Musafiran e Shauq

Musafiran e Shauq یہ پیج سیاحت، ثقافت، فوٹوگرافی اور تاریخ و ادب پہ گفتگو کے لیے مخصوص ہے۔

رک۔۔۔۔۔قسمت ساتھ دیتی تو آج یہ بہت بڑا جنکشن ہوتا۔۔۔۔تھوڑی ہی دیر بعد میں اس خوبصورت ریلوے اسٹیشن کی عمارت کے باہر کھڑا ...
29/07/2025

رک۔۔۔۔۔
قسمت ساتھ دیتی تو آج یہ بہت بڑا جنکشن ہوتا۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر بعد میں اس خوبصورت ریلوے اسٹیشن کی عمارت کے باہر کھڑا ہوا تھا جو بڑے عرصے سے میرے حواس پر طاری تھا۔ اس عمارت کو جانے والی سڑک کے چاروں طرف دھان کے کھیت تھے اور وہاں کچھ دیر پہلے ہونے والی بارش کا پانی کھڑا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے میں کسی جزیرے پر ہوں۔۔۔۔ میرے سامنے ایک بڑی سی عمارت اور اس پر لکھے تین الفاظ، آر یو کے، رک۔
میں اسٹیشن کے اندر داخل ہوا تو عمارت کے مرکزی ہال میں
ٹکٹ گھر کے ساتھ پتھر کے دو بورڈ لگے نظر آئے، ایک پر یہاں رکنے والی موئنجودڑو پسنجر، اپ اور ڈاؤن کے اوقات لکھے تھے جبکہ دوسرے بورڈ پر یہاں سے لے کر کوٹری تک کے تمام اسٹیشنوں (حبیب کوٹ، سکھر، لاڑکانہ، دادو، سہون اور کوٹری) کے نام تھے۔ چلو شکر ہے کہ دور دراز کے اس اسٹیشن پر ایک گاڑی تو رکتی تھی۔ اسی پسنجر ٹرین نے اس ریلوے اسٹیشن کی عزت نفس کو اب تک بحال رکھا ہوس ہے۔۔۔
موئنجوداڑو پسنجر کی بھی کیا بات ہے جو اب تک ان پسماندہ علاقوں کوجوڑے ہوئے ہے اور جیسے تیسے چل رہی ہے۔
اسٹیشن کی مرکزی عمارت دیکھتے ہوئےمیں خیالات میں گم ہو گیا اور میرے ذہن میں اس اسٹیشن کا درخشاں ماضی گھومنے لگا۔

سکھر سے کوئی بیس بائیس کلومیٹر مغرب میں سرکار انگلشیہ نے 1898 میں یہ ریلوے اسٹیشن یہ سوچ کر تعمیر کیا تھا کہ اسی ریلوے لائن کو آگے بڑھا کر کوئٹہ کے راستے قندھار تک لے جایا جائے گا ، لیکن ان کا یہ خواب خواب ہی رہا۔
گوروں کو جب ہندوستان کی طرف ، گرم پانیوں کی لالچ میں روس کی پیش قدمی کا خطرہ لاحق ہوا تو انہوں نے مرکزی ریل نیٹ ورک کو کوئٹہ کے ذریعے قندھار تک ملانے کا منصوبہ بنایا جسے "قندھار سٹیٹ ریلوے" کا نام دیا گیا۔ 1879 میں کابل میں ہوئے قتلِ عام (جس میں کئی انگریز بھی مارے گئے تھے) کی وجہ سے حکم جاری ہوا کہ رُک کو فوراً سبی سے بذریعہ ریل ملایا جائے اور انگریز انجینئروں کی نگرانی میں برصغیر کے تمام محنت کش یہاں پہنچا دیئے گئے۔ لوٹا ہوا مال وافر تھا، افرادی قوت بھی تھی اور ٹیکنالوجی بھی۔۔۔۔ اکتوبر 1879 میں ہی رُک سے سبی تک ٹریک تیار تھا لیکن حالات پلٹنے کی وجہ سے یہ چمن سے آگے نا بڑھ سکا اور قندھار اسٹیٹ ریلوے کا خواب پورا نا ہوا۔
رُک، جہاں ایک بڑے جنکشن کو مدِنظر رکھ کے اسٹیشن اور عملے کی رہائشی عمارتیں تعمیر کی گئی تھیں، اب ایک ویران اسٹیشن ہے جہاں صرف عملے کے چند لوگ ہیں ۔

علی رضا عابدی صاحب اپنی کتاب ریل کہانی میں اس کے بارے یوں رقم طراز ہیں ؛

“اگر انگریزوں کا خواب پورا ہو جاتا اور قدرت کو منظور ہوتا تویہ جگہ ایشیا کا ایک عظیم الشان اسٹیشن ہوتا، رک جنکشن ۔
پورے بر صغیر کے مسافر یہاں آیا کرتے اور ریل گاڑیوں میں بیٹھ کر اندرون سندھ کے اسٹیشن سے قندھار، کابُل، وسطی ایشیا اور یورپ جایا کرتے ۔ مگر یہ خواب ادھورا ہی رہا ۔
رک جنکشن سکڑ کر چھوٹا سا بھولا بسرا اسٹیشن رہ گیا ۔اب وہاں سست رفتار پیسنجر گاڑیاں رکتی ہیں جس کے مسافر کھڑکیوں سے باہر دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ اسٹیشن کی اتنی بڑی اور دلکش عمارت اتنے لمبے لمبے پلیٹ فارم اور دھوپ سے بچانے والے خوش نما سائبان اس ویرانے میں کھڑے کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔؟؟
دور دور تک دھان کے کھیت تھے، جوہڑ اور تالاب تھے ،درخت تھے، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں تھیں ،چھوٹے بڑے گاؤں تھے اور زمین سے پھٹے پڑنے والے سبزے کے درمیان ایک بڑی عمارت کھڑی تھی (اس جگہ کا اب بھی یہی نقشہ ہے) ۔ اونچے اونچے در ، بڑی بڑی محرابیں، ستون ، برآمدے ، دریچے ،عمارت کے اوپر تاج نما پیشانی جس پر کبھی بڑا سا آہنی گھنٹہ آویزاں ہوگا اور وہ کل جسے کھینچ کر راتوں کو گیس کا بڑا سا ہنڈا اونچا کیا جاتا ہو گا تو سارا علاقہ منور ہو جاتا ہو گا۔
کہتے ہیں کہ وہیں رک میں ایک بڑا بازار بھی تھا ۔ کوئٹہ جانے والے ہندوستان بھر کے مسافر یہاں خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ سامنے فوج کا ڈیری فارم ہے۔ کوئٹہ چھاونی کے لیے سارا دودھ مکھن یہاں سے جاتا تھا ۔ اور سبی سے پہلے جوریگستانی علاقہ ہے اس کے باشندوں کے لیے پینے کا میٹھا پانی اب بھی یہیں رک سے جاتا ہے ۔اس کے لیے ہر ایک ہفتے خصوصی ٹرین چلتی ہے ۔
تو پھر کیا ہوا ۔اس اسٹیشن کو کس کی نظر کھا گئی ۔۔۔؟؟
کتابوں میں تو لکھا ہے کہ ریلوے لائن چمن سے آگے نہ بڑھ سکی،قندھار تک پہنچنے کا خواب ادھورا رہ گیا ۔اس کے علاوہ زلزلوں بارشوں اور سیلابوں نے اس لائن کو اپنی ٹھوکروں میں رکھا یہاں تک کہ سبی سے اترنے والی لائن کو موڑ کر رک سے ہٹا دیا گیا اور براہ راست سکھر سے ملا دیا گیا ۔ بس اس کے بعد رک کی رونق رخصت ہو گٸی“۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بُخاری

27جولائی 2025کے ایکسپریس سنڈے میگزین میں پڑھِیے وادی نگر کے قریہ چھلت کے احوال، تھوڑی تاریخ اور زیادہ ساری سیاحت ، ڈاکٹر...
28/07/2025

27جولائی 2025کے ایکسپریس سنڈے میگزین میں پڑھِیے وادی نگر کے قریہ چھلت کے احوال، تھوڑی تاریخ اور زیادہ ساری سیاحت ، ڈاکٹر محمد کاشف علی کے مشاہدات

27/07/2025

احباب گرامی قدر،

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی اور فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارا واٹس ایپ چینل باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے! یہ چینل آپ کے لیے جدید معلومات، علمی مباحث، اور دلچسپ و مفید مواد کا سانجھا کرنے کا ذریعہ بنے گا۔
ہم تہہ دل سے درخواست کرتے ہیں کہ اس علمی سفر میں ہمارا ساتھ دیں، چینل کا حصہ بنیں، اور اس نیک کام کو اپنے عزیز و اقارب تک پہنچا کر وسیع تر کریں۔
جزاکم اللہ خیر!

مسافران شوق

مسافران شوق کا ایک اور اعزاز
19/04/2025

مسافران شوق کا ایک اور اعزاز

لوگ کہتے ہیں عید کارڈ اسے یہ روایت ہے اس زمانے کی ایک دستک ہے ان کے ذہنوں پر جن کو عادت ہے مسکرانے کی
31/10/2024

لوگ کہتے ہیں عید کارڈ اسے
یہ روایت ہے اس زمانے کی
ایک دستک ہے ان کے ذہنوں پر
جن کو عادت ہے مسکرانے کی

لوگ کہتے ہیں کہ میں تجھ سے دور رہ کر کافی بدل گیا ہوں ۔ ۔ خوب صورت بھی ہو گیا ہوں۔  ۔ دنیا دیکھنے کا شوق مزید بڑھ گیا ہے...
31/10/2024

لوگ کہتے ہیں کہ میں تجھ سے دور رہ کر کافی بدل گیا ہوں ۔ ۔
خوب صورت بھی ہو گیا ہوں۔ ۔
دنیا دیکھنے کا شوق مزید بڑھ گیا ہے ۔ ۔
فرصت ملتے ہی دور نکل جاتا ہوں ۔ ۔
کبھی شہر سے دور ۔ ۔ اور کبھی مضافات سے دور ۔ ۔
روشنیاں دیکھنے کا اشتیاق پروان چڑھ گیا ہے ۔ ۔
لوگ کہتے ہیں کہ اب میں اداس نہیں ہوتا۔ ۔
اب میں کسی کے خیالوں میں کھو کر کسی کو یاد کرنے کی مشق بھی نہیں کرتا۔ ۔
لوگ کہتے ہیں کہ ۔ ۔ اب میرا کھانا پینا بھی بہتر ہوتا جا رہا ہے۔
لوگ یہ کہتے ہیں ۔ لوگ وہ کہتے ہیں ۔ ۔ ۔
مگر یہ لوگ ۔ ۔ میرے بستر کا گیلا سرہانا نہیں دیکھ پاتے ۔ ۔ جو تمہاری یاد میں رو رو کے آنسوؤں سے تر کر دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ رات رات بھر جاگ کے گزار دیتا ہوں ۔ ۔
لوگ ۔ ۔ ۔ !!!!!

کسی کے ہجر میں  احساس مر گئے میرے میں اک ولی تھا جسے دکھ دکھائی دیتے تھے
20/10/2024

کسی کے ہجر میں احساس مر گئے میرے
میں اک ولی تھا جسے دکھ دکھائی دیتے تھے

یہ زرد موسم کے خشک پتے ہوا جنہیں لے گئی اڑا کر اگر کبھی ان کو دیکھ پاؤ تو سوچ لینا کہ ان میں ہر برگ کی نمو میں زیاں گیا ...
20/10/2024

یہ زرد موسم کے خشک پتے
ہوا جنہیں لے گئی اڑا کر
اگر کبھی ان کو دیکھ پاؤ
تو سوچ لینا
کہ ان میں ہر برگ کی نمو میں
زیاں گیا عرق شاخ گل کا
کبھی یہ سرسبز کونپلیں تھے
کبھی یہ شاداب بھی رہے ہیں
کھلے ہوئے ہونٹ کی طرح نرم اور شگفتہ
بہت دنوں تک
یہ سبز پتے
ہوا کے ریلوں میں بے بسی سے تڑپ چکے ہیں
مگر یہ اب خشک ہو رہے ہیں
مگر یہ اب خشک ہو چکے ہیں
اگر کبھی اس طرف سے گزرو
تو دیکھ لینا
برہنہ شاخیں ہوا کے دل میں گڑھی ہوئی ہیں
یہ اب تمہارے لیے نہیں ہیں
نہیں ہیں

فہمیدہ ریاض

یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہےیہ دھند ہے بادل ہے کہ سایا ہے کہ تم ہواس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاںمیں ہ...
18/10/2024

یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے
یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایا ہے کہ تم ہو

اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں
میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو

احمد فراز

اک لہر اٹھی اور ڈوب گئے ہونٹوں کے کنول آنکھوں کے دیےاک گونجتی آندھی وقت کی بازی جیت گئی رت بیت گئیپھر تیر کے میرے اشکوں ...
16/10/2024

اک لہر اٹھی اور ڈوب گئے ہونٹوں کے کنول آنکھوں کے دیے
اک گونجتی آندھی وقت کی بازی جیت گئی رت بیت گئی

پھر تیر کے میرے اشکوں میں گل پوش زمانے لوٹ چلے
پھر چھیڑ کے دل میں ٹیسوں کے سنگیت گئی رت بیت گئی

اک دھیان کے پاؤں ڈول گئے اک سوچ نے بڑھ کر تھام لیا
اک آس ہنسی اک یاد سنا کر گیت گئی رت بیت گئی

مجید امجد

کیا آپ تاریخ، ثقافت، فوٹوگرافی، فلسفہ حیات اور ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں؟کیا آپ ان موضوعات پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور ن...
09/10/2024

کیا آپ تاریخ، ثقافت، فوٹوگرافی، فلسفہ حیات اور ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں؟
کیا آپ ان موضوعات پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور نئے نظریات سے واقف ہونا چاہتےہیں؟

اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو پھر ہمارے واٹس ایپ گروپ میں شامل ہوں!

یہاں آپ ہم خیال لوگوں سے بات چیت کر سکتے ہیں، نئی چیزیں سیکھ سکتے ہیں اور اپنی معلومات کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔

گروپ میں شامل ہونے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

https://chat.whatsapp.com/JycaHtRjOaQ33AcKh02Fcs

آپ کا انتظار ہے!

WhatsApp Group Invite

شخصیت پہچانیں
01/10/2024

شخصیت پہچانیں

Address

House No. 496, Street No. 8, C Block
Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Musafiran e Shauq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Musafiran e Shauq:

Share