25/01/2022
دیامر بھاشا ڈیم میں سب سے زیادہ نقصان مقامی لوگوں کا ہوا ہے حکومت وضع کرے کہ دیامیر کے لوگوں مواضع کی شکل میں دیامر کے لوگوں کی مستقبل کے بارے میں کیا کیا ہے ڈیم دیامر میں بن رہا ہے زمینیں دیامر کی تباہ ہورہی ہیں اور میٹنگ کے نام پر مقامی لوگوں کو ہمیشہ اسلام آباد بلایا جاتا ھے دیامر میں کوئ بھی صحافی نہیں سارے سرکاری ملازم ہیں وہ سرکار کے اشارے پر دوم ہلاتے ہیں اور یہاں 100 کے حساب سے غریب لوگوں کے چولؤں کا پیمنٹ نہیں کر رہے دِن با دِن تاریخ دیتے جارہے ہیں اور غریب لوگوں کی چولوں پیمنٹ ابھی تک نہیں کر رہے
کالا باغ کے لوگوں کو پتا تھا ان کے ساتھ زیادتی ہوگی تبھی ان لوگوں نے ڈیم بنانے نہیں دیا اور واپڈا ہماری قربانی کو سرانے کے بجائے ظُلم کر رہی ہے اور ہمارے لوگوں کو در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کرتے ہیں یہ ظلم برداشت نہیں کریں گے ہمیں ہمارے حقوق دو جو باقی اضلاع کو دیئے ہیں جہاں ڈیم بن رہیں ہیں اور میں واضع کرنا چاہوں گا دیامر میں کوئی بی صحافی نہیں ہے سب سرکاری ملازمین ہیں جو صرف گورمنٹ آفیسروں کی چمچہ گیری کرتے ہیں اس لیے ہمارے لوگوں کی آواز دُنیا کو پتہ نہیں چلتا اور سارے صحافی سرکاری نوکری میں ہیں میں پوچھنا چاہتا ہوں کس قانون میں ہے سرکاری ملازمین صحافت کریں اور اسی صحافت جو صرف اپنے مفاد میں ہو اور دیامر کے صحافی آج کل واپڈا اسلام آباد میں اپنی خرچے پے ٹور کروارہی ہے اپنے مفاد کے لیے لوگوں کی آواز لوگوں کے اوپر زیادتی جو رہی ہے اس آواز کو دبانے کے لیے دیامر کے صحافیوں کو 2 ،4 پیسے اور سیر کرواتے ہیں اور دیامر کے صحافی اس پے خوش ہو کر اپنی زبان بند کر دیتے ہیں شرم ان کو اتی نہیں۔
نورِ محمد قریشی سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی دیامر