24/07/2026
Sohawa, The Wind City. . . . .
سوہاوہ شاید اپ کے لیٸے ایک عام سا شہر یا علاقہ ہو گا لیکن
میرے لیٸے بہت خاص ہے کیونکہ میں اس کی خوبصورتی، تاریخی اہمیت اور یہاں چھپے سیاحتی پوٹینشل سے اچھی طرح واقف ہوں😍۔
ضلع جہلم میں اس تحصیل کے نام لیوا شاید بہت کم ہیں لیکن یہاں بکھری خوبصورتی کے دیوانے بہت ہوں گے۔۔۔۔۔۔🌲🌀۔
سوہاوہ، دینہ اور گوجر خان کے بیچ ضلع جہلم کے شمال میں واقع ہے۔ یہ علاقہ سطح مرتفع پوٹھوہار پر مشتمل ہے جہاں چھوٹی بڑی پہاڑیاں، بل کھاتے ندی نالے، گھنے جنگل، دلکش وادیاں اور گمنام بستیاں واقع ہیں۔
کہتے ہیں کہ علاقے میں تیز ہواٶں کی کثرت ہونے کی وجہ سے اس جگہ کو سو-ہوا نام دیا گیا جو پھر سوہاوہ بن گیا جبکہ قدیم دور سے یہ علاقہ ”پبی” کے نام سے موسوم تھا۔
مغل بادشاہ اکبر کے دور میں یہ علاقہ سلطان جلال خان کو منصب میں عطا ہوا۔ 1709ء میں بہادر شاہ بادشاہ نے رؤسائے پھرہالہ سے یہ علاقہ لے کر گکھڑان میرپور کو اجارہ پر دے دیا۔ احمد شاہ درانی نے یہ علاقہ سلطان مقرب خان گکھڑ کو منصب میں عطا کیا، اس کے بعد یہ گوجر سنگھ بھنگی اور پھر سرداران اٹاری کے قبضہ میں رہا۔
سلطنت برطانیہ کی عملداری میں آنے کے بعد 1849ء میں راولپنڈی کو ضلع بنایا گیا تو اس علاقے کو راولپنڈی میں شامل کر دیا گیا۔ 1851ء میں اسے راولپنڈی سے کاٹ کے ضلع جہلم میں شامل کر دیا گیا۔ تحصیل کا درجہ ملنے سے پہلے سوہاوہ، جہلم کا ایک تھانہ ہوا کرتا تھا۔
سوہاوہ شہر کے شمال مشرق میں دھمیاک کے پاس شہاب الدین محمد غوری کا مزار واقع ہے جو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے تعمیر کروایا تھا۔ ساتھ ہی غوری میز ا ٸل کی ایک یادگار بھی ہے۔
اس کے پاس کرونٹھہ ہے جہاں کے ویو پواٸنٹ سے ڈڈیال (آزاد کشمیر) سمیت سوہاوہ و ٹلہ جوگیاں کا بھی نظارہ کیا جا سکتاہے۔ یہیں کچھ آگے شاہی فرودگاہ، رانی منگو کی مسجد، شاہ جہاں چشتی کا مزار اور تالاب جلال خان واقع ہے جس کی گہراٸی 141 فٹ بتاٸی جاتی ہے۔ یہیں قریبی میدان میں شاہ جہاں چشتی کے عرس پہ ایک بڑے میلے کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کی بیل دوڑ دیکھنے ملک بھر سے سیاح یہاں اکٹھے ہوتے ہیں۔
قریب واقع گاٶں سموٹھی سے منگلا ڈیم کی جھیل کا بھی نظارہ کیا جا سکتا ہے جہاں کشتی رانی کی سہولت بھی موجود ہے۔۔۔۔۔
اسی طرح سوہاوہ کے قرب و جوار میں واقع برطانوی دور کے ریلوے اسٹیشن بھی دیکھنے والے ہیں جن میں ڈومیلی، رتیال اور بکڑالہ سمیت سوہاوہ کا اپنا اسٹیشن بھی شامل ہے۔ سوہاوہ کے اسٹیشن کے باہر پرانے دور کی خوبصورت عمارتیں بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔
یعنی کسی بھی سیاح یا آوارہ گرد کے لیٸے یہ جگہ ایک مکمل پیکج ہے جسے اپ دو دنوں میں آرام سے دیکھ سکتے ہیں🩵💚۔
ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری