435 EB Burewala

435 EB Burewala A tribute To my beloved village 435 /EB Burewala

‏گرمیاں اب ویسی نہیں رہیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں۔ایک وقت تھا جب گرمی کی شدت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔دن میں اسکول جاتے تھ...
25/05/2026

‏گرمیاں اب ویسی نہیں رہیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں۔
ایک وقت تھا جب گرمی کی شدت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔
دن میں اسکول جاتے تھے، وہاں صرف پنکھے ہوتے تھے،لیکن کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہاں اے سی بھی ہونا چاہیے۔
گھر آ کر ٹیوشن جانا ہوتا،
وہاں گرم زمین پر پانی ڈالا جاتا،
چٹائی بچھائی جاتی اور ہم وہیں بیٹھ جاتے۔
سامنے ایک پیڈسٹل فین چل رہا ہوتا،
جب کبھی روٹیشن پہ سامنے آتا تو ہوا لگ جاتی.
پھر گھر آکر رات کو صبح سے تپے ہوئے فرش پر پانی ڈال کر کولر لگا لیتے،
سامنے قطار میں سب کی چارپائیاں لگی ہوتیں۔
پہلی چارپائی پر سونے کے لیے بہن بھائیوں میں لڑائی ہوتی۔
رات کو آسمان کے تارے دیکھتے دیکھتے نیند آ جاتی۔
کبھی آنکھ کھلتی تو آسمان پر جہاز کی روشنی نظر آتی،
یا کسی ٹوٹتے ہوئے ستارے کی چمک —
اور پھر صبح ہو جاتی۔
تب کبھی محسوس نہیں ہوتا تھا کہ شور ہے تو سائلنٹ روم ہونا چاہیے،
گرمی ہے تو اے سی چاہیے،
صبح روشنی ہوتی ہے تو بلائنڈرز چاہئیں۔
وقت بدل گیا ہے۔
اب نہ روزانہ فرش ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے،
نہ چارپائی نکالنی، نہ بستر بچھانا،
نہ کولر میں پانی ڈالنا، نہ رات میں پینے کے لیے ٹھنڈا پانی بھر کے رکھنے کی ضرورت رہی۔
ہر صبح ان سب چیزوں کو سمیٹنے کا تکلف بھی نہیں رہا۔
اب سونے کے لیے ٹھنڈا کمرہ ہے،
بلائنڈرز ہیں،
خاموشی ہے،
اب اے سی کے سامنے سونے کے لیے لڑنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔
مگر اب نہ وہ نیند ہے،
نہ وہ بےفکری،
نہ وہ گھر ہے،
اور نہ وہ لوگ۔
اب گرمی میں وہ ٹھنڈک نہیں، جو پہلے دل کو محسوس ہوتی تھی۔"
کہنے کو تو ہم بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں،
ہماری لائف اسٹائل کمفرٹیبل ہو گیا ہے۔
لیکن کیا واقعی ہم نے کچھ پایا ہے؟

25/05/2026

‏پنجاب ترقی کر رہا ہے اور یہاں کے باسی ڈنکی مار کر یورپ پہنچنے کے چکر میں ہیں۔۔۔۔
آج 177 پاکستانی لیبیا سے ڈی پورٹ ہو کر پاکستان پہنچے جنہیں خصوصی طیارے کے ذریعے منتقل کیا گیا۔
واپس آنے والوں میں سے
59 کا تعلق لاہور
58 کا گجرات
26 کا راولپنڈی
23 کا گوجرانولہ
10 کا سیالکوٹ
01 کا اسلام آباد سے ہے۔
تمام افراد ایران اور سعودی عرب کے راستے لیبیا پہنچے تھے۔

25/05/2026

‏کچھ عرصہ پہلے تک بیرون ملک جانا صرف امیر گھرانوں کا خواب تھا۔ لیکن آج پاکستان کے ہر محلے میں، ہر گلی میں، ہر دفتر میں ایک ہی بات سنائی دیتی ہے کہ فلاں کا بیٹا کینیڈا چلا گیا، فلاں کی بیٹی آسٹریلیا میں سیٹل ہو گئی اور فلاں خود ویزے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ پاکستان کا ہر پڑھا لکھا، ہر باہمت اور ہر باصلاحیت نوجوان آج یہ سوچ رہا ہے کہ اس ملک میں رہنا چاہیے یا نہیں۔ اور جب ایک قوم کے سب سے قابل لوگ یہ سوال پوچھنے لگیں تو یہ کسی بھی ملک کے لیے سب سے بڑا خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔ بیورو آف ایمیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2023 میں 8 لاکھ سے زیادہ پاکستانی ملک چھوڑ کر چلے گئے جو کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک سال میں سب سے بڑی ہجرت تھی۔

پاکستان چھوڑنے کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی وجہ معاشی بے یقینی ہے۔ ایک نوجوان جو 16 سال پڑھائی کرتا ہے، پھر یونیورسٹی سے ڈگری لیتا ہے، وہ جب نوکری ڈھونڈنے نکلتا ہے تو اسے یا تو نوکری نہیں ملتی یا اتنی کم تنخواہ ملتی ہے کہ گھر کا کرایہ بھی پورا نہیں ہوتا۔ پاکستان میں تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 30 فیصد سے زیادہ ہے۔ جب وہی نوجوان دیکھتا ہے کہ کینیڈا یا یورپ میں اس کی ڈگری کے ساتھ اسے 3 سے 4 گنا زیادہ تنخواہ ملے گی تو فیصلہ آسان ہو جاتا ہے۔ یہ غداری نہیں، یہ بقا کی جنگ ہے اور کوئی بھی انسان اپنے بچوں کا مستقبل خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔

دوسری بڑی وجہ تحفظ کا فقدان ہے۔ پاکستان میں ایک عام شہری کو نہ سڑک پر تحفظ ہے، نہ اپنے کاروبار میں اور نہ اپنی رائے دینے میں۔ کاروبار کرنے والوں کو بھتہ خوری کا خطرہ، صحافیوں کو اظہار رائے پر پابندی کا خوف اور اقلیتوں کو مذہبی عدم رواداری کا سامنا۔ جب ایک انسان اپنے ہی ملک میں محفوظ نہیں تو وہ وہاں کیوں رہے جہاں قانون اور انصاف صرف طاقتوروں کا حق ہو۔ تیسری وجہ اولاد کا مستقبل ہے جو شاید سب سے زیادہ دل پر لگتی ہے۔ ایک باپ جب اپنے بچے کو اچھا اسکول دینا چاہتا ہے، صاف ماحول دینا چاہتا ہے اور ایک ایسا مستقبل دینا چاہتا ہے جہاں محنت کا پھل ملے تو وہ پاکستان میں یہ سب دینے میں خود کو قاصر پاتا ہے اور یہ احساس اسے ہجرت پر مجبور کر دیتا ہے۔

لیکن اس پوری کہانی کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ جو لوگ جا رہے ہیں وہ عام لوگ نہیں بلکہ ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہرین اور کاروباری افراد ہیں۔ ماہرین معاشیات اس عمل کو برین ڈرین کہتے ہیں یعنی ذہانت کا بہاؤ باہر کی طرف۔ جب ایک ملک کے بہترین دماغ اسے چھوڑ کر چلے جائیں تو وہ ملک ترقی کیسے کرے گا۔ وہ ڈاکٹر جو پاکستان میں پڑھا لیکن کینیڈا میں علاج کر رہا ہے، وہ انجینئر جو پاکستانی یونیورسٹی سے نکلا لیکن جرمنی میں عمارتیں بنا رہا ہے، یہ پاکستان کا سرمایہ تھا جو پاکستان کو ملا ہی نہیں۔ حل یہ نہیں کہ لوگوں کو جانے سے روکا جائے کیونکہ جبری روکنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ حل یہ ہے کہ اس ملک کو ایسا بنایا جائے جہاں رہنے کی وجہ ہو، جہاں محنت رنگ لائے، جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو اور جہاں ایک باپ اپنے بچے کو یہ یقین دلا سکے کہ بیٹا اس مٹی میں بھی تیرا مستقبل ہے۔ شاہ حسین کی وال سے

25/05/2026

‏یوم عرفہ کا انتہائی بابرکت دن

اپنے لیے، اپنے والدین، عزیز و اقارب اور خصوصاً پاکستان کی سلامتی کے لیے ڈھیروں دعائیں کیجیے۔

https://x.com/i/status/2058908276113232010‏پاکستان بورے والا سے تعلق رکھنے والا نوجوان لڑکا محمد عبداللہ جوکہ یہاں ڈنمار...
25/05/2026

https://x.com/i/status/2058908276113232010
‏پاکستان بورے والا سے تعلق رکھنے والا نوجوان لڑکا محمد عبداللہ جوکہ یہاں ڈنمارک کی ایک ٹاپ یونیورسٹی DTU سے اسکالر شپ پر PHD کر رہا تھا 24 مئی کو ڈنمارک کے شہر Roskilde میں ڈوب کر وفات پا گیا۔ اپنے گھر والوں کا اکلوتا کمانے والا تھا۔

اسکی ڈیڈ باڈی وآپس بھیجنے کے لئے تقریباً 40000 ڈینش کراؤن (1750000pkr)کا خرچہ آنا ہے جو ہم یہاں دوست یار مل کر اکھٹا کر رہے ہیں تاکہ اسکے گھر والے پاکستان میں اسکی تدفین کر سکیں۔

جب ‎ ڈنمارک سے چلتی تھی تب ڈیڈ باڈی مفت پاکستان جاتی تھی اور ساتھ فیملی کا بندہ بھی مفت تھا۔ غریب لوگوں کے لئے بہت بڑی سہولت تھی۔ ‎ صاحب ہی کچھ مدد کر سکتے ہیں تاکہ بیرون ملک پاکستانیوں کو آسانی ہو۔ ‎

لنکڈ ان پروفائل:

‏جب کعبہ کو پہلی بار دیکھا تھا 🥹
25/05/2026

‏جب کعبہ کو پہلی بار دیکھا تھا 🥹

‏اگر آپ نےسائیکل کی تاروں میں چھلے پروئے ہیں،اسکول میں ٹاٹ پہ بیٹھ کے پڑھے ہیں،چھپن چھپائی، اونچ یچ، ریڈی گو، لمبی گھوڑی...
20/05/2026

‏اگر آپ نے
سائیکل کی تاروں میں چھلے پروئے ہیں،
اسکول میں ٹاٹ پہ بیٹھ کے پڑھے ہیں،
چھپن چھپائی، اونچ یچ، ریڈی گو، لمبی گھوڑی اور چھون میٹی کھیلا ہے،
ایک اور دو روپے کا نوٹ استعمال کیا ہوا ہے،
استاد سے مار کھائی کوئی ہے،
ریاضی کا مسئلہ اثباتی حل کیا ہوا ہے اور عاد اعظم نکالا ہوا ہے،
پٹھو گرم کھیلے ہوئے ہیں،
سکول کی آدھی چھٹی کا لطف اٹھایا ہوا ہے،
تختی کو گاچی لگائی ہوئی ہے،
گھر سے آٹا لے جا کر تندور سے روٹیاں لگوائی ہوئی ہیں،
سکول کی دیوار پھلانگی ہوئی ہے،
غلے میں پیسے جمع کیے ہوئے ہیں،
سہ پہر چار بجے بولتے ہاتھ دیکھا ہوا ہے،
پی ٹی وی پہ کشتیاں دیکھی ہوئی ہیں،
چھت پہ چڑھ کے انٹینا ٹھیک کیا ہوا ہے،
بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی دیکھا ہوا ہے،
اپنے پی ٹی سی ایل فون کو لکڑی کے باکس میں تالا لگا کر بند کیا ہوا ہے،
میلے میں تین دن تک سائیکل چلتی دیکھی کوئی ہے،
کتاب کیلئے ابا جی سے پیسے لے کر عمران سیریز خریدی ہوئی ہے،
بارات میں پیسے لوٹے ہوئے ہیں،
کسی دشمن کی دیوار پہ کوئلے سے بھڑاس نکالی ہوئی ہے،
پانی کے ٹب میں موم بتی والی کشتی چلائی ہوئی ہے،
سرکاری ہسپتال سے اپنی ذاتی بوتل میں دوائی بھروائی ہوئی ہے،
سردیوں میں رضائی میں گھس کر ڈراؤنے قصے سنے ہوئے ہیں،
سر کٹے انسان کی افواہیں سنی ہوئی ہیں،
کھڑکھڑاتے ریڈیو پر سیلا،
رسی لپیٹ کر لٹو چلایا ہو،
سمیع اللہ کو ہاکی کے میدان میں نشریاتی روابط پر فتح سے ہم کنار ہوتے دیکھا ہو،
گھر کی چھت پر مٹی کا لیپ کیا ہو،
گرمیوں میں چھت پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ہو،
جون جولائی کی تپتی دوپہر میں گلی ڈنڈا کھیلا ہو،
پھولوں کی کڑھائی والے تکیے پر سنہری خواب دیکھے ہوں،
گھر کے کسی کونے میں خوش آمدید لکھا ہو،
لالٹین میں مٹی کا تیل بھروایا ہو،
ہاتھ والا نلکا چلا کر پانی کی بالٹیاں بھری ہوں،
ایک روپے میں کریم کی خالی شیشی فل کرائی ہو،
یسو پنجو کھیلا ہو،
لڈو کھیلتے ہوئے انتہائی خطرناک موڑ پہ تین دفعہ چھ آیا ہو،
ڈھیلی تیلیوں والی جیپ کی ماچس استمعال کی ہو،
تختی کیلئے بازار سے قلم خرید کر اس کی نوک بلیڈ سے کاٹ کر درمیاں میں ایک کٹ لگایا ہو،
خوشخطی کیلئے مارکر کی نب کاٹی ہے،
ہولڈر استعمال کیا ہے،
زیڈ اور جی کی نب خریدی ہے،
فلاوری انگلش لکھی ہے،
گھی کے خالی پیپے کو تار سے باندھ کر دیسی گیزر کا لطف لیا ہے،
سر پر تیل کی تہہ اور سرمہ لگا کر خوبصورت لگنے کی کوشش کی ہے تو یقین کیجئے کہ آپ نے بہترین دور کی بہترین زندگی کا بھرپور مزہ لیا ہے اور آپ ایک بہترین جنریشن رہ چکے ہیں..

‏پاکستان میں61 سال بعد گرم ترین مارچ ، اپریل اور مئی دیکھ رہے ہیںپاکستان دنیا کے ان 10 ملکوں میں سر فہرست ہے جن کا موسم ...
20/05/2026

‏پاکستان میں61 سال بعد گرم ترین مارچ ، اپریل اور مئی دیکھ رہے ہیں
پاکستان دنیا کے ان 10 ملکوں میں سر فہرست ہے جن کا موسم تیزی سے تبدیل ہو رہا
پچھلے 12 سالوں میں پاکستان کا ٹمپریچر 4 ڈگری بڑھ گیا ہے جو پچھلے 50 سالوں میں %3 بڑھا تھا

اس کا واحد حل ہے درخت اور پودے لگانا

اپنے گھر کے ہر خالی حصہ میں ، اپنی گلی میں ، اپنے محلہ میں ، اپنی کالونی میں اور سڑک کنارے جہاں جگہ ملے وہاں درخت اور پودے لگائیں۔ کوشش کریں درخت اور پودے پھل دار ہوں تاکہ انسانی رزق میں اضافہ ہو۔
اس وقت انسانی زندگی کی بقاء صرف درخت اور پودے لگانے میں ہے اگر ہم نے آج درختوں اور پودوں کی اہمیت کو نہ سمجھا تو اگلی نسل کی بات نہیں بلکہ اگلے سال ہی ہم سب کو اس سے زیادہ گرم موسم کا سامنا ہے...

اِن لڑکوں اور اساتذہ کو پہچانو اور  کمنٹ کرو  #435/EBburewala     #435
14/05/2026

اِن لڑکوں اور اساتذہ کو پہچانو اور کمنٹ کرو
#435/EBburewala

#435

435 CC Burewala ہمیشہ کی طرح 435 کرکٹ کلب اِس سیزن میں بھی اپنے گاؤں کی نمائندگی کرنے کیلئے تیار۔ قائداعظم کرکٹ سٹیڈیم ب...
10/05/2026

435 CC Burewala
ہمیشہ کی طرح 435 کرکٹ کلب اِس سیزن میں بھی اپنے گاؤں کی نمائندگی کرنے کیلئے تیار۔
قائداعظم کرکٹ سٹیڈیم بورے والا میں دیہاتی ٹورنامنٹ میں 435 کرکٹ کلب اپنا پہلا میچ چوہدری شفقت کی کپتانی میں515/ ای بی کیخلاف 12 مئی بروز منگل کی رات کو کھیلے گی جس میں 435 کی طرف سے کئی نامور کھلاڑی ہمایوں بودی، ماجد، شفقت،رانا عدنان , سونو، قمر اور مبشر بگا اپنے گاؤں کو فتوحات سے ہمکنار کرانے کی بھرپور کوشش کریں گے تو دیکھنا اور سپورٹ کرنے نہ بھولئے گا اور بروز منگل کی رات کو سٹیڈیم میں آئیں اور اپنے گاؤں کی ٹیم کو سپورٹ کریں شکریہ

Address

Chak # 435 E. B
Burewala
61010

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 435 EB Burewala posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category