The HUNZA valley

The HUNZA valley A page dedicated to promote the scenic beauty of the Hunza Valley. Shinaki, Kanjud aur Gojal. Hunza was an independent principality for more than 900 years.
(527)

The Hunza valley is a mountainous valley in the Gilgit–Baltistan region of Pakistan. The Hunza is situated at an elevation of around 2,500 metres (8,200 ft). The territory of Hunza is about 7,900 square kilometres (3,100 sq mi). Aliabad is the main commercial town while Karimabad (old name Baltit) is a popular tourist destination because of the spectacular scenery of the surrounding mountains like

Ultar Sar, Rakaposhi, Bojahagur Duanasir II, Ghenta Peak, Hunza Peak, Passu Peak, Diran Peak and Bublimotin (Ladyfinger Peak), all 6,000 metres (19,685 ft) or higher. Hunza was formerly a princely state bordering Uyghurstan to the northeast and Pamir to the northwest, which survived until 1974, when it was finally dissolved by Zulfikar Ali Bhutto. The state bordered the Gilgit Agency to the south and the former princely state of Nagar to the east. The state capital was the town of Baltit (also known as Karimabad); another old settlement is Ganish Village. The British gained control of Hunza and the neighbouring valley of Nagar between 1889 and 1892 through a military conquest. The then Mir/Thum (Ruler) Mir Safdar Ali Khan of Hunza fled to Kashghar in China and sought what would now be called political asylum. Hunza has provided the quickest access to Swat and Gandhara for a person travelling on foot. The route was impassable for pack animals; only human porters could get through, and then only with permission from the locals. Hunza was easily defended as the paths were often less than 0.5 metres (20 in) wide. The high mountain paths often crossed bare cliff faces on logs wedged into cracks in the cliff, with stones balanced on top. They were also constantly exposed to regular damage from weather and falling rocks. These were the much feared "hanging passageways" of the early travel accounts that terrified several famous Chinese Buddhist monks such as Xuanzang. Hunza is divided into 3 Geographic Sub-Divisions: Lower Hunza (Shinaki), Central Hunza (Kanjud) and Upper Hunza (Gojal).

علی آباد ہنزہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی سمیت 10 بین الاقوامی کوہ پیماؤں سے براڈ پیک پر برفانی تودہ گ...
31/07/2026

علی آباد ہنزہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی سمیت 10 بین الاقوامی کوہ پیماؤں سے براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد رابطہ منقطع ہے۔ سہیل سخی کے قریبی ساتھی کے ذرایع کے مطابق صبح 10 بجے ان کا جی پی ایس نے مزید 100 میٹر براڈ پیک کے جوٹی کی طرف پیش قدمی کی ہے اور امید ہے کہ وہ چوٹی سر کے کے واپس ہونگے ...
بشکریہ ایمان شاہ

31/07/2026

ڈسٹرکٹ ہنزہ( رشید برچہ) ہنزہ التت میں لینڈ سلائیڈنگ

براڈ پیک پر لاپتہ پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کون ہیں؟سہیل سخی پاکستان کے ابھرتے ہوئے ممتاز کوہ پیما ہیں جن کا تعلق گلگت ...
31/07/2026

براڈ پیک پر لاپتہ پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کون ہیں؟

سہیل سخی پاکستان کے ابھرتے ہوئے ممتاز کوہ پیما ہیں جن کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ سے ہے۔ وہ اپنی فنی مہارت، مشکل مہمات اور بغیر اضافی آکسیجن (No Supplemental Oxygen) بلند چوٹیوں کو سر کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے عالمی کوہ پیمائی حلقوں میں تیزی سے پہچان بنا رہے ہیں۔

ان کی نمایاں کامیابیاں درج ذیل ہیں:

* نرمل پورجا (Nimsdai) سمیت بین الاقوامی کوہ پیماؤں کے ساتھ مختلف اعلیٰ سطح کی مہمات میں حصہ لیا اور عالمی ٹیموں کے رکن رہے۔
* مئی 2026 میں دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی کانچن جنگا (8,586 میٹر) کامیابی سے سر کی، جہاں وہ روپ فکسنگ ٹیم کا حصہ تھے۔ روپ فکسنگ ٹیم دیگر کوہ پیماؤں کے لیے راستہ محفوظ بنانے کی انتہائی ذمہ دارانہ ذمہ داری انجام دیتی ہے۔

* اس سے قبل کے ٹو (K2)، نانگا پربت، گاشربرم I اور گاشربرم II بھی سر کر چکے ہیں، جن میں کئی کامیابیاں بغیر اضافی آکسیجن حاصل کیں۔
* سہیل سخی نوجوانوں میں کوہ پیمائی، ایڈونچر اور قیادت کے فروغ کے لیے بھی سرگرم ہیں اور ہنزہ میں مقامی نوجوانوں کی تربیت اور رہنمائی میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

سہیل سخی کو آج پاکستان کے ان باصلاحیت کوہ پیماؤں میں شمار کیا جاتا ہے جو نہ صرف عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی کوہ پیمائی برادری میں پاکستانی کوہ پیماؤں کی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کر رہے ہیں۔

اہم گزارشآج کل ہنزہ کی گلیوں اور بازاروں میں کندھوں پر سامان اٹھا کر فروخت (Shoulder Selling) کرنے والے افراد بڑی تعداد ...
26/07/2026

اہم گزارش
آج کل ہنزہ کی گلیوں اور بازاروں میں کندھوں پر سامان اٹھا کر فروخت (Shoulder Selling) کرنے والے افراد بڑی تعداد میں نظر آ رہے ہیں۔ پنجاب میں اس طرز کی فروخت پر پابندی عائد کی جا چکی ہے، لیکن یہ لوگ اب ہنزہ آ کر یہی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ہم گلگت بلتستان پولیس سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ایسے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے پہلے ہی اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی حادثے یا واقعے کے بعد ہی سب کو احساس ہوتا ہے، جبکہ احتیاط پہلے ضروری ہے۔
اسی طرح بازار کمیٹی اور ہوٹل ایسوسی ایشن سے بھی درخواست ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کریں اور گلگت بلتستان کے امن، نظم و ضبط اور کاروباری ماحول کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

شکریہ۔

26/07/2026

23 جولائی کو Answer Camp میں آنے والے سیلاب کی ایک خوفناک جھلک۔

26/07/2026

Rockfall at Skardu near Astak Nullah. Stay alert and travel safely in the area. 🏔️⚠️

25/07/2026

اللہ خیر کرے
گلگت میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے

25/07/2026

ڈسٹرکٹ ہنزہ انتظامیہ سے گزارش ہے کہ اگر متعلقہ افسران اس ویڈیو کو دیکھ رہے ہیں تو براہِ کرم اس کی حقیقت عوام کے سامنے واضح کریں۔

ویڈیو بشکریہ ہنزوگرافی

18/07/2026

We were honored to host Anita Karim – “The Arm Collector”, professional MMA fighter, for an inspiring session on the importance of sports in fostering both mental and physical well-being. She shared how dedication, resilience, and an active lifestyle shape stronger, healthier individuals.
The session also included practical self-defense techniques, equipping participants with valuable skills to build confidence, stay aware, and protect themselves when needed.
An empowering experience that inspired everyone to embrace sports, self-discipline, and the confidence to overcome challenges.

انا للہ و انا الیہ راجعونہنزہ، علی آباد سے تعلق رکھنے والی نہایت مخلص، بااخلاق، ملنسار اور خدمت گزار شخصیت مرحومہ بھابھی...
16/07/2026

انا للہ و انا الیہ راجعون
ہنزہ، علی آباد سے تعلق رکھنے والی نہایت مخلص، بااخلاق، ملنسار اور خدمت گزار شخصیت مرحومہ بھابھی نسرین بانو زوجہ کاکو عالم خان کی اچانک وفات کی خبر نے پورے علاقے کو غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کی جدائی صرف ان کے اہلِ خانہ ہی کا نہیں بلکہ پوری جماعت اور ان تمام لوگوں کا ناقابلِ تلافی نقصان ہے جنہوں نے انہیں قریب سے جانا اور ان کی بے لوث خدمات سے فائدہ اٹھایا۔
مرحومہ نے اپنی پوری زندگی خاموشی، اخلاص اور محبت کے ساتھ جماعتی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی۔ علی آباد، کریم آباد، کراچی اور جیوانی سمیت جہاں بھی انہیں خدمت کا موقع ملا، انہوں نے پوری ذمہ داری، عاجزی اور خوش اخلاقی کے ساتھ اپنے جماعت کی خدمت کی۔ وہ ان خواتین میں شامل تھیں جنہوں نے بغیر کسی شہرت یا صلے کی خواہش کے خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ان کا نرم لہجہ، مہمان نوازی، ایثار اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے کی عادت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
ایسی شخصیات دنیا سے رخصت تو ہو جاتی ہیں، مگر ان کے اخلاق، کردار اور خدمات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ مرحومہ نسرین بانو کی جماعت کے لیے بے مثال خدمات آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک روشن مثال ہیں کہ حقیقی عظمت خدمتِ خلق، محبت اور اخلاص میں ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ مرحومہ کو اپنی بے پایاں رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی تمام نیک خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، اور ان کے شوہر کاکو عالم خان، تمام اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور سوگواران کو یہ عظیم صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Address

Hunza Valley, Gilgit Baltistan/
Hunza
15600

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The HUNZA valley posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share