Chakwal Tourism Club

Chakwal Tourism Club Chakwal tourism club exploring pakistan by traviling

*روداد سفرِ کمراٹ مئی 2023*کمراٹ ہمیشہ سے میری ہاٹ فیورٹ ٹوور ڈیسٹینیشن رہی ہے چھ سال قبل ناران کا فیملی ٹوور کیا تھا وہ...
10/06/2023

*روداد سفرِ کمراٹ مئی 2023*

کمراٹ ہمیشہ سے میری ہاٹ فیورٹ ٹوور ڈیسٹینیشن رہی ہے چھ سال قبل ناران کا فیملی ٹوور کیا تھا وہ بھی بہت اچھا رہا تھا لیکن اس کی تو کیا ہی بات ہے سعودیہ سے آئی ہمشیرہ کی فیملی اس ٹوور کا محرک بنی تو پلاننگ شروع ہوئی دونوں بڑی بہنوں کا حوصلہ لمبے سفر کا نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے مری تک کا مشورہ دیا لیکن مججھے بالکل پسند نہ آیا کیونکہ آپ کو تو پتہ ہے ہم تو لمبی ریس کے گھوڑے ہیں 😉 میں نے کہا چلیں باقی چار فیمیلیز جن میں میری بھی شامل تھی کو میں نے ٹوور کرا کرا کے اپنے جیسا ایڈوینچرس بنا دیا ہے ان سب کو ٹوور کی میٹنگ کے لیے بلایا اور ہلکا سا کمراٹ کا چوہا چھوڑ دیا پھر کیا اندھا کیا مانگے۔۔۔۔ وہ تو جیسے تیار بیٹھے تھے کمراٹ کے لیے لیکن میں نے کہا بہنوں کا کیا کریں وہ تو اس سفر کے لیے بالکل نہیں مانیں گی پھر میں نے ہی مشورہ دیا کہ ایک آئیڈیا ہے کہ رات کو عشاء کے بعد نکلتے ہیں راستے میں سب سو جائیں گے صبح اُٹھیں گے تو کمراٹ آیا ہوگا سب کو بات پسند آئی یوں اس آئیڈیا پہ اتفاق کے ساتھ 23 مئی بروز منگل رات 10 بجے چکوال سے نکلنا طے پایا ابتدائی طور پہ تین دن کا پروگرام تھا جو پہلے دن ہی چار دن تک بڑھانے پہ اتفاق ہو گیا جو کہ میں سمجھتا ہوں ہمارے ٹوور کا سب سے اچھا فیصلہ تھا کھانے کے حوالے سے یہ طے پایا کہ سب کچھ خود بندوبست کریں گے۔ چھ فیمیلیز تھیں تو سب کے زمہ کچھ نہ کچھ لگا دیا گیا سب سے پہلے کوسٹر کا بندوبست کیا گیا جو ہمارا پہلا تجربہ تھا لیکن انتہائی اچھا تجربہ رہا خاص طور پہ ڈرائیور نے بہت تعاون کیا اور فیملی ممبر کی طرح رہا رات کو نکلنے سے پہلے سب کھانا گھر سے کھا کے نکلے رات سفر والا آئیڈیا کام نہیں کیا 🤣 کیونکہ ایکسائیٹمنٹ کی وجہ سے کوئی سویا نہیں اور پھر آخر کے تقریباً پچاس کلومیٹر آف روڈ نے مزید سب کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا اور ہمیشہ کی طرح خادمِ اعلیٰ کو چاروں طرف سے خوب سننے کو ملیں لیکن آپ کے بھائی نے بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا اور برداشت کیا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ یہ کمراٹ ویلی پہنچ کے سب مسلے مسائل،دکھ درد بھول جائیں گے اور ایسا ہی ہوا تھل جو کمراٹ کا سمجھیں بیس کیمپ ہے وہاں ایک ہوٹل پہ کوسٹر پارک کی سب سے پہلے پیٹ پوجا تے فر کم دوجا پہ عمل کرتے ہوئے گھر سے تیار بیف(اشٹو) جو ناشتہ لیٹ ہونے کی وجہ سے برنچ کے طور پہ نوش فرمایا نان تھل بازار سے گرما گرم لیے کولڈرنک اور آم کے بغیر تو آپ کو پتہ ہے چس نہیں آتی پھر سارا مال ۔۔۔۔۔ جیپوں میں لوڈ کر کے اگلی حسین ترین منزل کی طرف وختِ سفر باندھا جس نے رہی کہی کسر بھی نکال دی 😂 پہاڑوں،جنگل اور ساتھ بہتے دریا کے دامن میں پہلے سے بُک دیار کی لکڑی سے بنے انتہائی خوبصورت،آرام دہ اور تمام تر جدید سہولیات سے آراستہ ہوٹل/کاٹج میں پہنچے تو لگا جیسے کسی اور ہی دنیا میں آ گئے بس پھر کیا بنا کسی لحاظ اور تمیز کے جس کو جو کمرہ ملا قبضہ کر کے ایسے بے ہوشگی والی نیند سوئے کے کسی کو کسی کی کوئی فکر نہیں لیکن خادمِ اعلیٰ نے سب کی ضروریات پوری کر کے سارا سامان ٹھکانے لگا کے پھر بے ہوش ہونے کا فیصلہ کیا 😊 جوں جوں جس جس کی تھکاوٹ اتری کوئی نہا دھو کے بابو بن کے نکلا تو کوئی اجڑا ہوا گلستاں بن کے ہر کوئی چائے کا طالب تھا تو انتظامیاں کو ایک ایک کر کے ڈھونڈا اور چائے کے ساتھ پکوڑوں کی ترتیب بنائی جس کی تیاری بھی کر کے آئے تھے ہوٹل کے لان میں لگے گھاس پہ لگی کرسیاں،ماحول میں خنکی،کمراٹ کی ڈھلتی شام،پھر چائے اور پکوڑوں نے جو ماحول بنایا ہے وائے ماشاءالله کیا کہنے پھر تو سب کا جوش و خروش دیکھنے والا تھا
اس کے بعد پھر ٹوور کی آن,بان،شان بار بی کیو نے اپنا حصہ ڈالا اور مزہ دوبالا کر دیا آخر میں کوئلہ پہ بنے قہوہ کی چسکیوں نے اس یادگار شام کا اختتام کیا اور سب پھر سے ایسے گھوڑے بیچ کے سوئے کے پھر صبح کی خوبصورت کرنوں نے انہیں اُٹھنے پہ مجبور کیا ورنہ یہ تو اُٹھنے کے نہیں تھے خادمِ اعلیٰ نے پھر سے انتظامیہ کو لائن اپ کیا اور گھر سے لے کر گئے ہوئے انڈے،بریڈ،جیم،پاپے اور چائے کے ساتھ ناشتہ کر کے چند افراد جو پیدل نہ چل سکتے تھے انہیں جیپ میں بٹھایا اور باقی سب پیدل کمراٹ کے محصور کن جنگل اور پانیوں سے ہوتے ہوئے کمراٹ ویلی کی سب سے دلکش جگہ آبشار پر پہنچے تو سب نے خوب انجوائے کیا اور سب سے زیادہ جو سفر کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوئی وی تھیں میری بڑی ہمشیرہ انہوں نے جب کہا کہ یہاں آ کے پیسے پورے ہو گئے ہیں تو یقین کریں مجھے جو خوشی اور اطمینان ہوا ناقابلِ بیاں۔ اس کے بعد گھنے جنگل میں تیز بہتے دریا پہ لکڑی کا دو ڈھائی فٹ چوڑا خوبصورت اور خطرناک پل عبور کرنا ایک دلچسپ ایڈوینچر تھا وہاں کی خوبصورتی بڑی دیدنی تھی سب نے خوب تصویر کشی کی پھر جب تھکاوٹ اور بھوک نے سب کو ستایا تو واپس ہوٹل جانے کا فیصلہ کیا واپس پہنچ کے خادمِ اعلیٰ نے ایک بار پھر انتظامیہ کو لائن اپ کیا اور 😋 چکن پلاوء ہمممممم کے لیے تیاری کی چکن کے علاوہ سب کچھ لے کر گئے تھے چکن وہاں سے زندہ ایک ہزار فی مرغی کے حساب سے تین مرغیاں لیں جن کا گوشت تقریباً تین کلو ہی تھا اور چاول چار کلو۔ پلاوء ہوٹل میں بنایا لیکن کھانے کے لیے جگہ نیچے دریا کنارے سلیکٹ کی کولڈرنک اور آم دریا میں رکھ کے ٹھنڈے کیے اور کھانا تھوڑا لیٹ ہونے کی وجہ سے بھوک سہی گرم ہوئی وی تھی تو سب نے سہی انصاف کیا یہ کھانا دریا کنارے کے ماحول کے ساتھ بہت یادگار رہا واپس ہوٹل جا کے پھر سب بے وقت کی بے ہوشی کی نیند سو گئے ساتھ ہی بارش کا نہ رکنے کا سلسلہ شروع ہو گیا جو پھر اگلے دن تک چلتا رہا وادی میں لائٹ نہیں ہوتی شام سات سے رات بارہ تک جنریٹر چلتا ہے جس سے ساری ضروریات پوری ہوتی ہیں لیکن بدقسمتی سے جنریٹر میں بارش کا پانی پڑنے سے باوجود پوری کوشش کے نہ چل سکا جس سے تھوڑا پریشانی ہوئی اور مزہ کرکرا ہوا رات گیارہ بجے ساتھ والے ہوٹل سے تار کا کنکشن لگا کے لائٹ بہال ہو گئی لیکن تب تک تقریباً سب سو گئے تھے لیکن ہاں اس سے پہلے جو حلوہ شریف کا دور چلا بھئ کیا کہنے بارش اور ٹھنڈ میں گڑ اور موٹے آٹے کے لزیز ترین حلوے نے بیجا بیجا کرا دی اگلی صبح ناشتہ چونکہ ہوٹل کی طرف سے پیکج میں تھا تو ہم اُٹھ کے بالکل ویلے تھے اس لیے تسلی سے ساری پیکنگ کی اور جیپس پہ لوڈ کر کے ناشتے کے انتظار میں بیٹھ گئے صرف چھتالیس پراٹھے،آملیٹ،چنے اور چائے کے ساتھ ہلکا پھلکا ناشتہ کر کے واپسی کا سفر کیا تھل جہاں ہماری کوسٹر اور ڈرائیور تھے پہنچے سامان شفٹ کیا اور الا طول واپسی کے لیے نکل پڑے چھ میں سے ایک فیملی جس کو آتے ہوئے اسلام آباد موٹروے سے لیا لیکن واپسی پہ لیٹ ہونے کی وجہ سے گھر ای الیون چھوڑا جہاں انہوں نے زبردستی روک کے خاطر مدارت کی سب فریش ہوئے اور ایک گھنٹے کی بریک کے بعد دوبارہ موٹروے سے چکوال کے لیے نکلے اور الله کے فضل و کرم سے خیر خیریت سے تین بجے گھر پہنچ گئے۔ الحمدللہ

23/09/2021
اس دفعہ ہمارے ہمسفر بڑی دلچسپ شخصیات تھیں جو کہ بڑے جیدار،دلیر اور تنزومزاح کے شیدائی تھے اس ٹور میں مجھے ایک لمحے کے لی...
28/06/2021

اس دفعہ ہمارے ہمسفر بڑی دلچسپ شخصیات تھیں جو کہ بڑے جیدار،دلیر اور تنزومزاح کے شیدائی تھے اس ٹور میں مجھے ایک لمحے کے لیئے بھی محسوس نہیں ہوا کہ میں کوئی کلائینٹ لے کر آیا ہوا ہوں بلکہ اللہ ان کو خوش رکھے جتنی عزت اور خیال انہوں نے میرا رکھا میں ان کا احسان مند ہوں ان میں ہمارے پیارے بھائی فواد ظفر(A-one tyer) پنڈی روڈ، اسسٹنٹ کمشنر چکوال آفس سے ملک اعجاز ربانی صاحب، موٹروے ریسٹ ایریاز پر مشہور بسم اللہ ڈیرہ ریسٹورنٹ اور بوم بوم شنواری ریسٹورنٹ کے سی ای او جناب ملک شہزاد اعوان صاحب اور ان کے عزیز دوست جناب فرخ صاحب تھے اور انتہائی قابل احترام جناب ڈاکٹر الطاف صاحب جو کے آرمی سے رٹائیرڈ ہیں دوران سروس ڈاکٹر صاحب جنرل یحیا خان،ممتاز بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کے زاتی معالج رہیں ہیں 67 برس کی عمر میں ڈاکٹر صاحب کا جنون اور جزبہ دیکھ کر بہت رشک آیا اللہ انہیں صحت والی لمبی زندگی عطا فرمائے آمین اس دفعہ ہمارا ٹور میرے پسندیدہ علاقہ کمراٹ کا تھا کیونکہ جو سکون اور انجوائے منٹ وہاں ہے وہ کہیں اور نہیں جمعرات کی رات ہم چکوال سے رات 11 بجے نکلے اور 12 گھنٹے کی مسافت کے بعد دن 11 بجے کمراٹ پہنچ گئے لاہور سے ہمارے جمعیت کے دوست وقار ارشد اور ان کے بھائی اسامہ ہماری آمد کے منتظر تھے جنہوں نے کمراٹ جنگل میں بہت زبردست کیمپنگ سائٹ بنائی ہوئی ہے چونکہ ان سے پہلے رابطہ کر کے ہم نے بکنگ کی ہوئی تھی تو ہمیں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہوئی نہ اچھی رہائش کے لیئے کوئی بھاگ دوڑ کرنی پڑی کم خرچ بالا نشیں۔ بہت ہی اچھا تجربہ رہا کیمپنگ کا بلکہ ہوٹل کی نسبت بہت مزہ آیا اور رات کو جنگل میں بون فائر کا بھی اپنا ہی مزہ ہے صبح کمراٹ ہی میں گرینڈ پیلس ہوٹل کے سامنے ایک ہوٹل ہے نام نہیں یاد وہاں سے ایسا لاجواب ناشتہ کیا کہ پوچھیں مت پھر وہاں سے ہم سیدھا بڈگوئی ٹاپ کے پر خطر اور ایڈوینچر سے بھر پور ٹریک پر چل نکلے جہاں عین ٹاپ پر پہنچ کے ٹور کے پیسے پورے ہو جاتے ہیں ٹاپ کا ٹمپریچر اس جون میں بھی فقط 2 تا 5 ہوتا ہے وہاں سے ہم مہونڈنڈ جھیل کالام کے لیئے نکلے تو چڑھائی کی نسبت اترائی زیادہ مشکل اور خطرناک لگی کلام سے مہونڈنڈ جھیل کے لیئے نکلیں تو بہت خوبصورت اوشو جنگل آتا ہے جو اپنی ایک الگ ہی انفرادیت رکھتا ہے کلام سے مہونڈنڈ جھیل کا سفر کلومیٹرز میں فقط 35 کلومیٹر ہے لیکن وقت کے حساب سے 3 تا 4 گھنٹے لگتے ہیں لیکن جھیل پر پہنچ کر انسان کی طبیعت خوش ہو جاتی ہے اور ساری تھکان دور ہو جاتی ہے انتہائی خوبصورت جھیل ہے وہاں سے جوں پھر ہم نے واپسی کی ٹھانی تو پھر پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا 14 گھنٹے کے طویل سفر کے بعد رات 3 بجے اللہ کے فضل و کرم سے گھر پہنچے۔ الحمداللہ

سکردو جانے والے سیاح حضرات متوجہ ہوں!۔۔۔ سکردو جانے کیلے 12 مہینوں میں سے سب سے بہترین مہینہ کونسا رہیگا ؟یوں تو سکردو ک...
15/06/2021

سکردو جانے والے سیاح حضرات متوجہ ہوں!۔۔۔
سکردو جانے کیلے 12 مہینوں میں سے سب سے بہترین مہینہ کونسا رہیگا ؟
یوں تو سکردو کی خوبصورتی سارا سال اپنے عروج پر ہوتا ہے۔موسم سرما میں جائے تو برف، گرمیوں میں جائے تو سرسبز میدان، خزاں میں جائے تو زرد پتے اور بہار میں جائے تو ہر سمت پھول۔اب سارا سال کوئی دیس جنت کا نظارہ پیش کررہیے ہو اور اس میں سے بھی کسی ایک مہینے کا انتخاب کرنا بہت مشکل ہے ۔لیکن چلو خیر ہم وہ بھی کرلیتے ہیں۔۔ تو سکردو جانے کیلے 12 مہینوں میں سے بہترین مہینہ (وقت) 20 جون سے یکم(1) اگست تک ہے۔20 جون سے 1 اگست کے درمیان سکردو جانے کا فائدہ مندرجہ ذیل ہوگا:
نمبر(١)
اس دوران سکردو میں جتنے بھی آبشاریں(منٹھوکھا آبشار،خموشو آبشار نیالی آبشار وغیرہ)موجود ہیں وہ برف پگل کر پانی زیادہ آنے کی وجہ سے انتہائی خوبصورت ہوتا ہے۔۔۔
نمبر(٢)
بیس جون سے یکم اگست کے درمیان ہی دیوسائی روٹ(Roof of the world) اوپن ہوتا ہے جہاں آپ قدرت کے کرشمے قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔۔۔
نمبر(٣)
جولائی ،اگست میں سکردو میں تقریباً ہر پھل(سیب، خوبانی، انگور، ناشپاتی وغیرہ) پکنے کا ٹایم ہوتا ہے جہاں آپ بغیر کسی اجرت ہر پھل کا مزاہ لے سکتے ہیں۔
نمبر(۴)
20 جون سے دریا سندھ جو سکردو کے فلک پوش پہاڑوں سے پگل کر آتا ہے وہ اور اپنے عروج پر ہوتا ہے جس کی وجہ راہ چلتے سیاح دریائی موجوں کو دیکھنے کیلے کچھ پل ان کی دیدار کیلے ضرور رکتے ہیں۔
نمبر(۵)
20 جون کے بعد سکردو کے کسی بھی میدان پر باآسانی کیمپنگ کر سکتے ہیں۔
نمبر(٦)
ٹریکنگ کی غرض سے جو سیاح سکردو آتا ہے ان کیلے 20 جون سے سکردو کے تمام ٹریک/ روٹ (تھلہ لہ،وغیرہ) برف پگل کر ان کے راستہ کھل جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔مزید کسی بھی معلومات کیلے آپ ہمیں انبکس یا کال کرسکتے ہیں۔۔





منقول

چکوال ٹورزم کلب کے وادیِ کاغان،ناران کے تیسرے دن کا احوال کچھ اسطرح سے ہے کہ ہم نے اللہ کی زات پر بھروسہ کرتے ہوۓ جھیل س...
14/06/2021

چکوال ٹورزم کلب کے وادیِ کاغان،ناران کے تیسرے دن کا احوال کچھ اسطرح سے ہے کہ ہم نے اللہ کی زات پر بھروسہ کرتے ہوۓ جھیل سیف الملوک پر اپنی جیپ پر جانے کا فیصلہ کیا جو کہ بلاشبہ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا اگر آنے والے چیلنجز کا اندازہ ہوتا تو شاٸد اپنی جیپ پر جانے کا فیصلہ نہ کرتے لیکن وہ کہتے ہیں نہ کہ ڈر کے آگے جیت 💪 ہے 😜 اس کا عملی مظاہرہ تب ہوا جب بہت سی ٹف چڑھاٸی چڑھتے چڑھتے آگے جیپس کی لمبی قطاریں سر جوڑے اس سوچ میں مہو تھیں کہ اب کیا کریں معاملہ کچھ یہ تھا کہ عین روڈ پر کم و بیش 10 سے 15 فٹ اونچا گلیشٸر رستہ روکے منہ چڑھا کہ کہہ رہا تھ ہنڑ آرام نے؟ ایک ایک کر کے سب اپنی قسمت آزماتے۔ مقامی جیپ والے تو اوکھے سوکھے چڑھ جاتے لیکن ان کے علاوہ جو بھی ہمت کرتا خواہ 4×4 ہی کیوں نہ ہوتی ناممکن سا لگتا بہرحال جب ما بدولت کی باری آٸی تو گلیشٸیر کو دیکھ کے ہی کلیجہ منہ کو آنے لگا۔ رہی سہی کسر اگلے ڈالے والے نے نکال دی موصوف کا ڈالہ نہ صرف 4×4 تھا بلکہ اپ ماڈل بھی تھا ناکام کوشش کے بعد جب کھوٹے سکے کی طرح واپس آیا تو لو جی ہماری تو جیسے ۔۔۔۔۔ گیلی ہو گٸی 😉 ایک دفعہ سوچا کہ مجھ سے نہیں ہو گا لیکن عزت کا معاملہ تھا اللہ کا نام لے کر بہرے ظلمات میں دوڑا دیۓ گھوڑے ہم نے۔ کچھ نہ پوچھیں کیا کیفیت تھی ناقابلِ بیاں! گلیشیٸر کے عین وسط میں😯 اور پھر مارکہ طے کرنے کے بعد تو اپنی جیپ کو چومنے کا من کر رہا تھا لیکن سوچا کچھ زیادہ ہو جاۓ گا 😜 اس کے بعد بھی آنے والے مراحل بہت ہی ٹف تھے لیکن اللہ نے خصوصی فضل کیا اور ہم باحفاظت جھیل پر پہنچ گۓ جھیل پر حاجی غلام شبیر صاحب(پڑوسی) کی فیملی سے اور واپسی کے ٹریک پر حامدبھاٸی،عدیل بھاٸی اور شوکت بھاٸی سے ملاقات ہوٸی تو حیرانی اور خوشی دونو ہوٸیں واپسی کا سفر قدرے آسان تھا لیکن میرا خیال ہے واپسی کے سفر کی ایک لمحے کی غفلت موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے بہرحال اللہ کی زات نے بہت کرم کیا اور بہت مزہ آیا الخالد مارشل آرٹ اکیڈمی چکوال جو کہ ہمارے شریکِ سفر تھے انہوں نے جھیل پر بھی ٹریننگ سیشن کیا جو دیکھنے والوں کے لیۓ حیرت کا باعث تھی۔

چکوال ٹورزم کلب کے وادیِ کاغان،ناران کے دوسرے دن کے ٹور میں ناران سے بابو سر ٹاپ تک کے شیڈول میں بے شمار ایسے پواٸنٹس ہی...
12/06/2021

چکوال ٹورزم کلب کے وادیِ کاغان،ناران کے دوسرے دن کے ٹور میں ناران سے بابو سر ٹاپ تک کے شیڈول میں بے شمار ایسے پواٸنٹس ہیں جہاں رکے بغیر انسان رہ نہیں سکتا ناران سے نکلتے ہی ایڈوینچر سے بھر پور رافٹنگ(بوٹنگ)🚣 آپ کو ویلکم کرنے کے لیۓ بے قرار ہوتی ہے یقین کریں انتہاٸی پرلطف اور ایڈوینچرس تجربہ ہے فُلی ریکمنڈڈ 👍 اس کے بعد ایک بہت بڑی آبشار سیاحوں کو اپنی طرف اپنے انتہاٸی خوبصورت اور دلکش نظارے کی بدولت کیھنچتی ہے جس پر گزرے چند لمحے طبعیت کو تروتازہ کر دیتے ہیں آگے رستے کے داٸیں باٸیں پڑے گلیشیٸرز بھی بہت خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں گرمی کی شدت سے پگھلنے والے گلیشیٸرز مختلف نالوں کی صورت جابجا سڑک کو بہا لے جانے کا سبب بنتے ہیں اور آجکل ان کا خوفناک بہاٶ جہاں نقصانات اور حادثات کا سبب بنتا ہے وہیں 2,2 گھنٹے کی ٹریفک جام کا بھی سبب بنتا ہے جس کی وجہ سے کافی پریشانی ہوتی ہے لیکن اس موقعہ پر ہماری جیپ کی مہارت کا امتحان شروع ہوتا ہے جس میں نہ صرف الحمداللہ یہ کامیاب رہی بلکہ وقت کی بچت اور آسانی کا بھی سبب بنی بہرحال یہاں کا موسم اور ماحول ان مسائل کا اتنا احساس نہیں ہونے دیتے بیسر کے قریب سیلف ککنگ کر کے بہت مزہ آیا پھر بدقسمتی سے بابو سر کے پاس گلیشیٸر گرنے کی وجہ سے راستہ بند تھا تو لولو سر جھیل کے سحر کو جتنا سمیٹ سکتے تھے سمیٹا اور پھر واپسی کی راہ لی واپسی پر چونکہ تقریباً 90% اتراٸی ہوتی ہے تو بڑی جلدی اور مزے سے کب بندہ واپس ناران پہنچتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔

وادیِ کاغان کے انتہاٸی خوبصورت مقام شوگران جو کہ ایک مشکل اور خطرناک آف روڈ ٹریک ہے جس کو ہمارے شِکرے(جیپ) نے اللہ کے فض...
12/06/2021

وادیِ کاغان کے انتہاٸی خوبصورت مقام شوگران جو کہ ایک مشکل اور خطرناک آف روڈ ٹریک ہے جس کو ہمارے شِکرے(جیپ) نے اللہ کے فضل سے بآسانی اور بآحفاظت طے کیا اور وہاں ریسٹ ہاٶس کے خوبصورت لش گرین گراٶنڈ میں پہنچ کے الخالد مارشل آرٹ اکیڈمی چکوال نے اپنے ٹیم جو کہ باقاعدہ اپنے یونیفارم میں ملبوس تھی انتہاٸی خوبصورت انداز میں ٹریننگ سیشن کیا جس کو چکوال ٹورزم کلب نے اپنی پیشہ واران خدمات(فوٹو سیشن) کے ساتھ کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیا دورانِ ٹریننگ اللہ کی زات مہربان ہوٸی اور بارش کے ساتھ ژالہ باری نے ماحول کو چار چاند لگا دیۓ چکوال کی قیامت خیز گرمی سے نکل کر اس ماحول نے روح کو جو سکون بخشا وہ ناقابلِ بیاں ہے

چکوال ٹٶرزم کلب کا الخالد مارشل آرٹ اکیڈمی  بھون روڈ چکوال کے ساتھ وادیِ کاغان،ناران کا ٹٶر اپنی منزل کی طرف گامزن😍
11/06/2021

چکوال ٹٶرزم کلب کا الخالد مارشل آرٹ اکیڈمی بھون روڈ چکوال کے ساتھ وادیِ کاغان،ناران کا ٹٶر اپنی منزل کی طرف گامزن😍

Address

Chakwal

Telephone

+923015771102

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chakwal Tourism Club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chakwal Tourism Club:

Share

Category