Musafir Nama

Musafir Nama travlog

تاریخ کا سفر ۔۔۔۔گجرانوالہ میں ۔۔۔۔۔کلک کمنٹس میں کریں
05/05/2026

تاریخ کا سفر ۔۔۔۔گجرانوالہ میں ۔۔۔۔۔کلک کمنٹس میں کریں

🔎 کیا واقعی پاکستان میں 150 سال پرانا رام سیتا مندر آج بھی موجود ہے؟احمدپور سیال کی یہ خاموش جگہ…صرف ایک عمارت نہیں… بلک...
01/05/2026

🔎 کیا واقعی پاکستان میں 150 سال پرانا رام سیتا مندر آج بھی موجود ہے؟

احمدپور سیال کی یہ خاموش جگہ…
صرف ایک عمارت نہیں… بلکہ ایک ایسی کہانی ہے
جو وقت کے ساتھ دفن تو ہوگئی… مگر ختم نہیں ہوئی…

ہم اندر گئے…
اور جو دیکھا… وہ عام نہیں تھا…

یہ ویڈیو خاص طور پر اُن ناظرین کے لیے ہے
جو تاریخ، تہذیب اور ان چھپی ہوئی جگہوں کو سمجھنا چاہتے ہیں…

اور خاص بات 👇
اس بار ٹائٹل ہندی میں رکھا گیا ہے
تاکہ بھارت کے ناظرین بھی اس حقیقت کو دیکھ سکیں…

📌 مکمل ویڈیو دیکھنے کیلئے کمنٹس میں دیا گیا لنک لازمی اوپن کریں
(آپ خود فیصلہ کریں گے کہ یہ جگہ واقعی پراسرار ہے یا نہیں)

👇 اپنی رائے ضرور دیں
کیا ایسی جگہوں کو محفوظ کیا جانا چاہیے؟






🏍️ **WASAIB EXPLORER JalalPur PirWala - EXCLUSIVE RIDE** 🏍️Tayari mukammal hai! Insha'Allah hum nikal rahay hain aik aur...
14/04/2026

🏍️ **WASAIB EXPLORER JalalPur PirWala - EXCLUSIVE RIDE** 🏍️
Tayari mukammal hai! Insha'Allah hum nikal rahay hain aik aur tareekhi adventure par. **World Heritage Day** ke mauqay par, Wasaib Explorer Jalal Pur ki team apne puranay virsay aur khoobsurat dhartee ko explore karne ke liye puri tarah se tayaar hai.
🌍 **Jatoi Exploring Ride** 🌍
Yeh ride Team Jalal Pur Pir Wala** ke hamaray members ke liye, jo mil kar jatoi ki tareekh aur saqafat ko apne lens se duniya ko dikhayein ge.
🗓️ **Event Date:**
18 April 2026
📅 **Din:**
Baroz Hafta (Saturday)
📍 **Destination:**
Jatoi City & Surroundings
🚀 **Rawangi
(Departure):** Subah Theek **9:00 Bajay** (Insha'Allah)
**Program details:**
* Sardar Kaura Khan dhoara & maqbara.
* Masjid Sakeena-tus-Sughra (Turkish Architecture).
* Indus River Belt (Riverine Area).




13/04/2026

ریل رائیڈ ملتان تا ڈیرہ غازی خان
بسلسلہ عالمی یوم ورثہ
اتوار 12 اپریل 2026
تحریر: ڈاکٹر سید مزمل حسین
وسیب ایکسپلورر

عالمی یوم سیاحت کے موقع پر وسیب ایکسپلورر کی جانب سے 12 اپریل بروز اتوار “ملتان تا ڈیرہ غازی خان ریل رائیڈ” کے نام سے ایک شاندار اور منفرد سیاحتی دورہ پلان کیا گیا۔ یہ محض ایک سفر نہیں تھا بلکہ جذبات، تاریخ، بھائ چارہ، حب الوطنی اور محبتوں سے جڑی ایک ایسی داستان تھی جس کا مقصد ریلوے کے سفر سے لطف اندوز ہونا، ملتان سے ڈیرہ غازی خان ریلوے ٹریک کے دلکش مناظر کو عکسبند کرنا، ڈیرہ غازی خان کے تاریخی ورثے کو ایکسپلور کرنا اور سیاحت کے ذریعے خطے میں امن، بھائی چارہ، محبت اور حب الوطنی کو فروغ دینا تھا۔ ❤️🇵🇰

یہ لمحہ اس لیے بھی خاص تھا کہ آج سے ٹھیک دس سال قبل، 16 اپریل 2016 کو وسیب ایکسپلورر نے اپنے سفر کا آغاز مقبرہ غازی خان پر عالمی یوم ورثہ منا کر کیا تھا۔ اور آج، ایک دہائی بعد، اسی مقام پر واپس آ کر اس دن کو منانا گویا یادوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے مترادف تھا۔

اتوار 12 اپریل کی صبح، جب شہر ابھی نیند میں تھا، تقریباً 5:30 بجے قافلہ ملتان چھاؤنی ریلوے اسٹیشن سے دو بوگیوں پر مشتمل شٹل ٹرین کے ذریعے روانہ ہوا۔

یہ صرف ایک ٹرین نہیں تھی بلکہ خوشیوں، دوستیوں اور نئے تعلقات کو ساتھ لے کر چلنے والا ایک کارواں تھا۔ اس سفر میں سینئر اراکین کے ساتھ ساتھ نئے شامل ہونے والے احباب کی موجودگی نے اس تجربے کو مزید خوبصورت بنا دیا۔

بہاولپور سے محترم ڈی ایم جمیل، خانیوال سے عزیز الدین عماد، ملتان سے محترم مشتاق انصاری، حافظ خورشید احمد، صابر پیا، کاشف ممتاز بخاری، ملک فراز، محمد اشرف، حافظ احمد جبکہ نئے سیاح احباب میں محمد کاشف، محمد ثاقب، عزیز احمد، محمد مدثر اور احتشام الحق شامل تھے۔ یہ سب لوگ اس یادگار سفر کی کہانی کا حصہ بن گئے۔ ڈاکٹر عمار تاخیر کے سبب بائ روڈ ڈیرہ غازی خان آۓ اور واپسی کے سفر میں ٹرین میں ہمارے ساتھ شامل ہوۓ۔ چاچاۓ وسیب اور بانکے میاں الوداع کہنے آۓ۔ تاخیر کی وجہ سے خواجہ مجاہد صاحب قافلہ میں شامل نا ہوسکے جبکہ عدنان بھٹی آنکھ نا کھلنے کی وجہ سے اس یادگار سفر سے محروم رہے۔ فیضان طاہر اپنی صاحبزادی کی طبیعت خرابی کی وجہ سے اور شعیب حسین نزلہ زکام کے سبب شرکت سے محروم رہے۔ اللہ تعالیٰ سب کے ساتھ خیر کا معاملہ فرماۓ آمین۔

پہلا اسٹیشن شیر شاہ آیا اور پھر قافلہ دریائے چناب کو عبور کرتا ہوا آگے بڑھا۔ ریلوے برج سے گزرتے ہوئے وہ منظر، وہ ہوا، وہ لمحہ—سب کچھ دل میں محفوظ ہو گیا۔ مظفرگڑھ کے تاریخی ریلوے اسٹیشن کی جھلکیاں کیمرے میں قید کی گئیں، اور جیسے ہی مظفرگڑھ کراس ہوا، بھوک نے سب کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔

ہمیشہ کی طرح مشتاق انصاری صاحب لذیذ ناشتہ اور گرم چائے کے ساتھ تیار تھے، جبکہ پہلی بار شامل ہونے والے کاشف صاحب بھی گھر کا بنا ناشتہ ساتھ لائے،یہی وہ جذبہ ہے جو اس کارواں کو خاص بناتا ہے۔ بدھ ریلوے اسٹیشن تک ناشتہ مکمل ہوا اور پھر چائے کے خوشگوار لمحات نے سفر کو مزید یادگار بنا دیا۔ ٹرین ہمارے نعرہ "محبت مجھے ان جوانوں سے ہے، جو کھاتے پیتے گھرانوں سے ہیں" گونج اٹھی۔

راستے میں تھرمل پاور اسٹیشن، لعل پیر، محمود کوٹ، سنانواں، کوٹ ادو اور تونسہ بیراج جیسے اسٹیشنز آئے۔ اسی دوران صابر پیا صاحب کے کلام نے محفل کو ایسا رنگ دیا کہ ٹرین کے ہر ڈبے میں خوشی کی لہریں دوڑ گئیں۔ یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے پر سبھی سرور میں آگۓ۔

جب تونسہ بیراج پر دریائے سندھ کو عبور کیا گیا تو قدرت کا وہ حسین منظر ہر آنکھ میں بس گیا۔ آگے بڑھتے ہوئے انڈس ہائی وے کراس کیا، شادن لنڈ پہنچے اور گندم کی کٹائی کے سنہری مناظر نے دیہی پاکستان کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیے۔ دور دھندلے منظر میں کوہ سلیمان بھی اپنی جھلک دکھا رہا تھا۔

سفر کے آخری حصے میں ملی نغموں کی گونج نے ٹرین کو ایک چلتی پھرتی محفل میں بدل دیا۔ مسافروں کے چہروں پر مسکراہٹیں اور دلوں میں خوشی—یہی تو اصل سیاحت ہے! ایک بار پھر ٹرین سیاحوں کی پرجوش آواز میں ملی نغموں دل دل پاکستان، یہ تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے، سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے سے گونج اٹھی۔

تقریباً 10 بجے قافلہ ڈیرہ غازی خان پہنچا جہاں سینیئر سٹیشن ماسٹر حافظ عابد حسین اور وسیب ایکسپلورر اور کراس روٹ کلب کے میزبان احباب پروفیسر شعیب رضا، ہمایوں ظفر، سلطان محمود، سعد یاسین عباسی، محمد سعید، حاجی عبد اللہ نواز اور احمد لودھی نے پرتپاک استقبال کیا۔ گروپ فوٹو کے بعد قافلہ مختلف سواریوں کے ذریعے ایک بار پھر مقبرہ غازی خان پہنچا جہاں تاریخ نے ایک بار پھر خود کو دہرایا۔

شعیب صاحب نے مقبرہ کی تاریخی اہمیت بیان کی، فوٹوگرافی کی گئی، اور ریل ٹریک فیسبک پیج کے ایڈمن احمد لودھی کی جانب سے شرکاء میں اعزازی اسناد تقسیم کی گئیں۔ یہ لمحے ہر شریک کے لیے قابلِ فخر تھے۔

اس کے بعد ہنڈا پرنس پاکستان چوک پر مہمان نوازی کا سلسلہ جاری رہا جہاں سعد یاسین عباسی نے گرمجوشی سے استقبال کیا۔ پانی اور بسکٹ سے تواضع کی۔

11 بجے قافلہ واپس ریلوے اسٹیشن پہنچا، جہاں واپسی سے قبل ایک خوبصورت لمحہ، راقم ڈاکٹر سید مزمل حسین کی سالگرہ کا کیک کاٹا گیام جبکہ تمام سیاحوں کو بریانی کے پارسل پیش کیے گئے۔

واپسی کا سفر شروع ہوا اور تقریباً 3 بجے قافلہ ملتان پہنچ گیا۔ راستے میں شادن لنڈ میں معراج خالد بھائ جبکہ ملتان پہنچنے پر چاچاۓ وسیب اور عرفان ملک نے استقبال کیا۔

کوٹ ادو اور مظفرگڑھ سے بڑی تعداد میں مسافروں کی شمولیت نے یہ احساس دلایا کہ اس روٹ پر مزید بوگیوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہر مسافر باعزت سفر کر سکے۔

یہ سفر صرف ایک ریل رائیڈ نہیں تھا بلکہ یادوں، دوستیوں، محبتوں اور اپنے ورثے سے جڑنے کا ایک حسین ذریعہ تھا۔

تمام میزبانوں اور شرکاء کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ، جن کی وجہ سے یہ سفر نہ صرف کامیاب بلکہ ہمیشہ کے لیے یادگار بن گیا۔

اس شاندار سفر کا مکمل ولاگ جلد ہی وسیب ایکسپلورر کے یوٹیوب چینل Wasaib Explorer پر اپلوڈ کیا جائے گا۔

ڈاکٹر سید مزمل حسین
وسیب ایکسپلورر

🌙 چاند رات بہت بہت مبارک ہو 🌙اللہ پاک آپ سب کی زندگیوں کو خوشیوں، رحمتوں اور آسانیوں سے بھر دے۔آنے والی عید آپ سب کے لیے...
20/03/2026

🌙 چاند رات بہت بہت مبارک ہو 🌙
اللہ پاک آپ سب کی زندگیوں کو خوشیوں، رحمتوں اور آسانیوں سے بھر دے۔
آنے والی عید آپ سب کے لیے ڈھیروں خوشیاں اور محبتیں لے کر آئے۔
اپنے پیاروں کو یاد رکھیں اور دعاؤں میں ضرور شامل کریں 🤲✨

14/02/2026

لاہور سے طویل فاصلہ طے کرتے ہوئے پاک ایڈونچر رائڈرز کلب کے رائڈرز جلال پورپیروالہ کے تاریخی مقامات دیکھنے کے لئے تشریف لائے اور ایک رات قیام کے بعد بانی شہر جلال پوردربار حضرت پیرقتال اور بادشاہی جامع مسجد کا دورہ کیا
کراس روٹ کلب جلال پور پیر والا چیپٹر ، وسیب ایکسپلورر جلالپور پیر والہ چیپٹر
کوآرڈینیٹر ۔ سید ظفر شاہ بخاری
ممبران۔ کراس روٹ کلب جلال پور پیر والہ ، وسیب ایکسپلورر
عمران عادل
شاہد اقبال
محمد یوسف
عامر ساحل
ندیم کریم
فاروق اعوان
منیرن خان بلوچ
محمداجمل بہادرپوری
نے مہمانوں کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے جبکہ ریسکیو 1122 اور ٹریفک وارڈن والوں نے بھرپور تعاون کیا

*ہمارے نظامِ شمسی کے دیو ہیکل سیاروں سے ملاقات**شام سیارہ زحل کے ساتھ، رات مشتری اور اس کے چاندوں کے ساتھ* کیا آپ نے کبھ...
11/02/2026

*ہمارے نظامِ شمسی کے دیو ہیکل سیاروں سے ملاقات*
*شام سیارہ زحل کے ساتھ، رات مشتری اور اس کے چاندوں کے ساتھ*

کیا آپ نے کبھی *مشتری* اور *زحل* کو اپنی آنکھوں سے ٹیلی اسکوپ کے ذریعے دیکھا ہے؟

یہ آپ کے لیے بہترین موقع ہے کہ آپ ہمارے *نظامِ شمسی* کے سب سے بڑے *سیاروں* اور ان کے حیرت انگیز *چاندوں* کا مشاہدہ کریں!

🔭 *براہِ راست ٹیلی اسکوپ آبزرویشن*
🧠 *دلچسپ آسٹرونومی سوالات/جوابات*
🌍 *جیووین سسٹم پر ماہرین کی گفتگو*

اپنے *بچوں* ، *دوستوں* اور *خاندان* کو ساتھ لائیں اور *خلا* کی خوبصورتی کا مشاہدہ کریں اور کائنات کے بارے میں *تجسس* کو بڑھائیں۔

📅 *تاریخ: 14 فروری بروز ہفتہ*
⏰ *وقت: شام 6:30 بجے سے رات 09 بجے*
📍 *بمقام: ملک صلح الدین ڈوگر پارک، ڈیرہ اڈہ چوک، ملتان*

*ملتان آسٹرونومی سوسائٹی*

Darbar Baba Rodu Sultan (Hazrat Rodhay Shah) — Rodu Sultan, JhangBaba Rodu Sultan, jinhain Hazrat Rodhay Shah bhi kaha j...
06/02/2026

Darbar Baba Rodu Sultan (Hazrat Rodhay Shah) — Rodu Sultan, Jhang

Baba Rodu Sultan, jinhain Hazrat Rodhay Shah bhi kaha jata hai, ka darbar Rodu Sultan, district Jhang mein waqay ek mashhoor roohani aur tareekhi maqam hai. Ye darbar ilaqay ke logon ke liye aqeedat, rawaiyat aur saqafati pehchan ki alamat samjha jata hai, jahan rozana zaireen aur musafir hazri dete hain.
Dastiyab maloomat ke mutabiq, ye darbar Auqaf Department ke zair-e-intezam bataya jata hai, jo is ki aik tasleem shuda haisiyat ko zahir karta hai. Agarche Baba Rodu Sultan ki zindagi par mufassal likhi hui tareekh mehdood hai, lekin muqami rawaiyat, mustaqil ziarat aur basti ki pehchan is maqam ki roohani ahmiyat ko wazeh karti hai.
Musafir Nama ke liye aise maqamat sirf ziarat gahen nahi, balkay zinda loak tareekh hain jo aaj bhi logon ki zindagi, saqafat aur yaqeen se juri hui hain.












Disclaimer
Ye post awami satah par dastiyab maloomat aur muqami rawaiyat ki bunyaad par tayar ki gayi hai. Musafir Nama kisi ghair-musaddiq daaway, mojzaat ya aqeedi baat ki tasdeeq nahi karta. Mukhtalif zaraye mein tareekhi tafseelat mein farq mumkin hai. Maqsad sirf maloomati, saqafati aur tareekhi agahi faraham karna hai, kisi khas maslak ya aqeede ki tashheer nahi.
Agar aap chahen to main isi ka short reach version, sirf travel caption, ya Roman + Urdu mixed edition bhi bana deta hoon 👍

مندر سیتا رام، احمد پور سیال — تاریخی و معلوماتی جائزہمندر سیتا رام، واقع احمد پور سیال (پنجاب)، خطے کے اُن تاریخی و مذہ...
04/02/2026

مندر سیتا رام، احمد پور سیال — تاریخی و معلوماتی جائزہ
مندر سیتا رام، واقع احمد پور سیال (پنجاب)، خطے کے اُن تاریخی و مذہبی مقامات میں شامل ہے جن کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات تو موجود ہیں، مگر باقاعدہ اور مستند تاریخی ریکارڈ محدود نظر آتا ہے۔ ذیل میں اس مقام کا ایک غیر جانبدار اور معلوماتی تعارف پیش کیا جا رہا ہے، جو دستیاب عوامی ذرائع پر مبنی ہے۔
تعمیر اور طرزِ تعمیر:
عوامی طور پر دستیاب مقامی تحریروں، رپورٹس اور آن لائن مواد کے مطابق مندر سیتا رام کی تعمیر بیسویں صدی کے اوائل میں ہوئی، جبکہ بعض ذرائع اس کی تکمیل کا سال 1918 بتاتے ہیں۔ عمارت کا طرزِ تعمیر اُس دور کے نوآبادیاتی انداز کی عکاسی کرتا تھا۔ یہ ایک دو منزلہ عمارت بتائی جاتی ہے، جس میں ایک کشادہ مرکزی ہال، متعدد کمرے اور سادہ مگر نمایاں نقش و نگار شامل تھے۔
تقسیم سے قبل مذہبی و سماجی حیثیت:
1947 سے قبل یہ مندر مقامی ہندو برادری کے لیے عبادت، مذہبی اجتماعات اور سماجی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہ مقام رام، سیتا اور لکشمن سے منسوب تھا اور احمد پور سیال اور گرد و نواح میں مذہبی شناخت کی ایک علامت سمجھا جاتا تھا۔
تقسیم کے بعد کی صورتحال:
قیامِ پاکستان کے بعد آبادی میں تبدیلی کے باعث مندر کی مذہبی سرگرمیاں محدود ہو گئیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق عمارت ایک طویل عرصے تک غیر آباد یا نظر انداز رہی، جس کے بعد وقتاً فوقتاً اس کا استعمال غیر مذہبی یا تجارتی مقاصد کے لیے ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعد کے برسوں میں یہی پہلو عوامی بحث کا موضوع بنا۔
حالیہ توجہ اور گفتگو:
2017 کے بعد سے اس مقام پر میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا مواد کے ذریعے دوبارہ توجہ دی گئی۔ بعض تحریروں میں اسے تاریخی ورثہ قرار دیتے ہوئے اس کی موجودہ حالت پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ 2023 میں اس حوالے سے شیئر ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز نے ایک بار پھر اس موضوع کو نمایاں کیا۔
تاریخی تصدیق کا پہلو:
اس وقت دستیاب معلومات زیادہ تر اخباری مضامین، آن لائن تحریروں، ویڈیوز اور عوامی بیانات پر مشتمل ہیں۔ سرکاری یا آرکائیول سطح کے واضح ریکارڈ، جیسے ضلعی گزٹئیر، زمین کے پرانے ریونیو ریکارڈ یا آثارِ قدیمہ کی باضابطہ فہرستیں، عوامی سطح پر محدود دستیاب ہیں۔ مزید مستند تحقیق کے لیے متعلقہ سرکاری اور تحقیقی اداروں کے ریکارڈ کا جائزہ ضروری ہے۔
اختتامیہ:
مندر سیتا رام، احمد پور سیال، خطے کی قبل از تقسیم سماجی اور ثقافتی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ ایسے مقامات کا مطالعہ اور دستاویزی جائزہ ہمیں مشترکہ تاریخی ورثے کو سمجھنے اور محفوظ کرنے کی اہمیت کی یاد دہانی کراتا ہے۔
ڈسکلیمر:
یہ پوسٹ صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے شیئر کی گئی ہے۔ اس میں شامل مواد عوامی طور پر دستیاب ذرائع پر مبنی ہے اور کسی قانونی، مذہبی یا سرکاری مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اگر مستند دستاویزی شواہد یا نئی معلومات دستیاب ہوں تو اس میں تصحیح یا اضافہ ممکن ہے۔





Address

Street1, Ward No 9, Mohala Hakima Wala
Gujranwala
59250

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Musafir Nama posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Musafir Nama:

Shortcuts

Share