19/12/2024
ماؤنٹ کیلاش | Mount Kailash
سطح مرتفع تبت، چائنہ ★ (جوابی تحریر)
تبت میں موجود کوہِ کیلاش پر آجکل ایک تحریر کرونا-وائرل ہے۔ وہ تحریر زیادہ تر مَن گھڑت ہے۔ اُس میں کوہِ کیلاش کو غیر ضروری طور پر افسانوی یا جادوئی سا بتایا گیا ہے۔ مزید ستم یہ کہ کچھ گروپس میں تحریر کے کریڈٹس ”محمد احسن“ کو دیے گئے ہیں۔ ناظرین میرا اُس تحریر سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ کوئی اور محمد احسن صاحب ہوں گے۔ چونکہ یور ہوسٹ کا نام آ رہا ہے تو سوچا کہ کوہِ کیلاش کے اصل کوائف پیش کیے جائیں۔ آئیے بیٹھیے۔
کوہِ کیلاش دنیا کے بلند ترین سطح مرتفع "تبت" میں موجود ایک خوبصورت پہاڑ کا نام ہے جس کی بلندی 6،338 میٹر یا 21،778 فٹ ہے مگر یہ حیرت انگیز طور پر Unclimbed ہے اور ہمیشہ یونہی رہے گا۔ مگر اِسے سَر نہ کیا جا سکنے کے پیچھے وجوہات اِس کی مشکل کلائمبنگ نہیں ہے۔
اردگرد کئی آٹھ ہزار میٹر سے بلند اور بیسیوں سات ہزار میٹر سے بلند پہاڑ ہیں جو سرد موسموں میں بھی سر کیے جا چکے ہیں، پھر کیلاش کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟
اور ہاں، کیلاش کا وادئ کالاش سے کوئی تعلق نہیں...
کوہِ کیلاش ہندوستان کے کئی قدیم مذاہب میں ایک دیوتا کی حیثیت رکھتا ہے۔ خصوصاً اِسے دیوتا شیوا کا مسکن سمجھا جاتا ہے، بلوچستان کے چندراگُپ گارفشاں کی طرح۔ بدھ مت اور ہندو مت میں اسے باقاعدہ پوجا جاتا ہے۔ اِس کے گرد دائرے میں کئی پگوڈے اور مندر موجود ہیں۔ ہر برس ہزاروں زائرین کوہِ کیلاش کو سفر کرتے ہیں۔
کوئی سوچ سکتا ہے کہ نیپال اور چین کی سرحد کے قریب واقع دُوردراز کوہِ کیلاش.. جس کی بلندی بھی بس ماٹھی سی ہے.. کا پاکستان سے کیا تعلق ہے؟ مزید یہ کہ دوسرے مذاہب میں اگر اِس پہاڑ کی کچھ اہمیت ہے بھی تو پاکستان میں بیٹھے مسلمان ریڈر کو اِس پہاڑ کے متعلق معلومات کیوں دی جا رہی ہے؟ اگر یہ سوالات ذہن میں آ رہے ہیں تو مبارک ہو.. یہ زرخیز ذہن کی نشانی ہے۔
کوہِ کیلاش برِصغیر کے کئی دریاؤں کا ماخذ ہے. اِس پہاڑ کے گلیشیئرز جو دریا جاری کرتے ہیں وہ یہ ہیں: دریائے براہما، دریائے گنگا، دریائے ستلج اور دریائے سندھ.
جی ہاں.. آپ درست پڑھ رہے ہیں. براہما اور گنگا ہندوستان کے مقدس ترین دریا ہیں. دریائے سندھ کا ذکر بھی قدیم مذہبی کتب میں ملتا ہے اور حوالہ جات کے مطابق براہما اور گنگا سے بھی زیادہ مقدس ترین دریا سِندھ ہے. ہندو مذہب کا آغاز ہی دریائے سندھ کے کناروں سے ہوا جس کے تانے بانے دنیا کی قدیم ترین تہذیب "اِنڈس ویلی سولائزیشن" سے جا ملتے ہیں.
دریائے سندھ کیلاش کے گلیشیئر سے بطور چشمہ نکل کر مغربی جانب سفر شروع کرتا ہے۔ سینکڑوں میل تبت میں بطور سنگھے زنبو سفر کے بعد بطور انڈس کشمیر میں داخل ہوتا ہے۔ کارگل کے سامنے سے گزر کر بلتستان میں داخل ہو جاتا ہے۔ سکردو کے بعد سسّی کے مقام پر اپنی انتہائے شمال میں ہوتا ہے اور اُس کے بعد بھنبھور کی سسّی کی جانب جنوبی رُخ کر لیتا ہے۔ آگے آپ کو پتا ہی ہے کہ کہاں جاتا ہے۔ جی ہاں، بحرِ ہند کی جانب۔
تبت میں دریائے سندھ کو سنگے زنبو کہتے ہیں جس کا لفظی ترجمہ "شیر دریا" ہے. پاکستان کے تقریباً تمام سفرنامہ نگار دریائے سندھ کو شیر دریا بھی کہنا پسند کرتے ہیں اور وجہ یہی ہے کہ جہاں یہ دریا جاری ہوتا ہے، وہاں کے لوگ اِسے شیر دریا کے نام سے جانتے ہیں. یونانی حملہ آوروں نے ہندوؤں کے دریائے سندھ کو اِنڈس کہا... اور یوں سرزمینِ ہندوستان "اِنڈیا" کہلائی. اِنڈیا کے نام میں دریائے سندھ موجود ہے.. یہ ہندوستان اصل میں دریائے سندھ کی پیداوار ہے.
دریاؤں کے تقدس کے باعث سمجھ آ جانی چاہیے کہ کوہِ کیلاش کو دیوتا کی اہمیت کیوں حاصل ہے.
دریائے سندھ پاکستان کی شہہ رگ ہے... بلکہ آبی پاکستان کہنا چاہیے کیونکہ پاکستان کا ہر چھوٹا بڑا دریا، چشمہ، نہر، غرضیکہ ہر بہتی شہ بالآخر دریائے سندھ میں شامل ہوتی ہے. بلکہ کیلاش سے نکلا دریائے ستلج بھی بالآخر سینکڑوں کلومیٹر سفر طے کرنے کے بعد پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر سیدھا اپنے ہی بڑے بھائی سندھ میں جا شامل ہوتا ہے.
ایسا دریا جس کے کئی نام ہیں... سنگے زنبو، شیر دریا، سندھ سائیں، انڈس، اباسین، نیلب.. جس کا پاکستان سے بہت گہرا رشتہ ہے، اُس کا ماخذ کوہِ کیلاش ہے... اِسی لیے یہ پہاڑ پاکستانیوں کے لیے شدید قابلِ توجہ ہے.
جیسا کہ عرض کیا کہ اِسے ہندو لورڈ شیوا کے طور پر بھی مانتے ہیں اور ہر برس ہزاروں زائرین کیلاش کی جانب کوچ کرتے ہیں اور اِس کے گرد طواف کرتے ہیں۔ سدھ-گرو جیسے مہاجوگی اس کے سامنے پہروں بیٹھ کر روتے رہتے ہیں۔ چائنہ نے اس پہاڑ کی بیس کیمپ تک جانے کی اجازت دی ہوئی ہے مگر کلائمب کرنے کی اجازت نہیں۔ کلائمب نہ ہونے کی یہ اصل وجہ ہے۔
اگر اجازت دے بھی دی جائے تب بھی دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کو خبر ہے کہ کیلاش ابھی تک سر نہیں ہوا مگر وہ دو ایشوز کی وجہ سے اسے سر نہیں کرتے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ کوہِ کیلاش اگر جُوتوں کے نیچے آ گیا تو پھر تقدس برقرار نہیں رہ سکتا۔ کوہ پیمائی کا مطلب ہی یہی ہے کہ کسی پربت کا غرور یا فخر ملیامیٹ کر دینا۔ کوہ پیما ایسی باتوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اُن کے لیے کوہِ کیلاش سر کرنا آٹھ ہزاری چوٹی کے مقابلے میں کوئی مشکل کام نہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ کیلاش اگرچہ بہت ٹیکنیکل ہے مگر صرف 6 ہزاری پہاڑ ہے۔ کوہ پیما چاہتے ہیں کہ اگر مریں تو صرف 8 ہزاری پہاڑ سے گر کر مریں تاکہ ہر صورت مشہور ہوں۔ کیلاش کو فتح کرنے سے بھی بدنامی کا طوق گلے میں پڑے گا اور یہاں سے گر کر مرنے سے بھی فاتحہ کی بجائے لعن طعن ملے گی۔
وہ جو تحریر وائرل ہے اُس میں تقریباً سبھی باتیں نہایت غیرمحتاط، من گھڑت، مضحکہ خیز اور غیرسائنسی ہیں۔ مثلاً...
√ کوہِ کیلاش ہر وقت اپنی جگہ بدلتا رہتا ہے (جی نہیں۔ اگر جگہ بدلتا بھی ہے تو پورا تبت کا خطہ پلیٹ ٹیکٹانیکس کی وجہ سے ایک آدھ انچ جگہ بدلتا ہے۔ پاکستان کا شمال بھی اتنی سی جگہ بدلتا ہے)۔
√ اِسے کوئی سر نہیں کر سکا (وجہ تقدس ہے، کلائمبنگ نہیں)
√ اس کے اردگرد ایک کلومیٹر کے اندر وقت انتہائی تیزی سے گزرتا ہے۔ چوبیس گھنٹے کے اندر آپ کے بال اور ناخن اتنے بڑھ جاتے ہیں جتنے ایک مہینے میں۔ (بالکل غلط۔ نہ یہ سائنسی طور پر ممکن ہے اور نہ کسی زائر نے دعویٰ کیا ہے۔ اتنی بڑی گَپ شدید غیر ضروری تھی۔ اگر روحانی معاملات کی وجہ سے زمین میں تغیر آئے تو پھر کیا مسجد الحرام میں بھی وقت کی جہت تیز رفتار ہو جاتی ہے؟ معاف کرو بابا۔)
√ اس کے دامن میں دو جھیلیں ہیں جن کو ایک باریک پٹی جدا کرتی ہے لیکن ایک جھیل کا پانی صاف شفاف اور بالکل پر سکون ہے۔ (دامن میں نہیں، کافی دور ہیں۔ ایک جھیل مانسروور ہے۔ دوسری جھیل راکشستل ہے۔ نارمل جھیلیں ہیں۔)
√ دوسری جھیل کا پانی ہر وقت شور مچاتا ہے۔ (غلط)
√ جو بھی کوہ پیما اس کو سر کرنے اس کی طرف چلنا شروع کرتا ہے تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گیا ہے ۔وہ انسان راستہ بھٹک جاتا ہے اور کہیں اور جا نکلتا ہے۔ (ایسا کچھ نہیں۔ کیلاش کی جانب سب زائر تقدس کی وجہ سے نہیں جاتے۔ یقین کریں کہ اگر کوئی جانا چاہے تو فطرت کسی کو روکے گی نہیں۔)
√ بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ پہاڑ نہیں بلکہ ایک (pyramid) یعنی اہرام ہے۔ (کونسے سائنسدان؟؟!!)
√ اس پہاڑ کے قریب جانے پر کبھی بہت سریلی اور کبھی بہت ڈراؤنی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ (ہوا تیز ہو جائے تو یونہی لگتا ہے۔ ہر پربت کے قریب ایسا محسوس ہوا کرتا ہے مگر یہ فطرتی معاملہ ہے۔)
√ کچھ لوگوں نے اس پہاڑ سے نیلی روشنی نکلتے دیکھنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ (کِن لوگوں نے؟ عقیدہ کی دھن میں ”کرامات“ دیکھنے والوں نے؟ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔)
√ آج تک کوئی بھی اس پہاڑ کے راز کو نہیں پا سکا۔ (سوائے درست اہلِ علم کے۔)
معافی & شب بخیر، مسافرِشَب