Amazing Bhakkar

Amazing Bhakkar تاریخ,سیاست,مقامی حکومتیں اور اہم واقعات.
تاریخ بھکر س?

تخم بالنگاتخم بالنگا جسکا نام بگاڑا گیا ھے ھم جیسے دیسی لوگ تخ ملنگاں بھی کہتے ہیں کی افادیت اور استمعال سے یقینا بہت سے...
01/06/2026

تخم بالنگا
تخم بالنگا جسکا نام بگاڑا گیا ھے ھم جیسے دیسی لوگ تخ ملنگاں بھی کہتے ہیں کی افادیت اور استمعال سے یقینا بہت سے لوگ واقف ہیں ۔ لیکن لوگوں کیلئے یہ کچھ خاص اہمیت کا حامل نہیں جبکہ اسکے ایک چمچ کی قدرتی افادیت کسی ملٹی وٹامنز کی گولی سے کم نظر نہیں آتی اس میں دودھ کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ کیلشیم اور نارنجی کے مقابلے میں سات گنا زیادہ وٹامن سی موجود ہوتا ہے ۔ یہ جوڑوں کے درد کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے ، نیند کو بہتر بناتا ہے ، آنتوں کی صفائی کرتا ہے اور نظام ہاضمہ درست کرتا ہے ۔ یہ بڑھتے وزن کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی مفید ہے معدے کے مسائل سے بچنے اور وزن کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے تخم بالنگا سے ایک بہترین مشروب تیار کیا جا سکتا ہے ۔ اور اسکا استعمال گرمیوں میں ناشتے کے ساتھ یا پہلے با آسانی کیا جا سکتا ھے
✨تخم بالنگا ایک نظر میں
تخم بالنگا اومیگا تھری فیٹی ایسڈ، آئرن، فائبر، کیلشیم، اینٹی آکسائیڈینٹ کے علاوہ پروٹین سے بھی بھرپُور ہوتاہے 26 گرام تخم بالنگا میں تقریباً 4 گرام پروٹین ہوتی ہے، اس بیج کو ہمیشہ کسی دوسرے کھانے میں شامل کرکے یا پانی میں بھگو کر استعمال کرنا چاہیے۔
✨تخم بالنگاں Nutrition
یونائیٹڈ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف ایگری کلچر کے مطابق 26 گرام تخم بالنگا میں 120 کیلوریز، 5 گرام چکنائی، 14 گرام کاربوہائیڈریٹس، 14 گرام ڈائیٹری فائبر،تقریباً 4 گرام پروٹین اور صفر شوگر ہوتی ہے۔
✨فائدے
پودوں کے بیج صحت پر انتہائی مفید اثرات ڈالتے ہیں یہ جہاں جسم کو توانائی پہنچاتے ہیں وہاں بہت سی بیماریوں سے بچاتے ہیں جن میں موٹاپا، شوگر، دل کی بیماریاں وغیرہ شامل ہیں ۔
🔹1۔ آرتھرائٹس کے درد میں آرام دیتا ہے
🔹2۔ نیند کو بہتر بنانے کا معاون ہے
🔹3۔ مختلف قسم کے سرطان سے حفاظت کرتا ہے۔
🔹4۔ خون میں شوگر کی سطح کو اعتدال میں لاتا ہے۔
🔹5۔ آنتوں کی صفائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
🔹 6-مدافعتی نظام کو مزید طاقت فراہم کرتا ہے۔
🔹7-نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے
✨تخم بالنگا اور فائبر کی طاقت
امریکن فوڈ ہدایات کے مطابق پچاس سال سے کم عُمر مردوں کو روزانہ 30.8 گرام فائبر اور پچاس سال سے کم عُمر خواتین کو 25.2 گرام ڈائیٹری فائبر روزانہ استعمال کرنی چاہیے اور پچاس سال سے زیادہ عؐمر کے مردوں کو 28 گرام اور عورتوں کو 22.4 گرام فائبر روزانہ کھانی چاہیے۔
تخم بالنگا کے صرف ایک اونس میں 14 گرام فائبر ہوتی ہے جو فائبر کی روزانہ کی مطلوبہ مقدار کا نصف سے زیادہ ہے۔
✨تخم بالنگا وزن کم کرتا ھے
وہ کھانے جن میں فائبر زیادہ ہوتی ہے معدہ کو بھرا رکھتے ہیں اور وزن کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
✨تخم بالنگا دل کی بیماریوں کے لیے
تخم بالنگا اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور ہوتا ہے جو دل کے لیے انتہائی مُفید ہے یہ دل کی بند نالیوں کو کھلولتا ہے یہ جسم پر عمر کے ساتھ پڑنے والے اثرات کو سست کر دیتا ہے اور بندے کو جوان رکھتا ہے اور کولیسٹرال لیول کو بھی کم کرتا ہے۔
✨ذیابطیس کے لیے تخم بالنگا
تخم بالنگا کھانے کو جلد ہضم کرکے جُز بدن بناتا ہے اور اس میں موجود الفالائنولک ایسڈ اور فائبر گلوکوز کے خون میں شامل ہونے کا عمل سُست کر دیتی ہے جس سے انسولین ہارمون کو زیادہ کام نہیں کرنا پڑتا اور شوگر جیسی بیماری سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
✨ہڈیوں کے لیے انتہائی مُفید
تخم بالنگا فاسفورس جو ہڈیوں کے لیے نقصان دہ ہے کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور اس میں موجود کیلشیم کی بڑی مقدار ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے اس کے علاوہ اس بیج میں زنک کی موجودگی مُنہ اور دانتوں کی صحت کے لیے انتہائی مُفید ہے۔
✨ہاضمے کے لیے
فائبر پیٹ کی صفائی کر دیتا ہے یہ معدے کو متحرک کرتا ہے اور اُسے مختلف قسم کے کھانے ہضم کرنے میں ایندھن کا کام کرتا ہے اور فضلے کو جسم سے خارج کرتا ہے اور نظام اہنظام کے لیے انتہائی مُفید ہے۔
✨تخم بالنگا کے نقصانات
اس پودے کے بیج کو ہمیشہ پانی میں بھگو کر یا کسی دوسرے کھانے میں شامل کر کے ہی کھانا چاہیے اور اگر اس کو بغیر پانی یا کسی اور کھانے کے استعمال کیا جائے تو یہ نگلنے کی بہت سی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ یہ اپنے وزن سے 27 گُنا زیادہ پانی چُوس لیتا ہے اور خوراک کی نالی میں پھنس جاتا ہے۔
نوٹ: چھوٹے بچوں کو تخم بالنگا سوکھا کھانے کو نہیں دینا چاہیئے

3 اپریل 1973 کی صبح نیویارک کی ایک مصروف سڑک پر ایک شخص کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں ایک عجیب سا آلہ تھا، بھاری، بڑا اور دیکھ...
31/05/2026

3 اپریل 1973 کی صبح نیویارک کی ایک مصروف سڑک پر ایک شخص کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں ایک عجیب سا آلہ تھا، بھاری، بڑا اور دیکھنے میں بالکل انوکھا۔ راہگیر رک رک کر دیکھ رہے تھے، کچھ ہنس رہے تھے اور کچھ حیران تھے۔ لیکن اس شخص نے پرواہ نہیں کی، اس نے وہ آلہ کان سے لگایا اور ایک نمبر ڈائل کیا۔ دوسری طرف سے آواز آئی اور تاریخ بدل گئی۔ یہ شخص مارٹن کوپر تھا اور وہ لمحہ دنیا کی پہلی موبائل فون کال کا لمحہ تھا۔

مارٹن کوپر 26 دسمبر 1928 کو شکاگو میں پیدا ہوئے۔ یوکرینی تارکین وطن والدین کے گھر جنم لینے والے اس بچے نے بچپن سے ہی ٹیکنالوجی میں گہری دلچسپی دکھائی۔ الینوائے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈگری لی اور پھر امریکی بحریہ میں خدمات انجام دیں۔ 1954 میں موٹورولا کمپنی جوائن کی جہاں ان کی زندگی کا اصل سفر شروع ہوا۔ موٹورولا میں انہوں نے پولیس کے لیے پورٹیبل ریڈیو سسٹم بنائے اور یہیں ان کے ذہن میں وہ خیال پیدا ہوا جس نے دنیا بدل دی۔

اس وقت ٹیلی فون کی دنیا پر اے ٹی اینڈ ٹی کمپنی کا غلبہ تھا اور وہ کار فون بنانے پر کام کر رہے تھے یعنی فون تو موبائل ہوگا لیکن گاڑی سے منسلک۔ مارٹن کوپر اس سوچ سے متفق نہیں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ فون انسان کو ملنا چاہیے نہ کہ جگہ کو۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ کسی کو فون کرتے ہیں تو آپ اس کے گھر کو نہیں بلکہ اس انسان کو فون کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک سادہ سا خیال تھا لیکن اس خیال نے پوری دنیا بدل دی۔

موٹورولا نے مارٹن کوپر کی ٹیم کو یہ پروجیکٹ دیا اور صرف 90 دنوں میں انہوں نے دنیا کا پہلا ہینڈ ہیلڈ موبائل فون بنا لیا جسے ڈائناٹاک 8000X کا نام دیا گیا۔ یہ فون تقریباً ایک کلو وزنی تھا، لمبائی 23 سینٹی میٹر تھی اور اس کی بیٹری صرف 30 منٹ چلتی تھی لیکن چارج ہونے میں 10 گھنٹے لگتے تھے۔ اور 3 اپریل 1973 کو مارٹن کوپر نے اس فون سے اپنے حریف کمپنی اے ٹی اینڈ ٹی کے سربراہ جوئل اینگل کو فون کیا اور کہا کہ میں ایک سچے موبائل فون سے بات کر رہا ہوں۔ اس کال کو سن کر اینگل کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلا۔

لیکن یہ فون عام لوگوں تک پہنچنے میں مزید 10 سال لگے۔ 1983 میں موٹورولا نے پہلا کمرشل موبائل فون مارکیٹ میں لایا جس کی قیمت 3995 ڈالر تھی جو آج کے حساب سے تقریباً 12000 ڈالر بنتی ہے۔ یعنی صرف امیر لوگ ہی یہ فون خرید سکتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ ٹیکنالوجی بہتر ہوئی، قیمتیں کم ہوئیں اور 1990 کی دہائی میں موبائل فون عام لوگوں تک پہنچنا شروع ہوا۔ 1993 میں دنیا کا پہلا سمارٹ فون آیا جس میں ٹچ اسکرین تھی، ای میل تھی اور کیلنڈر تھا۔ 2007 میں ایپل کے سٹیو جابز نے آئی فون متعارف کروایا اور اس نے فون کو ایک بار پھر بالکل نئی دنیا میں لے جا کر کھڑا کر دیا۔

مارٹن کوپر نے جو خواب دیکھا تھا وہ آج اس سے بھی بڑا ہو چکا ہے۔ آج دنیا میں 8 ارب سے زیادہ موبائل فون کنکشنز ہیں یعنی دنیا کی آبادی سے بھی زیادہ۔ ایک ایسا آلہ جو 1973 میں ایک کلو وزنی تھا آج آپ کی جیب میں ہے، اس میں کیمرہ ہے، انٹرنیٹ ہے، نقشہ ہے، موسیقی ہے اور پوری دنیا سے جڑنے کی طاقت ہے۔ مارٹن کوپر آج بھی زندہ ہیں، 96 سال کی عمر میں بھی ٹیکنالوجی پر بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ موبائل فون کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ ابھی تو شروع ہوا ہے۔ ایک انسان کا ایک خیال، ایک کال اور پوری دنیا بدل گئی۔

31/05/2026
دنیا کا سب سے پرانا بینکنگ سسٹم — مراکش کے قدیم غلہ خانے مورخین کے مطابق مراکش میں موجود اگودار (Igudar) غلہ خانے دنیا ک...
31/05/2026

دنیا کا سب سے پرانا بینکنگ سسٹم — مراکش کے قدیم غلہ خانے

مورخین کے مطابق مراکش میں موجود اگودار (Igudar) غلہ خانے دنیا کا سب سے پرانا بینک سمجھے جاتے ہیں جن کی تاریخ تیرھویں صدی عیسوی تک جاتی ہے۔ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اس سے بھی پرانے ہیں کیونکہ یہ غلہ خانے پہاڑوں میں بنے ہوئے ہیں جو خود ہزاروں سال پرانے ہیں۔

یہ غلہ خانے امازیغ قوم (ایک قدیم قوم ہے جو شمالی افریقہ میں ہزاروں سال سے آباد ہیں۔ یہ لوگ خود کو "ایمازیغن" کہتے ہیں، جس کا مطلب ہے "آزاد لوگ" یا "آزاد انسان")۔کے تھے جو چار ہزار سال پہلے مراکش میں آ کر آباد ہوا کرتے تھے۔ یہ قوم زیادہ تر مراکش کے جنوبی پہاڑی علاقوں میں رہتی تھی۔ جنہوں نے پہاڑوں کی غاروں اور چٹانوں میں غلہ خانے بنانا شروع کیے تھے امازیغ لوگ تقریباً 4000 سال سے زیادہ عرصے سے مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا اور مصر کے علاقوں میں آباد رہے ہیں یہ لوگ فرعونوں سے بھی پہلے کے دور سے ان علاقوں میں رہ رہے ہیں۔

ہر امازیغ خاندان کا ایک غلہ خانہ ہوتا تھا جس میں وہ اپنی قیمتی چیزیں رکھتے تھے، جیسے کہ کھانے کا سامان، زیورات، ہتھیار، اور کاغذات۔ کچھ غلہ خانے اتنے بڑے ہوتے تھے کہ جنگ کے دوران پناہ گاہ کے طور پر بھی استعمال ہوتے تھے ۔ کچھ میں بِلیوں کو بھی رکھا جاتا تھا تاکہ وہ چوہوں سے سامان کو محفوظ رکھ سکیں۔

ان غلہ خانوں کو سنبھالنے کے لیے امازیغ لوگوں کے پاس مختلف طریقے ہوتے تھے۔ سب سے پہلے وہ لکڑی کی تختیوں پر ریکارڈ رکھتے تھے کہ کون سا سامان کس کا ہے۔ غلہ خانے کی نگرانی ایک سیکرٹری کرتا تھا جسے "لامین" کہتے تھے۔

ہر قبیلہ اپنے نمائندے منتخب کرتا تھا جن کی ایک کمیٹی بنتی تھی جسے "انفلاس" کہتے تھے، اور ہر غلہ خانے کی ایک چابی ہوتی تھی جو "امیر" کے پاس ہوتی تھی۔

قبیلے صرف امیر کو سامان کی حفاظت کے بدلے میں اجرت دیتے تھے، جبکہ باقی لوگ اپنے غلہ خانوں کی خود بھی حفاظت کرتے تھے۔

سب سے پرانا اور بڑا اگودار "اگادیر امشگگیلن" ہے جو 700 سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ حالیہ مرمت کے دوران پتہ چلا کہ اس میں 130 غلہ خانے، ایک مرکزی چوک، ایک مسجد اور ایک قید خانہ بھی موجود ہے۔

29/05/2026

میلہ یوم تکبیر بستی میاں پنجہ
ڈیرہ رانا محمد گل خان
29 مئی 2026

والی بال میچ 6:00
اولکھ کلب بمقابلہ خان کلب

اولکھ کلب .
ملک اللہ دتہ
ملک فیضان راں
ملک رضوان اولکھ
ملک عبداللہ اولکھ

خان کلب
الیاس شیخ
کامران خان عرف طوطا
غلام عباس بلوچ
راشد بلوچ

قسطنطنیہ کی فتح،جسے یورپ آج تک نہیں بھولا.29 مئی 1453: رات کا ڈیڑھ بجا ہے۔ دنیا کے ایک قدیم اور عظیم شہر کی فصیلوں اور گ...
29/05/2026

قسطنطنیہ کی فتح،
جسے یورپ آج تک نہیں بھولا.
29 مئی 1453: رات کا ڈیڑھ بجا ہے۔ دنیا کے ایک قدیم اور عظیم شہر کی فصیلوں اور گنبدوں پر سے 19ویں قمری تاریخ کا زرد چاند تیزی سے مغرب کی طرف دوڑا جا رہا ہے جیسے اسے کسی شدید خطرے کا اندیشہ ہے۔

اس زوال آمادہ چاند کی ملگجی روشنی میں دیکھنے والے دیکھ سکتے ہیں کہ شہر کی فصیلوں کے باہر فوجوں کے پرے منظم مستقل مزاجی سے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ ان کے دل میں احساس ہے کہ وہ تاریخ کے فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔

یہ شہر قسطنطنیہ (موجودہ نام: استنبول) ہے اور فصیلوں کے باہر عثمانی فوج آخری ہلہ بولنے کی تیاری کر رہی ہے۔ عثمانی توپوں کو شہر پناہ پر گولے برساتے ہوئے 47 دن گزر چکے ہیں۔ کمانڈروں نے خاص طور پر تین مقامات پر گولہ باری مرکوز رکھ کر فصیل کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔

21 سالہ عثمانی سلطان محمد ثانی غیر متوقع طور پر اپنی فوج کے اگلے مورچوں پر پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ حتمی یلغار فصیل کے 'میسو ٹیکیون' کہلانے والے وسطی حصے سے کی جائے گی جس میں کم از کم نو شگاف پڑ چکے ہیں اور خندق کا بڑا حصہ پاٹ دیا گیا ہے۔

سر پر بھاری پگڑ باندھے اور طلائی خلعت میں ملبوس سلطان نے اپنے سپاہیوں کو ترکی زبان میں مخاطب کیا: 'میرے دوستوں اور بچو، آگے بڑھو، اپنے آپ کو ثابت کرنے کا لمحہ آ گیا ہے!'

اس کے ساتھ ہی نقاروں، قرنوں، طبلوں اور بگلوں کے شور نے رات کی خاموشی کو تار تار کر دیا، لیکن اس کان پھاڑتے شور میں بھی عثمانی دستوں کے فلک شگاف نعرے صاف سنائی دیے جا سکتے تھے جنھوں نے فصیل کے کمزور حصوں پر ہلہ بول دیا۔ ایک طرف خشکی سے اور دوسری طرف سے سمندر میں بحری جہازوں پر نصب توپوں کے دہانوں نے آگ برسانا شروع کر دی۔

بازنطینی سپاہی اس حملے کے لیے فصیلوں پر تیار کھڑے تھے۔ لیکن پچھلے ڈیڑھ ماہ کے محاصرے نے ان کے حوصلے پست اور اعصاب شکستہ کر دیے تھے۔ بہت شہری بھی مدد کے لیے فصیلوں پر آ پہنچے اور پتھر اٹھا اٹھا کر کے نیچے اکٹھا ہونے والے حملہ آوروں پر پھینکنا شروع کر دیے۔ دوسرے اپنے اپنے قریبی چرچ کی طرف دوڑے اور گڑگڑا گڑگڑا کر مناجاتیں شروع کر دیں۔ پادریوں نے شہر کے متعدد چرچوں کی گھنٹیاں پوری طاقت سے بجانا شروع کر دیں جن کی ٹناٹن نے ان لوگوں کو بھی جگا دیا جو ابھی تک سو رہے تھے۔

ہر فرقے سے تعلق رکھنے والے عیسائی اپنے صدیوں پرانے اختلاف بھلا کر ایک ہو گئے اور ان کی بڑی تعداد شہر کے سب سے بڑے اور مقدس کلیسا ہاجیہ صوفیہ میں اکٹھی ہو گئی۔

دفاعی فوج نے جانفشانی سے عثمانیوں کی یلغار روکنے کی کوشش کی۔ لیکن اطالوی طبیب نکولو باربیرو جو اس دن شہر میں موجود تھے، لکھتے ہیں کہ سفید پگڑیاں باندھے ہوئے حملہ آور جانثاری دستے ’بےجگر شیروں کی طرح حملہ کرتے تھے اور ان کے نعرے اور طبلوں کی آوازیں ایسی تھیں جیسے ان کا تعلق اس دنیا سے نہ ہو۔'

روشنی پھیلنے تک ترک سپاہی فصیل کے اوپر پہنچ گئے۔ اس دوران اکثر دفاعی فوجی مارے جا چکے تھے اور ان کا سپہ سالار جیووانی جسٹینیانی شدید زخمی ہو کر میدانِ جنگ سے باہر ہو چکا تھا۔

جب مشرق سے سورج کی پہلی کرن نمودار ہوئی تو اس نے دیکھا کہ ایک ترک سپاہی کرکوپورتا دروازے کے اوپر نصب بازنطینی پرچم اتار کر اس کی جگہ عثمانی جھنڈا لہرا رہا ہے۔

سلطان محمد سفید گھوڑے پر اپنے وزرا اور عمائد کے ہمراہ ہاجیہ صوفیہ پہنچے۔ صدر دروازے کے قریب پہنچ کر وہ گھوڑے سے اترے اور گلی سے ایک مٹھی خاک لے کر اپنی پگڑی پر ڈال دی۔ ان کے ساتھیوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

مسلمان سات سو سال کی جدوجہد کے بعد بالآخر قسطنطنیہ کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

قسطنطنیہ کی فتح محض ایک شہر پر ایک بادشاہ کے اقتدار کا خاتمہ اور دوسرے کے اقتدار کا آغاز نہیں تھا۔ اس واقعے کے ساتھ ہی دنیا کی تاریخ کا ایک باب ختم ہوا اور دوسرے کی ابتدا ہوئی تھی۔

ایک طرف 27 قبلِ مسیح میں قائم ہونے والی رومن امپائر 1480 برس تک کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہنے کے بعد اپنے انجام کو پہنچی، تو دوسری جانب عثمانی سلطنت نے اپنا نقطۂ عروج چھو لیا اور وہ اگلی چار صدیوں تک تین براعظموں، ایشیا، یورپ اور افریقہ کے حصوں پر بڑی شان سے حکومت کرتی رہی۔

1453 ہی وہ سال ہے جسے قرونِ وسطیٰ (مڈل ایجز) کا اختتام اور جدید دور کا آغاز بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ فتحِ قسطنطنیہ کو فوجی تاریخ کا سنگِ میل بھی قرار دیا جاتا ہے کیوں کہ اس کے بعد ثابت ہو گیا کہ اب بارود کے استعمال اور بڑی توپوں کی گولہ باری کے بعد فصیلیں کسی شہر کے تحفظ کے لیے ناکافی ہیں۔

شہر پر ترکوں کے قبضے کے بعد یہاں سے ہزاروں کی تعداد میں یونانی بولنے والے شہری بھاگ کر یورپ اور خاص طور پر اٹلی کے مختلف شہروں میں جا بسے۔ اس وقت یورپ 'تاریک دور' سے گزر رہا تھا اور قدیم یونانی تہذیب سے کٹا ہوا تھا۔ لیکن اس تمام عرصے میں قسطنطنیہ میں یونانی زبان اور ثقافت بڑی حد تک برقرار رہی تھی۔ یہاں پہنچنے والے مہاجروں کے پاس ہیرے جواہرات سے بیش قیمت خزانہ تھا۔ ارسطو، افلاطون، بطلیموس، جالینوس اور دوسرے حکما و علما کے اصل یونانی زبان کے نسخے۔

ان سب نے یورپ میں قدیم یونانی علوم کے احیا میں زبردست کردار ادا کیا اور مورخین کے مطابق انھی کی وجہ سے یورپ میں نشاۃ الثانیہ کا آغاز ہوا جس نے آنے والی صدیوں میں یورپ کو باقی دنیا سے سبقت لینے میں مدد دی جو آج بھی برقرار ہے۔

تاہم نوجوان سلطان محمد کو، جسے آج دنیا سلطان محمد فاتح کے نام سے جانتی ہے، 29 مئی کی صبح جو شہر نظر آیا یہ وہ شہر نہیں تھا جس کی شان و شوکت کے افسانے اس نے بچپن سے سن رکھے تھے۔ طویل انحطاط کے بعد بازنطینی سلطنت آخری سانسیں لے رہی تھی اور قسطنطنیہ، جو صدیوں تک دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے مالدار شہر رہا تھا، اب اس کی آبادی سکڑ کر چند ہزار رہ گئی تھی اور شہر کے کئی حصے ویرانی کے سبب ایک دوسرے سے کٹ ہو کر الگ الگ دیہات میں تبدیل ہو گئے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ نوجوان سلطان نے شہر کی حالتِ زار دیکھ کر شیخ سعدی سے منسوب یہ شعر پڑھا:

بوم نوبت میزند بر طارم افراسیاب ۔۔۔ پرده داری میکند در قصر قیصر عنکبوت

(اُلو افراسیاب کے میناروں پر نوبت بجائے جاتا ہے ۔۔۔ قیصر کے محل پر مکڑی نے جالے بن لیے ہیں)

قسطنطنیہ کا قدیم نام بازنطین تھا۔ لیکن جب 330 عیسوی میں رومن شہنشاہ کونسٹینٹائن اول نے اپنا دارالحکومت روم سے یہاں منتقل کیا تو شہر کا نام بدل کر اپنے نام کی مناسبت سے کونسٹینٹینوپل کر دیا، (جو عربوں کے ہاں پہنچ 'قسطنطنیہ' بن گیا)۔ مغرب میں رومن امپائر کے خاتمے کے بعد یہ سلطنت قسطنطنیہ میں برقرار رہی اور چوتھی تا 13ویں صدی تک اس شہر نے ترقی کی وہ منازل طے کیں کہ اس دوران دنیا کا کوئی اور شہر اس کی برابری کا دعویٰ نہیں کر سکتا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمان شروع ہی سے اس شہر کو فتح کرنے کے خواب دیکھتے آئے تھے۔

چنانچہ اس مقصد کے حصول کی خاطر چند ابتدائی کوششوں کی ناکامی کے بعد 674 میں ایک زبردست بحری بیڑا تیار کر کے قسطنطنیہ کی سمت روانہ کیا۔ اس بیڑے نے شہر کے باہر ڈیرے ڈال دیے اور اگلے چار سال تک متواتر فصیلیں عبور کرنے کی کوششیں کرتا رہا۔

آخر 678 میں بازنطینی بحری جہاز شہر سے باہر نکلے اور انھوں نے حملہ آور عربوں پر حملہ کر دیا۔ اس بار ان کے پاس ایک زبردست ہتھیار تھا، جسے ’آتشِ یونانی‘ یا گریک فائر کہا جاتا ہے۔ اس کا ٹھیک ٹھیک فارمولا آج تک معلوم نہیں ہو سکا، تاہم یہ ایک ایسا آتش گیر مادہ تھا جسے تیروں کی مدد سے پھینکا جاتا تھا اور یہ کشتیوں اور جہازوں سے چپک جاتا تھا۔ مزید یہ کہ پانی ڈالنے سے اس کی آگ مزید بھڑک جاتی تھی۔

عرب اس آفت کے مقابلے کے لیے تیار نہیں تھے۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے تمام بحری بیڑا آتش زار کا منظر پیش کرنے لگا۔ سپاہیوں نے پانی میں کود کر جان بچانے کی کوشش کی لیکن یہاں بھی پناہ نہیں ملی کیوں کہ آتشِ یونانی پانی کی سطح پر گر کر بھی جلتی رہتی تھی اور ایسا لگتا تھا جیسے پورے بحرِ مرمرہ نے آگ پکڑ لی ہے۔

عربوں کے پاس پسپائی کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہا۔ واپسی میں ایک ہولناک سمندری طوفان نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور سینکڑوں کشتیوں میں سے ایک آدھ ہی بچ کر لوٹنے میں کامیاب ہو سکی۔

اسی محاصرے کے دوران مشہور صحابی ابو ایوب انصاری نے بھی اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ ان کا مقبرہ آج بھی شہر کی فصیل کے باہر ہے۔ سلطان محمد فاتح نے یہاں ایک مسجد بنا دی تھی جسے ترک مقدس مقام مانتے ہیں۔

اس کے بعد 717 میں بنو امیہ کے امیر سلیمان بن عبدالملک نے زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ ایک بار پھر قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا، لیکن اس کا بھی انجام اچھا نہیں ہوا، اور دو ہزار کے قریب جنگی کشتیوں میں سے صرف پانچ بچ کر واپس آنے میں کامیاب ہو سکیں۔

شاید یہی وجہ تھی کہ اس کے بعد چھ صدیوں تک مسلمانوں نے دوبارہ قسطنطنیہ کا رخ نہیں کیا، حتیٰ کہ سلطان محمد فاتح نے بالآخر شہر پر اپنا جھنڈا لہرا کر سارے پرانے بدلے چکا دیے۔

شہر پر قبضہ جمانے کے بعد سلطان نے اپنا دارالحکومت ادرنہ سے قسطنطنیہ منتقل کر دیا اور خود اپنے لیے قیصرِ روم کا لقب منتخب کیا۔ آنے والے عشروں میں اس شہر نے وہ عروج دیکھا جس نے ایک بار پھر ماضی کی عظمت کی یادیں تازہ کر دیں۔

سلطان نے اپنی سلطنت میں حکم نامہ بھیجا: 'جو کوئی چاہے، وہ آ جائے، اسے شہر میں گھر اور باغ ملیں گے۔' صرف یہی نہیں، اس نے یورپ سے بھی لوگوں کو قسطنطنیہ آنے کی دعوت دی تاکہ شہر پھر سے آباد ہو جائے۔

اس کے علاوہ اس نے شہر کے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی ازسرِ نو تعمیر کی، پرانی نہروں کی مرمت کی اور نکاسی کا نظام قائم کیا۔ اس نے بڑے پیمانے پر نئی تعمیرات کا سلسلہ بھی شروع کیا جس کی سب سے بڑی مثال توپ کاپی محل اور گرینڈ بازار ہے۔ جلد ہی طرح طرح کے دست کار، کاریگر، تاجر، خطاط، مصور، سنار، اور دوسرے ہنرمند شہر کا رخ کرنے لگے۔

سلطان فاتح نے ہاجیہ صوفیہ کو چرچ سے مسجد بنا دیا، لیکن انھوں نے شہر کے دوسرے بڑے گرجا ’کلیسائے حواریان‘ کو یونانی آرتھوڈاکس فرقے کے پاس ہی رہنے دیا اور یہ فرقہ ایک ادارے کی صورت میں آج بھی قائم و دائم ہے۔

سلطان فاتح کے بیٹے سلیم کے دور میں عثمانی سلطنت نے خلافت کا درجہ اختیار کر لیا اور قسطنطنیہ اس کا دارالخلافہ، اور تمام سنی مسلمانوں کا مرکزی شہر قرار پایا۔

سلطان فاتح کے پوتے سلیمان عالیشان کے دور میں قسطنطنیہ نے نئی بلندیوں کو چھو لیا۔ یہ وہی سلیمان ہیں جنھیں مشہور ترکی ڈرامے 'میرا سلطان' میں دکھایا گیا ہے۔ سلیمان عالیشان کی ملکہ خرم سلطان نے مشہور معمار سنان کی خدمات حاصل کیں جس نے ملکہ کے لیے ایک عظیم الشان محل تعمیر کیا۔ سنان کی دوسری مشہور تعمیرات میں سلیمانیہ مسجد، خرم سلطان حمام، خسرو پاشا مسجد، شہزادہ مسجد اور دوسری عمارتیں شامل ہیں۔

یورپ پر سقوطِ قسطنطنیہ کا بڑا گہرا اثر ہوا اور وہاں اس سلسلے میں کتابیں اور نظمیں لکھی گئیں اور متعدد پینٹنگز بنائی گئیں اور یہ واقعہ ان کے اجتماعی شعور کا حصہ بن گیا۔

یہی وجہ ہے کہ یورپ کبھی اسے بھول نہیں سکا۔ نیٹو کا اہم حصہ ہونے کے باوجود یورپی یونین ترکی کو قبول کرنے لیت و لعل سے کام لیتی ہے جس کی وجوہات صدیوں پرانی ہیں۔

یونان میں آج بھی جمعرات کو منحوس دن سمجھا جاتا ہے۔ 29 مئی 1453 کو جمعرات ہی کا دن تھا۔

حضرت سليمانؑ کیلئے جنات کے کھودے ہوۓ کنویں...سعودی عرب کا ایک گاﺅں ”لینہ“ عہد قبل از تاریخ کے کئی عجائبات پر مشتمل ہے۔یہ...
29/05/2026

حضرت سليمانؑ کیلئے جنات کے کھودے ہوۓ کنویں...
سعودی عرب کا ایک گاﺅں ”لینہ“ عہد قبل از تاریخ کے کئی عجائبات پر مشتمل ہے۔

یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کیلئے جنات کے کھودے ہوئے 300 کنوئیں بھی ہیں۔ ان میں سے بیشتر اگرچہ ناکارہ ہو چکے ہیں، مگر 20 کنوﺅں سے اب بھی لوگ میٹھا پانی حاصل کرتے ہیں۔ جنات نے یہ کنوئیں زمین کے بجائے سخت ترین چٹانوں کو توڑ کر بنائے تھے، جس پر اب بھی ماہرین حیران ہیں۔ ان عجائبات کو دیکھنے کیلئے دور دور سے سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا یہ تاریخی گاﺅں ”لینہ“ مملکت کے شمالی شہر رفحا سے100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ قدیم علاقہ اسٹرٹیجک اہمیت کے ساتھ متعدد آثار قدیمہ کی وجہ سے ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔

یہاں ایک قدیم قلعہ بھی ہے۔ پرانے زمانے میں بیت المقدس اور یمن کے مابین پیدل سفر کا مشہور راستہ اسی گاﺅں سے گزرتا تھا۔

عدن سے عراق جانے والی ملکہ زبیدہ کی بنائی ہوئی مشہور سڑک ”درب زبیدہ“ بھی یہیں سے ہو کر جاتی تھی۔ اب بھی سیر و تفریح کے شائقین بڑی تعداد میں اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔

سعودی محقق حمد الجاسر کا کہنا ہے کہ اس قدیم گاﺅں میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر بھی اترا تھا۔
سلیمان علیہ السلام جب اپنا لشکر لے کر یمن جا رہے تھے تو یہاں ٹھہرے تھے۔ اس بے آب و گیاہ علاقے میں لشکر کو پانی کی ضرورت آئی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات کو حکم دیا کہ وہ ہنگامی طور پر کنوئیں کھودیں تو جنات نے چٹانوں پر مشتمل اس سخت ترین زمین میں 300 کنوئیں کھود دیئے تھے۔

یہ انتہائی گہرے کنوئیں اب بھی اصلی حالت پر موجود ہیں۔ جنہیں زمین پر اب بھی اپنا وجود رکھنے والا معجزہ قرار دیا جاتا ہے۔ جنات نے چٹانوں کو کاٹنے کیلئے ڈرل مشین کی طرح کوئی آلہ استعمال کیا تھا، جس کے نشانات اب بھی کنوﺅں کی چاروں اطراف واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

ماہرین اس پر تحقیق کر رہے ہیں کہ جنات نے آخر کس طرح ان سخت ترین چٹانوں کو 60 سے 80 میٹر گہرائی تک کاٹا تھا اور انہوں نے کونسے آلات کی مدد حاصل کی تھی۔ اگرچہ ان 300 میں سے اس وقت صرف 20 کنوئیں ہی کارآمد رہ گئے ہیں، تاہم سارے کنوﺅں کے نشانات اب بھی یہاں موجود ہیں۔ ان کنوﺅں کو دیکھنے والا ہر شخص حیرت زدہ ہو کر رہ جاتا ہے۔

تاریخی روایات کے مطابق جب حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے لاﺅ لشکر سمیت یمن جا رہے تھے تو وہ یہاں دوپہر کے کھانے کےلئے اترے تھے۔ لشکر میں جنات کی فوج بھی شامل تھی۔ جب لوگ پیاسے ہوئے تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات کی فوج کے کمانڈر ”سبطر“ کی طرف دیکھا تو وہ ہنس رہا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ آپ لوگ پیاس سے تڑپ رہے ہیں، مگر میٹھا پانی آپ کے قدموں کے نیچے ہی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے سبطر کو پانی نکالنے کا حکم دیا تو تھوڑی دیر میں ہی اس نے اپنی فوج کی مدد سے 300 کنوئیں کھود دیئے اور سیدنا سلیمانؑ کا پورا لشکر سیراب ہو گیا۔

معروف مورخ یاقوت حموی کے دور تک یہ سارے کنوئیں میٹھے پانی سے لبالب بھرے ہوئے تھے۔ یاقوت حموی نے اپنی مشہور کتاب ”معجم البلدان“ میں لکھا ہے کہ ”لینہ“ عراق کے شہر واسط سے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے ساتویں منزل پر آتا ہے۔ یہ علاقہ اپنے میٹھے پانی کے کنوﺅں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ ان کنوﺅں کی وجہ سے یہ علاقہ بعد میں ایک تجارتی مرکز بن گیا تھا۔ جہاں عراق اور عرب کے تاجر منڈیاں لگاتے۔ نجد سمیت سعودی عرب کے شمالی علاقوں کے لوگ یہاں آکر خریداری کرتے۔ تاجر اپنے سامان تجارت کو یہیں اگلے سیزن تک محفوظ کیلئے پہاڑوں پر بنے بڑے بڑے گوداموں میں رکھتے۔ جنہیں ”سیابیط“ کہا جاتا ہے۔ یہ گودام اب بھی وہاں موجود ہیں۔

علاوہ ازیں یہ علاقہ مختلف آثار قدیمہ کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ سعودی حکومت نے یہاں ایک شاہی قلعہ بھی تعمیر کرایا ہے۔1354 ھ میں تعمیر ہونے والے اس قلعے کو گارے، پتھروں اور لکڑیوں سے بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو حق تعالیٰ نے جنات پر بھی حکومت دی تھی۔ جنات نے ان کے حکم سے بیت المقدس کی تعمیر میں حصہ لیا تھا۔ وہ دور دراز سے پتھر اور سمندر سے موتیاں نکال کر لاتے تھے۔ ان کی تعمیر کردہ عمارتیں اب بھی موجود ہیں۔

اس کے علاوہ بھی حضرت سلیمان علیہ السلام جنات سے بہت سے کام لیتے تھے۔ جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی واضح طور پر کیا گیا ہے۔
۔

28/05/2026

*🌍 کرنسیوں کے نام کیسے پڑے ؟*

🌏 کیا کبھی آپ نے سوچا کرنسیوں کے نام کیسے پڑتے ہیں جس کا علم سب کو ہونا چاہئے۔۔۔

💴 ڈالر :
ڈالر دنیا میں سب سے زیادہ معروف کرنسی ہے، امریکا، آسٹریلیا، کینیڈا، فجی، نیوزی لینڈ اور سنگا پور کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے ممالک میں بھی ڈالر کا استعمال ہوتا ہے، ڈالر کا قدیم نام جوشمز دالر سے لیا گیا ہے، یہ اس وادی کا نام ہے، جہاں سے چاندی نکال کر سکے بنائے جاتے تھے۔ جس کیوجہ سے سکوں کا نام بھی اسی وادی کے نام پر رکھ دیا گیا۔ بعد ازاں اس نام سے جوشمز نکال دیا گیا اور صرف دالر رہ گیا جو بعد میں ڈالر کہلانے لگا۔

💶 دینار :
دینار لاطینی لفظ دیناریئس سے نکلا ہے، ، جو چاندی کے قدیم رومی سکے کا نام ہے اب کویت، سربیا، الجیریا، اردن و دیگر ممالک میں دینار ہی استعمال کیا جاتا ہے

💴 روپیہ :
روپیہ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی چاندی یا ڈھلی ہوئی(ساختہ) چاندی کے ہیں۔

💶 ریال :
ریال لاطینی لفظ ریغالس سے اخذ کیا گیا ہے جس کا تعلق شاہ خاندان سے ہوتا ہے عرب ممالک میں سے عمان، قطر، سعودی عرب اور یمن وغیرہ میں ریال استعمال ہوتا ہے ۔ اس سے قبل ہسپانوی کرنسی کو رئیل کہا جاتا تھا۔

💴 لیرا :
اٹلی اور ترکی میں لیرا نامی کرنسی رائج ہے، یہ ایک لاطینی لفظ لبرا سے نکالا گیا ہے۔

💶 کرونا :
کرونا کو لاطینی کرونا سے نکالا گیا ہے، جس کا مطلب تاج یا کراؤن ہے، شمالی یورپ کے مختلف ممالک میں کرونا نامی کرنسی استعمال ہوتی ہے، سوئیڈن، ناروے، ڈنمارک، آئسلینڈ اور اسٹونیا یہاں تک کہ چیک جمہوریہ میں بھی۔

💴 پاؤنڈ :
پھر برطانیہ کا مشہور زمانہ پاؤنڈ ہے جو دراصل لاطینی لفظ ”پاؤنڈس“ سے نکلا ہے جو وزن کو ہی کہتے ہیں۔ برطانیہ کے
علاوہ، مصر، لبنان، سوڈان اور شام میں بھی کرنسی پاؤنڈ کہلاتی ہے۔

💶 پیسو :
میکسیکو کی کرنسی پیسو ہے۔ جو ایک ہسپانوی لفظ ہے جس کا معنی بھی یہی ہیں یعنی ”وزن“۔

💴 یوآن ، ین ، وون :
چینی یوان، جاپانی ین اور کورین وون کی ابتدا ایک چینی حرف سے ہوئی ہے، جس کا مطلب ہے ”گول“ یا ”گول سکہ“۔رویبل:

💶 ہنگری کرنسی :
ہنگری کی کرنسی فورینٹ کا نام اطالوی لفظ فائیو رینو سے اخذ کیا گیا ہے، جو فلورنس، اٹلی میں سونے کے سکے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس سکے پر ایک پھول کی مہر کھدی ہوتی تھی۔
روس کا سکہ روبیل بھی دراصل چاندی کو وزن کرنے کا ایک پیمانہ ہے۔

Address

Bhakkar
3000

Telephone

03337973808

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amazing Bhakkar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Amazing Bhakkar:

Share