The beauty of Chitral and Gilgit Baltistan

The beauty of  Chitral and Gilgit Baltistan My page is for tourism information

19/12/2025

Shandoor winter sport festival

10/12/2025

Public Complaint Against DSP Tamiz Uddin

It is extremely regrettable that DSP Tamiz Uddin has shown disrespectful and inappropriate behavior towards an elderly citizen. No officer has the right to insult or mistreat senior members of our community.

We strongly urge the DPO to take strict departmental action and ensure accountability. Such behavior damages public trust and is totally unacceptable from any police officer, especially one in a senior position.

⚖️ Respect for elders is our culture, and protection of citizens is the duty of the police.
We expect immediate action and a fair inquiry.

شاشہ روڈ کی فوری بحالی—اہلیانِ علاقہ کی درد بھری اپیلشاشہ روڈ جو کہ 2015 کے تباہ کن سیلاب میں مکمل طور پر برباد ہو گئی ت...
20/11/2025

شاشہ روڈ کی فوری بحالی—اہلیانِ علاقہ کی درد بھری اپیل

شاشہ روڈ جو کہ 2015 کے تباہ کن سیلاب میں مکمل طور پر برباد ہو گئی تھی، آج تک بحالی کی منتظر ہے۔ مقامی باشندگانِ کریم آباد، اَرکاری اور گرم چشمہ نے اپنی مدد آپ کے تحت محدود وسائل میں سڑک کو کھول کر آمدورفت بحال کی، مگر بدقسمتی سے 5 کلومیٹر طویل اس متاثرہ حصے کی سرکاری سطح پر ابھی تک بحالی نہیں کی گئی۔

2017 میں این ایچ اے نے اس روڈ کی تعمیر و بحالی کا ٹینڈر جاری کیا تھا، مگر اب تک بولی کا عمل معطل ہے اور کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ باخبر ذرائع کے مطابق منصوبہ Prime Minister Office کے لیے تجویز کے طور پر تیار ہے، اس لیے گزارش ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس عوامی مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

ڈپٹی کمشنر چترال لوئر مختلف ترقیاتی کاموں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم سمجھ سے بالاتر ہے کہ شاشہ روڈ جیسے اہم اور بنیادی عوامی مسئلے پر اب تک کوئی عملی قدم کیوں نہیں اٹھایا گیا۔ ڈی سی دفتر کے پاس اس سڑک کی مرمت اور عبوری بحالی کے احکامات جاری کرنے کا اختیار موجود ہے، لیکن اس اہم ترین معاملے پر خاموشی باعثِ تشویش ہے۔

یہ روڈ کریم آباد، اَرکاری اور گرم چشمہ جیسے تین بڑے وادیوں کا واحد گیٹ وے ہے اور اس کی خستہ حالی سے ہزاروں افراد متاثر ہیں۔
لہٰذا عوامی مفاد کے پیشِ نظر سیاسی قیادت، انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے پُرزور گزارش ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کی فوری حل کیلئے مؤثر اقدامات کریں۔

تحریر رضوان الدین ایڈوکیٹ

آج  پریڈ گراؤنڈ میں انٹر اسکول فٹبال فائنل میچ منعقد ہوا، مگر بدقسمتی سے ضلعی تعلیم دفتر اور اسپورٹس آفس کی غفلت اور ناق...
06/11/2025

آج پریڈ گراؤنڈ میں انٹر اسکول فٹبال فائنل میچ منعقد ہوا، مگر بدقسمتی سے ضلعی تعلیم دفتر اور اسپورٹس آفس کی غفلت اور ناقص انتظامات کے باعث یہ میچ بدنظمی کا شکار ہو گیا۔ بچوں کے درمیان جھگڑا ہوا، میدان میں کوئی ریسکیو اہلکار موجود نہیں تھا اور نہ ہی پولیس کی سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔

یہ افسوسناک واقعہ انتظامیہ کی لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
محکمہ تعلیم کے سیکرٹری اور ڈپٹی کمشنر چترال سے پُرزور اپیل ہے کہ وہ فوری طور پر اس واقعے کا نوٹس لیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے ہمارے بچوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

#چترال #بدانتظامی
Deputy Commissioner Lower Chitral

23/08/2025

🌊 A Hero Among Us – Muhammad Khan of Ravoshan 🌊

On 22nd August 2025, at around 2:00 AM, a shepherd named Muhammad Khan from Ravoshan performed an act of true bravery and humanity.

When he noticed the sudden lake blast and flash floods threatening the nearby village Tali Dass Ravoshan, he immediately alerted the inhabitants without thinking about his own safety.

⚠️ Because of his timely call, around 100 homes and nearly 400 precious lives were saved.

Sadly, Muhammad Khan himself suffered greatly in this disaster, losing almost all of his goats and sheep, which were his only source of livelihood. Yet, he put humanity above his personal loss.

💚 The Holy Quran reminds us: “Whoever saves one life – it is as if he has saved all of humanity.” (Surah Al-Ma’idah 5:32)

Muhammad Khan’s courage is not just a story of one night – it is a lesson of sacrifice, humanity, and selflessness. His act deserves recognition and appreciation at the national level.

We urge the Government of Pakistan and concerned authorities to honor him with an award so that such noble deeds may inspire others.

🙏 Let’s salute this unsung hero – a simple shepherd who became a guardian of hundreds of lives.

23/08/2025

🌊 ہمارا ہیرو – محمد خان راووشان 🌊

22 اگست 2025 کو رات 2 بجے ایک چرواہا محمد خان ولد راووشان نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جس نے سینکڑوں زندگیاں بچا لیں۔

جب اچانک جھیل پھٹنے اور فلیش فلڈ کا خطرہ سامنے آیا تو محمد خان نے فوراً تالی داس راووشان کے رہائشیوں کو خبر دی اور ان کو بروقت خبردار کیا۔

⚠️ ان کی ایک کال کی وجہ سے تقریباً 100 گھرانے اور اوسطاً 400 قیمتی جانیں محفوظ ہو گئیں۔

افسوس کی بات ہے کہ خود محمد خان اس سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے اور اپنے تقریباً تمام بکریاں اور بھیڑیں کھو بیٹھے، جو ان کا واحد ذریعہ معاش تھیں۔ لیکن انہوں نے اپنی جان اور روزگار پر دوسروں کی زندگیوں کو ترجیح دی۔

💚 قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“جس نے ایک جان کو بچایا گویا اس نے ساری انسانیت کو بچایا۔” (المائدہ 32:5)

محمد خان کی قربانی اور جرات صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ یہ انسانیت، ایثار اور بہادری کا پیغام ہے۔ ان کے اس عظیم عمل کو قومی سطح پر سراہا جانا چاہیے۔

ہم حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ محمد خان کو اعزاز سے نوازیں تاکہ دوسروں کو بھی یہ پیغام ملے کہ نیک عمل اور انسانی خدمت ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہے۔

🙏 آئیے اس بے لوث چرواہے کو سلام پیش کریں جس نے سیکڑوں زندگیاں بچا کر انسانیت کی خدمت کی۔

ANNOUNCEMENT: SHANDUR POLO FESTIVAL 2025 IS HERE! 🏔️🎉📅 June 20–21-22, 2025📍 Shandur Pass – The Roof of the WorldGet read...
01/06/2025

ANNOUNCEMENT: SHANDUR POLO FESTIVAL 2025 IS HERE! 🏔️🎉
📅 June 20–21-22, 2025
📍 Shandur Pass – The Roof of the World
Get ready for three unforgettable days of adrenaline, tradition, and breathtaking beauty at the world’s highest polo ground, where legends ride and history is made!
🏇 Experience the thrill as the fiercest polo warriors from Gilgit-Baltistan and Chitral clash in an epic battle of courage and skill — no rules, no limits, just pure freestyle polo.

شکار اور اصولچترال پاکستان کا ایک ایسا وادی ہے جہاں الله تعالٰی نے اپنے خوبصورت مخلوق کو ان وادیوں میں زندگی عطا کیا ہے ...
06/02/2025

شکار اور اصول
چترال پاکستان کا ایک ایسا وادی ہے جہاں الله تعالٰی نے اپنے خوبصورت مخلوق کو ان وادیوں میں زندگی عطا کیا ہے لوگوں کی طرح چرند و پرند اور حیوانات جو کہ چترال کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کررہے ہیں جس میں مارخور یعنی جنگلی، بکری جس میں ibex اورMarco Polo sheep بھی شامل ہیں اور چکور یہ دونوں ہمارے قومی جانور اور پرندے میں شمار ہوتے ہیں، مارخور اور اس خاندان کے جانوروں کا تعداد کم ہوتا جارہا ہے اس مسلے کو دیکھ کر United Nation organization for nature and natural اور CITES نے ایک فارمولا بنایا جس میں عوام کے تحت ان جانوروں کی حفاظت اور تحفظ کا فیصلہ کیا گیا جسے آجکل ہم village conservation committee سے جانتے ہیں اس اصول کے مطابق عوام مزکورہ جانوروں کی تحفظ میں اپنا کردار ادا کرتے ہوۓ ان کی شکار، جنگلات یہ وہ نباتات جن کو یہ جانور خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں ان کی بھی تحفظ دینا ہے۔ اب اس سے عوام یہ مطالقہ کمیٹی کو کیا فائدہ ہوگا۔ وہ یہ کہ مارخور یا ایبکس کی تناسب یا ایورج کمر 15 سال ہوتی ہے جس کے بعد یہ تو وہ نیچرل موت مرتا ہے یہ حادثاتی طور پر مر جاتا ہے زیادہ تر بڑتے ہوئے سینگوں کی وجہ سے حادثہ ہوتا ہے کیونکہ مارخور جس جگہ رہتا ہے وہ خطرناک اونچے پہاڑ ہوتے ہیں اگر اس کے علاوہ وہ بچ جاتا ہے اور اس کے کراس سے کوئی جانور پیدا ہو جائے تو وہ جنیاتی طور پر کمزور اور بیمار ہوتا ہے تو اس کو روکنے کیلئے ٹرافی ہنٹ کا نظام متعارف کرایا گیا کہ 15 سال سے اپر کے جانور کا ایسا شکار ہوگا کہ ایک علاقے میں نر اور مادہ کا ایک خاص تناسب بنایا گیا ہے ان جس اگر زیادہ جانور اس علاقے میں پایا گیا تو اسے ٹرافی ہنٹ کیلے ریکارڈ میں شامل کریں گے اور CITES کو اس حوالے سے اطلاع دین گے جس پر وہ اپنے ممبران کی فیصلے پر ایک قرارداد منظور کرے گا اور وہ ایک خاص تعداد کے جانور کا خاص علاقہ میں ٹرافی ہنٹ کا منظوری دیتا ہے جو کہ ابھی پاکستان میں مجموعی طور پر 12 مارخور ہیں جس میں ایبکس شامل نہیں ہے ان 12 شکار میں سے 4 شکار خیبر پختونخوا میں منظور کیا گیا ہے جن میں سے ایک کایگا انڈاس کوہستان کا ہے تین چترال میں ہوتے ہیں 3 میں سے ایک گہریت گولین کنزروینسی میں ہوتا ہے 2 توشی شاشا میں ہوتا ہے ایک توشی زون کا ہے ایک شاشا زون کا ہے۔ اب اس شکار کو فروخت کرنے کا طریقہ کچھ اس طرح ہے کہ محکمہ وئلڈ لائف اس کے نیلامی کا اشتہار دیگا اور جس نے سب سے زیادہ بولی لگائی شکار کا پرمٹ اس کو دیا جاتا ہے اس شخص سے withholding tex بھی وصول ہوتا ہے پاکستان میں زیادہ تر مختلف ہنٹگ کمپنی ہیں جو شکار کا پرمٹ وصول کرکے غیر ملکی شکاریوں کو فروخت کرکے اپنا منافع لیتے ہیں شکار کا جو مجموعی رقم ڈالر میں وصول کیا جاتا ہے اور اس کا تقسیم کچھ اس طرح ہوتا ہے 100 فیصد میں سے 20 فیصد محکمہ وئلڈ لائف کو دیا جاتا ہے جس کو وہ مزکورہ علاقہ جس میں شکار ہوتا ہے میں تحفظ کیلئے استعمال کرنے کا پابند ہوگا اور 80 فیصد مزکورہ کمیٹیوں میں تقسیم ہوگا تقسیم کچھ اسطرح سے ہوگا جس کنزروینسی کے زون میں شکار ہوکا اس کو 80 میں دے 40 فیصد ملے گا اور اس زون میں جتنے VCCs ہیں وہ ان میں برابر تقسیم ہوگا جو بقیہ 40 فیصد رقم ہے وہ کنزروینسی کے دیگر VCCs میں برابر تقسیم ہوگا۔ آب اس رقم کو ہر VCC اپنے تنظیم کے نام سے جوئنٹ اکاونٹ میں جمع کرے گا اور تنظیم اس رقم سے گاؤں کے ترقیاتی کام اور مارخور کے تحفظ میں استعمال ہوگا۔ چترال اور گلگت بلتستان میں ایک اہم فرق یہ ہے گلگت بلتستان میں تنظیم کا جو اکاونٹ ہے اس میں تنظیم کے صدر اور فینانس زیر دسخطی ہیں لیکن چترال میں ان دو فرد کے علاوہ محکمہ وئلڈ لائف کا DFO بھی دسخطی ہوتا ہے اس دسخطی کی وجہ سے عوام اور محکمے میں کافی مسائل جنم لیتی ہے اگر کوشش کر کے اس دسخطی کو ختم کیا جائے تو تنظیم مزید فعال ہوگا۔ اس سال چترال میں مارخور اور ایبکس کا جو شکار ہوئے ہیں وہ مزکورہ فارمولا اور ان کے بنائے ہوئے قانون کی مکمل خلاف ہے جس میں کم عمر جانوروں کا شکار جن کو بڑا کر کے دیکھیا جا رہا ہے ۔ اور ان کی تعداد میں اپنے من مانی اضافہ کرنا CITES کے اصولوں کے بلکل مخالف ہے۔ شکار کے اصولوں میں ایک بات یہ بھی ہے کہ جس جانور کو ٹارگٹ کیا جائے اس پر صرف تین فائر کیا جا سکتا اگر تین فائر میں شکار کامیاب نہیں ہو اس کے بعد اس کا شکار مکمل تصور کیا جائے گا۔

21/01/2025

Shandoor nowadays

چترال بہتلوی گول میں مارخور کا کامیاب شکارچترال لوئر کی وی سی سی بہتلوی گول(بالا)کے مقام پر ایک یادگار شکار کا انعقاد کی...
17/01/2025

چترال بہتلوی گول میں مارخور کا کامیاب شکار

چترال لوئر کی وی سی سی بہتلوی گول(بالا)کے مقام پر ایک یادگار شکار کا انعقاد کیا گیا جس میں سپین سے تعلق رکھنے والے ڈیویڈ نامی شکاری نے حصہ لیا۔ انہوں نے مارخور کے شکار کے لیے مجموعی طور پر 7 کروڑ 80 لاکھ روپے ادا کیے۔

اس شکار کی کامیابی پر عوام اور انتظامیہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ شکار سے حاصل ہونے والی رقم مقامی کنزرویشن کمیٹی کو دی جائے گی جو علاقے میں ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی کاموں پر خرچ کی جائے گی۔

مارخور کے 48 انچ سنگوں والے شکار کی کامیابی میں مظفر خان صاحب، ظفر ولی شاہ صاحب اور انور صاحب کی خدمات کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے علاقے کے مشران اور عمائدین کے ساتھ مل کر شکار کی منصوبہ بندی اور انتظامات کو یقینی بنایا۔

یہ اقدام نہ صرف مقامی معیشت کی بہتری کا سبب بنے گا بلکہ چترال کے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے بھی ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔

چترال ریکارڈر

Address

Chitral

Telephone

+923445122017

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The beauty of Chitral and Gilgit Baltistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The beauty of Chitral and Gilgit Baltistan:

Share