Mountains Are Calling

Mountains Are Calling Mountain Are Calling Trek and Tours organizes adventure tours to explore Natural and Historical plac

23/08/2025

Public Safety Alert:

Due to forecast of heavy to very heavy rainfall in Islamabad, Margalla Hills Trails 2, 3, 4, 5 and Trail behind Saidpur Village will remain closed on 24th August 2025 for public safety.

19/08/2025

Not the mountains but the mountain people are calling us this time.
😔😔😔

Instead of planning a trip and asking for suggestions, please donate this amount for flood relief now.

These are the people who welcomed us whenever we visited, who provided us their services.

It's a really very hard time. Please DONATE AS MUCH AS POSSIBLE.
Things will return to normal INSHA ALLAH.

We can plan the trip next year too , but they need us now.
Please help them.

Copied

16/08/2025

Important Safety Alert!

Due to heavy rainfall forecasted for the next 72 hours, the Margalla Hills trails have been closed until August 19, 2025, for public safety.

Source: Deputy Commissioner Islamabad

16/08/2025

کلائمیٹ چینج ایک عالمی مسئلہ ہے، لیکن پاکستان جیسے ملکوں میں اس کے اثرات زیادہ نمایاں اور خطرناک ہیں۔ اس سے نمٹنے کے لیے عوامی اور حکومتی دونوں سطح پر اقدامات ضروری ہیں۔

حکومتی تدابیر

1. قانون سازی اور پالیسی

ماحولیاتی تحفظ کے سخت قوانین پر عمل درآمد۔

گرین انرجی (سولر، ہوا، ہائیڈرو) کو فروغ دینا۔

کاربن اخراج کم کرنے کے اہداف مقرر کرنا۔

2. شجر کاری اور جنگلات کی حفاظت

بلین ٹری سونامی جیسے منصوبے مزید علاقوں تک بڑھانا۔

غیر قانونی کٹائی پر پابندی اور جنگلات کا پھیلاؤ۔

3. شہری منصوبہ بندی

شہروں میں گرین بیلٹس اور پارکس بڑھانا۔

جدید پبلک ٹرانسپورٹ نظام تاکہ ذاتی گاڑیوں پر انحصار کم ہو۔

4. پانی کے وسائل کا بہتر استعمال

ڈیمز اور واٹر اسٹوریج سسٹم بنانا۔

بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے۔

5. زرعی شعبے میں اصلاحات

پانی بچانے والی ٹیکنالوجی (ڈرِپ ایریگیشن وغیرہ) کا فروغ۔

کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی کاشت۔

6. آگاہی اور تعلیم

اسکول، کالج اور میڈیا کے ذریعے ماحولیاتی تعلیم کو عام کرنا۔

کلائمیٹ ریسرچ کے لیے ادارے قائم کرنا۔

عوامی تدابیر

1. شجر کاری
ہر شخص سالانہ کم از کم ایک درخت لگائے اور اس کی دیکھ بھال کرے۔

2. پانی اور بجلی کی بچت
نلکے اور بلب بلاوجہ کھلے نہ چھوڑیں۔
سولر پینل کا استعمال بڑھائیں۔

3. پلاسٹک کا کم استعمال

شاپنگ بیگز کے بجائے کپڑے کے بیگ استعمال کریں۔
پلاسٹک کی بوتلوں اور کچرے کو ری سائیکل کریں۔

4. سفر کے طریقے

کار شیئرنگ یا پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔
سائیکل یا پیدل سفر کو ترجیح دیں۔

5. ماحولیاتی شعور

سوشل میڈیا اور کمیونٹی میں کلائمیٹ چینج کے بارے میں آگاہی پھیلائیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ اگر حکومت پالیسی سطح پر سنجیدہ اقدامات کرے اور عوام روزمرہ زندگی میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو کلائمیٹ چینج کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

Unfortunate
23/07/2025

Unfortunate

08/07/2025

🛑 سیاحتی سیزن 2025 میں ابتدائی دو ماہ کے اندر 7 بڑے حادثات

یاد رکھیں! خوبصورت وادیاں جنت ضرور لگتی ہیں، لیکن پہاڑوں کی سنگینی کو نظر انداز کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے

1️⃣ تاریخ: 3 مئی | مقام: لوئر کوہستان

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے **8 افراد** آلٹو گاڑی کے گہری کھائی میں گرنے سے جان بحق۔
🔹 ممکنہ وجہ:** گنجائش سے زائد سواریاں، پہاڑی ڈرائیونگ کا تجربہ نہ ہونا۔
2️⃣ تاریخ: 15-16 مئی | مقام: جگلوٹ، گلگت بلتستان

گجرات کے **چار نوجوان دوست** گاڑی سمیت لاپتہ ہوئے، جن کی لاشیں 10 دن بعد دریا کے کنارے کھائی سے برآمد ہوئیں۔
🔹 ممکنہ وجہ:** تھکن، نیند کا غلبہ، رات کے وقت پہاڑی سفر۔

3️⃣ تاریخ: 28 مئی | مقام: مارتونگ وادی، بونیر

لاہور کی ایک فیملی، جن میں ماں اور دو نوجوان بیٹے شامل تھے، گاڑی کے کھائی میں گرنے سے جاں بحق۔
🔹 ممکنہ وجہپہاڑی راستوں سے ناواقفیت، ڈرائیونگ میں احتیاط کا فقدان۔

4️⃣ تاریخ: 20 جون | مقام: ناران، بٹہ کنڈی

ایک فیملی کے تین افراد (باپ، بیٹا اور کزن سوہنی آبشار کے قریب گلیشیئر کے نیچے تصویریں لیتے ہوئے دب کر ہلاک ہو گئے۔
🔹 ممکنہ وجہ گلیشیئرز کے خطرات کو نظر انداز کرنا۔

5️⃣ تاریخ: 21 جون | مقام: شاہی باغ، اتروڑ، کالام

کشتی الٹنے سے **ایک ہی خاندان کے 10 افراد** پانی میں ڈوب گئے، جن میں سے **5 افراد (2 خواتین، 3 بچے)** جاں بحق ہو گئے۔
🔹 **ممکنہ وجہ:** کشتی کا انجن فیل ہونا، لائف جیکٹ نہ پہننا، تیز بہاؤ کا شکار۔

6️⃣ تاریخ: 24 جون | مقام: کاغان

گاڑی دریا کنارے کھائی میں جا گری۔ **میاں بیوی جاں بحق** جبکہ ان کا کمسن بچہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔
🔹 ممکنہ وجہ: نیند کی حالت میں ڈرائیونگ، راستے سے ناواقفیت، رات کا سفر۔

-7️⃣ تاریخ: 27 جون | مقام: دریا سوات، مینگورہ

16 افراد دریا کے اچانک آنے والے ریلے میں بہہ گئے۔ 3 کو زندہ بچایا جا سکا، باقی میں سے 10 کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔
🔹 ممکنہ وجہ: مقامی وارننگ سسٹم کا فقدان، دریا کی شدت کا اندازہ نہ ہونا۔

⚠️ سیاحتی مقامات پر جاتے وقت احتیاطی تدابیر اپنائیں:

✅ پہاڑی ڈرائیونگ کا تجربہ حاصل کریں یا مقامی ڈرائیور رکھیں
✅ رات کے وقت سفر سے گریز کریں
✅ کشتی سواری کرتے وقت لائف جیکٹ لازمی پہنیں
✅ گلیشیئر، ندی نالوں اور دریا کے قریب تصویریں لیتے وقت فاصلے کا خیال رکھیں
✅ مقامی لوگوں کی ہدایات پر عمل کریں

📢 اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔
سیاحت کریں، مگر محفوظ رہ کر!

28/06/2025

سیاحتی سیزن شروع ہونے کے بعد دو ماہ کے اندر ہونے والے حادثات

1- 3 مئی
لوئر کوہستان میں آلٹو گاڑی میں راولپنڈی کی ایک فیملی کے آٹھ افراد گاڑی گہری کھائی میں گرنے کی وجہ سے جان بحق ہوئے۔

ممکنہ وجہ: گنجائش سے زیادہ مسافر، پہاڑوں کے سفر سے ناواقفیت

2- 15 مئی سے 16 مئی
گلگت بلتستان میں گجرات کے چار دوست اپنی گاڑی سمیت لاپتہ ہوئے جن کی لاشیں اور گاڑی تقریبا دس دن کی تلاش کے بعد جگلوٹ سکردو روڈ پر ایک گہری کھائی میں دریا کے ساتھ ملیں.

ممکنہ وجہ: تھکاوٹ و نیند اور رات کی پہاڑی لانگ ڈرائیو

3- 28 مئی
مارتونگ وادی (بونیر) میں لاہور کی ایک فیملی ماں جوان بیٹوں سمیت گاڑی گہری کھائی میں گرنے سے جاں بحق۔

ممکنہ وجہ: پہاڑی علاقوں میں ڈرائیونگ سے ناواقفیت

4- 20 جون

لاہور سے ایک فیملی باپ بیٹا اور کزن ناران بٹہ کنڈی سوہنی آبشار کے گلشئیر کے نیچے تصویریں بنانے کی غرض سے کھڑے تھے کہ اچانک گلشئیر گر کے دبنے سے تینوں ہلاک ہو گئیے

5- 21 جون

کالام، اتروڑ شاہی باغ میں کشتی رانی کرتے ہوئے کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے دس افراد ڈوب گئے جن میں پانچ کو زندہ بچا لیا گیا جبکہ پانچ ( دو خواتین اور تین بچے) زندہ نہ بچ سکے۔

ممکنہ وجہ: کشتی کا انجن فیل ہو گیا۔ لائف جیکٹ کسی نے بھی نہیں پہنی تھی اور کشتی پانی کے تیز بہاؤ کا شکار ہو گئی۔

6- 24 جون
کاغان میں ایک گاڑی دریا کنارے گہری کھائی میں جا گری۔ میاں بیوی جاں بحق، چھوٹا بچہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔

ممکنہ وجہ: رات کی ڈرائیو، تھکاوٹ و نیند، راستے سے ناواقفیت

7- 27 جون

مینگورہ دریا سوات کے سیلابی ریلے میں 16 افراد بہہ گئيے۔ دس افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ تین افراد کو زندہ بچایا جا سکا ہے۔

ممکنہ وجہ: غیر مقامیوں کا دریا میں آنے والے سیلابی ریلے کا اندازہ نہ کرسکنا اور کسی پیشگی وارننگ سسٹم کا نہ ہونا۔

منقول

25/05/2025

پہاڑوں کی سیر کو جائیں تو یہ تحریر محفوظ کرلیں !
سانحہ سکردو ایک دل دہلا دینے والا حادثہ ہے ۔جس میں گجرات کے چار دوست المناک حادثے کا شکار ہوئے۔۔۔نہ جانے کتنی دیر تکلیف سے گزرنے کے بعد موت کی آغوش میں گئے ہوں گے ۔۔۔اور پھر سات دن تک ان کے اجسام کھلے آسمان تلے پڑے رہے اور کسی کو خبر نہ ہوئی ۔
زندگی کا محافظ رب کریم ہے لیکن حفاظتی اسباب اختیار کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ کبھی بھی دوستوں یا فیملی کے ساتھ سیر کرنے جائیں تو یہ باتیں یاد رکھیں ۔
سب سے پہلے تو ڈرائیونگ !
یاد رکھیں شاہراہ ریشم کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہتے ہیں ۔۔جبکہ جگلوٹ سکردو روڈ اس سے بھی بڑا عجوبہ ہے ۔۔ایسے بے پناہ راستے اب شمالی علاقہ جات میں جا بجا بن چکے ہیں ۔۔۔گلگت سے چترال سڑک بن رہی ہے ۔۔شمشال کا ٹریک بذات خود ایک عجوبہ ہے ۔۔استور سڑک کا ابتدائی بیس پچیس کلو میٹر کا حصہ شدید خطرناک ہے ۔۔۔یہاں سڑکیں پہاڑوں کے ساتھ گھومتی ہوئ جاتی ہیں ۔۔سڑک خالی ہے تو گاڑی بھگانے کا جی چاہتا ہے ، تب ساٹھ ستر کی سپیڈ پر چلتی گاڑی کے سامنے یک دم سڑک ختم ہوجاتی ہے ۔۔۔اگر ڈرائیور نے سڑک پر رہنا ہے تو اسے اسی رفتار پر موڑ کاٹنا ہوگا ۔۔۔اور اگر نہ کاٹ سکا تو پھر سینکڑوں فٹ گہری کھائی یا پھر ٹھاٹھیں مارتا دریا اس کا مقدر ہے ۔

مقامی افراد اور ڈرائیور بھی حادثہ کا شکار ہوتے ہیں لیکن بہت کم ۔۔۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سینکڑوں بار ان راہوں پر سفر کیا ہوتا ہے ۔۔ایک ایک کھڈا اور ایک ایک موڑ ان کی یاداشت میں محفوظ ہوتا ہے ۔۔انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کس رفتار پر کس موڑ سے قابو رکھتے ہوے گاڑی موڑی جاسکتی ہے ۔۔۔مقامی افراد جب بھی حادثہ کا شکار ہونگے اس کی پچانوے فیصد وجہ اوور لوڈنگ یا حدرفتار سے زیادتی ہوگی ۔۔۔
اب تمام بڑے شہروں سے گلگت ،استور ،سکردو وغیرہ کے لیے بس ،کوسٹر اور ویگنیں چلتی ہیں ۔۔مطلوبہ مقام پر پہنچ کر مقامی ڈرائیور اور گاڑی کرایہ پر حاصل کریں اور جہاں جی چاہے وہاں جائیں ۔۔۔مقامی ڈرائیور آپ کا محافظ بھی ہوگا اور گائیڈ بھی ۔۔۔اور آپ کو بالکل کہیں بھی یہ پریشانی نہیں ہوگی کہ گاڑی خراب ہوگئ تو کیا ہوگا ۔۔۔یہ نئی گاڑیاں ۔۔۔بیسویں صدی کی دلہن کی طرح اکڑ جائیں تو جلدی مانتی بھی نہیں ہیں ۔۔۔کیونکہ ان کی پوری مشین ایک کمپیوٹر سے منسلک ہوتی ہے اور ان کا مستری بھی شمالی علاقہ میں ہر جگہ نہیں ملتا ۔۔۔اور ایسی صورت میں یا گاڑی لاد کر لے جائیں یا پھر خراب حالت میں چلانے کی کوشش کریں جوکہ سیدھا سیدھا موت سے پنگا لینے والی بات ہے ۔۔۔
اگر جیپ کرایہ پر لینا جیب پر بھاری ہو تو قریباً ہر جگہ سواریوں والی جیپیں چلتی ہیں جو آپ کو معاشی استحکام بھی دیتی ہیں اور مقامی افراد اور ان کی اقدار کو سمجھنے کا موقع بھی ۔۔۔
فیری میڈوز کا ٹریک چیخیں نکلوانے والا ٹریک مشہور ہے ۔۔لیکن حادثات کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے ۔۔۔وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں مقامی افراد کے علاؤہ کسی کو گاڑی لیجانے کی اجازت نہیں ۔۔۔بھلے آپ کے پاس V8 انجن کی حامل جدید گاڑی ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔گذشتہ دنوں جدید ترین فرانسیسی رافیل جہاز کے خاک نشین ہونے کی وجہ بھی طیارے کی خامی نہیں بلکہ اس کو اڑانے والے پائلٹوں کی نااہلی اور مدمقابل کی قابلیت تھی ۔۔۔یہی اصول یہاں بھی لاگو ہوتا ہے ۔۔جدید گاڑی نہیں بلکہ قابل ڈرائیور ۔۔۔۔اس بات کو تمام حضرات پلے باندھ لیں ۔۔۔کبھی بھی آپ حضرات ایسے ڈرائیور کے ساتھ سفر نہ کریں جو پہلی دوسری یا تیسری بار ان علاقوں کی جانب جارہا ہو۔۔۔جس کے ہمراہ جارہے ہیں اس سے ضرور پوچھیں ۔۔۔
بھائ پہلے کتنی بار گئے ہو ؟
ٹریول کمپنیوں کی اکثریت بھی ناتجربہ کار ڈرائیور بھرتی کرکے کام چلاتی ہے تاکہ کم زیادہ سے زیادہ رقم بٹوری جاسکے ۔۔۔
تو پہلا اصول یہ سمجھ لیں کہ ڈرائیور چاہے آپ خود ہیں یا کوئ اور انتہائ کہنہ مشق ہونا چاہیے ۔۔۔اور اگر کوئ تیس سال سے گاڑی چلا رہا ہے لیکن ان راہوں سے ناآشنا ہے تو اناڑی ہے ۔۔۔
پھر بھی اگر خود گاڑی چلا کر لیجانا ضروری ہے تو جہاں اتنا خرچ ہوتا ہے وہاں جانے سے پہلے گاڑی کے بریک پیڈز ،کلچ پلیٹ ودیگر ضروری پرزہ جات کی جانچ ضرور کروا لی جائے ۔۔
ضروری معلومات لیتے وقت یہ ضرور معلوم کریں کہ وہاں کون سے نیٹ ورک کے سگنل آتے ہیں ۔۔اس کی سم ساتھ ضرور رکھیں ۔۔اور اگر ایسی جگہ جارہے ہیں جہاں صرف ایس کام چلتا ہے تو وہاں ایس کام یا یو فون کی سم استعمال کریں ۔۔۔
اسی طرح آئ فون اور دیگر ایسے مہنگے فون جن میں سم نہیں چلتی ان کے ساتھ بٹن والا نوکیا کو ضرور رکھیں ۔۔۔سگنل کھینچنے کے معاملہ میں آج بھی نوکیا پہلے نمبر پر ہے ۔
گاڑی چلاتے تصاویر بنانا ،گانے لگانا اور پھر من پسند گانے بدلنا ،سٹیک ،سنیپ ،لائیو وڈیو ،ٹک ٹاک ،واٹس ایپ اسٹیٹس ،فیس بک سٹوری ۔۔۔۔۔یہ سب دور حاضر کے وہ خوفناک جن ہیں جو پلک جھپکتے میں ہمیں کسی گہری آندھی کھائ یا کسی ٹھاٹھیں مارتے مچلتے دریا میں دھکیل سکتے ہیں ۔۔۔ان جنات سے ضرور دوستی رکھیں لیکن گاڑی چلانے کے دوران نہیں ۔۔۔
انتظامیہ سے ہر ممکن تعاون کریں ۔۔جہاں آپ کو اندراج کے لیے روکا جائے وہاں رکیں اور مکمل معلومات فراہم کریں ۔۔۔
بارش یا خراب موسم میں فورا کوشش کریں کسی محفوظ جگہ پر رک جائیں ۔۔کوئ بھی ایسی جگہ جو قدرے کشادہ ہو ۔۔یہاڑ کے دامن میں گاڑی کھڑی کرنے سے گریز کریں ۔۔۔
آجکل بہت سی جگہوں پر نیٹ کی سہولت موجود ہوتی ہے ۔۔۔اپنی لائیو لوکیشن اپنے کسی قابل بھروسہ آدمی کے ساتھ ضرور شئیر کریں ۔۔۔یہ بھی بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔۔۔
حادثات کی ایک بڑی وجہ طویل سفر ،تھکاوٹ اور نیند کا مکمل نہ ہونا بھی ہے ۔۔
سوشل میڈیا پر دکھائ جانیوالی دیگر چیزوں کی طرح سیاحت کا بھی صرف ایک پہلو دکھایا جاتا ہے ۔۔۔پہاڑ ،دریا ،جھیلیں ،جنگل ،برف زار ،سرسبز میدانوں میں گھومتے رنگ برنگی تصاویر ۔۔۔اور پھر سوشل میڈیا جو کہ پچاس فیصد دکھاوے اور حقیقت سے دور جعل سازی وملمع کاری کا ایک دلکش مجموعہ ہے اس سے متاثر ہوکر لوگ دھڑا دھڑ سیاحتی مقامات کا رخ کرتے ہیں ۔۔۔کوشش کریں اپنے قریب ترین مقام کا انتخاب کریں ۔۔۔یقین مانیں ہمارے اردگرد پورے ملک میں بہت خوبصورتی ہے ۔۔۔

ان پہاڑوں پر دل کے قافلے چلا کرتے تھے اور میلوں پیدل چلا کرتے تھے ۔۔۔گاڑیوں کے قافلوں نے جہاں ان کا حسن گہنا دیا ہے وہاں ہمہ وقت سر پر لٹکتی ایک تلوار بھی موجود ہے ۔۔۔نہ جانے کب فون کی گھنٹہ بجے اور کب کیا اطلاع آئے ۔۔۔یا فون ملنا ہی بند ہو جائے ۔۔۔۔
بہت کچھ ہے کہنے کو ۔۔۔۔لیکن شاید میں کہہ نہ پاؤں
اپنی غلطی کو انتظامیہ اور اداروں کے کھاتے ڈال کر بری الزمہ نہیں ہوا جاسکتا ۔۔۔اداروں میں خامیاں ضرور ہیں ۔۔لیکن ہمیں بھی اپنا احتساب ضرور کرنا چاہیے ۔

تحریر: نوید اشرف خان ( ٹور گائیڈ ۔ شمالی علاقہ جات)

( لوگوں کی کثیر تعداد شمالی علاقوں کا رخ کر رہی ہے ۔۔ سیاحوں کی زندگیاں بچانے کے لیے اس پوسٹ کو جتنا شئیر کرسکتے ہیں کیجیے ۔۔۔یہ بھی صدقہ جاریہ ہے )

18/05/2025
کے۔ٹو کتنا ضدی ہے؟؟ 1953 میں ایک امریکن کوہ پیماہ George Bell نے K-2 سے شکست کھانے کے بعد ایک عیجب و غریب بیان دیا۔اس نے...
20/12/2024

کے۔ٹو کتنا ضدی ہے؟؟
1953 میں ایک امریکن کوہ پیماہ George Bell نے K-2 سے شکست کھانے کے بعد ایک عیجب و غریب بیان دیا۔اس نے اس پہاڑ کو The Savage Mountain کا نام دیا اور کہا کے اس پہاڑ کا سر کیا جانا ناممکن ہے۔اس دنیا میں 8000 میٹر کی کل 14 چوٹیاں موجود ہیں جن میں سے 5 پاکستان ،8 نیپال اور ایک چوٹی چائینہ میں واقع ہے۔ 1856 میں برٹش سرکار نے ایک Trigonmetrical سروے کے دوران ان 5 چوٹیوں کوK5,K4,K3,K2,K1 کا نام دیا۔انھی پانچ چوٹیوں میں دنیا کی دوسری بلند ترین اور پہلی خطرناک ترین چوٹی K2 بھی شامل ہے۔اسکو دنیا کی خطرناک ترین چوٹی اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس پر مرنے والوں کی تعداد دنیا کی بلند تریں چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ شروع شروع میں K2 کو سر کرنے میں سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ K2 پہ جانے کا صیح راستہ کسی شخص کو معلوم نہ تھا۔ K2 کو سر کرنے کی پہلی کوشش 1902 میں Victor wessely اور اس کی ٹیم نے کی انہوں نے کے۔ٹو کو شمال مشرق کے ڈھلوانی راستے سے سر کرنے کی کوشش کی لیکن 68 دن کی انتھک محنت کے بعد یہ لوگ صرف K2 بیس کیمپ یعنی 5000 سے 6000 میٹر بلندی تک ہی پہنچ سکے۔ اس مہم سے واپسی پر انھوں نے صرف اتنا کہا کہ اس مہم میں نہ تو کسی انسان کو اور نہ ہی Beast کو کوئی نقصان پہنچا۔ انھوں نے اس پہاڑ کے لیے Beast کا لفظ استعمال کیا۔ K2 کو سر کرنے کی دوسری کوشش 1909 میں کی گئی لیکن یہ لوگ بھی بیس کیمپ سے آگے نہ جا سکے۔ واپسی پر ان کے ٹیم لیڈر Duke نے کہا K2 Would never be climbed یعنی کے۔ٹو کبھی سر نہیں ہو پائے گا۔کے۔ٹو کو سر کرنے میں سب سے اہم کردار ایک امریکن کوہ پیما Charles Houston نے ادا کیا۔اس نے کے۔ٹو کو پاکستان کی طرف سے جانے والا مغربی راستہ جسے آجکل Abruzzi روٹ کہا جاتا ہے دریافت کیا۔اس نے کہا کہ کے-ٹو کو سر کرنے کا یہ راستہ سب سے آسان اور پریکٹیکل ہے۔1939 میں Dudly Wolfe اور اس کی ٹیم اس راستہ سے پہلی بار کے۔ٹو پر 8000 میٹر کی بلندی جہاں پہ آجکل کیمپ 4 ہوتا ہےاس تک پہنچے۔لیکن اس سے آگے کے۔ٹو کی چوٹی کی طرف جاتے ہوے ان کے ٹیم ممبرز اس پہاڑ پر کہیں کھو گئے اور ان کو ناکام واپس آنا پڑا۔1953 میں پھر ایک بار Charles Houston اور اس کی ٹیم نے K2 کو سر کرنے کی کوشیش کی لیکن ان کے ساتھ بھی وہی ہوا جو Dudly Wolfe کی ٹیم کے ساتھ ہوا تھا۔مشہور زمانہ کوہ پیماہ George Bell بھی اس بار ان کے ساتھ تھے لیکن اس مہم میں ایک Frost Bite کی وجہ سے ان کو اپنی ایک ٹانگ کٹوانی پڑی۔K2 کو پہلی مرتبہ کامیابی سے سر کرنے کا سہرا اٹلی کے دو کوہ پیماؤں کے سر جاتا ہے۔انھوں نے پہلی مرتبہ31جولائی 1954 کو کے۔ٹو کو کامیابی سے سر کیا۔اس مہم میں ان کے ساتھ پاکستانی کوہ پیماہ کرنل عطا محمد اور ہنزا کا ایک پورٹر عامر مہدی بھی شامل تھا۔انھوں نے ان کوہ پیماؤں کا سامان 8000 میٹر بلندی تک پہنچانے میں ان کی مدد کی تھی۔اس مہم سے واپسی پر عامر مہدی کو اپنی ایک ٹانگ کٹوانی پڑی۔
کے۔ٹو کو پہلی بار کامیابی سے سر کرنے کے ٹھیک 23 سال بعد جاپان سے آئے ہوئے کوہ پیماؤں نے دوسری مرتبہ کامیابی سے سر کیا۔ان کی اس مہم میں تقریبا 1500 پاکستانی پورٹر شامل تھے۔اس کے علاوہ مشہور پاکستانی کوہ پیماہ اشرف امان بھی ان کے ساتھ تھے۔اشرف امان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے کے۔ٹو کی چوٹی پر اپنے قدم رکھے۔1986 میں پہلی مرتبہ کسی خاتون نے کے۔ٹو کو کامیابی کے ساتھ سر کیا۔اس Polish خاتون کا نام *Wanda* تھا۔اور کے۔ٹو کو سر کرنے کے ٹھیک 8 گھنٹے بعد واپسی پر وہ کے۔ٹو کے انتقام کا شکار بن کر جان کی بازی ہار گئی۔یوں بھی کہا جاتا ہے کہ کے۔ٹو خواتین سے انتقام ضرور لیتا ہے۔
اس کے بعد مختلف ادوار میں مختلف ممالک سے لوگ آتےکچھ کامیابی سے کے۔ٹو کو سر کرتے رہے اور کچھ اس کے غضب کا شکار بنتے رہے۔ کے۔ٹو سے منسلک 3 حادثات کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی اور ان کو *Three Major Disaster* کا نام بھی دیا جاتا ہے۔پہلا حادثہ اگست 1986 میں پیش آیا جس میں 13 کوہ پیماہ اکٹھے کے۔ٹو پر مارے گئے۔دوسرا حادثہ 1995 میں رونما ہوا جب کے۔ٹو کو کامیابی سے سر کرنے کے بعد واپسی پر 6 کوہ پیما جان سے گئے۔تیسرا حادثہ اگست 2008 میں پیش آیا جب کے۔ٹو نے 11 ماہر کوہ پیماؤں کی جان لی۔ان حادثات پر مختلف موویز بھی بن چکی ہیں۔
اگر آپ کے۔ٹو کے متعلق موویز دیکھنے کا شوق رکھتے ہیں تو ہالی *وڈ کی یہ 4 موویز آپ کو بہت پسند آئیں گی۔جن میں
K2(1991)
Vertical limit(2001)
The siren of Himalaya(2012)
The Summit(2012)
* شامل ہیں۔ان موویز کو دیکھنے کے بعد آپ کو قدرت کے اس شاہکار کی وسعت اور خدوخال کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان زندہ آباد❤

منقول

Abrar Hassan, Pakistan’s pride, is a renowned international vlogger who has captured the hearts of millions worldwide wi...
19/12/2024

Abrar Hassan, Pakistan’s pride, is a renowned international vlogger who has captured the hearts of millions worldwide with his unique storytelling and adventurous spirit.

Through his travel vlogs, Abrar takes his audience on thrilling journeys to explore hidden gems, cultures, and experiences across the globe, all while showcasing Pakistan’s beauty and hospitality.

His engaging content, combined with a deep sense of passion for adventure, has earned him a loyal following on various social media platforms. With his authentic approach to travel vlogging, Abrar not only entertains but also educates his viewers, breaking stereotypes and highlighting the true essence of Pakistani pride on the international stage.

His ability to inspire, motivate, and connect with people makes him a true trailblazer in the vlogging world.

Address

I-8
Islamabad
44000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mountains Are Calling posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mountains Are Calling:

Share

Category