21/03/2025
آئیں لیلة القدر تلاش کریں۔
یہ موقع بار بار نہیں آتا!
ذرا سوچیں، اگر آپ کو بتایا جائے کہ کسی رات آپ کو زندگی بھر کے لیے کامیابی ملے گی، تو کیا آپ اسے ضائع کریں گے؟ یقیناً نہیں!
یہ رات "زندگی بدلنے والی رات" ہے۔ جو اس رات کو ضائع کر دیتا ہے، وہ سب سے بڑی محرومی کا شکار ہوتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ، وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ، وَلَا يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلَّا مَحْرُومٌ"(صحیح الجامع: 2247)
"یہ مہینہ تمہارے پاس آیا ہے، اور اس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ جو اس سے محروم رہا، وہ ہر بھلائی سے محروم رہا، اور اس کی بھلائی سے صرف وہی محروم ہوتا ہے جو واقعی محروم ہو۔"
اس لیے آئیں، اپنی راتوں کو قیمتی بنائیں، اللہ کے قریب ہوں، اور اپنے لیے ایک روشن مستقبل (دنیا و آخرت) کی بنیاد رکھیں۔
اللہ ہمیں لیلة القدر پانے اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
لیلة القدر کی اہمیت
لیلة القدر وہ بابرکت رات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام راتوں پر فضیلت دی ہے۔ قرآن میں اس کی عظمت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ (القدر: 1-3)
"بے شک ہم نے اسے (قرآن) لیلة القدر میں نازل کیا۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ لیلة القدر کیا ہے؟ لیلة القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔"
یہ رات عبادات، دعاؤں، ذکر و اذکار اور توبہ کے لیے بے حد قیمتی موقع ہے کیونکہ اس ایک رات کی عبادت 83 سال 4 ماہ کی عبادت سے بہتر قرار دی گئی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے لیلة القدر میں قیام کرے، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" (بخاری: 1901، مسلم: 760)
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین اس رات کی تلاش اور اس میں عبادت کے لیے خاص اہتمام کرتے تھے۔
لیلة القدر کی تلاش کیسے کی جائے؟
رسول اللہ ﷺ نے لیلة القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (21، 23، 25، 27، 29) میں تلاش کرنے کا حکم دیا۔
"اسے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔" (بخاری: 2017، مسلم: 1169)
علماء کی رائے میں 27ویں رات کے لیلة القدر ہونے کا امکان زیادہ ہے، لیکن اس کا تعین یقینی نہیں، اس لیے ہر طاق رات میں عبادت کا اہتمام ضروری ہے۔
لیلة القدر کی علامات
رسول اللہ ﷺ نے اس مبارک رات کی چند نشانیاں بیان فرمائی ہیں، جنہیں علماء نے روایات کی روشنی میں یوں ذکر کیا ہے:
1. پُرسکون اور معتدل رات، نہ زیادہ گرم، نہ زیادہ ٹھنڈی۔ دل کو سکون اور روحانی راحت محسوس ہوتی ہے۔
2. چمکدار چاند اور ستاروں کی کیفیت، چاند کی روشنی نرم اور ہلکی ہوتی ہے۔
3. صبح کا سورج بغیر شعاعوں کے نکلتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"اس کی نشانی یہ ہے کہ اس دن سورج بغیر کرنوں کے طلوع ہوتا ہے۔" (مسلم: 762)
4. رات میں خاص قسم کی روشنی اور نور محسوس ہوتا ہے۔ عام راتوں سے ہٹ کر ایک الگ روحانی کیفیت ہوتی ہے۔
5. اس رات زمین پر سکون اور فرشتوں کی کثرت محسوس ہوتی ہے
قرآن میں فرمایا:
"فرشتے اور روح (جبریل) اس میں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں۔" (القدر: 4)
6. بارش کا امکان یا خوشگوار ہوا چلتی ہے۔
بعض روایات میں ذکر ہے کہ نبی ﷺ کو خواب میں لیلة القدر دکھائی گئی تو وہ بارش والی رات تھی۔
لیلة القدر کو پانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
یہ رات قیمتی ہے، اس لیے اسے بہتر طریقے سے گزارنے کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی ضروری ہے۔
1. دن کی تیاری کریں
دن میں مناسب آرام کریں تاکہ رات کو زیادہ دیر جاگ سکیں۔
فضول باتوں، سوشل میڈیا، اور دیگر مشغولیات سے بچیں۔
2. نیت اور دعا کریں
لیلة القدر کو پانے کی نیت کریں۔
وہ دعا پڑھیں جو نبی ﷺ نے حضرت عائشہؓ کو سکھائی:
اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي (ترمذی: 3513)
"اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف کر دے۔"
3. نماز تہجد اور نوافل ادا کریں
طویل رکعات کے ساتھ تہجد پڑھیں۔
سجدوں میں لمبی دعائیں کریں۔
4. تلاوتِ قرآن کریں
قرآن کی تلاوت زیادہ سے زیادہ کریں اور غور وفکر
5. ذکر و اذکار اور استغفار کریں
سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر کا ورد کریں۔
درود شریف زیادہ پڑھیں۔
اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور نیک اعمال کی توفیق کی دعا کریں۔
6. صدقہ و خیرات کریں
لیلة القدر میں دیا گیا صدقہ دیگر مہینوں کے صدقے سے بہتر ہو سکتا ہے۔
7. دعاوں کا اہتمام کریں۔
اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ دعا کریں تاکہ ان کی بھی تربیت ہو۔
8. خلوت میں عبادت کریں۔
کوشش کریں کہ کچھ وقت تنہائی میں گزاریں تاکہ اللہ سے مضبوط تعلق قائم ہو سکے۔