Mehar Tours Operator PVT LTD Hajj Umrah Services

Mehar Tours Operator PVT LTD  Hajj Umrah Services Hajj & Umrah Services

02/04/2025

Please like, share and follow this page.

رمضان المبارک میں 122 ملین سے زائد نمازیوں کی حرمین شریفین میں حاضریدنیارمضان المبارک میں 122 ملین سے زائد نمازیوں کی حر...
01/04/2025

رمضان المبارک میں 122 ملین سے زائد نمازیوں کی حرمین شریفین میں حاضری
دنیا
رمضان المبارک میں 122 ملین سے زائد نمازیوں کی حرمین شریفین میں حاضری

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے امور حرمین شریفین نے اعلان کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران 122 ملین سے زائد نمازیوں نے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی زیارت کی۔

عبادت گزاروں کی غیر معمولی تعداد
سعودی پریس ایجنسی (SPA) کے مطابق:
✅ کل زائرین: 122,286,712
✅ عمرہ ادا کرنے والے: 16,558,241
✅ مسجد الحرام میں نمازی: 75,573,928
✅ مسجد نبوی میں نمازی: 30,154,543

نمازیوں کی ریکارڈ توڑ آمد کو منظم کرنے کے لیے حکام نے جدید ہجوم مانیٹرنگ ٹیکنالوجی نافذ کی، جس میں سینسر ریڈرز بھی شامل ہیں جو مسجد الحرام کے داخلی راستوں پر نصب کیے گئے۔ یہ جدید نظام ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے ذریعے ہجوم کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے اور سیکیورٹی و انتظامی امور کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوا

29/12/2024
03/10/2024

I gained 34 followers, created 13 posts and received 11 reactions in the past 90 days! Thank you all for your continued support. I could not have done it without you. 🙏🤗🎉

Today, on the request of Anjum Aqeel Khan Sahib (MNA) NA-46 Islamabad, visited various schools in the area.  Insha Allah...
11/09/2024

Today, on the request of Anjum Aqeel Khan Sahib (MNA) NA-46 Islamabad, visited various schools in the area. Insha Allah, the needs of the schools and the lack of staff will be met soon. Due to the special interest of Anjum Aqeel Khan, these local institutions will also compete with the city schools. The head of the school and teachers are very hardworking. The academic results are excellent.

ملک افتخار صاحب ممبر پنجاب اسمبلی کو پارلیمانی سیکرٹری برائے مذہبی امور و محکمہ اوقاف ہمراہ راجہ قمر شہزاد ( سینیر نائب ...
02/09/2024

ملک افتخار صاحب ممبر پنجاب اسمبلی کو پارلیمانی سیکرٹری برائے مذہبی امور و محکمہ اوقاف ہمراہ راجہ قمر شہزاد ( سینیر نائب صدر گجر خان) کے ہمراہ بننے پر مبارکباد دی

10/08/2024

قرارداد پاکستان
ہندوستانی مسلمانوں کی خود مختاری کے لیے قرارداد
دیگر زبانیں
زیر نظر کریں
ترمیم
22 مارچ سے 24 مارچ، 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے عليحدہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ہندوستان بھر کے مسلمان رہنما
برصغیر میں برطانوی راج کی طرف سے اقتدار عوام کو سونپنے کے عمل کے پہلے مرحلے میں 1936ء/1937ء میں جو پہلے عام انتخابات ہوئے تھے ان میں مسلم لیگ کو بری طرح سے ہزیمت اٹھانی پڑی تھی اور اس کے اس دعویٰ کو شدید زک پہنچی تھی کہ وہ بر صغیر کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ اس وجہ سے مسلم لیگ کی قیادت اور کارکنوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے اور ان پر ایک عجب بے بسی کا عالم تھا۔

مولوی فضل الحق
کانگریس کو مدراس، یو پی، سی پی، بہار اور اڑیسہ میں واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی، سرحد اور بمبئی میں اس نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی تھی اور سندھ اور آسام میں بھی جہاں مسلمان حاوی تھے کانگریس کو نمایاں کامیابی ملی تھی۔

پنجاب میں البتہ سر فضل حسین کی یونینسٹ پارٹی اور بنگال میں مولوی فضل الحق کی پرجا کرشک پارٹی کی جیت ہوئی تھی۔

غرض ہندوستان کے 11 صوبوں میں سے کسی ایک صوبہ میں بھی مسلم لیگ کو اقتدار حاصل نہ ہو سکا۔ ان حالات میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مسلم لیگ برصغیر کے سیاسی دھارے سے الگ ہوتی جا رہی ہے۔

اس دوران میں کانگریس نے جو پہلی بار اقتدار کے نشے میں کچھ زیادہ ہی سرشار تھی، ایسے اقدامات کیے جن سے مسلمانوں کے دلوں میں خدشات اور خطرات نے جنم لینا شروع کر دیا۔ مثلاً کانگریس نے ہندی کو قومی زبان قرار دے دیا، گاؤ کشی پر پابندی عائد کردی اور کانگریس کے ترنگے کو قومی پرچم کی حیثیت دی۔

اس صورت میں مسلم لیگ کی اقتدار سے محرومی کے ساتھ اس کی قیادت میں یہ احساس پیدا ہو رہا تھا کہ مسلم لیگ اقتدار سے اس بنا پر محروم کر دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کہلاتی ہے۔ یہی نقطہ آغاز تھا مسلم لیگ کی قیادت میں دو جدا قوموں کے احساس کی بیداری کا۔

اسی دوران میں دوسری جنگ عظیم کی حمایت کے عوض اقتدار کی بھرپور منتقلی کے مسئلہ پر برطانوی راج اور کانگریس کے درمیان مناقشہ ہوا اور کانگریس اقتدار سے الگ ہو گئی تو مسلم لیگ کے لیے کچھ دروازے کھلتے دکھائی دیے اور اسی پس منظر میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ 3 روزہ اجلاس 22 مارچ کو شروع ہوا۔

علامہ مشرقی
اجلاس سے 4 روز قبل لاہور میں علامہ مشرقی کی خاکسار جماعت نے پابندی توڑتے ہوئے ایک عسکری پریڈ کی تھی، جس کو روکنے کے لیے پولیس نے گولیاں چلائیں۔ 35 کے قریب خاکسار جاں بحق ہوئے۔ اس واقعہ کی وجہ سے لاہور میں زبردست کشیدگی تھی اور صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ کی اتحادی جماعت یونینسٹ پارٹی بر سر اقتدار تھی اور اس بات کا خطرہ تھا کہ خاکسار کے بیلچہ بردار کارکن مسلم لیگ کا یہ اجلاس نہ ہونے دیں یا اس موقع پر ہنگامہ برپا کریں۔

موقع کی اسی نزاکت کے پیش نظر قائد اعظم محمد علی جناح نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا، جس میں انھوں نے پہلی بار کہا کہ ہندوستان میں مسئلہ فرقہ ورارنہ نوعیت کا نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی ہے یعنی یہ دو قوموں کا مسئلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں فرق اتنا بڑا اور واضح ہے کہ ایک مرکزی حکومت کے تحت ان کا اتحاد خطرات سے بھر پور ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اس صورت میں ایک ہی راہ ہے کہ ان کی علاحدہ مملکتیں ہوں۔

دوسرے دن انہی خطوط پر 23 مارچ کو اس زمانہ کے بنگال کے وزیر اعلیٰ مولوی فضل الحق نے قرارداد لاہور پیش کی، جس میں کہا گیا تھا کہ اس وقت تک کوئی آئینی منصوبہ نہ تو قابل عمل ہوگا اور نہ مسلمانوں کو قبول ہوگا، جب تک ایک دوسرے سے ملے ہوئے جغرافیائی یونٹوں کی جداگانہ علاقوں میں حد بندی نہ ہو۔ قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے جیسے کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقے، انھیں یکجا کر کے ان میں آزاد مملکتیں قائم کی جائیں جن میں شامل یونٹوں کو خود مختاری اور حاکمیت اعلیٰ حاصل ہو۔

مولانا ظفر علی خان اور قائد اعظم محمد علی جناح
مولوی فضل الحق کی طرف سے پیش کردہ اس قرارداد کی تائید یوپی کے مسلم لیگی رہنما چودھری خلیق الزماں، پنجاب سے مولانا ظفر علی خان، سرحد سے سردار اورنگ زیب سندھ سے سر عبداللہ ہارون اور بلوچستان سے قاضی عیسی نے کی۔ قرارداد 23 مارچ کو اختتامی اجلاس میں منظور کی گئی۔

اپریل 1941ء میں مدراس میں مسلم لیگ کے اجلاس میں قرارداد لاہور کو جماعت کے آئین میں شامل کر لیا گیا اور اسی کی بنیاد پر پاکستان کی تحریک شروع ہوئی۔ ۔

Address

AK Fazal E Haq Road
Islamabad
4400

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mehar Tours Operator PVT LTD Hajj Umrah Services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category