Pakistan Tourism Club

Pakistan Tourism Club Club is primarily designed to Offer the tailor made packages to the tourists from all walks life

26/06/2026

ناران میں اس وقت ظلم کا " بازار گرم ھے "
سیاح تکلیف اور اخراجات سے بچنے کے لئے چودہ اگست کے بعد کا پلان بنائیں

اس جگہ کو کون کون  جانتا ہے۔ بڑی مشہور جگہ ہے اس اگے ایک حوبصورت جھیل بھی ہے۔
26/06/2026

اس جگہ کو کون کون جانتا ہے۔
بڑی مشہور جگہ ہے اس اگے ایک حوبصورت جھیل بھی ہے۔

25/06/2026

اگر آپ پہاڑوں میں نہیں گھومتے چائےنہیں پیتے،شاعری نہیں پڑھتے تو پھر آپ کو موت کا ڈر نہیں ہونا چاہے کیونکہ آپ پہلے سے ہی مرچکےہیں۔۔

گلیات کی برسات  ۔۔۔
24/06/2026

گلیات کی برسات ۔۔۔

    of
24/06/2026

of

  مری مال روڈ پر سیزن اپنے عروج پر تھا ہر طرف خوشیاں، قہقہے، روشنی تھی لیکن انہی روشنیوں کے بیچ کچھ گھروں کے چراغ بجھا د...
24/06/2026


مری مال روڈ پر سیزن اپنے عروج پر تھا ہر طرف خوشیاں، قہقہے، روشنی تھی لیکن انہی روشنیوں کے بیچ کچھ گھروں کے چراغ بجھا دیے گئے
وہ غریب تاجر جو صبح سے شام تک سردی میں کھڑا رہتا تھا صرف اس امید پر کر کہ سیزن آئے گا تو بچوں کے لیے کچھ کما لوں گا لیکن آج اس کے ہاتھ خالی کر دیے گئے 😔
نہ اس کی فریاد سنی گئی، نہ اس کی مجبوری دیکھی گئی
بس ایک حکم آیا، اور اس کی دنیا اجاڑ دی گئی
یہ صرف دکانیں نہیں تھی یہ کسی کا چولہا تھا
کسی کے بچوں کی فیس تھی کسی ماں کی دوائی تھی
آج سب کچھ ایک حکم میں چھین لیا گیا
جو جگہ کل تک غریب کی محنت سے آباد تھی آج وہاں خاموشی کیوں ہے؟ یہ بازار نہیں اجڑا یہ خواب اجڑے ہیں
کیا ترقی یہی ہے؟
کہ غریب کا روزگار ختم کر دیا جائے؟

 #بابوسرٹاپ ... کیا تھا اور کیا سے کیا کر دیا گیا ھے ۔۔۔۔. اس وقت ناران میں موسم ا اپنے پورے  شباب کے ساتھ براجمان ہے . ...
24/06/2026

#بابوسرٹاپ ...
کیا تھا اور کیا سے کیا کر دیا گیا ھے ۔۔۔۔.

اس وقت ناران میں موسم ا اپنے پورے شباب کے ساتھ براجمان ہے . جس کے دربار میں سیاحوں کا جم غفیر ہے . اس وقت پندرہ ہزار سے کمرے کے کرائے شروع ہیں . جو نو اور دس محرم تک مزید اوپر جائیں گے . یہ ہوٹل اور جیپ مالکان ہیں . جنہیں امید رہتی ہے . کہ سیاحوں کی آمد جاری رہے گی . اور حقیقت تو یہی ہے . کہ وین اور کوسٹرز اب ہزاروں میں یہاں پہنچ رہی ہیں . ان میں زیادہ تر کراچی کے پریشان حال چہرے ہوتے ہیں . جو اپنے بچوں کو سردی دکھانے کے لئے ان پہاڑی علاقوں میں خاص طور پر لاتے ہیں . ان کے لئے عرض ہے کہ جو لوگ پہلی بار اور سال بھر کمیٹیاں ڈال کر ٹور پر آتے ہیں . وہ ان چھٹیوں کے بجائے اگست یا ستمبر میں آئیں . تو زیادہ خوشی ہو گی . ورنہ ان دنوں یہاں کے ہوٹل مالکان تیز دھار چھریوں کی طرح دانت نکالے آپ کے منتظر ہیں . جب ہم بابو سرٹاپ پہنچتے ہیں . تو وہاں تیسری جنگ عظیم چل رہی ہوتی بے . پناہ لوگ آوارہ مویشیوں کی طرح گھوم رہے ہیں . 13 ہزار فٹ بلند اس درّے پر اب بے ہنگم ہوٹل اور ڈھابے بن چکے ہیں . جہاں پکوڑے کی پلیٹ تین چار سو روپے میں ملتی ہے . ایک بلند ٹیلے کے پاس زپ لائن بھی ہے .اور لوگ رسّی سے لٹک کر دوسری چٹان تک جاتے ہیں . بلندی سے متاثر ہونے کے بجائے ان کی نگاہیں اپنے موبائل پر ہوتی ہیں . جس سے ویڈیو بنائی جاتی ہے . یہ تماشہ دیکھانے والی وہی مخلوق ہوتی ہے . جو کراچی میں عید کے دنوں میں بھی دکھائی دیتی ہے . کہیں 14 ہزار فٹ کی بلندی بھی ہے . جس پر ایک بورڈ لگا ہوا ہے . اس جگہ تیز ہوائوں کے باعث سخت سردی کا احساس ہوتا ہے . پاکستان کے دیگر شہروں سے آتے ہوئے خاندان رنگ برنگے کپڑوں ، بڑے گوگلز اور قیمتی ویڈیو کیمرے کے ساتھ لرزاں و ترساں دکھائی دیتے ہیں . خواتین اور بچے پہلی نگاہ ان جھونپڑیوں میں رکھتے ہیں . جہاں چائے کے ساتھ الائو جل رہے ہوں . وہ اس کے گرد کرسیاں لگا کر سمٹے سمٹائے رہتے ہیں . اچانک کبھی تیز بارش ہو جائے . تو ہاہاکار مچ جاتی ہے . کھانے پینے کی اشیا پر لڑائی ہونے کی وجہ سے بھگدڑ سی مچ جاتی ہے . گاڑی کہاں پارک کی ہے . کچھ پتہ نہیں چلتا . غرض کنکریٹ اور لوہے کی تعمیرات نے اس خوبصورت علاقے کو بد ترین شکل دے دی ہے . دن کے بارہ بج بھی اندھیرا بڑھ جاتا ہے . اسی دوران ببارش شروع ہو تو چاروں طرف ایک ہلچل میں قیامت کا سماں بھی بن جاتا ہے . پہاڑوں سے اترتی تیز سرد ہوائیں الگ مصیبت ہوتی ہیں . جتنے لوگوں نے گرم کپڑے پہنے ہوں . سب ململ ہوجاتے ہیں . قریب سے گزرتے بچوں کو گرم شالوں میں لپیٹ کر گاڑیوں میں بند کردیا جاتا ہے . اس وقت راستے میں پھسلن بڑھ جاتی ہے . خصوصاً اترائی کے وقت یہ سفر انتہائی خطرناک ہوتا ہے . ذاتی گاڑیوں یں بلا دھڑک فیملیز کے ساتھ ٹاپ پر تو پہنچ جاتے ہیں . مگر بعد میں دوسروں کی مدد لینے پر مجبور رہتے ہیں .اکثر اوقات لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے . جس سے سیکڑوں سیاح اور گلگت ہنزہ سے آنے والے مسافر پھنس کے رہ جاتے ہیں . بابوسر سے اترتے ہوئے مختلف مقامات پر گلشیئر راستہ روک لیتے ہیں . ان پر پھسلنے کے لئے بچوں کی بےتابی بڑھ جاتی ہے . اور وہ نہایت خوشی کے ساتھ اپنے والدین کا ہاتھ تھامے اس کی طرف بڑھنے لگتے ہیں . جو انتہائی خطرناک ہے . کبھی کبھی دھند میں ہی بارش کی ایسی بوچھاڑ پڑ جاتی ہے .کہ آبشار کے پاس بنے ہوئے بڑے بڑے ہوٹل پناہ گاہ بن جاتے ہیں . لوگ گاڑیوں سے اُتر کر خالی کمروں کی بکنگ کر لیتے ہیں . سرد تھپیڑے مارتی ہوائیں سیاحوں کو بھاگنے پر مجبور کرتی ہیں . اس لئے بہتر یہی ہے . کہ بے پناہ رش اور خطرناک موسم کے بجائے ان دنوں میں آیا جائے جب کم لوگ ہوں . اف!کیا خوبصورت جگہ تھی . جہاں برف کے مے خانے میں لبالب نیلی جھیلوں کے پیالے چھلکتے تھے . اب جھولے زپ لائن اور چپس کولڈ ڈرنک کی دکانیں ہیں . کہاں بلندیوں میں خاموشیوں کی گونج تھی . اب کچرے کی بو اور ٹریفک کے کرخت ہارن ہیں . اس وقت شائد اس انگریز سروئیر کی روح آج بھی گھوم رہی ہو گی . جسے مقامی لوگ بابو بابو کہتے تو اس کا نام ہی بابوسر پڑ گیا . فیض کی زباں سے کہتا ہو گا . کب نظر میں آئے گی ؟ بےداغ سبزے کی بہار . خون کے دھبے دھلیں گے . کتنی برساتوں کے بعد ...

عید کی چھٹیوں میں اگر آپ سرن ویلی آنا چاہتے ہیں آپ کے پاس بجٹ کم ہے رہائش کے لیے پرسکون اور انتہائی مناسب ریٹ والے رومز ...
27/05/2026

عید کی چھٹیوں میں اگر آپ سرن ویلی آنا چاہتے ہیں آپ کے پاس بجٹ کم ہے رہائش کے لیے پرسکون اور انتہائی مناسب ریٹ والے رومز چاہیے صاف ستھرے تو آپ میرے ساتھ رابطہ کر سکتے ہیں اگر آپ سرن ویلی کی سیر، ہائیکنگ یا کسی اچھے اور صاف ستھرے گیسٹ ہاؤس کی تلاش میں ہیں تو مکمل رہنمائی اور سہولیات کے لیے مجھ سے رابطہ کریں۔
سرن ویلی کی سیاحت، فیملی ریزورٹس اور دیگر معلومات کے لیے دیے گئے نمبر پر واٹس ایپ کال کریں:
📱 03155626150 ✌️

دیودار پاکستان کا قومی درخت  ۔۔۔۔ غظمت کا نشان
12/05/2026

دیودار پاکستان کا قومی درخت ۔۔۔۔ غظمت کا نشان

12/05/2026

Address

Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Tourism Club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pakistan Tourism Club:

Shortcuts

Share

Category