Luxury online Travel &tours

Luxury online Travel &tours Luxury tours and car rental for all Pakistan service naran kagan sawat kalam kashmir gilgit biltistan

13/04/2026
مکمل ٹریک۔ لنگر نالہ اوپر والا راستہ شندور جا رہا ہے جبکہ ریڈ لائن والا آٹھ کلومیٹر سیدھا ٹریک باہا چھت تک آتا ہے اس کے ...
13/04/2026

مکمل ٹریک۔ لنگر نالہ اوپر والا راستہ شندور جا رہا ہے جبکہ ریڈ لائن والا آٹھ کلومیٹر سیدھا ٹریک باہا چھت تک آتا ہے اس کے بعد دو چھوٹی جھیلیں اور پھر خوکوش جھیل جو کہ ساڑھے تین کلومیٹر طویل ہے۔ مزید آگے بشکارو پاس یا خوکوش پاس کراس کر کے دوسری جانب کالام ویلی مہوڈنڈ سری کالام سیف اللہ جھیل والی سائیڈ اتر سکتے ہیں

*مقبرہ خالد بن ولید*سرائے سدھو روڈ کے کنارے، کھتی چور کے قریب ایک خاموش مگر پُراسرار عمارت صدیوں سے کھڑی ہے… لوگ اسے مقب...
13/04/2026

*مقبرہ خالد بن ولید*

سرائے سدھو روڈ کے کنارے، کھتی چور کے قریب ایک خاموش مگر پُراسرار عمارت صدیوں سے کھڑی ہے… لوگ اسے مقبرہ خالد ولید کہتے ہیں، جبکہ مقامی زبان میں اسے خالق ولی کا مزار بھی کہا جاتا ہے۔

کہتے ہیں یہاں کبھی دریائے چناب بہتا تھا… اور آج بھی جب آپ اس مقبرے کی طرف بڑھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے وقت پیچھے لوٹ رہا ہو۔ نیچے سے 22 سیڑھیاں چڑھ کر جب آپ اوپر پہنچتے ہیں، تو ایک قلعہ نما عمارت آپ کے سامنے ہوتی ہے—6 برج، اونچا دروازہ، اور اینٹوں کی وہ کاریگری جو صدیوں پرانی کہانی سناتی ہے۔

یہ صرف ایک مزار نہیں… بلکہ تاریخ کا زندہ باب ہے۔
بارہویں صدی میں، سلطان محمد غوری کے دور میں، ملتان کے گورنر علی بن کرماخ نے اسے تعمیر کروایا۔ محراب پر کندہ کوفی خط آج بھی گواہی دیتا ہے—آیت الکرسی، اسم محمد ﷺ اور خلفائے راشدین کے نام… جیسے اینٹوں میں ایمان نقش ہو گیا ہو۔

اندر داخل ہوں تو ایک 24x24 فٹ کا سادہ مگر پُرسکون کمرہ… جس کے درمیان ایک لمبی سی قبر، تقریباً 15 فٹ۔ اردگرد خاموشی ایسی کہ جیسے وقت بھی یہاں آ کر رک گیا ہو۔

مقامی لوگ ایک اور کہانی بھی سناتے ہیں…
کہ یہ بزرگ سلطان محمود غزنوی کے ساتھ یہاں آئے تھے، اور پھر یہیں ہمیشہ کے لیے ٹھہر گئے۔
لیکن تاریخ صرف اتنا کہتی ہے کہ یہ عمارت اسلامی فن تعمیر کے ابتدائی دور کی ایک نایاب مثال ہے—وہ بنیاد جس پر بعد میں ملتان کے عظیم مزارات تعمیر ہوئے۔

آج بھی، اس مقام کے اردگرد ایک قدیم مسجد، پرانے مزار، اور ایک وسیع قبرستان موجود ہے… جیسے ماضی کی پوری بستی ابھی تک سانس لے رہی ہو۔

یہ جگہ صرف دیکھنے کی نہیں… محسوس کرنے کی ہے۔
اگر آپ کبھی خانیوال یا کبیر والا جائیں… تو اس خاموش تاریخ سے ضرور ملیں۔

کیا آپ نے کبھی اس مقام کا وزٹ کیا ہے؟ 🤔
اپنا تجربہ ضرور شیئر کریں۔

08/04/2026
*ٹلہ جوگیاں : ہزاروں سالوں پر محیط ماضی کی داستان :*😓😓😓😓*ایک ایسا تاریخی انمول ورثہ جس کی کھوج اور روایات ڈھونڈنے اور وز...
08/04/2026

*ٹلہ جوگیاں : ہزاروں سالوں پر محیط ماضی کی داستان :*
😓😓😓😓

*ایک ایسا تاریخی انمول ورثہ جس کی کھوج اور روایات ڈھونڈنے اور وزٹ کے بعد میں خود اداس ہو گیا افسوس در افسوس ماضی کا ایسا پررونق مقام جو اداسیوں کی نظر ہو گیا*

*اس تحریر میں اپ کو بہت کچھ ملے گا لازمی وزٹ کریں*

*ٹلا جوگیاں:* *جہلم کا وہ ٹیلا جہاں صدیوں سے کوئی اقتدار مانگنے تو کوئی محبوب مانگنے آتا تھا*

ٹلّہ جوگیاں تاریخ، مذہب اور روایات کی دھند میں لپٹا ایک ایسا پرسرار تحیرانگیز مقام ہے جس کی شکستہ دیواروں کے طاقچوں میں صدیوں پرانے بجھے چراغوں کی سیاہی دراصل وقت کے صفحات پر لکھی ہزاروں سال کی تاریخ کی انمٹ روشنائی ہے۔

ٹیلہ جوگیاں سلسلہ کوہ نمک پاکستان کا ایک اہم پہاڑ ہے۔ اس کی بلندی 3200 فٹ ہے۔ اس کی چوٹی پر ہندووں کے مندراورپانی جمع کرنے کے تالاب ہیں۔ سکندر اعظم، مغل بادشاہ جہانگیر، گورونانک ، رانجھا ، حضرت نورعلی رحمۃ اللہ علیہ المعروف ملاں پنجاب اور بہادر شاہ یہاں آئے۔ یہاں سے جہلم 30 کلومیٹر اور قلعہ روہتاس 5 کلومیٹر دور ہے۔ یہ ایک پرفضا مقام ہے۔

اور اگر آپ شیر شاہ سوری کے مشہور قلعہ رہتاس میں ہوں تو یہی پہاڑ عین جنوب کو نظر آئے گا۔ یہ ہے ٹیلہ جوگیاں کا پہاڑ جو کے ایک ہزار میٹر یا تین سو فٹ اونچا ہے۔ اس کی چوٹی پر خستہ کھنڈر ہیں جو ایک قدیمی خانقاہ کی باقیات ہیں۔ یہاں آپ دو راستوں سے پہنچ سکتے ہیں۔ اول تو جیپ کا رستہ ہے جو قلعہ رہتاس سے ہوتا ہوا سیدھا یہاں پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی اور رستے ہیں جو پیدل سفر کے ہیں اور جو پہاڑ کے دامن میں مختلف آبادیوں سے نکلتے ہیں۔ اور یہی وہ رستے ہیں جن کے ذریعے کئی صدیوں تک یاتری ٹلہ جوگیاں کے بیساکھی کے میلے پر آتے رہے ہیں۔

اکبر نامہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ نے دو مختلف مواقع پر ٹیلہ جوگیاں کی سیر بھی کی۔ انہی شاہی دوروں کا نتیجہ قد آور چیڑ کے پیڑوں کی چھاؤں میں گھرا ہوا مغل طرز کا تالاب ہے۔ یقیناً وہ خشک سالی کا دور ہوگا اور جوگیوں نے بادشاہ سے پانی کا ذخیرہ کرنے کے لیے تالاب کی درخواست کی ہوگی۔ چند سال پہلے تک تالاب کے بالکل ساتھ ہی کوئی بارہ پندرہ سمادھیاں تھیں لیکن کچھ لالچی لوگوں نے خزانے کے لالچ میں ان سب کو تباہ کر ڈالا۔

تالاب سے شمال کی جانب نظریں کریں تو بوسیدہ اور خستہ حال عمارتوں کا ایک جھمگھٹا ہے۔ یہاں پیپل اور جنگلی زیتون کے گھنے سائے میں مندر اور سمادھیاں ہیں۔ یہاں بھی انسانی لالچ کے ہاتھوں ہونے والی تباہ کاری واضح ہے۔ اگر آپ آثار قدیمہ کے ماہر والی آنکھ رکھتے ہیں تو آپ بھانپ لیں گے کہ اوپر کی سطح والی عمارتوں کے نیچے ایک تہ مزید پرانی عمارتوں کی ہے۔ کہیں ملبے تلے محراب، کہیں بوسیدہ دیوار اور کہیں سیڑھیاں جو کسی گم گشتہ عمارت کے اندر اترتی تھیں۔ اس سب پر طاری ایک گمبھیر خاموشی جس کو صرف ہوا کی سرگوشی اور پرندوں کا چہچہانا توڑتا ہے۔

مغرب کی جانب ٹیلہ کی سب سے اونچی چوٹی پر نیلے آسمان تلے ایک عمارت آپ کی توجہ اپنی طرف کھینچتی ہے کیونکہ بناوٹ کے لحاظ سے وہ قائد اعظم کے مزار سے مشابہت رکھتی ہے۔ گنبد والی یہ عمارت تقریباً آٹھ فٹ اونچی ہے اور طرز تعمیر سے واضح طور پر سکھ دور کی ہے۔ اپنے زمانے میں عین اسی مقام پر گورو نانک نے چلہ کشی کی تھی۔ اور پھر ساڑھے تین سو سال بعد راجا رنجیت سنگھ کے دور میں جب گورو نانک کے ماننے والوں نے پنجاب کی حکومت سنبھالی تو اس یاد کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنے کی خاطر یہ گنبد کھڑا کیا

یہ ٹلّہ سکندر اعظم کی آمد کے وقت بھی موجود تھا اور اپنے مضامین میں وہ اسے ’سورج کے لیے مقدس ٹیلا‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے
تخت ہزارے کا رانجھا شکستہ قدموں اور رنجور دل سے پہاڑ کی کٹھن چڑھائی چڑھ رہا ہے۔ اس کی ونجلی (بانسری) کی تانیں فضا میں درد گھول رہی ہیں۔ یہ ہیر سے بچھڑنے کا غم ہے جس میں وہ دنیا تیاگ کر جوگ لینے گرو بال ناتھ کے پاس پہنچتا ہے۔ گرو بال ناتھ اس غم زدہ عاشق کو اپنی محبت کے سائے میں سمیٹ لیتے ہیں اور اس کا کان چھدوا کر، اس میں بالی ڈال کر اسے اپنے قبیلے میں شامل کر لیتے ہیں اور یوں رانجھا ’کن پھٹا‘ جوگی بن جاتا ہے۔

ہیر رانجھا کا یہ قصہ آج بھی پنجاب کے لوگوں کو بے قرار رکھتا ہے۔ اگرچہ اس قصے کو بیتے صدیاں گزر گئی ہیں لیکن وہ پہاڑ، جہاں رانجھے نے جوگ لیا، ٹلّہ جوگیاں کا تھا اور جہاں پتھر کا ایک تخت آج بھی رانجھے کے جوگ کی یادگار کے طور موجود ہے۔

جہلم سے تقریباً 20 کلومیٹر فاصلے پر سطح سمندر سے 3200 فٹ کی بلندی پر واقع ’ٹلّہ جوگیاں‘ یا جوگیوں کے ٹیلے کے اجڑے کھنڈرات میں صدیاں سانس لیتی ہیں۔

اپنے وقت میں فقیروں کی یہ ایک ایسی کٹیا تھی جہاں سلاطین وقت حاضری بھرتے اور جوگیوں کی سیوا کرتے تاکہ ان کے اقتدار کا سورج تا دیر بلند رہے۔

ٹیلے کے اونچے نیچے پتھریلے راستے، شکستہ مندر، بجھے چراغوں کے سیاہ طاقچے، کائی زدہ خشک تالاب، سوکھے پتے، بوڑھے شجر اور ٹیلے پر چاروں جانب گونجتا ہوا سناٹا۔ یہ سب بے زبان خاموشی گواہ ہیں کہ یہاں راجا پورس، سکندر اعظم اور اکبر بادشاہ سے لے کر ہیر کے رانجھے تک، سب نے دھونی رما کر اور تلک لگا کر اس ٹیلے کی رونق بڑھائی تھی۔

لیکن آج یہاں دور دور تک ویرانی کا بسرام ہے۔

’جہاں سکندرِ اعظم کا استقبال ہوا تھا‘

’ٹلّہ جوگیاں، جہاں صدیوں پہلے سورج کی پوجا ہوتی تھی‘

ٹلّہ جوگیاں کی قدامت صدی دو صدی کی نہیں بلکہ کم و بیش تین ہزار سال پر محیط ہے۔ یہ ٹلّہ قبل مسیح بھی آباد تھا۔

ٹلّہ جوگیاں بظاہر ایک عام سی عبادت گاہ نظر آتی ہے مگر تاریخ کے گرد آلود صفحات پلٹتے جائیں تو اس ٹیلے سے لپٹی تحریر کی نت نئی داستانیں سامنے آتی چلی جاتی ہیں۔

مختلف مورخین لکھتے ہیں اس قدیم زمانے میں کسی ہندو مہا پرش نے یہاں کوئی عبادت گاہ بنائی تھی اور مہا بھارت کے اختتام پر پانچوں پانڈو بھائی یاترا کرنے یہاں آئے تھے
. . . قدیم زمانے میں یہاں سورج کی پوجا ہوتی تھی اور قدیم مقدس کتاب ’رگ وید‘ کے کچھ منڈل اور منتر بھی یہیں کہیں تخلیق ہوئے۔

یونان میں 46 عیسوی میں پیدا ہونے والے مورخ ’پلوٹارچ‘ کے مطابق یہ ٹلّہ سکندر اعظم کی آمد کے وقت بھی موجود تھا اور اپنے مضامین میں وہ اسے ’سورج کے لیے مقدس ٹیلا‘ (Hill Sacred to Sun) کے نام سے پکارتے ہیں۔

الیگزانڈر کننگھم نے اپنی کتاب میں لکھا کہ پلوٹارچ کے مطابق 326 قبل مسیح میں جب راجا پورس سکندرِ اعظم کے ساتھ مقابلے کی تیاریاں کر رہے تھے تو ان کا ہاتھی سورج کی مقدس پہاڑی پر چڑھ گیا اور انسان کی آواز میں پورس سے درخواست کی کہ وہ سکندر کے مقابلے پر نہ اُتریں۔

سکندر اعظم کے تاریخ داں نے ٹلّہ جوگیاں کے پہاڑ کو ’ایلی فینٹ ماﺅنٹین‘ پکارا ہے اور جب وہ خود ٹلّہ جوگیاں کی جانب آ رہے تھے تو واقعی دور سے اس پہاڑ کی شکل پر ایک ہاتھی کا شائبہ ہوتا تھا۔

’ٹلہ جوگیاں جس سے تاریخ کے بڑے بڑے نام جڑے ہیں‘

یہاں کے مندر، سمادھی، تالاب اور گھنے اشجار سبھی سے تاریخ کے بڑے نام جڑے ہیں۔

بابا گرو نانک، گرو گورکھ ناتھ، گرو بال ناتھ، راجا سلواہن، راجا بھرت ہری، سکندر اعظم، مغل بادشاہ جلال الدین اکبر، نورالدین جہانگیر، غرض کہ ہر عہد کے سلاطین اور ہر مذہب کے پیشواؤں نے یہاں حاضری دی ہے۔

تاریخ میں یہ ٹلّہ دو بڑے ناموں سے مشہور ہوا، گرو گورکھ ناتھ اور صدیوں بعد گرو بال ناتھ۔

کہتے ہیں کہ گرو گورکھ ناتھ نے اجین کے راجا بکرماجیت اور سیالکوٹ کے راجا سلواہن کے عہد میں یہاں ڈیرا لگایا اور مہا یوگی شیو دیوتا کی پوجا کو رواج دیا اور ناتھ پنتھ قائم کیا۔

ایک روایت ہے کہ ٹلّہ جوگیاں پر اس قدیم خانقاہ کی بنیاد ’کن پھٹے‘ جوگیوں کے سلسلے کے بانی گرو گورکھ ناتھ نے ایک صدی قبل مسیح رکھی تھی۔

یہ ٹلّہ تقریباً دو ہزار سال آباد رہا۔ گرو بال ناتھ کا زمانہ شاید 15ویں صدی عیسوی رہا ہو گا کیونکہ ٹلّے اور رانجھے کے جوگ کا ذکر پنجابی نظم ہیر رانجھا میں بھی ملتا ہے۔

رانجھا ہیر کے پیار میں ناکام ہو کر ٹوٹے دل کے ساتھ یہاں آیا اور اپنے کان چھدوا کر جوگی بال ناتھ کا چیلا بن گیا تھا۔

اس ٹلّے سے وابستہ سب سے مشہور قصہ رانجھا کا ہے۔ ٹلّے پر موجودہ ریسٹ ہاؤس کے ڈھلوانی راستے کے آخری موڑ پر پتھر کی وہ سِل آج بھی موجود ہے جہاں پر رانجھے نے ہیر کے عشق میں اپنے کان چھِدوائے اور جوگ لیا۔

گرو بال ناتھ نے اس غم کے مارے کے بدن پر راکھ ملی اور کان میں مندرے ڈال کر اپنا چیلا بنا لیا مگر عشق کی آگ نے رانجھے کو یہاں بھی ٹکنے نہ دیا اور وہ جوگی بن کر بھی ہیر کی تلاش میں سرگرداں رہا۔

گرو نے اس کے کان چھِدوا کر اپنا چیلا بنا لیا۔ گرو گورکھ ناتھ کے ہی حکم پر پورن واپس گھر گیا تو اس کی سوتیلی ماں نے اس سے معافی مانگی اور اولاد کے لیے دعا کروائی۔

پورن نے سوتیلی ماں کو معاف کر دیا اور اس کی دعا سے اس کی سوتیلی ماں کی گود بھی بھر گئی۔

آج بھی بے اولاد لوگ اولاد کی خواہش میں پورن بھگت سے منسوب اس کنوئیں پر آتے ہیں اور اس کے پانی میں پھولوں کی پتیاں پھینکتے ہیں۔

اولاد کی خواہش مند خواتین اس کنوئیں کے پانی سے غسل کرتی ہیں، نئے کپڑے پہنتی ہیں، پھر پرانے کپڑے جوتے روایت کے مطابق سب کچھ وہیں جلا دیے جاتے ہیں۔

ٹلّے کے حوالے سے جوگی راجا بھی بہت مشہور داستان ہے۔ جب راجا بھرت ہری اجین کا حکمران بنا تو وہ 375 اور380 قبل مسیح کا درمیانی دور تھا۔

ان کی بھی دو رانیاں تھیں۔ سیتا دیوی اور پنگلا دیوی اور دونوں ہی حسن و جمال میں یکتا تھیں مگر بھرت ہری سیتا کے حسن کا دیوانہ تھا۔

یہ بھی ایک طویل داستان ہے جس کو اگر مختصراً بیان کیا تو ہوا یوں کہ راجہ بھرت ہری کی محبوبہ بیوی سیتا اپنے شوہر سے بے وفائی کی مرتکب ہوتی ہے اور پھر راز کھلنے پرخود کشی کر لیتی ہے۔

راجا بھرت ہری دودھ کا جلا تھا لہذا دوسری بیوی کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ایک موقع پر اس کی وفا کا امتحان لینے کے لیے اپنی موت کی جھوٹی اطلاع اس تک پہنچاتا ہے تاکہ وہ اس کا ردعمل جان سکے۔

وفا کی ماری پنگلا دیوی شوہر کی موت کی خبر سنتے ہی گر کر جان دے دیتی ہے۔

ان دونوں واقعات کا راجا بھرت ہری پر اتنا اثر ہوتا ہے کہ وہ تخت و تاج اپنے بھائی بکرماجیت کو سونپ کر نروان کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔

اس کی تلاش اسے کوسوں دور نمک کے بلند و بالا پہاڑ اور جوگیوں کے مشہور استھان ٹلہ جوگیاں تک لے آتی ہے۔

گرو گورکھ ناتھ کے پیار بھرے برتاؤ سے راجا کی بے کلی کچھ کم ہوتی ہے لیکن غم کا مارا یہ راجا زیادہ نہیں جی پاتا اور بہت جلد اس کی سانسوں کی ڈور اسی پہاڑ پر ٹوٹ جاتی ہے۔ اس کی سمادھی بھی وہیں کہیں موجود تھی جو اب بے نشاں ہو چکی ہے۔

آج کے جوگیوں کے برعکس یہ جوگی علم اور تحقیق میں مصروف رہتے۔ مختلف حوالوں کے مطابق ان ہی جوگیوں نے دیسی طریقہ علاج آیور ویدک متعارف کروایا۔

جڑی بوٹیوں سے علاج کا فن، علم نجوم کے علاوہ یوگا کی ایجاد اور قواعد و ضوابط ان ہی جوگیوں کے مرہونِ منت ہیں۔

ٹلّہ پر رہنے والے یہ جوگی انسانی آبادیوں سے دور جنگلوں میں نایاب جڑی بوٹیاں تلاش کر کے ان سے ادویات تیار کرتے اور بیمار لوگوں کی خدمت کرتے۔ لوگ بھی ان جوگیوں کی عزت کرتے۔
اور ٹلّہ جوگیاں پر جوگی اپنا اکٹھ کرتے تھے۔

اسی پہاڑ کی بلند چوٹی پر بیٹھ کر دنوں، مہینوں اور برسوں کا حساب کرتے۔ اس کے لیے وہ چڑھتے سورج کی شعاعیں ناپ تول کر دوپہر میں وہ قدرتی گھڑیال بناتے تھے۔ وقت کے تعین کے لیے آٹھ پہر بھی ان ہی جوگیوں کے مرتب کردہ ہیں۔

ٹلّے کے اچھے وقتوں میں ہر سال 14 ماگھ کو اس پہاڑ پر بڑی دھوم دھام سے شیو کی یاد میں میلہ منعقد کیا جاتا تھا جو انڈیا کے بڑے میلوں میں شمار ہوتا تھا۔

میلے کے دنوں میں ٹلّے کے چاروں جانب یاتریوں کے گھوڑے اور خچروں کی قطاریں نظر آتیں اور رات کو چراغاں کا سماں ہوتا۔

قیام پاکستان کے بعد یہ جوگی جاتے ہوئے ہزاروں کتابوں کا ذخیرہ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

میاں عتیق احمد کے مطابق اس اہم آثار قدیمہ کی تباہی ان لوگوں کے ہاتھوں زیادہ ہوئی ہے جو یہاں خزانہ ڈھونڈنے آتے ہیں اور ان اہم آثار کو کھود ڈالتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چند سال پہلے تک یہاں تالاب کے ساتھ بارہ، پندرہ سمادھیاں موجود تھیں اور تالاب کے شمالی جانب پیپل اور جنگلی زیتون کے گھنے سائے میں بھی کئی مندر اور سمادھیاں موجود تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ سطح زمین کی عمارات کے نیچے بھی ایک تہہ مزید پرانی عمارات کی ہے اور کہیں ملبے تلے محرابیں، کہیں بوسیدہ دیوار اور کہیں سیڑھیاں جو کسی گم گشتہ عمارت کے اندر اترتی ہیں۔

یہاں ہر پل ایک گمبھیر خاموشی طاری رہتی ہے جسے صرف ہوا کی سرسراہٹ یا پرندوں کی چہچہاہٹ توڑتی ہے۔

مغل بادشاہ جلال الدین اکبر نے 16ویں صدی عیسوی میں دو بار اس مقدس پہاڑ کا دورہ کیا اور ان جوگیوں کے لیے عظیم الشان تالاب بنوایا۔

کہا جاتا ہے کہ جب بادشاہ ننگے سر اور ننگے پاﺅں یہاں پہنچا تو اس وقت یہاں ہزاروں سادھو موجود تھے جو بادشاہ کو حیرانی سے تکتے تھے۔

مغل شاہی مورخ ابو الفضل لکھتے ہیں کہ 1581 میں بادشاہ نے ٹلّہ بال ناتھ پر جوگیوں کے گرو سے ملاقات کی اور بات چیت کر کے ان سے متاثر ہوئے۔

تزک جہانگیری سے بھی پتا چلتا ہے کہ مغل بادشاہ جہانگیر نے 1607 میں کشمیر جاتے ہوئے جب قلعہ روہتاس میں پڑاؤ کیا تھا تو شکار کی غرض سے ٹلّہ آئے تھے اور یہاں دربار بھی لگایا تھا۔
اور آریاؤں کی بھی پہلی قیام گاہ وادی جہلم تھی۔

چونکہ آریا چاند سورج اور ستاروں کو ماننے والے تھے اس لیے ان کی عبادت کے لیے ٹلّے کا اونچا مقام ہی بہترین ٹھکانا ہو سکتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ گروبال ناتھ کا استھان جو ٹلّے کے سب سے اونچے مقام پر بنا ہوا ہے، اُس کے نیچے ایک غار ہے جس سے چند قدم کے فاصلے پر پہاڑ کی چوٹی پر ایک عبادت گاہ کے آثار ہیں جو ایسی جگہ پر ہے جہاں سے سورج اپنے طلوع سے غروب تک ایک خاص زاویہ بناتے ہوئے گزرتا ہے۔

بادشاہ جلال الدین اکبر نے 16ویں صدی عیسوی میں دو بار اس مقدس پہاڑ کا دورہ کیا اور ان جوگیوں کے لیے عظیم الشان تالاب بنوایا۔

دلی شہر کی مانند یہ تاریخی ٹیلہ بھی کئی بار اجڑا اور پھر آباد ہوا۔ حالیہ تاریخ میں 18ویں صدی عیسویں میں احمد شاہ ابدالی نے اس ٹلّے کو تاراج کر دیا تھا لیکن جب قتل و غارت کا دور ختم ہوا تو جوگی پھر لوٹ آئے تھے اور ٹلّہ پھر سے آباد ہو گیا تھا۔

آخری بار یہ 1947 کی تقسیم کے بعد اجڑ گیا۔

’وہ ہندو بھی تھے، مسلمان بھی اور سکھ بھی یا شاید سب کچھ تھے۔ تو بس وقت وہیں رک سا گیا اور ٹلّہ پھر آباد نہ ہو پایا اور جوگی دھیرے دھیرے اس ٹیلے کو چھوڑ کر جاتے رہے۔‘

یہاں باقاعدہ سکھوں کی کمیٹی بنی ہوئی تھی جس سے ان جوگیوں کو مالی اور انتظامی مدد ملتی تھی۔

ریکارڈ کے مطابق 60 فیصد ہندو یا سکھ جوگی تھے جبکہ 40 فیصد مسلمان بھی تھے۔ تقسیم کے بعد جب یہ واضح ہو گیا کہ یہ مسلمان ریاست ہے تو غیر مسلم جوگی یہاں سے رخصت ہو گئے۔

جوگیوں کا یہ ٹیلہ برصغیر پاک وہند میں مذہبی ہم آہنگی کی بہترین مثال تھا جہاں ہر مذہب کے جوگی آزادی سے اپنی عبادات کر سکتے تھے۔

ہندو اور سکھوں کے لیے اس ٹلّے کی بڑی اہمیت ہے اور شاید اب بھی یہ موقع ہے کہ ان قدیم آثار کو بحال کر کے مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں شدید ترین تباہ کن موسمی صورتحال کا امکاناگر اس موسمی ماڈل کے مطابق یکم جولائی سے 15 جولائی کے دوران ملک کے 8...
30/06/2025

پاکستان میں شدید ترین تباہ کن موسمی صورتحال کا امکان

اگر اس موسمی ماڈل کے مطابق یکم جولائی سے 15 جولائی کے دوران ملک کے 80% علاقوں میں نظر آنے والی مقدار میں بارشیں ہو گئیں تو مون سون سیزن 2022 سے بھی زیادہ بدترین سیلاب پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے اور شمالی علاقوں کی سیاحت 1 جولائی سے 15 جولائی کے درمیان شدید متاثر ہو گی اور میں کسی دوست کو بھی ان تاریخوں ( 1 جولائی سے 15 جولائی کے درمیان ) شمال کی طرف جانے کا مشورہ نہیں دے سکتا کیونکہ پورا شمال شدید بارشوں کی زد میں ہوگا ، دریاؤں ندی نالوں میں شدید طغیانی آنے، بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور پلوں سمیت سڑکوں کا انفراسٹرکچر بری طرح سے تباہ ہو سکتا ہے لہٰذا حکومت/ عوام / متعلقہ ادارے تمام ضروری اقدامات ابھی سے کر لیں پھر نہ کہنا کہ بتایا نہیں تھا

نوٹ :- ہم موسم سے متعلق پیشگوئی کر سکتے ہیں موسم کو کنٹرول نہیں اور ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو رب العالمین کی رضا سے ہوتا ہے اللہ تعالٰی اہل پاکستان کو ہر قسم کی زمینی و آسمانی آفات سے محفوظ رکھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین

30/06/2025

MushkPuri Top🌦️🤍

Lost in the beauty of nature🕊️Minimarg valley😍Mountain lover
30/06/2025

Lost in the beauty of nature🕊️

Minimarg valley😍
Mountain lover

Address

Faisalabad

Telephone

+923027077123

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Luxury online Travel &tours posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Luxury online Travel &tours:

Share

Category