28/08/2026
نیپال اور اس کے سرحدی علاقوں میں آنے والے اس ہلاکت خیز اور اچانک سیلاب کی بنیادی وجوہات میں درج ذیل قدرتی عوامل شامل ہیں:
گلیشیئر کا انہدام (Glacier Collapse): ماہرین اور امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، اس تباہی کی سب سے بڑی وجہ پہاڑوں کی اونچائی پر موجود ایک گلیشیئر کا بڑا حصہ ٹوٹ کر گرنا تھا۔ اس برفانی تودے اور چٹانوں کے گرنے سے ایک طاقتور برفانی تودہ (Ice-rock avalanche) وجود میں آیا۔
دریا کے راستے کی بندش اور پانی کا ریلا: گلیشیئر اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بھاری ملبہ، مٹی اور چٹانیں نیچے بہہ کر آئیں اور انہوں نے دریا (جیسے بھوٹے کوشی اور تریشولی دریا) کے قدرتی راستے کو عارضی طور پر بند کر دیا۔ جب پانی کا دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا تو یہ قدرتی بند یا ڈیم ٹوٹ گیا، جس سے پانی اور کیچڑ کا ایک طوفانی ریلا اچانک نشیبی علاقوں پر ٹوٹ پڑا۔
زلزلے کے آثار کی غلط فہمی: ابتدا میں یہ سمجھا گیا تھا کہ شاید کسی زلزلے کی وجہ سے یہ لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے، کیونکہ گلیشیئر کے گرنے کا یہ واقعہ ایک ارضیاتی سگنل (تقریباً 5.2 شدت کے زلزلے جیسا ارضیاتی جھٹکا) کے طور پر ریکارڈ ہوا تھا، لیکن بعد کی تحقیقات سے واضح ہوا کہ اصل وجہ گلیشیئر کا گرنا ہی تھا۔
موسمیاتی تبدیلی اور درجہ حرارت میں اضافہ: گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمالیہ کے خطے میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور پہاڑوں کی برفانی تہیں کمزور ہو رہی ہیں، جس سے ایسے اچانک اور خطرناک طوفانی سیلابوں (Flash Floods) کے خطرات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
ہمالیہ کا ارضیاتی ڈھانچہ: ہمالیہ دنیا کے نوزائیدہ اور ارضیاتی طور پر انتہائی فعال پہاڑی سلسلے ہیں، جہاں کی ڈھلوانیں انتہائی کھڑی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی اوپر سے کوئی تودہ گرتا ہے تو وہ نیچے آتے ہوئے اپنے ساتھ بے پناہ پانی، مٹی اور بھاری پتھر بہا کر لاتا ہے، جو چند لمحوں میں ہولناک تباہی کا باعث بنتا ہے۔
ہم گلگت بلتستان کے ہیں