20/05/2026
یہ تصویر 1900ء کے آس پاس حجاز ریلوے کے ایک ڈبے کی ہے۔ وہ عظیم منصوبہ جس کا باقاعدہ آغاز 1900ء میں خلافتِ عثمانیہ کے عظیم سلطان عبد الحمید ثانی نے کیا، جبکہ اس کا افتتاح 1908ء میں ہوا۔
یہ ریلوے لائن استنبول (ترکی) کو حجاز (مدینہ منورہ) سے ملانے کے لیے بنائی گئی تھی، جو شام، فلسطین اور اردن سے گزرتی تھی، اور مسلمانوں کے لیے حج کے سفر کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ امت کے باہمی ربط کی ایک عظیم علامت تھی۔
ان مسافروں کے لباس کو غور سے دیکھیں…
آپ کو شام کے لوگ، عراق کے بدو، جبلِ لبنان کے باشندے اور ترک نظر آئیں گے۔ سب ایک ہی ٹرین میں سوار تھے، نہ کوئی ویزا، نہ پاسپورٹ، نہ شناختی کارڈ۔ وہ شام کے قدیم شہروں سے گزرتے، بیت المقدس (قبلۂ اول) پہنچتے، پھر اردن کے میدانوں سے ہوتے ہوئے حجاز کے ریگزاروں تک جاتے، اور آخرکار مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ تک اپنا سفر مکمل کرتے۔
یہ سفر کچھ ایسا تھا جیسے آج ایک ہی شہر کے مختلف علاقوں میں جانا…
واپسی پر وہ اپنے ساتھ حجاز کی کھجوریں، عمان کی روٹی، فلسطین کے زیتون اور شام کے انگور لاتے۔ ایک امت، ایک تہذیب، ایک روح۔
پھر 1916ء میں بدنامِ زمانہ سائیکس-پیکو معاہدہ (برطانیہ اور فرانس کے درمیان) ہوا، جس نے اس وحدت کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا، سرحدیں کھینچ دی گئیں، اور وہ امت جو کبھی بغیر رکاوٹ سفر کرتی تھی، کاغذی پابندیوں میں جکڑ دی گئی۔
یہ ریلوے بھی پہلی جنگِ عظیم (1914–1918) کے دوران شدید نقصان کا شکار ہوئی اور بالآخر اپنی اصل حالت میں باقی نہ رہ سکی۔
یاد رکھیں تاریخ کی کہانیاں بچوں کو سلانے کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ اُمت مسلمہ کے مردوں کو جگانے کے لیے سنائی جاتی ہیں۔