Gilgit-Baltistan "Land of Mountains"

Gilgit-Baltistan "Land of Mountains" Gilgit–Baltistan covers an area of 72,971 km² (28,174 mi²) and is highly mountainous. It has an estimated population approaching 1,000,000 individuals.
(592)

The land of mighty mountains and spellbound valleys, Gilgit–Baltistan known as the Northern Areas is the northernmost political entity within Pakistan. It borders Pakistan's Khyber Pukhtunkhwa province to the west, Afghanistan's Wakhan Corridor to the north, China to the east and northeast, Azad Kashmir to the southwest, and Indian occupied Jammu and Kashmir to the southeast. Its administrative ce

nter is the beautiful city of Gilgit, which, is also the economic center of the region. Gilgi-Baltistan is home to five of the "eight-thousanders" and to more than fifty peaks above 7000 meters. Gilgit and Skardu are the two main hubs for expeditions to those mountains. The region is home to some of the world's highest mountain ranges—the main ranges are the Karakoram and the western Himalayas. The Pamir mountains are to the north, and the Hindu Kush lies to the west. Amongst the highest mountains are K2 (Mount Godwin-Austen) and Nanga Parbat, the latter being one of the most feared mountains in the world.Three of the world's longest glaciers outside the Polar Regions are also found in Gilgit–Baltistan: the Biafo Glacier, the Baltoro Glacier, and the Batura Glacier. The Deosai Plains, are located above the tree line, and constitute the second-highest plateau in the world at 4,115 meters (14,500 feet)after Tibet. The plateau lies east of Astore, south of Skardu and west of Ladakh. The area was declared as a national park in 1993. The Deosai Plains cover an area of almost 5,000 square kilometres. There are more than 50,000 ancient pieces of rock art (petroglyphs) and inscriptions all along the Karakoram Highway in Gilgit–Baltistan. These elements show that the history of trade routes through GilgitBaltistan dates back to 5000 BCE. GilgitBaltistan has vastly abundant resources of colored gemstone treasures. Most important of these are ruby, topaz, aquamarine, tourmaline and quartz. To acquire the true economic potential of this strength of the region, Pakistan Gems and Jewellery Development Company (PGJDC) has established a Gems and Jewellery Training and Manufacturing Center (GJTMC) in Gilgit city. This center is successfully proving training and common facility center services to the masses. In an advent of expansion of these facilities across the region of Azad Kashmir, PGJDC also intends to open a Gems and Jewellery Training and Manufacturing Center in Azad Kashmir in near future.

New photography spot in Gilgit Baltistan!Name the place !
16/08/2026

New photography spot in Gilgit Baltistan!
Name the place !

09/08/2026

خوبصورت جھیل سیف الملوک ... 😘
21/06/2026

خوبصورت جھیل سیف الملوک ... 😘

یار، تم لوگ سوئٹزرلینڈ کی بات کرتے ہو ۔۔۔ ذرا اِس منظر کو بھی غور سے دیکھو اور خود فیصلہ کرو، کیا واقعی اس کا کوئی مقابل...
21/06/2026

یار، تم لوگ سوئٹزرلینڈ کی بات کرتے ہو ۔۔۔ ذرا اِس منظر کو بھی غور سے دیکھو اور خود فیصلہ کرو، کیا واقعی اس کا کوئی مقابلہ ہے؟

یہ ناران سے بابوسر جانے والی سڑک ہے ۔۔۔

آج کل پوری ناران ویلی میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، موسم انتہائی خوشگوار ہے، جبکہ بابوسر ٹاپ پر برف باری ہو رہی ہے 😍

اگر یہاں آنے کا ارادہ ہو تو ذرا سوچ سمجھ کر آنا ۔۔۔

کیونکہ میں بڑے یقین سے کہتا ہوں کہ یہاں سے واپس جانے کا دل نہیں کرے گا ۔۔۔ 😔

اور اگر ناران کی خوبصورتی کے سحر میں گرفتار ہو گئے، تو کم از کم 90 دن لگ جائیں گے اس کے جادو سے نکلنے میں۔

یہ کون سی جھیل ہے؟
21/06/2026

یہ کون سی جھیل ہے؟

قلعہ رام کوٹ: منگلا جھیل کے پانیوں میں گھرا ہوا ایک گم گشتہ شاہکارپنجاب اور آزاد کشمیر کی سرحد پر، جہاں منگلا ڈیم کا نیل...
21/06/2026

قلعہ رام کوٹ:
منگلا جھیل کے پانیوں میں گھرا ہوا ایک گم گشتہ شاہکار
پنجاب اور آزاد کشمیر کی سرحد پر، جہاں منگلا ڈیم کا نیلا پانی دور تک پھیلا نظر آتا ہے، وہاں ایک پہاڑی جزیرے کی چوٹی پر ایک قدیم قلعہ وقت کی گردشوں کو منہ چڑاتا کھڑا ہے۔ یہ "قلعہ رام کوٹ" ہےایک ایسا تاریخی حصار جس کے تین اطراف جھیل کا پانی بہتا ہے اور جو اپنے اندر نویں صدی کے نوادرات سے لے کر سکھ اور ڈوگرا راج تک کی داستانیں سموئے ہوئے ہے۔
۱۔ ایک منفرد جغرافیائی تزویرات (Strategic Location)
عام طور پر قلعے زمین پر یا پہاڑی سلسلوں کے درمیان بنائے جاتے تھے، لیکن منگلا ڈیم کی تعمیر کے بعد رام کوٹ کا جغرافیہ بالکل بدل گیا۔ اب یہ دریائے جہلم اور جھیل کے پانیوں کے درمیان ایک جزیرہ نما پہاڑی (Peninsula) پر واقع ہے، جہاں تک پہنچنے کے لیے میرپور، دینہ یا ڈڈیال سے ۱۵ سے ۲۰ منٹ کی ایک خوبصورت اور سحر انگیز بوٹ رائڈ (کشتی کا سفر) کرنا پڑتی ہے۔ پانی کے راستے اس قلعے تک پہنچنے کا یہ سفر ہی سیاحوں پر ایک سحر طاری کر دیتا ہے۔
۲۔ ساڑھے تین سو سیڑھیوں کا کٹھن سفر اور پاتال سے آسمان کا منظر
جب کشتی جھیل کے کنارے لگتی ہے، تو قلعے کے اصل جلال تک پہنچنے کا کڑا امتحان شروع ہوتا ہے۔ پہاڑی کی ڈھلوان پر بنی تقریباً ۳۵۰ سے ۴۴۰ کے قریب پرانی، کچی اور ناہموار پتھریلی سیڑھیاں اوپر قلعے کی طرف جاتی ہیں۔
یہ چڑھائی چڑھنے کے بعد جب انسان قلعے کی فصیل پر پہنچتا ہے، تو تھکن کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ وہاں سے منگلا جھیل کا ۳۶۰ ڈگری کا نظارہ، نیلا پانی اور چاروں طرف پھیلی خاموشی انسان کو کسی الگ ہی دنیا میں لے جاتی ہے۔
۳۔ تاریخ کے تانے بانے: قدیم شیو مندر سے سکھ شاہی تک
قلعہ رام کوٹ کی تاریخ صرف ایک دور تک محدود نہیں، بلکہ یہ مختلف تہذیبوں کا سنگم رہا ہے:
قدیم بنیادیں: ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق اس قلعے کی جگہ پر پانچویں اور نویں صدی کے قدیم ہندو شاہی دور کے آثار اور ایک تاریخی شیو مندر موجود تھا۔ آج بھی قلعے کے اندر اس قدیم مندر کی نشانیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
قرونِ وسطیٰ کی تعمیر: اس قلعے کی موجودہ عسکری ساخت ۱۲ ویں سے ۱۷ ویں صدی کے درمیان مسلم سلاطین کے دور میں ابھری۔ بعد میں مسلم گکھڑ قبائل اور پھر سکھ اور ڈوگرا مہاراجوں نے اپنی عسکری ضرورتوں کے تحت اس کی فصیلوں اور برجوں میں مزید توسیع کی اور اسے ایک مضبوط فوجی چوکی کا روپ دیا۔
۴۔ فنِ تعمیر کی ہیبت اور خستہ حالی کا نوحہ
مسلم اور ڈوگرا طرزِ تعمیر کے ملاپ سے بنے اس قلعے کے برج، بارود خانے اور پانی کے چھوٹے تالاب آج بھی ماضی کے جاہ و جلال کی گواہی دیتے ہیں۔ تاہم، مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور وقت کی بے رحم لہروں کی وجہ سے یہ عظیم جائنٹ (Crumbling Giant) اب آہستہ آہستہ خستہ حالی کا شکار ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود، اس کی فصیلوں کا رعب اور شان و شوکت آج بھی برقرار ہے۔

اگر آپ کبھی بھی رام کوٹ کی اس جادوئی دنیا کو دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ پہاڑی کی چوٹی پر کوئی دکان یا کیفے موجود نہیں ہے۔ اس لیے آرام دہ جوتے پہننا اور پینے کے پانی کی بوتل ساتھ رکھنا بے حد ضروری ہے۔ یہ مقام ان لوگوں کے لیے ایک جنت ہے جو تاریخ کے ساتھ ساتھ فوٹوگرافی اور قدرت کے اچھوتے مناظر سے محبت کرتے ہیں۔کیونکہ دنیا سیرو سیاحت کرنے والوں کے لیے بہت کچھ رکھتی ہے ۔

پہاڑی سفر: منزل سے زیادہ زندگی اور حفاظت اہم ہے!پیارے بھائیو اور دوستو! السلام علیکم۔آج کل پہاڑی علاقوں میں بڑھتے ہوئے ٹ...
21/06/2026

پہاڑی سفر: منزل سے زیادہ زندگی اور حفاظت اہم ہے!
پیارے بھائیو اور دوستو! السلام علیکم۔

آج کل پہاڑی علاقوں میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ معمولی سی جلد بازی، نیند کا غلبہ یا نااہلی کسی کے ہنستے کھیلتے گھر کو اجاڑ دیتی ہے۔ جانی اور مالی نقصان تو اپنی جگہ، لیکن پیچھے رہ جانے والے گھر والوں پر جو قیامت ٹوٹتی ہے، اس کا اندازہ لگانا بھی ناممکن ہے۔

ان حادثات سے بچنے کے لیے اپنے ذاتی تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں چند انتہائی اہم باتیں آپ سب کے سامنے رکھ رہا ہوں، جن پر عمل کرنا ہم سب کے لیے بہت ضروری ہے:

۱۔ پہاڑی راستوں کے لیے تجربہ کار ڈرائیور کا انتخاب

پہاڑی راستے عام سیدھی سڑکوں جیسے نہیں ہوتے۔ یہاں کے موڑ، چڑھائیاں اور اترائیاں ایک خاص مہارت مانگتی ہیں۔ میری مخلصانہ گزارش ہے کہ جب بھی پہاڑی علاقوں کا رخ کریں، تو کسی ایسے ڈرائیور کو ہائر کریں جو سمجھدار ہو، پہاڑوں کا وسیع تجربہ رکھتا ہو اور جس کا اعصابی نظام مضبوط ہو۔ گاڑی چلانا الگ بات ہے اور پہاڑ پر گاڑی سنبھالنا بالکل الگ بات!

۲۔ نیند اور آرام سے کوئی سمجھوتہ نہیں

سفر پر نکلنے سے پہلے اور سفر کے دوران اپنی نیند لازمی پوری کریں۔ نیند کا جھونکا موت کا فرشتہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ڈرائیونگ کے دوران اگر ذرا سی بھی غنودگی محسوس ہو، تو فوراً گاڑی سائیڈ پر لگائیں، چائے پانی پیئیں یا کچھ دیر کا قیلولہ کریں۔

۳۔ منزل نہیں، تھکن طے کرے گی کہ کہاں رکنا ہے!

ہم سب سے بڑی غلطی یہ کرتے ہیں کہ گھر سے ذہن بنا کر نکلتے ہیں کہ فلاں منزل پر پہنچ کر ہی دم لینا ہے۔ یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ ضروری نہیں کہ جو آپ کی منزل ہے، وہیں جا کر آپ نے سٹے کرنا ہے۔ دورانِ سفر جہاں بھی آپ کو تھکن محسوس ہو، وہیں رک جائیں، ہوٹل لیں اور ریسٹ کریں۔ زندگی رہی تو منزل کل بھی مل جائے گی۔

۴۔ جلد بازی اور اوور ٹیکنگ سے پرہیز

کہتے ہیں کہ "دیر آید درست آید"۔ پہاڑوں میں منٹوں کی جلدی برسوں کی دوری میں بدل سکتی ہے۔ اندھے موڑ (Blind Curves) پر کبھی بھی اوور ٹیک نہ کریں اور نہ ہی کسی سے ریس لگانے کی کوشش کریں۔ آرام سے، اپنی سائیڈ پر رہ کر گاڑی چلائیں۔

۵۔ مکمل ہوش و حواس اور توجہ

پہاڑی سفر کے دوران ڈرائیور کا دماغ ۱۰۰ فیصد سڑک پر ہونا چاہیے۔ موبائل فون کا استعمال، گہری گفتگو، یا ارد گرد کے مناظر میں کھو جانا جان لیوا ہو سکتا ہے۔ مکمل ہوش و حواس میں، الرٹ رہ کر گاڑی ڈرائیو کریں۔

آخری بات:

گاڑی لوہے کی ہے اور انسان گوشت پوست کا۔ یاد رکھیں، گھر پر کوئی آپ کا انتظار کر رہا ہے۔ آپ کی حفاظت صرف آپ کی ذات تک محدود نہیں، بلکہ آپ کے پورے خاندان کی خوشیوں کی ضامن ہے۔ سفر کو ایڈونچر ضرور بنائیں، لیکن اسے آخری سفر نہ بننے دیں۔

اللہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور سب کا سفر محفوظ اور آسان بنائے۔ (آمین)

Nanga Parbat, Milky Way, and moonlight from Fairy Meadows. Its certainly possible to capture the Nanga Parbat, Milky Way...
07/08/2025

Nanga Parbat, Milky Way, and moonlight from Fairy Meadows. Its certainly possible to capture the Nanga Parbat, Milky Way, and moonlight in a photograph. In fact, the Fairy Meadows campsite 3,300 meters (10,800 feet) at the base of Nanga Parbat is renowned for its incredible views, particularly for astrophotography. i utilized the moonlight for illuminating the landscape, as i was shooting during a waxing crescent .The final shot for the milky way was done after almost 3 hours when moon was gone with the camera in the same position. For tripod i used a chair and the view was outside my room.
Edit the RAW images in Lightroom, stack with Starry Landscape Stacker, and use Photoshop for an alternative method and hot pixel removal.Camera the CanonR6 lens 16-35.

🌍✨ چار ملکوں کی سنگم وادی – واکھان کوریڈور کا راز📌 کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان، افغانستان، چین اور تاجکستان کا سرحدی ملا...
07/08/2025

🌍✨ چار ملکوں کی سنگم وادی – واکھان کوریڈور کا راز
📌 کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان، افغانستان، چین اور تاجکستان کا سرحدی ملاپ ایک ایسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں قدرت کی عظمت، جغرافیہ کی حکمت اور تاریخ کی سیاست آپس میں ملتی ہیں؟
یہ مقام ہے واکھان کوریڈور – افغانستان کا ایک تنگ، طویل اور پہاڑوں سے گھرا ہوا حصہ، جو کئی صدیوں سے دنیا سے الگ تھلگ ہے۔

یہ علاقہ:
❄️ برف سے ڈھکی چوٹیوں
🏔 گہری وادیوں
🛤 پرانی ریشم کی راہگزر
📍 جیوپولیٹیکل اہمیت
سے مالا مال ہے۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں:
🇵🇰 پاکستان جنوب میں ہے
🇨🇳 چین مشرق میں ہے
🇦🇫 افغانستان مرکز میں ہے
🇹🇯 تاجکستان شمال میں ہے

💡 یہ کوریڈور 350 کلومیٹر طویل اور صرف 13 سے 65 کلومیٹر چوڑا ہے، جو افغانستان کو چین سے جوڑتا ہے — مگر آج بھی دنیا کے سب سے کم گزرنے والے راستوں میں سے ایک ہے۔

🚫 یہاں کوئی باضابطہ سڑک نہیں، کوئی بھیڑ نہیں، صرف فطرت کی گونج اور خاموش پہاڑ۔

🔥 دلچسپ حقائق:
واکھان ایک قدرتی بفر زون ہے جو 19ویں صدی میں برطانوی ہندوستان اور روسی سلطنت کے درمیان تنازع سے بچاؤ کے لیے تخلیق کیا گیا تھا۔

آج بھی یہاں کی زمین تقریباً غیر آباد ہے۔

سیاحوں اور ہائیکرز کے لیے یہ ایک خفیہ جنت ہے!

✅ یہ مقام ان کے لیے ہے:
✔️ فطرت کے عاشق
✔️ ہسٹری لوورز
✔️ مہم جو سیاح
✔️ ڈاکومنٹری میکرز
✔️ سرحدی علاقوں کے تجزیہ کار

Address

Islamabad
44000

Telephone

+923005241179

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gilgit-Baltistan "Land of Mountains" posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Gilgit-Baltistan "Land of Mountains":

Shortcuts

Share