27/04/2026
❤ پیر غلام شاہ❤ — ایک یادگار ملاقات💕
یہ بات ہے سال 2014 کی، گرمیوں کے سخت دن تھے۔
میں پنجاب میں تھا کہ اچانک ایک کال موصول ہوئی۔ بتایا گیا کہ ایک بزرگ سید مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ چار سے پانچ گھنٹوں میں ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ جاؤں گا۔
راستے میں مسلسل کالیں آتی رہیں:
"کہاں پہنچے؟"
"کتنا وقت لگے گا؟"
مجھے محسوس ہوا کہ شاید کوئی ایمرجنسی ہے۔ چنانچہ تھکاوٹ کے باوجود گھر جانے کے بجائے سیدھا اسی مقام پر پہنچا جہاں میرا انتظار ہو رہا تھا۔
میں گاڑی سے اترا تو میرے ایک جاننے والے نے تعارف کروایا:
"یہ پیر غلام شاہ ہیں۔"
شدید گرمی تھی، ہم سڑک پر کھڑے تھے۔ میں نے ادب سے عرض کیا:
"مرشد، گاڑی میں اے سی چل رہا ہے، آئیے سکون سے اندر بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔"
ہم گاڑی میں بیٹھ گئے۔ میں نے عرض کیا:
"حکم فرمائیں، کیسے یاد کیا؟"
یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔
پیر غلام شاہ نے آہستہ اور ٹھہرے ہوئے لہجے میں فرمایا:
"حاجی صاحب، میرا ایک مرید ہے۔ اس کی اہلیہ ہسپتال میں داخل ہے اور اسے سخت مالی ضرورت ہے۔ میں نے کئی دوستوں اور جاننے والوں سے مدد کی درخواست کی، مگر کسی نے تعاون نہیں کیا۔ پھر میرے ذہن میں آپ آئے، اس لیے آپ کو تکلیف دی۔"
میں نے عرض کیا:
"مرشد، آپ اپنے لیے تو کچھ نہیں مانگ رہے، بلکہ اپنے مرید کے لیے اس گرمی میں پریشان پھر رہے ہیں؟ اللہ اکبر!"
میں نے بغیر کسی سوال کے کہا:
"حکم کریں، کتنی رقم درکار ہے؟"
انہوں نے فرمایا:
"جتنی آپ کی استطاعت ہو۔"
میں نے اصرار کیا کہ وہ رقم بتائیں، مگر وہ نہ مانے۔
میں نے گاڑی کا ڈیش بورڈ کھولا، جہاں کچھ رقم موجود تھی۔ دوسری طرف منہ کرکے عرض کیا:
"جتنا دل چاہے لے لیجیے، بے فکر ہو کر۔"
آج تک مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے کتنی رقم لی۔
پیر غلام شاہ نے مجھے ڈھیروں دعائیں دیں۔
وہ اکثر فرمایا کرتے تھے:
"زمانہ تمہیں گرائے گا، مگر تم پھر بہار بن کر سامنے آؤ گے۔ تمہاری کبھی پیٹھ نہیں لگے گی۔"
واللہ! وہ سچ کہتے تھے۔
میں نے اپنی زندگی میں پہلا ایسا پیر دیکھا جو اپنے مرید کے لیے اس قدر تڑپ رکھتا تھا۔
آج وہ ہم میں نہیں، مگر ان کی خوشبو، ان کی دعائیں، اور ان کے الفاظ آج بھی میرے ساتھ ہیں۔
اللہ تعالیٰ پیر غلام شاہ کے درجات بلند فرمائے
تحریر سالار رشید بجرانی۔