Abbasi Pick & Drop Travel & Tours

Abbasi Pick & Drop Travel & Tours pick & drop
Bani Gala , Bhara kahu to
Rawalpindi
Islamabad All sectors
All kind of Cars available For Bookings /per day

وادئ کمراٹ کو وادئ کالام سے ملانے والا خوبصورت درہ بڈگوئی
01/05/2023

وادئ کمراٹ کو وادئ کالام سے ملانے والا خوبصورت درہ بڈگوئی

Hazara Expresway     🇵🇰
01/05/2023

Hazara Expresway 🇵🇰

فیری میڈوز - رائے کوٹ گلیشئر اور نانگا پربت کا ایک ساتھ خوبصورت منظر
01/05/2023

فیری میڈوز - رائے کوٹ گلیشئر اور نانگا پربت کا ایک ساتھ خوبصورت منظر

بابوسر ٹاپ (مئ 2023)
01/05/2023

بابوسر ٹاپ (مئ 2023)

اوشو جنگل - کالام (سوات)
01/05/2023

اوشو جنگل - کالام (سوات)

Muzaffarabad Azad Kashmir ❤️
01/05/2023

Muzaffarabad Azad Kashmir ❤️

سرنگیٹی نیشنل پارک تنزانیہ 30 ہزار مربع کلومیٹر علاقے پر واقع ہے۔ اس علاقے میں دنیا میں شتر مرغ کی  سب سے زیادہ آبادی مو...
01/05/2023

سرنگیٹی نیشنل پارک تنزانیہ 30 ہزار مربع کلومیٹر علاقے پر واقع ہے۔ اس علاقے میں دنیا میں شتر مرغ کی سب سے زیادہ آبادی موجود ہے۔
اس پارک میں 70 اقسام کے 20 لاکھ چرندے ، 4 ہزار شیر ، 1 ہزار لیوپرڈ ، 550 چیتے اور 500 اقسام کے پرندے پاے جاتے ہیں ۔

اس علاقے کو زمین پر جانوروں کی جنت بھی کہا جاتا ہے۔۔

اس پارک میں جانوروں کی دوسری سب سے بڑی عالمی ہجرت ہوتی ہے ۔۔

نیچے تصویر میں نظر آنے والا جانور وائلڈ بيسٹ ہے ۔۔

سیدپور گاؤں — اسلام آباد😍🌻🌹   پہاڑ اتنے قریب چاہئیں... جیسے گوادر میں سمندر
05/04/2023

سیدپور گاؤں — اسلام آباد😍🌻🌹
پہاڑ اتنے قریب چاہئیں... جیسے گوادر میں سمندر

اسلام آباد کو  مملکتِ خداداد پاکستان  کا  دارالحکومت  بنانے کا اعلان 1959 ء میں ہوا ۔  اس سے قبل اس سرزمین پر کم وبیش 16...
05/04/2023

اسلام آباد کو مملکتِ خداداد پاکستان کا دارالحکومت بنانے کا اعلان 1959 ء میں ہوا ۔ اس سے قبل اس سرزمین پر کم وبیش 160 دیہات آباد تھے ۔
ارضِ اسلام آباد کا قدیم نام راج شاہی تھا ۔
ماہرین ارضیات کی تحقیق کے مطابق یہاں پر لاکھوں سال پرانے انسانی قدموں کے نشانات ملے ہیں۔ یہاں انسانی ذندگی کے آثار بہت پرانے ہیں۔
اس تحقیق کی بنیاد وہ فوسلز تھے جو دریائے سواں کے ارد گرد کے علاقے مورگاہ گڑھی شاہاں سواں کیمپ سے ملے ہیں۔

ماہر ارضیات ڈی ۔این واڈیا نے 1928 میں دریائے سواں کے کنارے ایسے اوزاروں کا پتہ چلایا ہے جو پتھر کے بنے ہوئے اوزار استعمال کرنے سے بھی قبل کا زمانہ ہے ۔

مورخ اگر اس دھرتی کے ماضی پر نظر دوڑائے تو اسے ہر سیکٹر یا سب سیکٹر میں ایک گاوں آباد نظر آئے گا ۔ بلکہ اس کے اولین آباد کار بمعہ اپنے شجرہ نسب کے آباد دکھائ دیں گے ۔ دیہاتوں کے ناموں کی وجہ تسمیہ بھی اپنی الگ شناخت ظاہر کرتی ھے۔

شہر کی تعمیر کے دوران مارگلہ کے دامن میں واقع بہت سے دیہات جیسے نورپور شاہاں، شاھدرہ سیدپور اور گولڑہ شریف کو اسلام آباد کا دیہی علاقہ قرار دیکر ان کی اصل شکل کو برقرار رکھا گیاہے ۔ اس دیہی علاقے کا مجموعی رقبہ ٣٨٩٠٦ مربع کلومیٹر ہے

سیدپور اور شاہ اللہ دتہ قدیم ترین دیہات ہیں سید پور کا پرانا نام فتح پور باولی تھا اسے پہلے پہل مغلوں کے ایک بزرگ مرزا فتح بیگ نے 1530 میں آباد کیا تھا ۔ 1580 میں مان سنگھ نے کابل جاتے ہوئے سید خان گکھڑ کو یہ جاگیر عطا کی ۔ بعد میں سید خان کی مناسبت سے اس کا نام سیدپور رکھا گیا ۔ سید خان سلطان سارنگ خان کی اولاد میں تھے۔ سیدپور کو قدیم دور سے ہی اہمیت حاصل رہی ہے ۔ ،1849 میں یہاں انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر قبضہ کیا تھا ۔ یہاں ہندوں کے مشہور استھان رام کنڈ ، لچھمن کنڈ اور مندر تھا جس کے آثار اب بھی موجود ہیں ۔ مشرف دور میں سیدپور کو ماڈل ویلیج کا درجہ دیکر اپ گریڈ کیا گیا ۔ اس گاوں میں گکھڑ برادری کی اکثریت ہے جبکہ جنجوعہ راجپوت، اعوان، پیرکانجن مغل، دھنیال، گوجر، منہاس، راجپوت، بھٹی اور سید بھی آباد ہیں ۔

سیدپور سے منسلک قدیمی آبادیوں میں چک ، بیچو، میرہ ، ٹیمبا ،بڑ ، جنڈالہ ہیلاں شامل تھے ،ٹیمبا میں پاکستان کی سب سے بڑی مسجد فیصل مسجد قائم ہے بڑ موجودہ ایف 5 کا علاقہ ہے ۔

سیکٹر ای سیون میں ڈھوک جیون نام کی بستی تھی جسے جیون گوجر نے گجرات سے آ کر آباد کیا تھا۔

سیکٹر جی 5 میں کٹاریاں گاوں آباد تھا آج کل یہاں وزارت خارجہ کے دفاتر ہیں کٹاریاں گاوں کے باشندوں کو سیکٹر آئ نائن کے سامنے راولپنڈی کی حدود میں متبادل جگہ دی گئ ۔ جسے آجکل نیوکٹاریاں کہا جاتا ہے ۔ یہ گوجروں کی کٹاریہ گوت سے منسوب ہے۔

چڑیا گھر کے سامنے سیکٹر ایف 6 میں بانیاں نام کی بستی تھی جس کے اولین آباد گوجروں نے اپنی گوت بانیاں کے نام پر اس کا نام رکھا ۔

اسلام آباد میں گوجر قوم کی آباد کردہ بستیوں میں ٹھٹھہ گوجراں، کنگوٹہ گوجراں ،کٹاریاں بھڈانہ بانیاں ،نون، بوکڑہ،داداں گوجراں،گوراگوجر ،جہاری گوجر ، بھڈانہ کلاں ،بھڈانہ خورد ،پوسوال ،ڈھوک گوجراں ، ڈھوک جیون ، جبی، بڈھو ،روملی، نڑیاس ،نڑیل شامل ہیں ۔

راولپنڈی گزیٹئر 1884ءکے مطابق ضلع راولپنڈی کے109 دیہات کے مالکان گوجر تھے اور 62 دیہات گکھڑوں کی ملکیت تھے ۔ سیکٹر جی 10 کا پرانا نام ٹھٹھہ گوجراں تھا۔

شاہ اللہ دتہ اسلام آباد کا قدیم ترین گاوں متصور کیا جاتا ہے ۔ یہ تقریباً 650 سال قدیم گاوں ہے جہاں سینکڑوں سال پرانی غاریں قدیم فطری تہذیب اور مذاہب کا پتہ بتلاتی ہیں ۔
اسلام آباد سے بہارہ کہو جاتے ہوئے مری روڈ پر ملپور کی قدیم بستی واقع ہے۔ یہ گاوں بھی ابتدا میں قطب شاہی اعوانوں کا تھا اور راول ڈیم کی حدود کے اندر واقع تھا ۔بعد ازاں اسےنیو ملپور کے نام سے بسایا گیا ۔ یہ گاوں سردار بدھن خان اعوان نے پہلے پہل آباد کیا تھا بعد میں یہ گکھڑوں کی ملکیت میں آ گیا یہاں کمیال، گکھڑ، شیخ اور ملیار بھی آباد تھے 1976ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اسے ماڈل ویلج کا درجہ دیا تھا ۔

موجودہ کنونشن سنٹر کے قریب ڈھوک کی چھوٹی قسم ًڈھوکریً کے نام کا چھوٹا سا گاوں آباد تھا ۔ جو جو اسی ٨٠ کی دہائ تک ایک مزدور بستی کے طور پر آباد رہا بعد ازاں اس کا نشاں مٹ گیا ۔ البتہ ڈھوکری سٹاپ نے اس کے نام کو ذندہ رکھا ہوا ہے۔ موجودہ آبپارہ کے قریب باگاں یا باغ کلاں نام کی بستی تھی ۔اسلام آباد شہر کی تعمیر کی ابتدا اکتوبر 1961 میں اسی باغ کلاں گاوں سے کی گئ ۔
نور پور شاہاں حضرت شاہ عبدالطیف کی آمد سے قبل چور پور مشہور تھا ۔یہ علاقہ ایمان کی روشنی سے منور ہو کر نور پور کہلانے لگا ۔

راول ڈیم نالہ کورنگ پر تعمیر کیا گیا ہے ۔ یہ نالہ مارگلہ اور مری کی زیریں پہاڑیوں کے چشموں اور برسات کے پانی سے سارا سال بھرا رہتا ہے ۔
ڈیم کے موجودہ رقبے میں کئ گاوں آباد تھے جن میں پھگڑیل ،شکراہ ،کماگری، کھڑپن اور مچھریالاں شامل تھے ۔

اسلام آباد کی حدود میں مارگلہ ہلز پر کئ دیہات زمانہ قدیم سے آباد ہیں جن میں تلہاڑ ،گوکینہ ،ملواڑ سرہ ، ، گاہ ،نڑیاس بڈھو شامل ہیں ۔ فیصل مسجد کے مغرب میں پہاڑوں پر کلنجر نام کی بستی آباد تھی ۔

موجودہ جناح سپر مارکیٹ کے قریب روپڑاں نام کی بستی تھی ۔گولڑہ شریف کے مالکان قطب شاہی اعوان تھے۔ ان کے اولین آباد کار نے اپنی شاخ گوڑہ کے نام پر اس مقام کا نام رکھا گیا ۔ میرا جعفر گولڑہ کے قریب ایک چھوٹا سا گاوں ہے اس کے ساتھ میرا سمبل جعفر نام کی بستی ہے ان دونوں گاوں کو جعفر نامی شخص نے آباد کیا ۔

ملک پور عزیزال کو ترکھان قبیلے نے آباد کیا ۔ یہاں کوکنیال اور مکنیال لوگ بھی آباد ہیں ۔

موہڑہ نگڑیال کو راجپوت قبیلے کی نگڑیال شاخ نے آباد کیا ۔
میرا بیگوال سملی ڈیم روڈ پر واقع ہے یہ پہاڑی کے قریب خوبصورت محل وقوع پر واقع ہے اسے دھنیال قبیلے نے آباد کیا ۔موضع تمیر کو دھنیال قبیلے کی شاخ رونیال نے آباد کیا ۔ کوری ، کرور،کرپا بند بیگوال چارہان اور میرا بیگوال دھنیال قبیلے کے مشہور دیہات تھے ۔

جھنگی سیداں موٹروے کے قریب اہم گاوں ہے اس کے مالکان سید تھے۔ جن کے نام پر اس کا نام رکھا گیا یہاں پر ان کی واضع اکثریت ہے ۔شاہ اللہ دتہ بھی سادات کی ملکیت ہے ۔

ہون دھمیال سہالہ ٹریننگ کالج کے قریب گاوں ہے اسے دھمیال قبیلے نے آباد ہے یہاں مٹھیال شاخ کے لوگ آباد ہیں ۔ ہردو گہر سہالہ کے قریب گاوں ہے یہ سواں ندی کے دو حصوں میں تقسیم ہے ڈھوک قاضیاں گہر راجگان چہال یاراں گہر نئ آبادی گھڑی اور دندی اس کی ذیلی بستیاں ہیں یہ کہوٹہ روڈ پر واقع ہے

علی پور اور فراش دو علیحدہ علیحدہ گاوں ہیں راول ڈیم سے سترہ کلومیٹر کے فاصلے پر لہتراڑ روڈ پر واقع ہیں۔ ان کی زمینیں ایکوائر کر لی گئ تھیں اس کے قریب پنجگراں نام کی بستی ہے ۔ علی پور کو اس کے اولین آباد بابا علی محمد کے نام پر رکھا گیا ۔ ابتدائ طور پر یہاں کھوکھر ،ملک آباد تھے بعد میں ڈھونڈ راجپوت بھٹی قاضی اور جنجوعہ بھی آباد ہوئے کری اور ترلائ کے قریب علی پور کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

اسلام آباد کی حدود میں آباد دیہاتوں اور قصبوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ گنگال اور ڈھوک للیال نامی گاوں کی زمینیں غوری ٹاون۔ اسلام آباد ائرپورٹ نور خان آئیر بیس کے رن وے کے نیچے بھی ہیں اور اسلام آباد ایکسپریس وے کے نیچے بھی ہیں۔ فضائیہ کالونی بھی ان دیہاتوں کی زمینوں پر آباد ہیں۔
اکثر بستیوں کی شناخت مٹ چکی ہے ان کی جگہ ماڈرن سیکٹر تعمیر ہو چکے ہیں ۔

وادئ_چُنڈہ_سکردو (گلگت بلتستان)گہرے گرے رنگ کے سفید برف پوش پہاڑوں سے گھری وادی کے بیچوں  بیچ سفید اور ہلکے گلابی پھولوں...
05/04/2023

وادئ_چُنڈہ_سکردو (گلگت بلتستان)

گہرے گرے رنگ کے سفید برف پوش پہاڑوں سے گھری وادی کے بیچوں بیچ سفید اور ہلکے گلابی پھولوں والے درخت کے نیچے روشن سبز رنگ کے گھاس کے بنے فرش پر لیٹے ہوئے نیلے اور گہرے سرمئی آسمان کے اوپر آتے جاتے بادلوں کو تیرتے ہوئے دیکھنے کی فرصت کو ہی حقیقی معنوں میں زندگی کو لطف اندوز کرنا کہتے ہیں۔۔۔۔
اگر آپ کو کہیں محبت ہو سکتی ہے تو یہی وہ جگہ ہے۔۔ اس سے بہتر شاید ہی کوئی نظارہ ہو جو آپ روح کو دھو دے۔۔ پاک کر دے۔۔ نکھار دے۔۔۔
میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ یہاں پریاں اترتی ہیں مگر اگر پریاں حقیقت میں ہوتی تو یہاں ضرور آتیں۔۔۔ اور ۔۔ پرستان کو بھول جاتیں۔۔۔
بھائی آفاق عباسی کی یہ فوٹو دیکھ کر خدا کی قدرت پر بے اختیار سبحان اللہ منہ سے نکل گیا اور پاکستان سے نئے جزبے سے محبت پھوٹ پڑی۔۔

Monal Restaurant Islamabad 🇵🇰
05/04/2023

Monal Restaurant Islamabad 🇵🇰

05/04/2023

Address

G-10
G-10

Telephone

+923125674561

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abbasi Pick & Drop Travel & Tours posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Abbasi Pick & Drop Travel & Tours:

Share

Category