Kalam-e-Khaas

Kalam-e-Khaas دیکھنے کا زاویہ بدل جائے تو حقیقت بھی بدل جاتی ہے۔
Shaban Ali Trips & Tours

فلپائن میں واقع "ولکن پوائنٹ" (Vulcan Point) ایک عالمی شہرت یافتہ "تیسرے درجے کا جزیرہ" (third-order recursive island) ہ...
12/06/2026

فلپائن میں واقع "ولکن پوائنٹ" (Vulcan Point) ایک عالمی شہرت یافتہ "تیسرے درجے کا جزیرہ" (third-order recursive island) ہے، جو لوزون جزیرے پر دارالحکومت منیلا سے تقریباً 30 میل جنوب میں واقع ہے۔ یہ منفرد جغرافیائی مظہر ایک غیر معمولی تہہ در تہہ ساخت کا حامل ہے، جس میں چھوٹا سا ولکن پوائنٹ جزیرہ "مین کریٹر لیک" (مرکزی آتش فشانی جھیل) کے اندر موجود ہے؛ یہ جھیل "وولکینو آئی لینڈ" (آتش فشاں جزیرے) کے دہانے (caldera) کو بھرتی ہے، جو بذاتِ خود لوزون کے بنیادی جزیرے پر واقع "تال جھیل" (Lake Taal) کے وسط میں واقع ہے۔ ماقبل تاریخ کے شدید آتش فشانی دھماکوں اور زمین دھنسنے کے نتیجے میں وجود میں آنے والا یہ متحرک منظرنامہ "تال آتش فشاں" کا حصہ ہے، جو ملک کا دوسرا سب سے زیادہ سرگرم آتش فشاں شمار ہوتا ہے۔ جنوری 2020 میں ہونے والے ایک بڑے دھماکے اور شدید تپش کے باعث مین کریٹر لیک مکمل طور پر خشک ہو گئی تھی، جس نے عارضی طور پر اس جغرافیائی مظہر کو ختم کر دیا تھا، تاہم اسی سال کے آخر میں بارش کے پانی نے قدرتی طور پر اس دہانے کو دوبارہ بھر دیا۔ مسلسل بھاپ اور راکھ کے اخراج کے باعث یہ تاریخی مقام فلپائنی ادارے "فیولکس" (PHIVOLCS) کے سائنسدانوں کی قریبی اور مستقل نگرانی میں ہے۔

عزمِ مُسلسل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پولینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک غریب لڑکی رہتی تھی۔اس کا نام مانیا سکلوڈو وسکا تھا۔وہ ٹ...
11/06/2026

عزمِ مُسلسل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پولینڈ کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک غریب لڑکی رہتی تھی۔
اس کا نام مانیا سکلوڈو وسکا تھا۔
وہ ٹیویشن پڑھا کے گزر بسر کرتی تھی۔
19 برس کی عمر میں وہ ایک امیر خاندان کی دس سال کی بچی کو پڑھاتی تھی۔
بچی کا بڑا بھائی اس میں دلچسپی لینے لگا۔ وہ بھی اس کی طرف مائل ہوگئی، چنانچہ دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
جب لڑکے کی ماں کو اس معاملے کا پتہ چلا تو اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اس نے مانیا کو کان سے پکڑا اور پورچ میں لا کھڑا کیا۔ اس نے آواز دے کے سارے نوکر جمع کئے اور چلا کر کہا، دیکھو!
یہ لڑکی جس کے پاس پہننے کیلئے صرف ایک فراک ہے۔ جس کے جوتوں کے تلووں میں سوراخ ہیں۔ اور جسے 24 گھنٹے میں صرف ایک بار اچھا کھانا نصیب ہوتا ہے، اور وہ بھی ہمارے گھر سے۔
یہ لڑکی میرے بیٹے کی بیوی بننا چاہتی ہے۔
یہ میری بہو کہلانے کی خواہش پال رہی ہے۔ تمام نوکروں نے قہقہہ لگایا اور خاتون دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی۔ مانیا کو یوں محسوس ہوا، جیسے کسی نے اس کے اوپر تیزاب کی بالٹی الٹ دی ہو۔ وہ توہین کے شدید احساس میں گرفتار ہوگئی۔ اور اس نے اسی پورچ میں کھڑے کھڑے فیصلہ کیا، وہ زندگی میں اتنی عزت، اتنی شہرت کمائے گی، کہ پورا پولینڈ اس کے نام سے پہچانا جائے گا۔
‏یہ سن 1891ء تھا۔ وہ پولینڈ سے پیرس آئی۔ اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا، اور فزکس پڑھنا شروع کردی۔
وہ دن میں 20 گھنٹے پڑھتی تھی۔ اس کے پاس پیسہ دھیلا تھا نہیں، جو کچھ جمع پونجی تھی، وہ اسی میں گزر بسر کرتی تھی۔ وہ روز صرف ایک شلنگ خرچ کرتی تھی ( یعنی چند پیسے ) اس کے کمرے میں بجلی، گیس اور کوئلوں کی انگیٹھی تک نہیں تھی۔ وہ برفیلے موسموں کی راتیں کپکپا کر گزارتی تھی۔ جب سردی برداشت سے باہر ہو جاتی تھی، تو وہ اپنے سارے کپڑے نکالتی تھی۔ آدھے بستر پر بچھاتی تھی، اور آدھے اپنے اوپر اوڑھ کے لیٹ جاتی تھی۔ پھر بھی گزارہ نہ ہوتا، تو وہ اپنی ساری کتابیں حتیٰ کہ اپنی کرسی تک اپنے اوپر گرا لیتی تھی۔
پورے پانچ برس اس نے ڈبل روٹی کے سوکھے ٹکڑوں اور مکھن کے سوا کچھ نہ کھایا۔
نقاہت کا یہ عالم ہوتا تھا وہ بستر پر بیٹھے بیٹھے بے ہوش ہو جاتی تھی، لیکن جب ہوش آتا تھا، تو وہ اپنی بے ہوشی کو نیند قرار دے کر خود کو تسلی دے لیتی تھی۔
وہ ایک روز کلاس میں بے ہوش ہوگئی، ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرنے کے بعد کہا، آپ کو دواء کی بجائے دودھ کے ایک گلاس کی ضرورت ہے۔
اس نے یونیورسٹی ہی میں پائری نام کے ایک سائنس دان سے شادی کر لی تھی۔
وہ سائنس دان بھی اسی کی طرح مفلوک الحال تھا۔
شادی کے وقت دونوں کا کل اثاثہ دو سائیکل تھے۔ وہ غربت کے اسی عالم کے دوران پی ایچ ڈی تک پہنچ گئی۔
مانیا نے پی ایچ ڈی کیلئے بڑا دلچسپ موضوع چنا تھا۔
اس نے فیصلہ کیا وہ دنیا کو بتائے گی یورینیم سے روشنی کیوں نکلتی ہے۔ یہ ایک مشکل بلکہ ناممکن کام تھا۔ لیکن وہ اس پر جت گئی۔
تجربات کے دوران اس نے ایک ایسا عنصر دریافت کر لیا، جو یورینیم کے مقابلے میں 20 لاکھ گنا زیادہ روشنی پیدا کرتا ہے۔ اور اس کی شعاعیں لکڑی، پتھر، تانبے اور لوہے غرض دنیا کی ہر چیز سے گزر جاتی ہیں، اس نے اس کا نام ریڈیم رکھا۔
یہ سائنس کی دنیا میں ایک بہت بڑا دھماکہ تھا۔
لوگوں نے ریڈیم کا ثبوت مانگا، مانیا اور پائری نے ایک خستہ حال احاطہ لیا، جس کی چھت سلامت تھی اور نہ ہی فرش۔
اور وہ چار برس تک اس احاطے میں لوہا پگھلاتے رہے۔
انہوں نے تن و تنہا 8 ٹن لوہا پگھلایا۔ اور اس میں سے مٹر کے دانے کے برابر ریڈیم حاصل کی۔
یہ چار سال ان لوگوں نے گرمیاں ہوں یا سردیاں اپنے اپنے جسموں پر جھیلیں۔
بھٹی کے زہریلے دھوئیں نے مانیا کے پھیپھڑوں میں سوراخ کر دیئے۔ لیکن وہ کام میں جتی رہی، اور اس نے ہار نہ مانی۔
یہاں تک کہ پوری سائنس اس کے قدموں میں جھک گئی۔
یہ ریڈیم کینسر کے لاکھوں کروڑوں مریضوں کیلئے زندگی کا پیغام لے کر آئی۔
ہم آج جسے شعاعوں کا علاج کہتے ہیں، یہ مانیا ہی کی ایجاد تھی۔
اگر وہ لڑکی چار سال تک لوہا نہ پگھلاتی، تو آج کیسنر کے تمام مریض مر جاتے۔
یہ لڑکی دنیا کی واحد سائنس دان تھی جسے زندگی میں دوبار نوبل پرائز ملا۔
جس کی زندگی پر 30 فلمیں اور سینکڑوں کتابیں لکھی گئیں۔
اور جس کی وجہ سے آج سائنس کے طالب علم پولینڈ کا نام آنے پہ سر سے ٹوپی اتار اس ملک کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
جب دنیا نے مادام کیوری کو اس ایجاد کے بدلے اربوں ڈالر کی پیش کش کی، تو اس نے پتہ ہے کیا کہا؟
اس نے کہا۔ میں یہ دریافت صرف اس کمپنی کو دوں گی، جو پولینڈ کی ایک بوڑھی عورت کا مفت علاج کرے گی۔
جی ہاں! وہ امیر پولش عورت جس نے کبھی کیوری کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا تھا۔ وہ عورت کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکی تھی اور وہ اس وقت بستر مرگ پر پڑی تھی۔

Good Morning صبح بخیر
11/06/2026

Good Morning
صبح بخیر

برداشت (بردباری) عیبوں کا قبرستان ہے۔نہج البلاغہ حکمت 6
10/06/2026

برداشت (بردباری) عیبوں کا قبرستان ہے۔
نہج البلاغہ حکمت 6

کائنات میں ایک ایسا سیارہ موجود ہے جہاں خشکی کا نام و نشان تک نہیں، بلکہ ہر سو صرف پانی ہی پانی ہے۔ وہاں ایک ایسا عمیق س...
10/06/2026

کائنات میں ایک ایسا سیارہ موجود ہے جہاں خشکی کا نام و نشان تک نہیں، بلکہ ہر سو صرف پانی ہی پانی ہے۔ وہاں ایک ایسا عمیق سمندر بہتا ہے جو پورے سیارے کو قطبین تک اپنے حصار میں لیے ہوئے ہے۔ اس سیارے کا نام "TOI-1452 b" ہے، جو ہماری زمین سے لگ بھگ 100 نوری سال کی مسافت پر واقع ہے اور جسامت میں ہماری دنیا سے کہیں بڑا ہے۔ ماہرینِ فلکیات کا قیاس ہے کہ یہ ایک حقیقی "آبی دنیا" ہو سکتی ہے، یعنی اس کے مجموعی حجم کا ایک بہت بڑا حصہ پانی پر مشتمل ہے، جو ہماری زمین پر موجود پانی کی مقدار سے کئی گنا زیادہ ہے۔یہ سیارہ زمین کے نصف قطر (Radius) سے تقریباً 1.67 گنا بڑا اور اس کی کمیت (Mass) سے قریب 5 گنا بھاری ہے، اسی بنا پر اسے "سپر ارتھ" (Super-Earth) کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ اس کی ساخت اور کثافت (Density) کا جائزہ لینے کے بعد محققین کا خیال ہے کہ یہ کوئی روایتی چٹانی سیارہ نہیں ہے، بلکہ اس کا چٹانی مرکزہ (Core) ایک لامتناہی عالمی سمندر کی تہوں کے نیچے پوشیدہ ہے۔ اگرچہ سائنسدانوں نے اب تک اس کی سطح کا براہِ راست مشاہدہ یا عکاسی نہیں کی ہے، اس لیے وہاں خشکی کے عدم وجود کا حتمی دعویٰ تو نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس منفرد امکان کا تصور ہی مسحور کن ہے—ایک ایسی حقیقی دنیا جو زمین سے بڑی ہے اور جہاں سمندر کا کوئی کنارا نہیں ہے۔

‏پڑھے بغیر آپ اچھائی کو نہیں جان سکتے.جاپانی کہاوت  ۔  پڑھے بغیر ترقی ناممکن.چینی کہاوت  ۔ میں پڑھتا گیا سوال بڑھتے گئے....
10/06/2026

‏پڑھے بغیر آپ اچھائی کو نہیں جان سکتے.
جاپانی کہاوت

۔ پڑھے بغیر ترقی ناممکن.
چینی کہاوت

۔ میں پڑھتا گیا سوال بڑھتے گئے.
امریکی کہاوت

۔ زیادہ پڑھنے سے انسان پاگل ہو جاتا ہے
پاکستانی کہاوت

آپ کا دن اچھا گزرے
09/06/2026

آپ کا دن اچھا گزرے

ایک چوہا رات کے وقت کھانے کی تلاش میں گھوم رہا تھا۔ اچانک اسے ایک بڑا برتن ملا جو چاولوں سے بھرا ہوا تھا۔وہ خوشی سے اچھل...
08/06/2026

ایک چوہا رات کے وقت کھانے کی تلاش میں گھوم رہا تھا۔ اچانک اسے ایک بڑا برتن ملا جو چاولوں سے بھرا ہوا تھا۔
وہ خوشی سے اچھل کر اندر کود گیا۔
شروع میں تو اسے لگا جیسے خزانہ مل گیا ہو۔
جہاں دیکھو چاول ہی چاول۔
وہ آرام سے کھاتا، سوتا اور مزے کرتا رہا۔
چوہے نے سوچا:
“اب مجھے محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ سب کچھ تو یہیں موجود ہے۔”
دن گزرتے گئے۔
وہ بس کھاتا رہا، آرام کرتا رہا۔
لیکن آہستہ آہستہ چاول کم ہونے لگے۔
جیسے جیسے چاول نیچے جاتے گئے، چوہا بھی برتن کے اندر نیچے دھنستا گیا۔
اب برتن کی دیواریں اتنی اونچی لگنے لگیں کہ باہر نکلنا مشکل ہوگیا۔
جب آخری چند دانے بچے، تب اسے احساس ہوا کہ:
“میں نے وقتی آرام کے لیے اپنی آزادی کھو دی۔”
اس نے باہر نکلنے کی بہت کوشش کی، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
یہی کمفرٹ زون اور سستی کی حقیقت ہے۔
شروع میں آرام بہت خوبصورت لگتا ہے،
لیکن آہستہ آہستہ وہ انسان کی طاقت، ہمت اور آزادی چھین لیتا ہے۔
جو انسان صرف آرام ڈھونڈتا ہے،
ایک دن وہ اتنا کمزور ہو جاتا ہے کہ باہر نکلنے کا راستہ بھی مشکل لگنے لگتا ہے۔

ایزابیلا ایبرہارٹ 1877ء میں سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے معاشرتی روایات کے مطابق زندگی گزارنے سے انکار کر دیا۔...
08/06/2026

ایزابیلا ایبرہارٹ 1877ء میں سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہوئیں اور انہوں نے معاشرتی روایات کے مطابق زندگی گزارنے سے انکار کر دیا۔شمالی افریقہ کے سحر میں مبتلا ہو کر، وہ الجزائر منتقل ہو گئیں اور وہاں انہوں نے اپنی شناخت کو ایک نیا روپ دیا۔ وہ مردانہ لباس زیب تن کرتیں، اپنا نام "سی محمود سعدی" لکھتیں، انہوں نے اسلام قبول کیا اور صحرائے اعظم کی خاک چھانی۔ایسے دور میں جب بیشتر خواتین کو محدود آزادی حاصل تھی، ایزابیلا صحرائی بستیوں میں گھڑ سواری کرتیں، ایک صوفی سلسلے میں شامل ہوئیں، اور ان لوگوں اور ثقافتوں کے بارے میں قلم اٹھایا جن سے ان کا واسطہ پڑا۔ فرانسیسی نوآبادیاتی حکام انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے، جبکہ دیگر لوگ انہیں متنازع اور باغی سمجھتے تھے۔وہ ایک قاتلانہ حملے میں بھی محفوظ رہیں اور اپنے اسفار جاری رکھے۔ 1904ء میں، محض 27 برس کی عمر میں، وہ الجزائر میں اچانک آنے والے ایک سیلاب کی نذر ہو گئیں۔ بعد ازاں، ان کے تحریر کردہ مسودات مٹی کے ڈھیر سے برآمد کیے گئے۔ایزابیلا ایبرہارٹ نے اپنی پوری زندگی صنف، ثقافت، مذہب اور سلطنت کی حدود کو عبور کرنے میں گزار دی۔ اگرچہ انہوں نے عمرِ خضر نہ پائی، لیکن وہ تاریخ کی چند نہایت غیر معمولی سیاحوں اور مصنفین میں شمار ہوتی ہیں۔

اگر تم طاقتور ہو تو کمزوروں کی مدد کرو بوب مرلے
08/06/2026

اگر تم طاقتور ہو تو کمزوروں کی مدد کرو
بوب مرلے

Address

Islamabad
45000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kalam-e-Khaas posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share