13/09/2026
بالکل، میں اسے زیادہ **رواں، مؤثر اور صحافتی انداز** میں ریرائٹ کر دیتا ہوں، جبکہ اصل مؤقف برقرار رکھتا ہوں:
# # # ’’انتہا پسندی کی عالمی علامت‘‘ بنا دیا جانے والا ایک کشمیری چہرہ
یہ وہ چہرہ ہے جسے مغربی میڈیا اور بعض حلقوں میں **“Islamic Rage Boy”** کے نام سے مشہور کیا گیا۔ اس تصویر کو ٹی شرٹس، پوسٹرز، کارٹونز اور انٹرنیٹ میمز میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا اور اسے اسلامی انتہا پسندی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ لیکن اس تصویر کے پیچھے موجود شخص کی حقیقی زندگی کی داستان شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
یہ شخص **سری نگر سے تعلق رکھنے والے کشمیری کارکن شکیل احمد بٹ** ہیں۔ 2000ء کی دہائی میں کشمیر کے مختلف احتجاجی مظاہروں کے دوران فوٹوگرافروں نے ان کی متعدد جذباتی تصاویر بنائیں۔ خصوصاً 2006ء میں توہین آمیز خاکوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران ان کی ایک تصویر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی۔ بعد ازاں اسی تصویر کو بنیاد بنا کر امریکی بلاگز اور انٹرنیٹ پر **“Islamic Rage Boy”** کے نام سے ایک کردار تخلیق کیا گیا، جو رفتہ رفتہ اسلامی انتہا پسندی کی ایک علامت کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔
مگر تصویر میں نظر آنے والے اس شخص کی زندگی محض ایک غصے بھرے چہرے کی کہانی نہیں، بلکہ برسوں کی گرفتاریوں، تشدد، قید اور خاندانی صدمات سے بھری ہوئی داستان ہے۔
شکیل بٹ کے مطابق 1986ء میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، جس کے دوران ان کی بہن شریفہ کو سیڑھیوں سے نیچے پھینک دیا گیا۔ وہ شدید زخمی ہوئیں، ان کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی اور وہ طویل عرصے تک بستر پر رہیں۔ 1992ء میں، صرف 18 برس کی عمر میں، ان کا انتقال ہوگیا۔
بعد ازاں شکیل بٹ خود بھی گرفتار ہوئے اور ان کے مطابق دورانِ حراست انہیں شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانوی مصنف پیٹرک فرنچ سے منسوب ایک انٹرویو میں شکیل نے حراست کے دوران تشدد کے انتہائی سنگین واقعات بیان کیے، جن میں بجلی کے جھٹکے اور دیگر جسمانی اذیتیں شامل تھیں۔ ان کے مطابق اس تشدد کے نتیجے میں ان کا ایک بازو بھی متاثر ہوا۔
ان کے خاندان نے بھی مشکلات کا ایک طویل دور دیکھا۔ ان کے بڑے بھائی ہلال ایک فوجی چھاپے کے دوران زخمی ہوئے اور بعد میں طویل عرصے تک بستر پر رہے، یہاں تک کہ جون 2020ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔
شکیل بٹ کی زندگی کا ایک اور حیران کن پہلو ان کی طویل قید ہے۔ دستیاب بیانات کے مطابق **2021ء تک وہ مختلف جیلوں میں مجموعی طور پر 24 سال سے زائد عرصہ گزار چکے تھے** جبکہ ان کے خلاف سیکڑوں مقدمات اور ایف آئی آرز درج ہونے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ 2019ء میں انہیں گرفتار کرکے اترپردیش کی نینی جیل منتقل کیا گیا، جہاں انہوں نے تقریباً 13 ماہ گزارے اور 2020ء میں رہائی کے بعد سری نگر واپس آئے۔
ان کے مطابق ایک موقع پر جب اسپیشل ٹاسک فورس انہیں تلاش کرنے ان کے گھر پہنچی اور وہ وہاں موجود نہیں تھے تو ان کے 75 سالہ والد کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور وہ باقی زندگی بستر پر رہے۔
2007ء میں برطانوی اخبار **دی گارڈین** سے گفتگو کرتے ہوئے شکیل بٹ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے چہرے اور جذبات کو ایک کارٹون اور مذاق میں تبدیل کر دیا گیا۔ دنیا نے ان کی ایک تصویر دیکھی، مگر اس تصویر کے پیچھے موجود انسان کی زندگی، اس کے تجربات اور اس کے خاندان کے دکھوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔
**ایک تصویر صرف ایک لمحہ دکھاتی ہے، پوری زندگی نہیں۔**
کسی انسان کے چہرے پر غصہ دیکھ کر اسے ’’انتہا پسند‘‘ قرار دینا آسان ہے، لیکن اس غصے کے پیچھے چھپی تاریخ، محرومی، خوف، تشدد اور ذاتی صدمات کو سمجھنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ **میڈیا میں کسی ایک تصویر کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنا کسی بھی انسان کی پوری حقیقت کو مسخ کر سکتا ہے۔** مظلوم ہو یا ملزم، کسی شخص کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے اس کی پوری کہانی اور تمام دستیاب شواہد کو دیکھنا ضروری ہے۔