13/03/2020
ساجد کراچی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل، وادی شگر بلتستان کا ایک جواں سال استاد تھا۔
زمانہ طالب علمی میں ان کو یونیورسٹی کی کسی طالبہ سے محبت ہوئی۔ جنہیں بعد میں اس نے اپنی شریک حیات بنانے کا فیصلہ کیا، عشق کی آگ دونوں اطراف میں برابر لگی ہوئی تھی، اپنے اپنے خاندان اور روایات سے بغاوت کرکے دونوں نے شادی کر لی۔ حسب روایت ساجد کو تو گھر والوں نے بیوی سمیت قبول کر لیا لیکن ان کی بیوی کو اپنے خاندان والوں کی طرف سے اس بغاوت کے بعد قبولیت نہ مل سکی۔ روایات جب دونوں کے پاوں کی بیڑی بننے لگیں تو دونوں نے گہوارہ امن و محبت بلتستان آنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں دونوں خوشی خوشی زندگی گزارنے لگے۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد ان کے گھر پر اللہ کی رحمت نازل ہوئی اور انہیں ایک پھول سی بیٹی کی نعمت عطا ہوئی۔ اس کے بعد ساجد کی بیوی نے پڑھانا چھوڑ دیا اور بچی کو وقت دینے لگی جبکہ ساجد ان کے نان نفقے کے لئے نجی سکول میں پڑھاتا رہا۔ وقت گزرتا گیا۔ چند سالوں میں خزانہ قدرت ان پہ پھر مہرباں ہوا اس بار انہیں ایک چاند سا بیٹا عطا ہوا۔ بیٹا نہ صرف زریعہ رحمت بنا بلکہ وہ دونوں خاندانوں کے درمیان صلح کا "سالار" بن کر آیا۔ شاید اسی لئے بچے کا نام "سالار" پڑ گیا۔ سالار کی عمر ابھی کچھ مہینے کی تھی کہ ان کے ننھیال کی طرف سے ان کے امی ابو اور بہن کو باقاعدہ دعوت دی گئی۔ اب یہاں سے کراچی کا سفر اتنا آسان بھی نہ تھا، پھر ساجد سکول میں پڑھاتا تھا، چھوٹی بچی کی عمر بھی ابھی اتنی نہ تھی کہ وہ اپنی ماں کو اپنے نومولود بھائی کے ساتھ اتنا لمبا سفر آرام سے کرنے دیتی۔ یوں یہ طے ہوا کہ سردیوں کی چھٹیوں میں کراچی کے لئے عازم سفر ہو جائیں گے۔
دوسری طرف فکر کے نہاں خانوں میں کچھ نامساعد خدشات بھی ابھر ابھر کر آتے تھے کہ کہیں یہ دعوت خفگی کی بھینٹ نہ چڑھ جائے اس خدشے کو فرو کرنے ننھے سالار کے ننھیال نے انہیں زاد راہ بھی بھجوائی تھی۔ اب تک تو کئی بار فون پر بات چیت بھی ہوچکی تھی۔ نانا نانی ننھے مہمانوں کو گود میں لینے کے لئے بیتاب تھے۔
سردیوں کی چھٹیوں میں ساجد، ان کی اہلیہ اور بچے کراچی چلے گئے۔ وہاں سالار کے ننھیال اور اقربا نے ان کی خوب مدارات کیں۔ نم آنکھوں کے ساتھ معافی تلافی ہوئی۔ سب مل کر خوب گھومے پھرے۔ بلاخر ساجد کے لئے سکول کھلنے کا وقت آڑے آیا۔ ادھر واپسی کی نیت باندھی، ادھر سالار کی اماں کے جہیز کے بقایاجات میں یہ لے وہ لے شروع ہوا۔ گھر بھر کی ضرورت کی تمام اشیاء، ساجد کے گھروالوں اور رشتہ داروں اور ان کی زوجہ کی سہیلیوں کے لئے تحفے تحائف بھی باندھ دئے گئے۔ یوں اب کے بار وہ اس جذبات بھرے انداز سے رخصت کئے کہ جیسے ایک باپ نے اپنی بیٹی کو رخصت کرنے کا حق ادا کردیا۔
اب واپس گلگت بلتستان واپس جانے کےلئے رخت سفر باندھا لیے
کراچی سے سکردو بلتستان پہنچنے میں بائی روڈ 3 دن لگتے ہیں
ساجد اور اسکی فیملی کراچی سے 24 گھنٹے کا طویل سفر طے کرنے کے بعد راولپنڈی پہنچ گئے، 1 رات راولپنڈی میں stay کرنے کے بعد اگلے دن ایک کوسٹر میں سکردو کے لیے روانہ ہو گئے، راولپنڈی سے سکردو بھی 24 گھنٹے کا راستہ ہے جو کہ انتہائی کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے سکردو پہنچنے سے تین چار گھنٹے پہلے تک دونوں خاندانوں کا متواتر فون آتا رہا، سب کی خیر خیریت پوچھتے رہے۔ سب ٹھیک چل رہا تھا۔ لیکن صبح کاذب کو اب کے کچھ اور منظور تھا۔ چھبیس جانوں کو لئے رواں دواں گاڑی، جب سب نیند و خمار میں گم سم تھے، دونوں پھول سے بچے اپنے ماں باپ کے سینے سے لگے ہوئے تھے، کہ اچانک گاڑی خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے گہری کھائی میں جاچکی تھی کہ کسی مسافر کو سنھبلنے کا موقع نہ ملا اور کچھ ٹوٹی پھوٹی بس سے باہر گر گئے کچھ مسافر پچکی گاڑی میں پھنس کر رہ گئے اور گاڑی دریا بُرد ہوگئی۔
مقامی لوگ، مسافرین اور جس جس سے کچھ بن پڑا وہاں تک آن پہنچے، سرکاری امدادی ادارے، ریسکیو کا عملہ بھی پہنچا لیکن موقع ایسا تھا کہ بچی کھچی لاشیں ہی نکالی جا سکتی تھی۔ جو بہہ گئے ان کی تلاش میں ریسکیو والے سرگرداں تھے۔
ساجد کا پورا خاندان خوشیوں کو سمیٹ کر اس دنیا کو سدھار گئے۔ دو پھول سے بچے، ساجد اور ان کی اہلیہ اور باقی 20 میتیں پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے CMH skardu پہنچا دی گئیں، ضلعی انتظامیہ نے گھر تک لاشیں پہنچانے کا مزید بندوبست کیا۔ ساجد کے والد، والدہ، بھائی بہنوں اور اہل محلہ نے تاریخ میں پہلی بار ایسا قیامت خیز منظر بھی دیکھا کہ جب پورے کا پورا خاندان آسودہ خاک ہوئے۔ قبریں کھودتے ہوئے روح کانپ اٹھتی تھی۔ قبریں دیکھ کر کلیجہ پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔
ساجد کے سسر اور دیگر عزیز کراچی سے ہوا کی طرح پہنچے، وہ اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر پا رہے تھے۔ وہ دو سال کی رجا، سات ماہ کے سالار اور ان کے ماں باپ کی قبروں پر حاضر ہو کر فرط غم سے نڈھال تھے۔
اللہ تعالی مرحومین کو جنت میں جگہ عطا کرے، پسماندگان کو ہمت اور صبر عطا کرے۔ آمین
Ye hadsa 9.march.2020 ko pesh aya😭