Musafiran e Shauq

Musafiran e Shauq یہ پیج سیاحت، ثقافت، فوٹوگرافی اور تاریخ و ادب پہ گفتگو کے لیے مخصوص ہے۔

Mubarak ho ye Azadi jis ka Safar Jari Hy
14/08/2026

Mubarak ho ye Azadi jis ka Safar Jari Hy

Kottu Roti – ایک منفرد سری لنکن ڈش 🇱🇰لاہور، جو اپنے کھابوں کے لیے مشہور ہے، وہاں اکثر نئے ناموں کے ساتھ وہی ذائقے ملتے ہ...
02/08/2026

Kottu Roti – ایک منفرد سری لنکن ڈش 🇱🇰

لاہور، جو اپنے کھابوں کے لیے مشہور ہے، وہاں اکثر نئے ناموں کے ساتھ وہی ذائقے ملتے ہیں۔ میری ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ باہر کم کھایا جائے، لیکن جب بھی کھاؤں تو کچھ نیا ضرور آزمایا جائے۔

اس بار Kottu Roti ٹرائی کی، جو ایک روایتی سری لنکن ڈش ہے۔ یہ کٹی ہوئی روٹی، سبزیوں، گوشت اور خوشبودار مصالحوں کا بہترین امتزاج ہے، جس کے اوپر انڈہ شامل کیا جاتا ہے۔ یعنی ایک ہی ڈش میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور فائبر سب کچھ موجود ہے، اور سب سے اچھی بات یہ کہ ذائقہ بھی لاجواب ہے۔

اس کی مقدار بھی کافی اچھی ہے، ایک پلیٹ آرام سے دو افراد کے لیے کافی ہو سکتی ہے یا دو پلیٹیں تین افراد کیلئے کافی ہوتی اگر تسی لہوری یا گوجرانولہ آلے او۔ قیمت بھی مناسب ہے۔

بس ایک کمی محسوس ہوئی کہ بیٹھنے کا انتظام زیادہ بہتر نہیں۔ ریسٹورنٹ بیسمنٹ میں ہے، اور خاص طور پر گرمی اور حبس والے موسم میں وہاں کچھ گھٹن اور نمی محسوس ہوتی ہے۔

اگر آپ لاہور میں کچھ مختلف ذائقہ آزمانا چاہتے ہیں تو Kottu Roti ضرور ٹرائی کریں۔
Lavkot Laanka Kitchen.
Temple road.
Lahore

سفر داستانوہاں ٹلہ کی فضاؤں میں ایک سوال گونجا یہ شائد آخری سوال تھا کیونکہ اس کے بعد پھر مجھے ٹلہ سے نیچے اتر جانا تھا ...
30/07/2026

سفر داستان

وہاں ٹلہ کی فضاؤں میں ایک سوال گونجا یہ شائد آخری سوال تھا کیونکہ اس کے بعد پھر مجھے ٹلہ سے نیچے اتر جانا تھا کہ ٹلے کو اسکی ویرانی دوبارہ سونپ دینے کے لیے میرا یہاں سے چلے جانا ضروری تھا ۔

سر جی کسی مسافر کی زندگی میں سفر کی کیا اہمیت ہوتی ہے؟

وحشت زدہ رات کی جاگی آنکھوں نے سوال کو ایک نظر دیکھا ۔۔۔سر جھکایا اور گویا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سفر کے کے موسم آتے ہی ہم شجر پر لگے ان پتوں کی مانند ہرے ہوتے جاتے ہیں اور پھر خزاں کی ایسی ہی منہہ زور ہوائیں ہمارے شکستہ بدنوں پر ہرے سے سنہرے رنگوں کا پہناوا اوڑھا دیتی ہیں۔۔۔۔۔۔
ہمیں کسی پتے کی مانند شجر سے توڑتی ہیں ۔۔۔
یہ سفر کے اختتام کا اعلان ہوتا ہے۔۔۔۔۔
خوبصورتی کو آخری بار گلے لگانے کے وقت کا اعلان ۔۔۔۔۔
بس پھر ہم یخ بستہ ہواؤں کے ُرخ اڑتے جاتے ہیں ، وہ مشرق مغرب شمال جنوب جس طرف چاہے لے اڑیں ۔۔۔۔۔۔
مسافتوں کی یہ منہہ زور ہوائیں مٹی میں، مٹی کردینے سے پہلے در در رول دیتی ہیں ۔۔۔۔۔ پھر وہیں سے اسی مٹی سے
کسی نئے شجر پر پھوٹتے کسی نئے ہرے پتے کا وجود پھوٹتا ہے ۔ ایک نئے چہرے کا جنم ہوتا ہے ۔ ایک نئی سوچ کی پیدائش ، ایک ایسے ساز کی آمد ہوتی ہے جس کا ُسر پہلے کبھی کہیں نہیں ُسنا گیا ہوتا ہے ۔

سفر کا اختتام ہوا ۔۔۔۔۔ سامان دوبارہ سے اونٹ پر باندھ دیا گیا تھا اور اسکے گلے میں بندھی گھنٹی کی ٹن ٹن دور تک جاتے سنائی دے رہی تھی ۔ رانا عثمان

ڈونگا گلی، گلیات کے آبی ذخائر — برطانوی دور کی ایک تاریخی یادگارگلیات کے دلکش علاقے ڈونگا گلی میں واقع تاریخی پانی کے ٹی...
26/07/2026

ڈونگا گلی، گلیات کے آبی ذخائر — برطانوی دور کی ایک تاریخی یادگار

گلیات کے دلکش علاقے ڈونگا گلی میں واقع تاریخی پانی کے ٹینک برطانوی دور کی انجینئرنگ اور منصوبہ بندی کی بہترین مثال ہیں۔ یہ آبی ذخائر قدرتی چشموں کے پانی کو جمع اور محفوظ کرنے کے لیے تعمیر کیے گئے تھے تاکہ اس دور میں فوجی اہلکاروں، سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور مقامی آبادی کو صاف پانی کی مسلسل فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

مضبوطی سے تعمیر کیے گئے یہ ٹینک وقت کی آزمائش پر پورا اترے ہیں اور آج بھی اپنے معماروں کی دوراندیشی اور اعلیٰ کاریگری کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ صرف تاریخی تعمیرات ہی نہیں بلکہ گلیات کے ماضی، برطانوی عہد کی تعمیراتی مہارت اور پائیدار آبی انتظام کے روشن ورثے کی خاموش یادگار بھی ہیں، جو آنے والی نسلوں کو اس دور کی تاریخ سے روشناس کراتے ہیں۔

🏍️ ایک موٹر سائیکل، تین مسافر اور ایک خوبصورت سفر | جنت آبشار خانسپور 🌿💙خانسپور سے تقریباً نصف گھنٹے کی مسافت پر ریالہ ب...
25/07/2026

🏍️ ایک موٹر سائیکل، تین مسافر اور ایک خوبصورت سفر | جنت آبشار خانسپور 🌿💙

خانسپور سے تقریباً نصف گھنٹے کی مسافت پر ریالہ بازار واقع ہے۔ یہاں سے دائیں جانب تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر نوری آبشار جبکہ بائیں جانب تقریباً پانچ کلومیٹر دور جنت آبشار موجود ہے۔ قدرت نے ان دونوں مقامات کو بے مثال حسن، شفاف ٹھنڈے پانی، سرسبز ماحول اور دل کو سکون دینے والی خاموشی سے نوازا ہے۔

اس خوبصورت سفر کا لطف ہم نے باپ، بیٹی اور بیٹے نے ایک ہی موٹر سائیکل پر اکٹھے اٹھایا۔ راستہ دلکش تھا، موسم خوشگوار تھا، اور سب سے قیمتی چیز اپنے پیاروں کی رفاقت تھی۔ شاید اسی احساس کا نام ایک یادگار سفر ہے۔

📍 یہ تصاویر جنت آبشار کی ہیں، جہاں قریب ہی دو سے تین چائے کے ڈھابے بھی موجود ہیں، جہاں بیٹھ کر قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔

⚠️ ضروری سفری احتیاط

خانسپور سے جنت آبشار تک کا راستہ مسلسل اور کافی زیادہ اترائی پر مشتمل ہے جبکہ واپسی مکمل چڑھائی ہے، اس لیے انتہائی احتیاط ضروری ہے۔

✅ رفتار ہمیشہ کم رکھیں۔
✅ انجن بریک کا استعمال کریں۔
✅ خطرناک موڑوں پر اوور ٹیک سے گریز کریں۔
✅ روانگی سے پہلے بریک، ٹائر اور موٹر سائیکل کی مکمل جانچ ضرور کریں۔
✅ اگر مسلسل اترائی میں بریک گرم محسوس ہوں تو کسی محفوظ جگہ رک کر انہیں ٹھنڈا ہونے دیں۔

آپ کی حفاظت ہی ایک کامیاب سفر کی ضمانت ہے۔

📸 اگر آپ بھی پاکستان کے خوبصورت مقامات کی سیر، تاریخی ورثے، فوٹوگرافی، وی لاگز اور ایڈونچر سے محبت کرتے ہیں تو Musafiran e Shauq کو ضرور فالو کریں۔

🌐 Facebook:
https://www.facebook.com/MusafiraneShauq

▶️ YouTube:
https://www.youtube.com/

📷 Instagram:
https://www.instagram.com/musafiraneshauq/

Sohawa, The Wind City. . . . . سوہاوہ شاید اپ کے لیٸے ایک عام سا شہر یا علاقہ ہو گا لیکن میرے لیٸے بہت خاص ہے کیونکہ میں...
24/07/2026

Sohawa, The Wind City. . . . .

سوہاوہ شاید اپ کے لیٸے ایک عام سا شہر یا علاقہ ہو گا لیکن
میرے لیٸے بہت خاص ہے کیونکہ میں اس کی خوبصورتی، تاریخی اہمیت اور یہاں چھپے سیاحتی پوٹینشل سے اچھی طرح واقف ہوں😍۔
ضلع جہلم میں اس تحصیل کے نام لیوا شاید بہت کم ہیں لیکن یہاں بکھری خوبصورتی کے دیوانے بہت ہوں گے۔۔۔۔۔۔🌲🌀۔

سوہاوہ، دینہ اور گوجر خان کے بیچ ضلع جہلم کے شمال میں واقع ہے۔ یہ علاقہ سطح مرتفع پوٹھوہار پر مشتمل ہے جہاں چھوٹی بڑی پہاڑیاں، بل کھاتے ندی نالے، گھنے جنگل، دلکش وادیاں اور گمنام بستیاں واقع ہیں۔
کہتے ہیں کہ علاقے میں تیز ہواٶں کی کثرت ہونے کی وجہ سے اس جگہ کو سو-ہوا نام دیا گیا جو پھر سوہاوہ بن گیا جبکہ قدیم دور سے یہ علاقہ ”پبی” کے نام سے موسوم تھا۔
مغل بادشاہ اکبر کے دور میں یہ علاقہ سلطان جلال خان کو منصب میں عطا ہوا۔ 1709ء میں بہادر شاہ بادشاہ نے رؤسائے پھرہالہ سے یہ علاقہ لے کر گکھڑان میرپور کو اجارہ پر دے دیا۔ احمد شاہ درانی نے یہ علاقہ سلطان مقرب خان گکھڑ کو منصب میں عطا کیا، اس کے بعد یہ گوجر سنگھ بھنگی اور پھر سرداران اٹاری کے قبضہ میں رہا۔
سلطنت برطانیہ کی عملداری میں آنے کے بعد 1849ء میں راولپنڈی کو ضلع بنایا گیا تو اس علاقے کو راولپنڈی میں شامل کر دیا گیا۔ 1851ء میں اسے راولپنڈی سے کاٹ کے ضلع جہلم میں شامل کر دیا گیا۔ تحصیل کا درجہ ملنے سے پہلے سوہاوہ، جہلم کا ایک تھانہ ہوا کرتا تھا۔

سوہاوہ شہر کے شمال مشرق میں دھمیاک کے پاس شہاب الدین محمد غوری کا مزار واقع ہے جو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے تعمیر کروایا تھا۔ ساتھ ہی غوری میز ا ٸل کی ایک یادگار بھی ہے۔
اس کے پاس کرونٹھہ ہے جہاں کے ویو پواٸنٹ سے ڈڈیال (آزاد کشمیر) سمیت سوہاوہ و ٹلہ جوگیاں کا بھی نظارہ کیا جا سکتاہے۔ یہیں کچھ آگے شاہی فرودگاہ، رانی منگو کی مسجد، شاہ جہاں چشتی کا مزار اور تالاب جلال خان واقع ہے جس کی گہراٸی 141 فٹ بتاٸی جاتی ہے۔ یہیں قریبی میدان میں شاہ جہاں چشتی کے عرس پہ ایک بڑے میلے کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کی بیل دوڑ دیکھنے ملک بھر سے سیاح یہاں اکٹھے ہوتے ہیں۔
قریب واقع گاٶں سموٹھی سے منگلا ڈیم کی جھیل کا بھی نظارہ کیا جا سکتا ہے جہاں کشتی رانی کی سہولت بھی موجود ہے۔۔۔۔۔

اسی طرح سوہاوہ کے قرب و جوار میں واقع برطانوی دور کے ریلوے اسٹیشن بھی دیکھنے والے ہیں جن میں ڈومیلی، رتیال اور بکڑالہ سمیت سوہاوہ کا اپنا اسٹیشن بھی شامل ہے۔ سوہاوہ کے اسٹیشن کے باہر پرانے دور کی خوبصورت عمارتیں بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔
یعنی کسی بھی سیاح یا آوارہ گرد کے لیٸے یہ جگہ ایک مکمل پیکج ہے جسے اپ دو دنوں میں آرام سے دیکھ سکتے ہیں🩵💚۔

ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری

12/07/2026

📚✨ تقریبِ رونمائیِ کتاب "کالاشہ" — ڈاکٹر کاشف کے ساتھ ایک یادگار ادبی و ثقافتی شام ✨📚

Musafiran-e-Shauq کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ ڈاکٹر کاشف کی شاہکار تصنیف "کالاشہ" کی پُروقار تقریبِ رونمائی کا حصہ بنا۔ یہ تقریب صرف ایک کتاب کی رونمائی نہیں تھی بلکہ پاکستان کی قدیم تہذیب، ثقافتی ورثے، سیاحتی حسن اور علمی تحقیق کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک خوبصورت موقع بھی تھی۔

ڈاکٹر کاشف نے اپنی گہری تحقیق، مشاہدے اور محبت کے ساتھ وادیٔ کالاش کی تاریخ، تہذیب، رسوم و رواج، ثقافتی رنگوں اور وہاں کے لوگوں کی منفرد طرزِ زندگی کو اس کتاب میں محفوظ کیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف محققین، طلبہ، سیاحوں اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے بلکہ پاکستان کے ثقافتی تنوع کو سمجھنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے۔

اس یادگار تقریب کی جھلکیاں اور خصوصی لمحات اس ویڈیو میں ملاحظہ فرمائیں، جہاں ادب، تاریخ، سیاحت اور ثقافت سے محبت رکھنے والے افراد ایک ہی چھت تلے جمع ہوئے۔

Musafiran-e-Shauq پاکستان کے تاریخی مقامات، آثارِ قدیمہ، ثقافتی ورثے، سفرناموں اور علمی سرگرمیوں کو دنیا بھر تک پہنچانے کے اپنے مشن پر گامزن ہے۔

🎥 مکمل ویڈیو دیکھیں، اپنی رائے کا اظہار کریں، اور پاکستان کی خوبصورت تہذیب و ثقافت کو دنیا تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں۔

🌐 Website: https://musafiraneshauq.com
📺 YouTube: https://www.youtube.com/

Musafiran-e-Shauq — جہاں سفر، تاریخ، ادب اور ثقافت ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

Address

House No. 496, Street No. 8, C Block
Gujranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Musafiran e Shauq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Musafiran e Shauq:

Shortcuts

Share