11/07/2026
تحصیل خضار کا ہیڈکوارٹر: فیصلہ جذبات سے نہیں، انصاف اور عوامی مفاد سے ہونا چاہیے
حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے تحصیل خضار کے قیام کی منظوری ایک مثبت پیش رفت ہے۔ کسی بھی نئی تحصیل یا انتظامی اکائی کا قیام محض نقشے پر نئی حدود کھینچنے کا نام نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اصل مقصد عوام کو بہتر انتظامی نظام، آسان سرکاری خدمات اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے تحصیل ہیڈکوارٹر کے تعین میں بھی جذبات، علاقائی وابستگی یا تاریخی دعوؤں کے بجائے انصاف، عوامی مفاد، آبادی، جغرافیہ اور متوازن ترقی کو بنیادی حیثیت دی جانی چاہیے۔
گزشتہ چند دنوں سے بعض احباب کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ چونکہ لوٹکوہ (گرم چشمہ) ایک تاریخی اور قدیم انتظامی مرکز رہا ہے، اس لیے نئی تحصیل کا ہیڈکوارٹر بھی وہیں قائم ہونا چاہیے۔ بلاشبہ گرم چشمہ اپنی تاریخی، تعلیمی اور سماجی اہمیت رکھتا ہے، لیکن صرف تاریخی حیثیت کسی نئے انتظامی فیصلے کی واحد بنیاد نہیں بن سکتی۔ اگر ایسا ہوتا تو ملک بھر میں نئے اضلاع اور تحصیلیں کبھی وجود میں نہ آتیں۔
بعض دوست یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ شوغور جغرافیائی لحاظ سے مرکز میں واقع ہے، اس لیے تحصیل ہیڈکوارٹر وہیں ہونا چاہیے۔ جغرافیائی مرکزیت یقیناً ایک اہم پہلو ہے، لیکن یہ واحد معیار نہیں۔ انتظامی فیصلوں میں آبادی، عوامی مفاد، مساوی سہولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو بھی برابر اہمیت دی جاتی ہے۔
سن 2017 کی مردم شماری کے مطابق:
لوٹکوہ (گرم چشمہ): 17,292
کریم آباد: 15,201
آرکاری: 12,633
یعنی کریم آباد اور آرکاری کی مشترکہ آبادی 27,834 بنتی ہے، جو لوٹکوہ کی آبادی سے تقریباً ساڑھے دس ہزار زیادہ ہے۔ اس لیے اگر آبادی کو معیار بنایا جائے تو اکثریتی آبادی کے حق کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ تینوں وادیاں ایک ہی تحصیل کا حصہ رہی ہیں۔ اس عرصے کے دوران لوٹکوہ میں نسبتاً زیادہ سرکاری ادارے، بینک، تعلیمی مراکز، بازار اور دیگر سہولیات قائم ہو چکی ہیں، جبکہ کریم آباد اور آرکاری آج بھی کئی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ اگر نئی تحصیل کے قیام کا فائدہ بھی صرف اسی علاقے کو دیا جائے جو پہلے ہی نسبتاً زیادہ ترقی یافتہ ہے، تو پھر متوازن ترقی اور انصاف کا مقصد کہاں باقی رہ جاتا ہے؟
نئی انتظامی اکائیوں کا مقصد صرف پہلے سے ترقی یافتہ علاقوں کو مزید سہولیات دینا نہیں بلکہ ایسے علاقوں کو بھی آگے لانا ہوتا ہے جو کئی دہائیوں سے ترقی کے انتظار میں ہیں۔ اس لیے کریم آباد اور آرکاری کے عوام کا بھی اتنا ہی حق ہے کہ انہیں سرکاری اداروں اور ترقیاتی منصوبوں میں مناسب حصہ ملے۔
بعض حضرات شوغور کے ہسپتال کی کارکردگی کو بنیاد بنا کر یہ کہتے ہیں کہ اگر ہسپتال مکمل کامیاب نہیں ہو سکا تو تحصیل دفتر بھی کامیاب نہیں ہوگا۔ یہ دلیل حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ہسپتال کی کامیابی کا انحصار ماہر ڈاکٹروں، طبی عملے، جدید سہولیات اور مالی وسائل پر ہوتا ہے، جبکہ تحصیل دفتر ایک انتظامی ادارہ ہے جو حکومت کے نظام کے تحت خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس کی کامیابی کا انحصار مریضوں یا "کسٹمرز" کی تعداد پر نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ گرم چشمہ کا THQ ہسپتال کئی برسوں سے حکومت اور AKHSP کی شراکت داری کے تحت چل رہا ہے، لیکن اس کے باوجود آج بھی بڑی تعداد میں مریض معمول سے بڑھ کر علاج کے لیے DHQ ہسپتال ریفر کیے جاتے ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ ہسپتال اور تحصیل دفتر کا تقابل درست نہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایک عام شہری کو تحصیل دفتر میں روزانہ کوئی کام نہیں ہوتا۔ زیادہ تر لوگ اپنی پوری زندگی میں صرف چند مرتبہ فرد، انتقال، ڈومیسائل، وراثت یا دیگر سرکاری امور کے لیے تحصیل دفتر جاتے ہیں۔ اس لیے صرف ذاتی سہولت یا جذبات کی بنیاد پر ایسا فیصلہ کرنا، جس سے اکثریتی آبادی اور دیگر علاقوں کے مفادات متاثر ہوں، مناسب نہیں ہوگا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تحصیل خضار کے ہیڈکوارٹر کا فیصلہ کسی ایک علاقے کی خواہش نہیں بلکہ تینوں وادیوں کے اجتماعی مفاد، مساوی ترقی، انصاف اور مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ اگر ماضی میں کسی علاقے کو نسبتاً زیادہ ترقی اور سرکاری ادارے ملے ہیں تو اب انصاف کا تقاضا ہے کہ دیگر علاقوں کو بھی ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو عوام کے درمیان اعتماد پیدا کرے گا، علاقائی ہم آہنگی کو فروغ دے گا اور آنے والے برسوں میں پائیدار ترقی کی بنیاد بنے گا۔
ہمارا مقصد کسی علاقے یا برادری کی مخالفت نہیں، بلکہ حقائق، انصاف اور متوازن ترقی کی بنیاد پر ایک ایسا فیصلہ ہے جو تینوں وادیوں کے عوام کے اجتماعی مفاد میں ہو۔
تحریر:
سید ظفر علی شاہ
خیرچوم، کریم آباد