے اثرات قبول کیے اور وقت کے ساتھ اپنی الگ شناخت بنائی۔ Encyclopaedia Iranica بھی یزیدی عقائد میں قدیم ایرانی مذہبی تصورات کی مماثلتوں کو تسلیم کرتی ہے، مگر اسے محض زرتشتیت کی ایک شاخ قرار نہیں دیتی۔

یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ یزیدی تاریخ صرف کسی ایک قدیم مذہب کا تسلسل نہیں بلکہ صدیوں پر محیط مذہبی ارتقا اور اجتماعی بقا کی داستان ہے۔

شیخ عدی بن مسافر اور لالش

یزیدی تاریخ میں سب سے اہم تاریخی شخصیات میں شیخ عدی بن مسافر کا نام آتا ہے۔ وہ تقریباً 11ویں اور 12ویں صدی کے ایک مسلمان صوفی بزرگ تھے، جن کا تعلق عدویہ صوفی سلسلے سے تھا۔

شیخ عدی نے شمالی عراق کے پہاڑی علاقے میں واقع لالش (Lalish) کو اپنا مرکز بنایا۔ ان کی وفات 1162ء کے قریب ہوئی اور بعد میں ان کا مزار یزیدیوں کے لیے سب سے مقدس زیارت گاہ بن گیا۔

یہاں ایک اہم تاریخی نکتہ ہے: شیخ عدی کو یزیدیت کا واحد "بانی" قرار دینا مکمل تصویر نہیں۔ علمی تحقیق کے مطابق ان کی آمد سے پہلے بھی اس خطے میں مخصوص مقامی مذہبی روایات موجود تھیں، جبکہ شیخ عدی اور ان کے بعد آنے والے مذہبی رہنماؤں نے ان روایات کو ایک ایسے مذہبی نظام میں ڈھالنے میں اہم کردار ادا کیا جسے بعد میں یزیدیت کے نام سے شناخت ملی۔

اسی لیے یزیدی مذہب کو سمجھنے کے لیے شیخ عدی کی شخصیت اور لالش دونوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔

لالش: یزیدی دنیا کا روحانی مرکز

اگر یزیدی برادری کا ایک مقدس جغرافیائی مرکز تلاش کیا جائے تو وہ لالش ہے۔

یہ وادی شمالی عراق میں واقع ہے اور یہاں شیخ عدی کا مزار، مقدس چشمے، عبادت گاہیں اور مختلف مذہبی مقامات موجود ہیں۔ یزیدی مذہبی زندگی میں لالش کی حیثیت صرف ایک مزار کی نہیں بلکہ روحانی مرکز کی ہے۔

یزیدیوں کی بڑی مذہبی تقریبات میں جماعیہ (Jama'iya) خاص اہمیت رکھتی ہے، جس کے دوران یزیدی مختلف مقدس مقامات کی زیارت کرتے ہیں۔ لالش میں مذہبی اجتماعات، رسومات، دعائیں اور روایتی رقص و موسیقی بھی مذہبی زندگی کا حصہ ہیں۔

لالش دراصل یزیدی شناخت کی جغرافیائی علامت بن چکا ہے۔

یزیدی مذہب: خدا، مقدس ہستیاں اور روح کا تصور

یزیدی اپنے عقیدے کو ایک خدا پر ایمان رکھنے والا مذہب سمجھتے ہیں۔ ان کے عقیدے میں ایک اعلیٰ خدا نے کائنات تخلیق کی اور دنیا کی نگہداشت سات مقدس ہستیوں یا فرشتوں سے وابستہ کی۔

ان سات مقدس ہستیوں کو مختلف روایات میں Heft Sirr یا "سات راز" کہا جاتا ہے۔

ان میں سب سے نمایاں نام ہے:

ملک طاووس — Peacock Angel

ملک طاووس (Malak Tawûs / Tawûsê Melek) یزیدی مذہبی تصور کا سب سے معروف اور حساس کردار ہے۔

"ملک طاووس" کا مطلب تقریباً طاووس فرشتہ یا Peacock Angel ہے۔ یزیدی روایات میں وہ سات مقدس ہستیوں میں سب سے نمایاں ہے اور یزیدی مذہبی شناخت کے ساتھ گہری طرح وابستہ ہے۔

یہی شخصیت یزیدیوں کے بارے میں صدیوں سے پھیلنے والی سب سے بڑی غلط فہمی کا سبب بھی بنی۔

کیا یزیدی شیطان کو پوجتے ہیں؟

مختصر جواب ہے: نہیں۔

یزیدی خود کو شیطان پرست نہیں سمجھتے اور ملک طاووس کو شیطان نہیں مانتے۔ غیر یزیدی حلقوں میں ملک طاووس کو شیطان سے تشبیہ دینے کی روایت قدیم زمانے سے موجود رہی ہے، لیکن یزیدی مذہبی تصور میں ملک طاووس ایک مقدس ہستی ہے۔

تاہم علمی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ ملک طاووس کا تصور نہایت پیچیدہ ہے اور اسے محض "خدا کے فرشتے" کہہ کر مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکتا۔ بعض یزیدی مذہبی روایات میں اس کی حیثیت انتہائی بلند ہے، جبکہ مختلف تاریخی روایات میں اس کے کردار اور دیگر مقدس ہستیوں کے ساتھ تعلق کی تفصیلات مختلف ملتی ہیں۔ Encyclopaedia Iranica اسے ایک "ambiguous" یعنی پیچیدہ اور کئی پہلو رکھنے والی شخصیت قرار دیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یزیدی مذہب کو اس کے اپنے مذہبی تناظر میں سمجھنا زیادہ درست ہے، نہ کہ دوسرے مذاہب کی شیطانیاتی کہانیوں کے سانچے میں رکھ کر۔

آدم اور ملک طاووس کی داستان

یزیدی مذہبی روایات میں تخلیق اور آدم سے متعلق ایک معروف داستان موجود ہے۔ اس میں ملک طاووس کا کردار دوسرے ابراہیمی مذاہب میں بیان ہونے والے ابلیس کے کردار سے ظاہری مشابہت رکھتا ہے۔

روایت میں آدم کے سامنے جھکنے سے انکار کا واقعہ آتا ہے، لیکن یزیدی مذہبی تعبیر میں اس واقعے کی معنویت مختلف ہے۔ ان کے ہاں خدا کی عبادت اور وفاداری بنیادی تصور ہے، اس لیے ملک طاووس کا انکار یزیدی روایت میں خدا سے بغاوت کے بجائے ایک مختلف مذہبی مفہوم رکھتا ہے۔

یہی بنیادی فرق ہے جس کی وجہ سے باہر سے دیکھنے والا شخص یزیدی داستان کو "شیطان کی کہانی" سمجھ سکتا ہے، جبکہ یزیدی اسے اپنی مذہبی روایت کے بالکل مختلف مفہوم میں دیکھتے ہیں۔

تناسخ اور "روح کا لباس بدلنا"

یزیدی مذہب کا ایک اہم تصور تناسخِ ارواح ہے۔

روایتی یزیدی عقیدے میں روح کے ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہونے کا تصور پایا جاتا ہے، جسے kirās gehorrin یعنی "لباس بدلنا" کہا جاتا ہے۔

Encyclopaedia Iranica کے مطابق یزیدی صرف عام انسانی روحوں کی منتقلی ہی نہیں بلکہ سات مقدس ہستیوں کے انسانی صورتوں میں دوبارہ ظہور کا تصور بھی رکھتے ہیں۔

یہ تصور یزیدی مذہب کو خطے کے دوسرے مذاہب سے ممتاز کرنے والی اہم خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔

مقدس کتابیں یا زبانی روایت؟

یزیدی مذہبی روایت کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کی مذہبی تعلیمات کا بڑا حصہ تاریخی طور پر زبانی روایت کے ذریعے منتقل ہوا۔

مقدس مذہبی اشعار اور گیت، جنہیں Qewls کہا جاتا ہے، اس روایت کا اہم حصہ ہیں۔

اسی وجہ سے یزیدیت کو محض کسی ایک کتاب کی بنیاد پر سمجھنا مشکل ہے۔ مذہبی علم، رسوم، مقدس خاندانوں، گیتوں اور نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات نے اس مذہب کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔

یہاں بھی علمی احتیاط ضروری ہے، کیونکہ "کتاب الجلوہ" اور "مصحف رش" جیسی تحریروں کو ماضی میں یزیدیوں کی مستند آسمانی کتابوں کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن جدید تحقیق ان کی تاریخی حیثیت اور قدامت کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کرتی ہے۔

عبادات اور مذہبی رسومات

یزیدی مذہبی زندگی میں دعائیں، روزے، زیارت، مقدس مقامات کا احترام، مخصوص تہوار اور مختلف مذہبی رسومات شامل ہیں۔

سورج، روشنی، پانی، مقدس چشموں اور بعض درختوں کو بھی مذہبی علامتی اہمیت حاصل ہے۔

لالش میں مخصوص چشموں میں مذہبی رسوم ادا کی جاتی ہیں، اور جماعیہ جیسے تہوار کے دوران بڑی تعداد میں یزیدی وہاں جمع ہوتے ہیں۔

البتہ یزیدی عبادات کو مسلمانوں کی پانچ وقت کی نماز کے عین مطابق بیان کرنا درست نہیں۔ بعض یزیدی دعائیں اور مذہبی رسومات دن کے مختلف اوقات اور سورج کی سمت سے وابستہ ہیں، مگر ان کی عبادت کا نظام اسلامی نماز کا نظام نہیں ہے۔

یزیدی سماج اور تین طبقے

یزیدی معاشرہ ایک مضبوط مذہبی و سماجی تنظیم رکھتا ہے۔ روایتی طور پر اسے تین بنیادی طبقوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

شیخ (Sheikh)
پیر (Pir)
مرید (Murid)

شیخ اور پیر مذہبی رہنمائی اور مخصوص مذہبی فرائض سے وابستہ طبقات ہیں، جبکہ مرید عام یزیدی آبادی کی اکثریت پر مشتمل ہوتے ہیں۔

یزیدی سماج میں نسب، مذہبی خاندان اور روحانی ذمہ داریوں کی بڑی اہمیت ہے۔ مذہبی شناخت پیدائشی طور پر منتقل ہوتی ہے اور روایتی طور پر endogamy یعنی اپنی برادری کے اندر شادی کا اصول بہت سخت رہا ہے۔ حتیٰ کہ تینوں طبقوں کے درمیان بھی روایتی طور پر باہمی شادی ممنوع رہی ہے۔ جدید علمی مطالعات بھی اس طبقاتی اور ازدواجی نظام کو یزیدی شناخت کا بنیادی حصہ قرار دیتے ہیں۔

یزیدی اور کرد: ایک اہم فرق

یزیدیوں کے بارے میں ایک عام سوال یہ ہے کہ کیا وہ کرد ہیں یا الگ قوم؟

اس کا جواب سادہ نہیں۔

زبان اور ثقافت کے اعتبار سے زیادہ تر یزیدی کرمانجی کردی سے وابستہ ہیں اور شمالی عراق کے کردی معاشرے سے تاریخی تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن یزیدی ایک الگ مذہبی و نسلی شناخت رکھتے ہیں اور خود اپنی اجتماعی شناخت کو ایک منفرد مذہبی برادری کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ یزیدی اور کرد شناختوں میں تاریخی و لسانی رشتے موجود ہیں، مگر دونوں اصطلاحات کو ایک دوسرے کا مکمل مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔

"یزیدی" نام کہاں سے آیا؟

لفظ Yazidi / Êzîdî کی اصل بھی ایک متنازع موضوع ہے۔

مختلف نظریات اسے مختلف تاریخی و مذہبی الفاظ سے جوڑتے ہیں۔ ایک نظریہ اسے ایرانی مذہبی اصطلاح yazata سے متعلق سمجھتا ہے، جبکہ بعض روایات اسے یزید بن معاویہ کے نام سے جوڑتی ہیں۔ خود یزیدی مذہبی روایت میں اس نام کی الگ تشریحات بھی ملتی ہیں۔

لہٰذا کسی ایک نظریے کو قطعی تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں۔

کیا یزیدی خود کو آدم کی اولاد نہیں سمجھتے؟

یزیدی روایات میں ایک مخصوص داستان موجود ہے جس میں آدم اور حوا سے متعلق یزیدی نسب کی منفرد تشریح کی جاتی ہے۔ بعض یزیدی روایات کے مطابق ان کا مخصوص سلسلہ آدم سے براہ راست منسلک ہے۔

لیکن اس روایت کو لفظی تاریخی یا حیاتیاتی دعوے کے طور پر لینا درست نہیں۔ یہ ایک مذہبی اساطیری روایت ہے جو یزیدی شناخت اور اپنے آپ کو دوسرے گروہوں سے ممتاز کرنے کے تصور سے جڑی ہوئی ہے۔

صدیوں کا ظلم و ستم

یزیدی تاریخ کا ایک تاریک باب مذہبی تعصب اور سیاسی ظلم و ستم ہے۔

شمالی عراق اور کردستان کے پہاڑی علاقوں میں رہنے والی اس چھوٹی برادری کو مختلف ادوار میں حملوں، جبری تبدیلی مذہب، قتل عام اور نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا۔

یزیدی روایت میں ایسے حملوں کو فرمان کہا جاتا ہے اور ان کی تعداد کے بارے میں "72 فرمان" یا اس سے زیادہ کے دعوے ملتے ہیں۔ تاہم ہر واقعے کے اعداد و شمار اور تاریخی تفصیلات یکساں طور پر مستند نہیں ہیں، اس لیے "72" کو قطعی شماریاتی حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے یزیدی اجتماعی حافظے میں موجود ظلم و ستم کی علامت سمجھنا زیادہ محتاط ہے۔

2014: سنجار کا قیامت خیز سانحہ

یزیدی تاریخ کا سب سے ہولناک باب 3 اگست 2014 کو شروع ہوا، جب داعش نے شمالی عراق کے سنجار علاقے پر حملہ کیا۔

داعش نے یزیدی آبادی کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا۔ ہزاروں افراد قتل ہوئے، ہزاروں خواتین اور بچے اغوا کیے گئے اور خواتین و لڑکیوں کو جنسی غلامی، جبری شادی، انسانی اسمگلنگ اور دیگر شدید مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔

اقوام متحدہ کے مطابق داعش کے حملے کے نتیجے میں 6,400 سے زیادہ یزیدی افراد اغوا ہوئے تھے۔ ایک اقوام متحدہ کے جائزے میں تقریباً 5,000 ہلاکتوں اور ہزاروں اغوا شدگان کے اعداد بھی سامنے آئے۔

سنجار کے پہاڑوں کی طرف ہزاروں لوگ بھاگے۔ کئی دن تک خاندان پانی، خوراک اور محفوظ راستے کے بغیر پھنسے رہے۔

یہ صرف ایک فوجی حملہ نہیں تھا؛ یہ ایک پوری مذہبی برادری کو اس کی شناخت کی بنیاد پر تباہ کرنے کی کوشش تھی۔

کیا 2014 کا واقعہ نسل کشی تھا؟

ہاں۔ اقوام متحدہ کی مختلف تحقیقات اور بین الاقوامی اداروں نے داعش کی جانب سے یزیدیوں کے خلاف کیے گئے جرائم کو نسل کشی (genocide) قرار دیا ہے۔

یہاں "نسل کشی" کا لفظ صرف بڑے پیمانے پر قتل کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا، بلکہ کسی قومی، نسلی یا مذہبی گروہ کو جزوی یا کلی طور پر تباہ کرنے کی نیت سے کیے جانے والے منظم جرائم کے قانونی مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق داعش نے یزیدی مردوں کو قتل کیا اور خواتین و لڑکیوں کو جنسی غلامی، جبری شادی اور دیگر منظم جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

لاپتہ یزیدی آج بھی ایک بڑا مسئلہ

2014 کے گیارہ سال بعد بھی ہزاروں خاندان اپنے عزیزوں کے بارے میں مکمل معلومات سے محروم رہے۔

اقوام متحدہ نے اگست 2025 میں بتایا کہ تقریباً 2,600 یزیدی افراد اب بھی لاپتہ تھے، جبکہ بعض کے بارے میں خدشہ تھا کہ انہیں عراق اور شام سے باہر بھی منتقل کیا گیا۔

یہ تعداد وقت کے ساتھ بازیابی، شناخت اور نئی معلومات کے باعث بدل سکتی ہے، اس لیے 2026 کے لیے ایک قطعی تعداد بیان کرنے میں احتیاط ضروری ہے۔

سنجار آج

داعش کی شکست کے باوجود یزیدی مسئلہ ختم نہیں ہوا۔

گھر تباہ ہوئے، زمینیں متاثر ہوئیں، اجتماعی ڈھانچہ ٹوٹا، خاندان بچھڑ گئے اور ہزاروں افراد طویل عرصے تک اندرونی بے گھر افراد کے کیمپوں میں رہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2014 میں سنجار کے یزیدیوں پر حملے کے نتیجے میں 10,000 سے زیادہ افراد قتل یا اغوا ہوئے اور اس سانحے نے پوری برادری کے سماجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔

آج چیلنج صرف یہ نہیں کہ یزیدیوں کو دوبارہ اپنے گھروں تک پہنچایا جائے؛ اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ انہیں محفوظ ماحول، انصاف، لاپتہ افراد کی بازیابی، تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو اور اپنی مذہبی و ثقافتی شناخت کے تحفظ کی ضمانت کیسے دی جائے۔

یزیدی عورتیں: سانحے کی سب سے دردناک داستان

2014 کے سانحے میں یزیدی خواتین اور بچیوں کو جس منظم جنسی غلامی کا سامنا کرنا پڑا، وہ جدید دنیا کے بدترین جنگی جرائم میں شمار ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ نے داعش کی جانب سے یزیدی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ریپ، جنسی غلامی، جبری شادی، جبری حمل، انسانی اسمگلنگ اور دیگر جرائم کی دستاویز بندی کی ہے۔

بہت سی زندہ بچ جانے والی خواتین نے بعد میں اپنے تجربات دنیا کے سامنے بیان کیے۔ ان میں سے بعض نے عالمی سطح پر یزیدی المیے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہاں یزیدی سانحہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ جنگوں میں صرف میدانِ جنگ کے سپاہی نہیں مرتے؛ اکثر سب سے بڑا بوجھ عورتیں، بچے اور عام شہری اٹھاتے ہیں۔

آج کا یزیدی معاشرہ

آج یزیدی عراق کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ہیں۔ جرمنی میں ان کی ایک بڑی تارکِ وطن برادری موجود ہے، جبکہ آرمینیا، جارجیا اور دیگر ممالک میں بھی یزیدی کمیونٹیز موجود ہیں۔

ہجرت نے ان کے لیے ایک نیا سوال بھی پیدا کیا ہے: قدیم مذہبی شناخت کو جدید دنیا میں کیسے محفوظ رکھا جائے؟

زبان، مذہبی رسوم، شادی کے روایتی اصول، لالش سے تعلق اور نسل در نسل منتقل ہونے والی زبانی روایات اس شناخت کے اہم ستون ہیں۔

دوسری طرف یورپ میں نئی نسل جدید تعلیم، مختلف ثقافتوں اور نئے سماجی ماحول کے درمیان اپنی مذہبی شناخت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یزیدی مذہب کو سمجھنے کا درست طریقہ

یزیدیوں کے بارے میں سب سے زیادہ نقصان دہ غلط فہمی انہیں "شیطان پرست" کہنا ہے۔

یہ تعبیر یزیدی مذہب کی اپنی داخلی تفہیم کو نظر انداز کرتی ہے۔ ملک طاووس ان کے لیے ایک مقدس ہستی ہے اور یزیدی اپنے آپ کو شیطان کا پیروکار نہیں سمجھتے۔

اسی طرح یہ کہنا بھی سادہ کاری ہوگی کہ یزیدیت صرف زرتشتیت، صرف قدیم بابلی مذہب یا صرف صوفی اسلام سے نکلا ہوا مذہب ہے۔ تاریخی شواہد ایک زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتے ہیں جس میں قدیم ایرانی و مقامی تصورات، اسلامی دور کے مذہبی اثرات، صوفی روایت، مقامی مقدس خاندانوں اور صدیوں کی زبانی مذہبی روایت ایک دوسرے سے جڑتی دکھائی دیتی ہے۔

ایک چھوٹی برادری، ایک بڑی تاریخ

یزیدیوں کی تاریخ دراصل مشرقِ وسطیٰ کے ایک بڑے تاریخی سوال کی عکاسی کرتی ہے: کیا کوئی چھوٹی مذہبی برادری صدیوں کے سیاسی اور مذہبی دباؤ کے باوجود اپنی شناخت محفوظ رکھ سکتی ہے؟

یزیدیوں کا جواب تاریخ نے دیا ہے۔

انہوں نے اپنی زبان محفوظ رکھی، لالش کو مقدس مرکز بنائے رکھا، مذہبی رسوم نسل در نسل منتقل کیں، اپنے مخصوص سماجی نظام کو قائم رکھا اور بار بار ہونے والی نقل مکانی کے باوجود اپنی شناخت ختم نہیں ہونے دی۔

2014 میں داعش نے سنجار پر قبضہ کر کے اس برادری کو تباہ کرنے کی کوشش کی، مگر یزیدی شناخت باقی رہی۔

آج لالش کی وادی، سنجار کے پہاڑ اور دنیا بھر میں پھیلی یزیدی بستیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ کسی قوم یا مذہبی برادری کی بقا صرف اس کے جغرافیے سے نہیں ہوتی؛ اس کی بقا اس کی یادداشت، زبان، عقیدے، رسوم اور اجتماعی شعور میں بھی ہوتی ہے۔

اختتامی کلمات

یزیدی نہ تو کوئی محض قدیم داستان ہیں اور نہ ہی 2014 کے سانحے کے بعد وجود میں آنے والی برادری۔ وہ شمالی عراق اور وسیع تر کردستان کے تاریخی منظرنامے میں صدیوں سے موجود ایک منفرد نسلی و مذہبی جماعت ہیں۔

ان کا مذہب پیچیدہ تاریخی تہوں سے تشکیل پاتا ہے؛ اس میں ایک خدا، سات مقدس ہستیوں، ملک طاووس، تناسخِ روح، مقدس مقامات، زبانی مذہبی روایت اور سخت اجتماعی نظم جیسے عناصر شامل ہیں۔

ان کی مقدس وادی لالش ان کے روحانی وجود کی علامت ہے، شیخ عدی ان کی مذہبی تاریخ کی مرکزی شخصیت ہیں، ملک طاووس ان کی مذہبی شناخت کا نمایاں ترین نشان ہے، اور سنجار ان کی جدید تاریخ کے سب سے بڑے المیے کی علامت بن چکا ہے۔

2014 کی نسل کشی نے دنیا کو یہ دکھایا کہ مذہبی تعصب جب انتہا پسندی کے ساتھ مل جائے تو ایک پوری برادری کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ لیکن یزیدی تاریخ کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے: بقا، مزاحمت اور اپنی شناخت کو زندہ رکھنے کا عزم۔

اسی لیے یزیدی تاریخ صرف ظلم کی تاریخ نہیں؛ یہ یادداشت اور بقا کی تاریخ بھی ہے۔

اہم ماخذ: Encyclopaedia Iranica میں یزیدی مذہب اور اس کے عقائد پر تحقیقی مضمون؛ اقوام متحدہ کی یزیدیوں کے بارے میں انسانی حقوق اور جنسی تشدد سے متعلق رپورٹس؛ اور یزیدی مذہب، لالش اور اس کی مذہبی رسومات پر علمی مطالعات۔

16/08/2026

جس دن لوگوں کو یہ بات سمجھ آ گئی کہ مخلوق سے محبت خالق تک لے جاتی ہے۔ اس دن روۓ زمین پر امن قائم ہو جاۓ گا‎.
اللہ پاک رحم، کرم، فضل، عافیت، ایمان اور ہدایت کے ساتھ سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔
آمین

پردہ کی تاریخی ابتدا: حقیقت پر مبنی تفصیلی جائزہپردہ (veil یا سر ڈھانپنا) کا رواج قدیم مشرقِ قریب کی تہذیبوں میں بہت پرا...
14/08/2026

پردہ کی تاریخی ابتدا: حقیقت پر مبنی تفصیلی جائزہ

پردہ (veil یا سر ڈھانپنا) کا رواج قدیم مشرقِ قریب کی تہذیبوں میں بہت پرانا ہے۔ یہ صرف اسلام کی اختراع نہیں، بلکہ ہزاروں سال پہلے سے موجود تھا۔ یہاں تاریخی حقائق کو ترتیب سے پیش کیا جاتا ہے۔

1. قدیم ترین ثبوت: سومر، ماری اور ایبلا (تیسری صدی قبل مسیح)
- سومر میں (تیسری صدی ق م) پردے کا کوئی واضح سمری لفظ نہیں ملتا، اور یہ عام رواج نہیں تھا۔
- شمالی اور مغربی میسوپوٹیمیا (ایبلا، ماری وغیرہ) میں سر ڈھانپنے یا شال کا استعمال شادی کی رسومات یا مذہبی مواقع پر نظر آتا ہے۔ ماری کی مجسموں میں عورتوں کے سر پر چادر یا شال دکھائی دیتی ہے۔
- یہ زیادہ تر شادی کی علامت یا مذہبی سیاق میں تھا، نہ کہ روزمرہ عوامی پابندی۔

2. وسطی آشوری قوانین: تاریخ کا پہلا تفصیلی قانونی حکم (تقریباً 1450–1250 ق م)
یہ سب سے اہم اور تفصیلی ثبوت ہے۔ Tablet A (عورتوں سے متعلق قوانین، بعض اوقات Frauenspiegel کہا جاتا ہے) کے §§40–41 میں واضح احکام ہیں:

کون پردہ کر سکتا تھا؟
- آزاد مرد کی بیویاں، بیوائیں، اور “آشوری” (آزاد مقامی) عورتیں۔
- آزاد مرد کی بیٹیاں۔
- کنکیوبائن (esirtu) جب اپنی مالک کے ساتھ باہر جائے۔
- شادی شدہ qadiltu (مذہبی عورت)۔

کون نہیں کر سکتا تھا؟
- فاحشہ عورت (harimtu) — سر ننگا رہنا لازمی۔
- غلام عورت (amtu) — سر ننگا رہنا لازمی۔
- غیر شادی شدہ qadiltu۔

سزائیں (سخت)
- فاحشہ اگر پردہ کرے: 50 کوڑے، سر پر گرم قیر (pitch/bitumen) ڈالنا، کپڑے چھین لینا۔
- غلام عورت اگر پردہ کرے: کان کاٹنا، کپڑے چھین لینا۔
- جو شخص ایسی عورت کو دیکھ کر نہ پکڑے اور اطلاع نہ دے: 50 کوڑے، کان چھید کر رسی ڈالنا، ایک مہینہ شاہی خدمت۔

§41: مرد اگر اپنی کنکیوبائن کو قانونی بیوی بنانا چاہے تو 5–6 گواہوں کے سامنے اسے پردہ کرے اور اعلان کرے “یہ میری بیوی ہے”۔ اس کے بغیر وہ کنکیوبائن ہی رہتی۔

مقصد: پردہ یہاں سماجی درجہ بندی اور حیثیت کا نشان تھا۔ آزاد اور “عزت دار” عورت کی پہچان، جبکہ غلام اور فاحشہ عورتوں کو اس سے محروم رکھا گیا تاکہ ان کی حیثیت واضح رہے۔ یہ تاریخ کا سب سے قدیم معلوم تفصیلی قانونی حکم ہے جو پردے کو اس طرح کنٹرول کرتا ہے۔

نوٹ: حمورابی کے قوانین (تقریباً 1750 ق م) میں پردے کا کوئی ایسا واضح حکم نہیں ملتا۔ حمورابی زیادہ اقتصادی اور وراثتی حقوق پر مرکوز تھا، جبکہ آشوری قوانین عورتوں کے رویے، جنسی معاملات اور سماجی حیثیت پر زیادہ سخت تھے۔

3. بعد کی تہذیبوں میں تسلسل
- فارسی (ہخامنشی، اشکانی، ساسانی): آشوری اثر کے بعد پردہ اشرافیہ عورتوں میں پھیل گیا۔ بعد میں عام ہو گیا۔
- یہودی اور عیسائی: تورات اور بائبل میں سر ڈھانپنے کے حوالے ملتے ہیں (مثلاً شادی یا عبادت کے سیاق میں)۔ بازنطینی عورتوں میں بھی موجود تھا۔
- یونانی اور رومی: بعض اشرافیہ عورتوں میں سر ڈھانپنے کا رواج تھا۔

پردہ کا یہ رواج سماجی حیثیت، عفت، اور طبقاتی امتیاز کا مرکب تھا۔ یہ صرف مذہبی نہیں بلکہ ثقافتی اور قانونی بھی تھا۔

4. اسلام اور پردہ: کاپی نہیں، ثقافتی تسلسل
قرآن میں حجاب/ستر کے احکام (سورہ نور 24:31 اور احزاب 33:59) کا بنیادی مقصد عفت، حیا، اور مومن عورتوں کی پہچان/حفاظت ہے تاکہ انہیں اذیت نہ دی جائے۔

- اسلام کی آمد سے صدیوں پہلے یہ علاقائی ثقافتی رواج تھا۔
- ابتدائی اسلامی دور میں آزاد مسلم عورتوں اور غلام عورتوں کے درمیان کچھ فرق موجود تھا، مگر بنیاد مذہبی/اخلاقی تھی، نہ کہ محض طبقاتی امتیاز جیسا کہ آشوری قوانین میں۔
- آشوری قوانین اور اسلامی احکام کے درمیان تقریباً 1500–2000 سال کا فرق ہے۔ دونوں کے مقاصد، سیاق و سباق اور نفاذ مختلف ہیں۔
- اسے “کاپی” کہنا درست نہیں۔ تاریخ میں تہذیبیں مقامی رواجوں کو اپناتی، تبدیل کرتی یا نئی تشریح دیتی رہی ہیں۔ یہ ثقافتی تسلسل ہے، براہِ راست نقل نہیں۔

آج مسلمانوں میں حجاب کی ترجیح ان کے مذہبی نصوص (قرآن و سنت) اور تفسیر پر مبنی ہے، نہ کہ براہِ راست قدیم آشوری قوانین کی نقل۔

خلاصہ
- پردے کا قدیم ترین تفصیلی قانونی ثبوت وسطی آشوری قوانین (§40–41) میں ملتا ہے، جہاں یہ آزاد/غلام اور عزت دار/فاحشہ کے فرق کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
- اس سے پہلے بھی میسوپوٹیمیا میں محدود شکلیں موجود تھیں۔
- حمورابی میں ایسا قانون نہیں۔
- اسلام نے اسے آشوریوں سے کاپی نہیں کیا؛ یہ ایک طویل مشرقی روایت کا حصہ تھا جسے مختلف تہذیبوں نے اپنے سیاق میں اپنایا۔

یہ معلومات معیاری علمی ذرائع (Martha Roth کی ترجمے، Frederick Mario Fales، Driver & Miles، اور دیگر آشوری/بابلی مطالعات) پر مبنی ہیں۔ قوانین ہمیشہ عملی زندگی کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، مگر بنیادی تصویر واضح ہے۔

آزادی کے بعد پاکستان کی فوج کا پہلا سپہ سالار انگریز کیوں تھا؟ایک تاریخی غلط فہمی، تقسیمِ ہند کی عسکری حقیقت اور پاکستان...
14/08/2026

آزادی کے بعد پاکستان کی فوج کا پہلا سپہ سالار انگریز کیوں تھا؟

ایک تاریخی غلط فہمی، تقسیمِ ہند کی عسکری حقیقت اور پاکستان کی ابتدائی فوجی مشکلات

پاکستان کی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جنہیں آج کے سیاسی تناظر میں دیکھنے سے ان کی اصل تاریخی معنویت دھندلا جاتی ہے۔ 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیا تو ایک دلچسپ مگر بظاہر حیران کن حقیقت سامنے آئی: نئی مملکت کی فوج کا پہلا کمانڈر اِن چیف ایک برطانوی افسر، جنرل سر فرینک والٹر میسروی، تھا۔

یہ سوال فطری ہے کہ جس ملک نے برطانوی اقتدار سے آزادی حاصل کی، اس کی فوج کی کمان ایک برطانوی جنرل کے پاس کیوں رہی؟ کیا یہ آزادی کی نفی تھی؟ کیا پاکستان اپنی فوج چلانے کے قابل نہیں تھا؟ یا تقسیمِ ہند کے وقت حالات کچھ ایسے تھے کہ ایک عبوری انتظام ناگزیر ہو گیا تھا؟

تاریخی ریکارڈ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ معاملہ نہ اتنا سادہ تھا اور نہ اسے صرف "غلامی کی باقیات" یا "مکمل خودمختاری" کے دو خانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اصل کہانی تقسیمِ ہند کے وقت فوجی ڈھانچے کے انہدام، افسران کی شدید کمی، اسلحہ و سازوسامان کی تقسیم، تربیتی اداروں کے فقدان اور ایک ایسی فوج کی اچانک تشکیل سے متعلق ہے جسے تقریباً صفر سے منظم کرنا پڑا۔

آزادی کے دن صرف ملک تقسیم نہیں ہوا، فوج بھی تقسیم ہوئی

برطانوی ہندوستان کی فوج ایک متحد ادارہ تھی۔ 1947ء کی تقسیم کے نتیجے میں اسے بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنا پڑا۔ فیلڈ مارشل سر کلاڈ آکن لیک کو اس عمل کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی۔

نیشنل آرمی میوزیم کے مطابق تقریباً 260,000 فوجی بھارت کو اور تقریباً 140,000، جن میں اکثریت مسلمان اہلکاروں کی تھی، پاکستان کو ملے۔ دوسرے ذرائع پاکستانی فوج کی ابتدائی نفری تقریباً ڈیڑھ لاکھ بیان کرتے ہیں۔ اعداد میں فرق تقسیم کے مختلف مراحل اور فوجی یونٹس کی منتقلی کی وجہ سے ہے، مگر بنیادی حقیقت میں اختلاف نہیں کہ پاکستان کو ایک بڑی مگر نامکمل فوجی مشینری ملی تھی۔

اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو صرف فوجی جوان نہیں ملے؛ اسے ایک مکمل فوجی نظام بھی درکار تھا—ہیڈکوارٹر، ریکارڈ، تربیتی ادارے، اسلحہ، گولہ بارود، مواصلاتی نظام، نقل و حمل، اسٹاف افسران اور تجربہ کار کمانڈرز۔

یہ سب کچھ ایک دن میں پیدا نہیں کیا جا سکتا تھا۔

اصل مسئلہ سپاہی نہیں، افسر تھا

پاکستان کی ابتدائی فوج کا سب سے بڑا بحران افرادی قوت کا ایک خاص حصہ تھا: تجربہ کار کمیشنڈ افسران۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستانی مسلح افواج کو تقریباً 4,000 افسران درکار تھے، مگر ابتدا میں دستیاب تعداد تقریباً 2,300 تھی۔ بعض عسکری مطالعات کے مطابق پاکستان کے پاس صرف ایک میجر جنرل، دو بریگیڈیئر اور چند درجن کرنل تھے، جبکہ نئی فوج کو اس سے کہیں زیادہ سینئر افسران درکار تھے۔

یہاں ایک بنیادی تاریخی نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔

برطانوی ہندوستانی فوج میں ہندوستانی افسران کو کمیشن ملنا شروع ہو چکا تھا، لیکن برطانوی دور کے اختتام تک مقامی افسران کی پوری نسل ابھی اس سطح تک نہیں پہنچی تھی جہاں وہ بڑے پیمانے پر کور، ڈویژن اور فوجی ہیڈکوارٹرز کی کمان سنبھال سکیں۔

یعنی پاکستان کے پاس بہادر اور تجربہ کار مسلمان سپاہی بڑی تعداد میں تھے، لیکن ان سپاہیوں کو ایک جدید فوجی ادارے میں منظم کرنے کے لیے مطلوبہ تعداد میں سینئر پاکستانی افسر موجود نہیں تھے۔

یہی وہ خلا تھا جس نے برطانوی افسران کی عارضی خدمات کو ضروری بنا دیا۔

کیا پاکستان میں کوئی سینئر مسلمان افسر موجود ہی نہیں تھا؟

یہ بات کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کے پاس کوئی سینئر مسلمان افسر موجود نہیں تھا۔

مثلاً محمد اکبر خان 1947ء میں بریگیڈیئر کے عہدے تک پہنچنے والے اہم مسلمان افسران میں شامل تھے، جبکہ ایوب خان بھی 1947ء میں بریگیڈیئر بن چکے تھے۔ تقسیم کے بعد متعدد پاکستانی افسران کو تیزی سے ترقی دے کر بڑے عہدے دیے گئے۔

مسئلہ یہ تھا کہ افراد موجود تھے، مگر پوری فوج کی اعلیٰ کمان کے لیے مطلوبہ تعداد میں تجربہ کار افسران، اسٹاف ڈھانچہ اور ادارہ جاتی تسلسل موجود نہیں تھا۔

یہ فرق بہت اہم ہے۔

ایک اور بڑا مسئلہ: فوجی ادارے بھی تقسیم ہو گئے

پاکستان نے آزادی کے ساتھ اپنی فوجی اکیڈمی اور تربیتی نظام بھی شروع سے بنانا تھا۔

مثلاً انڈین ملٹری اکیڈمی دہرادون بھارت کے حصے میں آئی، جبکہ پاکستان کو اپنی افسر تربیت کا نظام قائم کرنا پڑا۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول اکتوبر 1947ء میں قائم کی گئی اور جنوری 1948ء میں اس کا پہلا پاکستان بٹالین قائم ہوا۔

یعنی پاکستان کو بیک وقت فوج بھی چلانی تھی اور مستقبل کے اپنے افسر بھی تیار کرنے تھے۔

یہ ایک نوزائیدہ ریاست کے لیے غیر معمولی انتظامی چیلنج تھا۔

جنرل سر فرینک میسروی کون تھے؟

جنرل سر فرینک والٹر میسروی کوئی عام ریٹائرڈ برطانوی افسر نہیں تھے۔ وہ برطانوی ہندوستانی فوج کے انتہائی تجربہ کار افسر تھے اور پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں خدمات انجام دے چکے تھے۔

انہوں نے مختلف بڑے فوجی عہدوں پر کام کیا اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران ڈویژن کی کمان بھی کی۔ تقسیم کے وقت وہ برطانوی ہندوستانی فوج کے سینئر کمانڈرز میں شامل تھے۔

15 اگست 1947ء کو، یعنی پاکستان کے قیام کے فوراً بعد، انہیں پاکستان آرمی کا پہلا Commander-in-Chief مقرر کیا گیا۔ ان کی مدت 10 فروری 1948ء تک رہی۔

یہاں ایک اصطلاحی تصحیح بھی ضروری ہے: 1947ء میں عہدہ Commander-in-Chief تھا، موجودہ اصطلاح Chief of Army Staff (COAS) نہیں۔ 1972ء میں عہدے کی اصطلاح تبدیل ہوئی۔

کیا میسروی پاکستان پر برطانوی حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے؟

یہاں معاملہ قدرے پیچیدہ ہے۔

پاکستان آزادی کے بعد برطانوی سلطنت کا حصہ نہیں رہا تھا، لیکن وہ British Commonwealth کا Dominion تھا اور اس کی فوجی مشینری ابھی اسی برطانوی ہندوستانی فوج کے ادارہ جاتی ورثے سے نکلی تھی۔

چنانچہ متعدد برطانوی افسر پاکستان میں عبوری بنیادوں پر خدمات انجام دیتے رہے۔ ایک امریکی فوجی مطالعاتی مضمون کے مطابق آزادی کے وقت تقریباً 120 برطانوی افسر پاکستان آرمی میں سینئر عہدوں پر موجود تھے، جبکہ دیگر ذرائع کے مطابق بعد کے مرحلے میں تقریباً 500 برطانوی افسران نے مختلف حیثیتوں میں پاکستان کی خدمت جاری رکھی۔ دونوں اعداد کو ایک ہی زمرے کا سمجھنا درست نہیں؛ 120 کا حوالہ ابتدائی سینئر پوزیشنز سے ہے جبکہ تقریباً 500 کا عدد وسیع تر اور بعد کے رضاکارانہ قیام سے متعلق ہے۔

اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ پاکستان نے اپنی مرضی اور عملی ضرورت کے تحت ایک عبوری فوجی انتظام میں برطانوی ماہر افسران کی خدمات برقرار رکھیں۔

مگر اصل امتحان کشمیر میں ہوا

پاکستان کی فوج کے ابتدائی حالات کو سمجھنے کے لیے 1947ء کی کشمیر جنگ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اکتوبر 1947ء میں کشمیر میں جنگ شروع ہوئی۔ اس وقت پاکستان اور بھارت دونوں کی فوجیں بڑی حد تک ایسے برطانوی افسران کے زیر اثر تھیں جو تقسیم کے فوراً بعد بھی دونوں نئی ریاستوں میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

جنرل میسروی اس اہم موقع پر لندن میں تھے، اور جنرل ڈگلس گریسی قائم مقام کمانڈر اِن چیف کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال رہے تھے۔

گریسی نے پاکستانی فوج کو براہِ راست کشمیر بھیجنے کے حکم پر فوری عمل نہیں کیا اور معاملہ سپریم کمانڈر آکن لیک تک پہنچایا۔ اس وقت برطانوی افسران کے حوالے سے یہ اصول موجود تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ جنگ کی صورت میں برطانوی افسران اپنے عہدوں سے دستبردار ہو سکتے تھے۔ بعد ازاں قائداعظم نے صورتحال کے مطابق اپنا حکم واپس لیا۔

یہ واقعہ ایک اہم حقیقت سامنے لاتا ہے:

برطانوی افسران کی موجودگی محض تکنیکی مدد نہیں تھی؛ اس عبوری نظام کی اپنی حدود اور پیچیدگیاں بھی تھیں۔

لہٰذا یہ کہنا کہ برطانوی افسران صرف بے اختیار تکنیکی مشیر تھے، مکمل تصویر نہیں۔ اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں کہ پاکستان کی فوج اس وقت برطانوی حکومت کے براہِ راست ماتحت تھی۔

حقیقت دونوں کے درمیان ہے۔

میسروی کے بعد جنرل ڈگلس گریسی

10 فروری 1948ء کو میسروی کے بعد جنرل سر ڈگلس گریسی نے پاکستان آرمی کی کمان سنبھالی۔ وہ بھی برطانوی ہندوستانی فوج کے تجربہ کار افسر تھے اور پہلی و دوسری جنگِ عظیم میں خدمات انجام دے چکے تھے۔

ان کا دور 16 جنوری 1951ء تک جاری رہا۔ پاکستان کے فوجی ریکارڈ اور تاریخی فہرستوں میں میسروی اور گریسی دونوں کو پاکستان کے پہلے دو Commander-in-Chief کے طور پر درج کیا جاتا ہے۔

اس عرصے میں پاکستان فوجی اداروں کو مستحکم کرنے، افسران کی تربیت، کمانڈ اسٹرکچر، GHQ اور انتظامی نظام کو منظم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول اسی ابتدائی دور میں قائم ہوئی۔ اس کا مقصد مستقبل کے پاکستانی افسران کی اپنی تربیت کا مستقل نظام پیدا کرنا تھا۔

پھر پاکستانی کمانڈر اِن چیف کیوں لایا گیا؟

یہاں کہانی کا اگلا اہم باب شروع ہوتا ہے۔

1947ء میں جو پاکستانی افسر نسبتاً جونیئر تھے، انہیں جنگ، انتظام اور کمانڈ کا تجربہ حاصل ہوا۔ کئی افسران کو غیر معمولی رفتار سے ترقی دی گئی۔

ان میں محمد ایوب خان نمایاں تھے۔

ایوب خان 1947ء میں بریگیڈیئر تھے۔ 1948ء میں انہیں مشرقی پاکستان میں 14ویں انفنٹری ڈویژن کی کمان مقامی میجر جنرل کے رینک میں دی گئی۔ بعد ازاں وہ جنرل ہیڈکوارٹرز واپس آئے اور فوج کے اہم انتظامی عہدوں پر کام کیا۔

جنوری 1951ء تک پاکستانی افسران کی ایک نئی سینئر نسل سامنے آ چکی تھی۔

چنانچہ 17 جنوری 1951ء کو محمد ایوب خان نے جنرل گریسی کی جگہ پاکستان آرمی کے پہلے مقامی Commander-in-Chief کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی۔

یوں پاکستان آرمی کے قیام کا تقریباً ساڑھے تین سالہ عبوری مرحلہ ختم ہوا۔

مگر ایوب خان کا انتخاب بھی سادہ معاملہ نہیں تھا

یہاں تاریخ کا ایک اور دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے۔

ایوب خان 1951ء میں سب سے زیادہ سینئر پاکستانی جنرل نہیں تھے۔ ان کی تقرری میں بعض سینئر افسران کو سپرسیڈ کیا گیا۔ اس معاملے میں دفاعی حکام، خصوصاً اسکندر مرزا کے کردار کا بھی تاریخی حوالوں میں ذکر ملتا ہے۔

اس لیے یہ کہنا بھی درست نہیں کہ "جیسے ہی پاکستانی افسر تیار ہوئے، سب سے سینئر افسر خود بخود آرمی چیف بن گیا۔"

اصل میں یہ ایک سیاسی، انتظامی اور فوجی انتخاب تھا۔

بعد کے برسوں میں ایوب خان کا کردار پاکستان کی سیاست میں بہت بڑا ہو گیا، مگر یہ ایک الگ تاریخی باب ہے۔

کیا قائداعظم کے پاس کوئی دوسرا راستہ تھا؟

یہ سوال شاید سب سے زیادہ اہم ہے۔

1947ء میں پاکستان کے پاس تین ممکنہ راستے تصور کیے جا سکتے تھے:

اول، تمام اعلیٰ فوجی عہدے فوراً پاکستانی افسران کو دے دیے جاتے، خواہ ان کے پاس مطلوبہ سطح کا کمانڈ تجربہ کم ہوتا۔

دوم، فوجی نظام کو شدید عبوری بحران کے خطرے کے باوجود تیزی سے مکمل طور پر مقامی بنا دیا جاتا۔

سوم، محدود مدت کے لیے تجربہ کار غیر ملکی خصوصاً برطانوی افسران کی خدمات برقرار رکھتے ہوئے پاکستانی افسران کو تیزی سے تیار کیا جاتا۔

پاکستان نے بنیادی طور پر تیسرا راستہ اختیار کیا۔

یہ فیصلہ اس لیے قابل فہم تھا کہ نئی ریاست ایک ہی وقت میں مہاجرین کی آبادکاری، سرحدی مسائل، کشمیر کا بحران، مالی مشکلات، اداروں کی تشکیل اور فوج کی تنظیمِ نو جیسے کئی بڑے بحرانوں سے گزر رہی تھی۔

ایک غلط فہمی کی اصلاح

یہاں ایک اور اہم تصحیح ضروری ہے۔

یہ کہنا کہ "پاکستان کے پاس فوجی افسر بالکل نہیں تھے" غلط ہے۔

اور یہ کہنا بھی غلط ہے کہ "پاکستان نے اپنی فوج انگریزوں کے حوالے کر دی تھی۔"

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پاس ہزاروں مقامی افسران اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے قریب فوجی نفری تھی، مگر اعلیٰ سطح کی کمان، اسٹاف ورک اور ادارہ جاتی تجربے میں شدید خلا موجود تھا۔

اسی خلا کو عارضی طور پر برطانوی اور بعض دوسرے غیر ملکی ماہر افسران نے پُر کیا۔

پاکستان نے اسی دوران اپنے مقامی افسران کو تیزی سے ترقی دی، نئے تربیتی ادارے قائم کیے اور فوجی کمان کا مقامی ڈھانچہ تشکیل دیا۔

ایک اور اہم نکتہ: یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں تھا

یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ تقسیم کے وقت بھارت کو بھی مکمل طور پر "ہندوستانی قیادت والی" فوج فوراً نہیں ملی تھی۔

برطانوی افسران نے بھارت میں بھی عبوری دور کے دوران اہم فوجی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ برطانوی ہندوستانی فوج کے بٹوارے کے بعد دونوں نئی ریاستوں کو ایک ہی بنیادی مسئلے کا سامنا تھا: ایک بڑی نوآبادیاتی فوج کو دو نئی قومی افواج میں تبدیل کرنا۔

فرق یہ تھا کہ بھارت کو سابقہ برطانوی ہندوستان کے بڑے فوجی اداروں، تربیتی مراکز اور نسبتاً وسیع تر وسائل کا بڑا حصہ ملا، جبکہ پاکستان کو ایک نئے فوجی نظام کو زیادہ محدود وسائل کے ساتھ کھڑا کرنا پڑا۔

تو کیا یہ پاکستان کی کمزوری تھی؟

تاریخی طور پر زیادہ محتاط جواب یہ ہے:

یہ پاکستان کی ادارہ جاتی کمزوری ضرور تھی، لیکن اسے لازماً سیاسی غلامی قرار دینا درست نہیں۔

نئی ریاست کے پاس وقت کم تھا، تجربہ کار اعلیٰ افسر کم تھے، فوجی ادارے تقسیم ہو چکے تھے اور جنگی حالات فوری طور پر سامنے آ گئے تھے۔

ایسے ماحول میں ایک تجربہ کار عبوری کمانڈر کا تقرر ایک عملی انتظام تھا۔

البتہ اس انتظام کی اپنی حدود بھی تھیں، اور کشمیر کے ابتدائی بحران میں برطانوی کمان کے رویے نے یہ ثابت بھی کیا کہ مکمل قومی خودمختاری کے لیے فوجی کمان کا مقامی ہونا بالآخر ضروری تھا۔

حاصلِ کلام

14 اگست 1947ء کو پاکستان آزاد ہوا تو اس کی فوج کا کمانڈر اِن چیف جنرل سر فرینک میسروی تھا۔ یہ تاریخی حقیقت اپنی جگہ بالکل درست ہے۔

لیکن اس حقیقت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ پاکستان آزادی کے بعد بھی فوجی طور پر برطانیہ کے زیرِ تسلط تھا، تاریخی شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔

اسی طرح یہ دعویٰ بھی مبالغہ ہوگا کہ برطانوی افسران کی موجودگی محض رسمی تھی اور ان کا کوئی حقیقی اختیار نہیں تھا۔

اصل تصویر کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

پاکستان نے ایک ایسی فوج ورثے میں پائی جو ابھی تقسیم ہو رہی تھی۔ اس کے پاس تقریباً ڈیڑھ لاکھ فوجی تھے، مگر مطلوبہ تعداد میں سینئر افسر نہیں تھے؛ تربیتی ادارے محدود تھے؛ فوجی سامان اور ریکارڈ کی تقسیم نامکمل تھی؛ اور اسی وقت کشمیر کا بحران سر پر آ گیا تھا۔

چنانچہ فرینک میسروی اور ڈگلس گریسی کا دور پاکستانی فوج کی مستقل غیر ملکی کمان سے زیادہ ایک عبوری مرحلہ تھا۔

17 جنوری 1951ء کو ایوب خان کی تقرری کے ساتھ یہ مرحلہ ختم ہوا اور پاکستان آرمی کو پہلی مرتبہ ایک مقامی Commander-in-Chief ملا۔

تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ریاستیں صرف آزادی کا اعلان کرکے مضبوط نہیں ہوتیں؛ انہیں ادارے بھی بنانے پڑتے ہیں۔ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں فوجی ادارے کی تعمیر اسی مشکل اور ہنگامہ خیز عمل کا حصہ تھی۔

اور شاید یہی اس واقعے کا سب سے اہم پہلو ہے: 1947ء میں پاکستان کو صرف ایک ملک نہیں ملا تھا؛ اسے ایک ملک بنانا بھی تھا۔

Address

Bhakkar
3000

Telephone

03337973808

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amazing Bhakkar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Amazing Bhakkar:

Shortcuts

Share