26/06/2026
مسجدِ قبلتین تاریخِ اسلام کا عظیم تاریخی مقام
مسجدِ قبلتین مدینہ منورہ کی ان عظیم تاریخی مساجد میں شامل ہے جنہیں دنیا بھر کے مسلمان عقیدت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ مسجد اس تاریخی واقعے کی یادگار ہے جب رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قبلہ بیت المقدس سے تبدیل ہو کر خانہ کعبہ کی طرف کیا گیا۔
مسجدِ قبلتین کو یہ نام اس لیے دیا گیا کہ روایت کے مطابق یہاں رسول اللہ ﷺ نے ایک ہی نماز میں دو قبلوں کی طرف رخ کیا۔ ابتدا میں مسلمان تقریباً سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا
"قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ"(سورۃ البقرہ: 144)
ترجمہ: "ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے دیکھ رہے ہیں، پس ہم آپ کو اسی قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں، لہٰذا اپنا چہرہ مسجدِ حرام کی طرف پھیر لیجیے۔"
یہ واقعہ ہجرت کے دوسرے سال میں پیش آیا۔ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجدِ قبلتین میں ظہر کی نماز ادا فرما رہے تھے، دو رکعت کے بعد وحی نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ رخ خانہ کعبہ کی طرف کر لیا۔
یہ مسجد پہلے مسجدِ بنی سلمہ کے نام سے مشہور تھی۔ اسے قبیلہ بنو سلمہ کے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں تعمیر کیا۔ بعد میں مختلف ادوار میں اس کی تجدید و تعمیر ہوتی رہی۔ مدینہ منورہ کے گورنر اور بعد میں خلیفہ بننے والے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بھی اس کی تعمیر نو کرائی۔
بعد کے ادوار میں عثمانی دور سمیت مختلف حکومتوں نے مسجد کی دیکھ بھال اور توسیع کی۔ سعودی دور میں بھی اس کی توسیع اور تزئین و آرائش کی گئی تاکہ زائرین کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
مسجدِ قبلتین مدینہ منورہ کے مغربی حصے میں واقع ہے اور یہ مسجد نبوی ﷺ اور مسجد قباء کے بعد مدینہ منورہ کے اہم ترین تاریخی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔