01/07/2026
قومیں اس وقت ناکام ہوتی ہیں جب لوگوں کو سیاسی عمل میں مؤثر شرکت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ یعنی جب ایک طاقتور اقلیت حکومت پر قبضہ کر کے ایسا نظام قائم کر لیتی ہے جو صرف اپنے مفاد کے لیے قوانین بناتا ہے، نہ کہ عوام کی بھلائی کے لیے۔
اسی سیاسی محرومی کا نتیجہ معاشی محرومی کی صورت میں نکلتا ہے۔ طاقتور اور امیر طبقہ ایسے معاشی ادارے تشکیل دیتا ہے جو قومی وسائل کو عوام سے چھین کر اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور اپنی دولت و طاقت کو مستقل بناتے ہیں۔
یہی بنیادی دلیل معروف کتاب "Why Nations Fail: The Origins of Power, Prosperity, and Poverty" میں پیش کی گئی ہے، جس کے مصنفین ترک نژاد ماہرِ معاشیات دارون عجم اوغلو اور برطانوی سیاسی سائنس دان جیمز اے روبنسن ہیں۔ دونوں کا تعلق ایم آئی ٹی (MIT) سے ہے، اور انہوں نے اداروں (Institutions) پر اپنی تحقیق کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل کی۔
پاکستان جیسے ملک کے حالات کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب نہایت اہم ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری معاشی اور سیاسی مشکلات کی اصل وجہ کیا ہے اور ان سے نکلنے کے لیے کن اصلاحات کی ضرورت ہے۔
مصنف لکھتے ہیں کہ اگر صرف معاشی اصلاحات کی جائیں لیکن سیاسی طاقت کا توازن تبدیل نہ ہو تو ان اصلاحات کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔ جب تک حقیقی سیاسی طاقت اور اختیارات تبدیل نہیں ہوتے، نئے حکمران بھی اکثر پرانے نظام ہی کو برقرار رکھتے ہیں۔
کتاب میں اس خیال کو بھی رد کیا گیا ہے کہ ممالک کی ترقی یا پسماندگی صرف جغرافیہ، موسم، ثقافت، مذہب یا تعلیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مصنفین مختلف ممالک کی مثالوں سے ثابت کرتے ہیں کہ ایک جیسے جغرافیے اور ثقافت رکھنے والے ممالک بھی مختلف سیاسی اور معاشی اداروں کی وجہ سے بالکل مختلف نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔
اس کی سب سے نمایاں مثال شمالی کوریا اور جنوبی کوریا ہیں۔ 1953ء میں دونوں ایک ہی ملک تھے، مگر آج جنوبی کوریا دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں شمار ہوتا ہے جبکہ شمالی کوریا دنیا کے غریب ترین ممالک میں شامل ہے۔ اس فرق کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کے سیاسی اور معاشی اداروں کا مختلف ہونا ہے۔
اسی طرح نوگالیس نامی شہر، جو امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر واقع ہے، دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک ہی جغرافیہ اور موسم ہونے کے باوجود امریکی حصے کے لوگ زیادہ خوشحال ہیں جبکہ میکسیکو والے حصے کے لوگ نسبتاً کم ترقی یافتہ ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے ادارے مختلف ہیں۔
مصنف پاکستان اور بنگلہ دیش کا تقابل بھی کرتے ہیں۔ 1971ء میں مغربی پاکستان کی فی کس آمدنی مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) سے زیادہ تھی، لیکن آج بنگلہ دیش کئی سماجی اور معاشی اشاریوں میں پاکستان سے آگے نکل چکا ہے۔ اس کی وجہ بہتر ادارے اور مؤثر پالیسیوں کو قرار دیا گیا ہے۔
کتاب کے مطابق تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن ممالک نے جامع سیاسی نظام، قانون کی حکمرانی، عوامی نمائندگی، نجی ملکیت کے تحفظ اور مساوی معاشی مواقع کو فروغ دیا، وہ ترقی کر گئے۔ ایسے ادارے مقابلے، جدت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کو فروغ دیتے ہیں۔
مصنف آخر میں برطانیہ کی مثال دیتے ہیں، جہاں 1215ء کے میگنا کارٹا اور 1688ء کے شاندار انقلاب (Glorious Revolution) نے بادشاہ کے اختیارات محدود کیے، پارلیمنٹ کو مضبوط بنایا، اور انہی ادارہ جاتی تبدیلیوں نے بعد میں صنعتی انقلاب کی بنیاد رکھی.