Being kashmiri

Being kashmiri I Love Travelling & Exploring New Cultures. This page Is All About Travel Video’s. Travel

آذاد کشمیر کی تمام جھیلوں کی مکمل تفصیل۔۔۔1) رتی گلی جھیل 2) رتی گلی سمال 3) ہنس راج جھیل 4) کالا سر جھیل5) گھٹیاں جھیل ...
25/04/2022

آذاد کشمیر کی تمام جھیلوں کی مکمل تفصیل۔۔۔
1) رتی گلی جھیل
2) رتی گلی سمال
3) ہنس راج جھیل
4) کالا سر جھیل
5) گھٹیاں جھیل
6) سرال جھیل
7) مون جھیل
8) رام چکور جھیل
9) مُلاں والی جھیل
10) بٹ کنالی جھیل
11) شاؤنٹر جھیل
12) چٹہ کٹھہ جھیل
13) بنجوسہ جھیل
14) باغسر جھیل
15) سُبڑی لنگر پورہ جھیل
16) زلزال جھیل
17) پَتلیاں جھیل
18) مائی ناردہ جھیل
19) نوری جھیل
20) کھرگام جھیل
21 ) ڈک جھیل

1) رتی گلی جھیل ❤
سب سے پہلے رتی گلی نام کی کنفیوژن دور کر لیں۔ 2010 تک رتی گلی کا مقامی نام ڈاریاں سریاں سر تھا۔ سر مقامی طور پر جھیل یا پانی کے قدرتی ذخیرے کو کہا جاتا ہے۔
2010 میں سرکاری طور پر اور ایک مقامی صوفی بزرگ میاں برکت اللہ جن کا آستانہ برکاتیہ کے نام سے موجود ہے۔ ان کی دینی خدمات کے اعتراف اور احترام کی وجہ سے جھیل اور اس تک آتی سڑک ان کے نام سے منسلک کر کے اس جھیل کا نام رتی گلی برکاتیہ جھیل رکھا گیا۔
رتی گلی جھیل وادی نیلم میں واقع الپائن گلیشئل لیک ہے یعنی اس کے پانیوں کا ماخذ و منبع اس علاقے میں موجود گلیشئیرز ہیں۔
یہ جھیل مظفرآباد کی جنوبی سمت قریباً 75 کلو میٹر کی مسافت پر وادی نیلم روڈ پر دواریاں کے مقام سے قابلِ رسائی ہے۔ جو کہ دواریاں سے 16 کلو میٹر جیپ ٹریک کے بعد بیس کیمپ تک پہنچاتی ہے۔
بیس کیمپ سے جھیل تک ایک گھنٹے کے آسان پیدل ٹریک کے بعد پہنچا جا سکتا ہے۔
یہ جھیل سطح سمندر سے 12130 فٹ یا 3700 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔
یہ علاقے کا مشہور سیاحتی مقام ہے جہاں تمام سہولیات موجود ہیں۔ بیس کیمپ پر ایک بڑی کیمپنگ سائٹ موجود ہے جہاں مناسب داموں خیمہ اور خوراک، بجلی اور وائی فائی دستیاب ہے نیز گھڑ سواری کے شوقین افراد کیلئے جھیل تک جانے کیلئے گھڑ سواری کی سہولت موجود ہے۔ یاد رہے کہ یہ جھیل علاقے کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ جس کے اطراف میں چھبیس دیگر چھوٹی بڑی جھیلیں موجود ہیں۔ نیز اس جھیل کے پانی سے چار واٹر فال بنتی ہیں۔
2) رتی گلی سمال ❤
رتی گلی بیس کیمپ سے 10 ، 15 منٹ کی پیدل مسافت پر یہ جھیل سریاں سر کہلاتی ہے۔ اس جگہ پانی کے بہت سے حوض/ ذخیرے ہیں جنہیں مقامی زبان میں سر کہتے ہیں۔ اسی نسبت سے یہ جگہ سریاں سر کہلاتی ہے۔ اس جگہ ایک واٹر فال اور مقامی ڈھوک اور ڈھارے موجود ہیں جہاں مقامی لوگ موسم گرما کے دوران رہائش رکھتے ہیں۔
3) ہنس راج جھیل ❤
یہ جھیل بھی وادی نیلم آزاد کشمیر میں واقع ہے۔ اصل میں اس جھیل کا مقامی نام رتہ سر تھا اور وجہ نام اس کے اطراف موجود لال رنگ کے پہاڑ ہیں۔ نیز اس علاقے میں لال بُتی پیک بھی موجود ہے جسے برطانیہ راج کے دوران جغرافیے کے سروے میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس علاقے میں تین لا بُتی پیکس ہیں ایک رتی گلی، دوسری سرگن اور تیسری کیل کے مقام پر ہے۔
ہنس راج نام کی وجہ شہرت پاکستان کے سب سے بڑے سفر نامہ نگار اور سیاح سر مستنصر حسین تارڑ جب اس جھیل پر آے تو اس میں تیرتے گلیشیئر کے ٹکڑوں کو تیرتے ہنس راج سے مشابہہ قرار دیا اور اسے ہنس راج لکھا اور یہ جھیل ہنس راج جھیل مشہور ہوئی۔ تب سے یہ جھیل ہنس راج جھیل ہی کہلاتی ہے۔
رتی گلی جھیل بیس کیمپ سے لگ بھگ ڈیڑھ، دو گھنٹے کی مسافت پر واقع یہ جھیل رتی گلی اور نوری ٹاپ کے درمیان قریباً 3900 میٹر بلند رتی گلی پاس پر واقع ہے۔ جس کے دوسری جانب براستہ سرال لیک وادی کاغان کا دودی پت سر کا ٹریک بھی کیا جا سکتا ہے۔
موسم سرما میں یہ جھیل بھی وادی نیلم کی دیگر جھیلوں کی مانند برف سے ڈھک جاتی ہے۔
4) کالا سر جھیل ❤
وادی نیلم میں تین جھیلیں کالا سر 1، کالا سر 2 اور کالا سر 3 کے نام سے مشہور ہیں۔
ہنس راج جھیل سے کالاسر1 ایک گھنٹے کی پیدل مسافت پر ہے کالا سر 2 کیلئے مزید ایک گھنٹے کا ٹریک جبکہ کالا سر 3 کیلئے مزید کچھ اونچائی کی جانب ٹریک کرنا ہوتا ہے۔
کالا سر 3 سے ہی آپ کو گھٹیاں لیک کا ویو بھی مل سکتا ہے بشرطیکہ آپ کسی مقامی گائیڈ کی رہنمائی لیں۔ رات کیلئے آپ کو واپس رتی گلی بیس کیمپ آنا پڑے گا یا پرائیویٹ کیمپنگ لیکن اسکے لئے بھی مقامی گائیڈ آپ کو بہتر طور پر گائیڈ کر سکتے ہیں ۔
5) گھٹیاں جھیل ❤
رتی گلی بیس کیمپ سے لگ بھگ چار گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ ٹریک رتی گلی سے ہنس راج، کالا سر لیک سے ہوتا ہوا گھٹیاں جھیل تک پہنچتا ہے۔ یعنی کے مناسب ٹور گائیڈنس سے ایک ہی ٹور میں یہ تینوں جھیلیں با آسانی دیکھی جا سکتی ہیں۔
گھٹیاں لیک کا ویو تو آپ کو کالا سر سے ہی با آسانی مل جاے گا جبکہ رتی گلی کے پچھلے پہاڑ کے ٹاپ سے بھی گھٹیاں اور نانگا پربت کے درشن مل سکتے ہیں۔
جبکہ نوری ٹاپ کے آخر پر شاردہ یا سرگن سے آنے والے برج یا نالے کے ساتھ ساتھ ٹریک کریں تو وہ راستہ چار سے پانچ گھنٹے کے ٹریک کے بعد آپ کو گھٹیاں لیک تک پہنچائے گا۔ یہاں بھی تین جھیلیں گھٹیاں کے نام سے موجود ہیں۔ جنکی شناخت گھٹیاں 1،2،3 کے نام سے کی جاتی ہے ۔ 1،2 کا، ویو کلئیر ملتا، ہے جبکہ تیسری کیلئے کچھ بلندی تک ہائیک کرنا پڑتی ہے۔ اس کا مقامی نام ڈونگا سر یا ڈونگا ناڑ بھی ہے۔
6) سرال لیک ❤
یہ جھیل بھی وادی نیلم کا حصہ ہے جو سطح سمندر سے 13600 فٹ یا 4100 میٹر بلند ہے۔ یہاں تک پہنچنے کیلئے کئی راستے مستعمل ہیں۔
پہلا راستہ بیسل اور دودی پت سر اور وہاں سے سرال تک آتا ہے۔ یہ راستہ کم استعمال ہوتا ہے اور اس راستے سے آنے والے اکثر سرال ویو پوائنٹ سے ہی واپس ہو لیتے ہیں۔ کیونکہ اس کے لئے ایک دفعہ اترائی میں اترنا اور پھر چڑھائی چڑھ کر جھیل تک پہنچنا پڑتا ہے۔
دوسرا راستہ جلکھڈ، نوری ٹاپ سے میاں صاحب روڈ سے سرال تک آتا ہے یہ وہیں دودی پت سر والے ٹریک پر مل جاتا ہے۔
تیسرا راستہ نوری ٹاپ پر سامنے سے آنے والے نالے کے ساتھ کشمیر والی سائیڈ پر آتا ہے، اسے کرنے کیلئے گھوڑے بھی مل جاتے ہیں اور پیدل ٹریک بھی کیا جاتا ہے۔
چوتھا راستہ گموٹ نالے کے ساتھ ساتھ چلتے آئیں تو یہ آپ کو سرال لیک تک پہنچا دے گا۔ گموٹ نالہ بنیادی طور پر سرال سے ہی آ رہا ہے۔
7) مون لیک ❤
مون لیک کا راستہ بھی سرال لیک سے جاتا ہے۔ سرال سے بائیں جانب ٹریک ہے جسے سرال کے ساتھ ہی ایک دن میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسے مقامی گائیڈ کی معیت میں کریں۔ گموٹ اور جبہ کی بیک سائیڈ سے بھی یہاں پہنچ سکتے ہیں۔
8) رام چکور / چھر والی لیک ❤
یہ جھیل بھی سرال وادی میں چار سے پانچ گھنٹے کی پیدل مسافت پر واقع ہے۔ 2019 میں مقامی گائیڈز کی ٹیم نے پانچ جھیلوں کے ٹریک دریافت کیے یہ جھیل ان میں سے ایک ہے۔ رام چکور کی بہتات کی وجہ سے اسے رام چکور لیک بھی کہتے ہیں جبکہ مقامی نام پھرڑ ناڑ ہے۔ پھرڑ بھی مقامی زبان میں چکور کو کہا جاتا ہے۔ گموٹ، جبہ بیک اور سرگن کے راستے بھی یہاں تک پہنچا جا سکتا ہے ۔
9) مُلاں والی جھیل ❤
مُلاں والی جھیل جسے مُلاں والی ناڑ بھی کہتے ہیں یہ بھی مون جھیل اور رام چکور جھیل کے قریب واقع ہے۔
نوٹ: مون جھیل، رام چکور جھیل اور ملاں والی جھیل ایک ساتھ بھی کی جا سکتی ہیں جا میں ایک نائٹ کیمپ شامل ہو گا اور کسی پریشانی سے بچنے کیلئے مقامی گائیڈ کی معیت میں با آسانی کیا جا سکتا ہے۔
10) بٹ کنالی جھیل ❤
جاگراں سے شال تک گاڑی کے سفر کے بعد 7-8 گھنٹے کا پیدل ٹریک ڈھوک کنڈی نامی جگہ سے اوپر اٹھتا ہے اور ڈھوک بٹ کنالی تک پہنچاتا ہے جہاں سے ملاں والی جھیل کا راستہ قریباً ڈیڑھ کلو میٹر کا پیدل ٹریک بنتا ہے۔
11) شاونٹر جھیل ❤
یہ جھیل شاؤنٹر ویلی نیلم آزاد کشمیر میں واقع ہے یہ جھیل سطح سمندر سے 3100 میٹر یا 10200 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہ جھیل برفپوش پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے اور اس جھیل کے پانیوں کا منبع بھی انہی پہاڑوں کے درمیان موجود گلیشئیرز ہیں۔
یہ جھیل سپون لیک بھی کہلاتی ہے، وجہ تسمیہ اس کی شکل کا سپون یعنی چمچ سے مشابہہ ہونا ہے اور کیل سے بذریعہ جیپ با آسانی اس جھیل تک پہنچا جا سکتا ہے۔ جس جگہ روڈ ختم ہوتی وہاں شاؤنٹر واٹر فال کے ساتھ یہ جھیل موجود ہے۔ اسے مقامی طور پر بٹار لیک بھی کہتے ہیں ۔
12) چٹہ کٹھا سر ❤
یہ جھیل بھی شاؤنٹر ویلی میں واقع ہے۔ 13500 فٹ یا 4100 میٹر کی بلندی پر واقع یہ ایک خوبصورت جھیل ہے جس تک پہنچنے کا راستہ دلفریب ہونے کے ساتھ ساتھ دشوار گزار بھی ہے۔ بیس کیمپ سے ڈک ون اور ٹو نام کے دو پڑاؤ اسکی سحر انگیزی میں اضافہ کرتے ہیں۔ کیل سے 20 کلوميٹر کا جیپ ٹریک آپ کو اس کے بیس کیمپ حوض نیلم نامی گاؤں تک پہنچاتا ہے، جو چٹہ کٹھا کا بیس کیمپ شمار ہوتا ہت۔ جسکے بعد 5 کلومیٹر کا پیدل مگر سخت چڑھائی والا راستہ اس جھیل تک پہنچاتا ہے۔
عموماً مقامی دس سے بارہ گھنٹے میں آنا جانا کر لیتے ہیں جبکہ سیاح ایک طرف کا بارہ گھنٹے بھی لگاتے ہیں۔
بہتر یہ ہے کہ بیس کیمپ سے ڈک 2 تک ایک دن میں کریں اگلے دن ڈک 2 سے جھیل تک جائیں اور واپسی اپنی سہولت کی مناسبت اور وقت کو دیکھ کر ترتیب دیں۔
چٹہ کٹھہ سر سے ہری پربت کا دل موہ لینے والا نظارہ ہے مزید یہ کہ اب تک کوئی اس چوٹی کو سر نہیں کر سکا۔ یہ اس علاقے کی تیسری بلند چوٹی ہے پہلے نمبر پر سِروالی، دوسرے نمبر پر توشِیرہ وانگ کا، سلسلہ اور تیسرےپر ہری پربت ہے۔
یہاں نیچے وادی میں ایک جھیل چٹہ کٹھہ 2 کے نام کی بھی ہے۔
مزید لنڈا سر 1،2 ایک سے دو گھنٹے کی مسافت پر، پنج کھٹیاں اور چند غیر معروف بے نام جھیلیں بھی اس علاقے میں موجود ہیں۔
13) چٹہ کٹھا 2 ❤
ہری پربت کے عین نیچے سے بائیں جانب ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ کی پیدل مسافت چٹہ کٹھہ 2 تک پہنچاتی ہے۔
14) بنجوسہ جھیل ❤
بنجوسہ جھیل راولا کوٹ سے 18 کلو میٹر کی مسافت پر پونچھ ڈسٹرکٹ میں واقع ایک مصنوعی جھیل ہے۔ یہ ایک مشہور سیاحتی مقام ہے اور با آسانی ہر سیاح کی پہنچ میں ہے۔ یہ ایک گھنے جنگل میں واقع ہے۔ یہاں ایک ریسٹ ہاوس بھی موجود ہے۔ 3.9 کلومیٹر طویل ، 2 کلومیٹر وسیع اور 52 میٹر گہری یہ جھیل 1981 میٹر یا 6499 فٹ بلندی پر واقع ہے۔
15) باغسر جھیل ❤
یہ جھیل وادی سماہنی، بھمبر میں لائن آف کنٹرول کے قریب باغسر قلعہ کے قریب واقع ہے۔
یہ قلعہ مغلوں کے زیرِ تسلط اور شاندار تاریخی حیثیت کا حامل رہا ہے۔
سطح سمندر سے 975 میٹر بلند یہ جھیل قریباً نصف کلومیٹر طوالت کی حامل ہے۔ یہ جھیل سرمائی موسموں کے مہاجر پرندوں اور اپنے کنول کے پھولوں کی وجہ سے مشہور ہے۔
اس جھیل کی ایک اور وجہ نام اس کی شکل کو پاکستان کے نقشے سے کسی حد تک مماثلت بھی قرار دی جاتی ہے۔
یہ علاقہ چیڑھ کے درختوں اور جا بجا کھلے واٹر للیز یعنی کنول کے پھولوں سے بھرا پڑا ہے۔
16) سُبڑی لیک، لنگر پورہ جھیل ❤
سُبڑی لیک یا لنگر پورہ جھیل مظفر آباد کے جنوب مشرق کی سمت قریباً 10 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ یہ جھیل عین اس مقام پر واقع ہے جہاں دریاے جہلم کا پاٹ وسیع ہوتا ہے۔ یہ جھیل مظفرآباد - چکوٹھی روڈ کے زریعے با آسانی رسائی رکھتی ہے۔
(اس جھیل کی تصدیق اور تصاویر اگر کوئی کر سکے تو ضرور شئیر کرے ۔۔۔ گوگل پر انفارمیشن موجود ہے مگر مجھے ابھی تک کوئی ملا نہیں جو تصدیق کر سکے یا کسی کے پاس تصاویر ہوں)
17) زلزال جھیل ❤
یہ جھیل 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے نتیجے میں دو پہاڑوں کے مل جانے اور چار گاؤں بھٹ شیر، لودھی آباد، کُرلی اور پدر کے صفحہ ہستی سے مٹ جانے اور پانی کی قدرتی گزرگاہ بلاک ہو جانے سے معرضِ وجود میں آئی۔
یہ جھیل چکار اور بنی حافظ کے درمیان واقع ہے۔ یہ جھیل 3.5 کلومیٹر طویل، اور 350 فٹ گہری ہے۔ سطح سمندر سے 1828 میٹر بلندی پر واقع ہے۔
اس جھیل کو گنگا چوٹی، سدھن گلی جاتے یا چکار گیسٹ ہاؤس میں رہائش کے دوران باآسانی وزٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس جھیل کے قریب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کا ریسٹ ہاؤس بھی موجود ہے۔
18) پَتلیاں جھیل ❤
اس جھیل کا راستہ لوات نالہ سے جاتا ہے۔ دواریاں سے 3 گھنٹے کی جیپ ڈرائیو اور آدھ گھنٹے پیدل ٹریک کے بعد آپ یہاں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے قرب و جوار میں بھی تین، چار چھوٹی بڑی جھیلیں اور ان گنت واٹر فال ہیں جن میں جھاگ چھمبر اور کنالی واٹر فال مشہور ہیں۔
مین پتلیاں جھیل سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ایک جھیل پتلیاں ٹو کے نام سے بھی منسوب ہے۔
19) مائی ناردہ جھیل ❤
یہ جھیل ہندؤوں کیلئے مقدس مقام ہے اور ان کے اشنان کی جگہ ہے۔ شاردہ سے دو سے تین دن کے پیدل ٹریک کے بعد اس جھیل تک پہنچا جا سکتا ہے۔ لگ بھگ 14000 فٹ کی بلندی پر یہ جھیل واقع ہے۔
20) نوری جھیل ❤
یہ جھیل عین نوری ٹاپ پر واقع ہے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اسکے آگے ایک بہت بڑی واٹر فال موجود ہے ۔
21 ) کھرگام جھیل ❤
یہ جھیل رتی گلی کے پیچھے واقع ہے۔ رتی گلی کے پچھلے پہاڑ میں جو شگاف نظر آتا ہے اسکے اوپر کھرگام جھیل ہے۔ یہ نسبتاً دشوار اور سخت پتھریلا راستہ ہے جو صرف پروفیشنل ٹریکرز اور ہائیکرز کیلئے موزوں ہے۔
22) ڈک جھیل ❤
جانوئی کے مقام سے ڈک جھیل کا ٹریک شروع ہوتا ہے۔ چٹہ کٹھہ جھیل کے ٹریک سے مماثلت رکھتا یہ ٹریک ایک جانب لگ بھگ 8-9 گھنٹے کا پیدل ٹریک ہے۔ کیمپنگ کا سامان ساتھ لے جائیں اس علاقے میں کوئی کیمپ سائٹ نہیں۔
اسکے علاوہ گجر ناڑ اور شکر گڑھ کی جھیلیں اب تک ان ایکسپلورڈ ہیں۔
گال ویلی میں بھی 11 جھیلیں ہیں جو نیلم ویلی میں آتی ہیں۔ علاوه ازیں سندر نکہ، ہولا بیک اور کالا جندر کے خوبصورت علاقے بھی متعدد جھیلوں اور آبشاروں کے حامل ہیں۔
جولائی تا اکتوبر یہ جھیلیں وزٹ کرنے کا موسم شمار ہوتا ہے۔ اس کے بعد کم و بیش اکثریتی علاقے برف سے ڈھک جاتے ہیں۔ ان کی لمبائی، چوڑائی یا گہرائی کی تاحال کسی مستند زرائع سے پیمائش نہیں کی گئی، زیادہ تر گلیشئیل جھیلوں کے بانی کم زیادہ ہوتے رہتے ہیں۔ ان تمام جھیلوں میں تیراکی کا خطرہ مول نہ لیں۔ نیز کیمپنگ کیلئے بھی مناسب رہنمائی اور مقامی گائیڈ کاساتھ ہونا ضروری ہے۔
لال بُتی پیکس برطانوی راج کے زمانے میں جغرافیائی سروے کیلئے استعمال ہوئیں، جن کے نشان اب بھی باقی ہیں۔ علاقے میں تین لال بُتی پیکس رتی گلی، سرگن اور کیل کے علاقے میں ہیں اسکے علاوہ ڈاک بنگلہ رتی گلی موہری اور گورا قبرستان رتی گلی بھی موجود ہیں جو اس زمانے میں برطانوی فوجیوں/ افسروں کی رہائش اور اموات کی صورت میں تدفین کے علاقے تھے۔
کشن گھاٹی غار شاردہ میں موجود ہے اس کا زمانہ قریباً 5000 سال پرانا بتایا جاتا ہے اور یہ بدھ مت اور ہندووں کی عبادت گاہ کے طور پر استعمال ہوئی۔

Explore The Heaven With Us
Explore The Nature With Us

Different Country Borders
10/04/2022

Different Country Borders

نیلم ویلی کی سیر و تفریح کرنے کا آسان طریقہ: نیلم ویلی آزاد کشمیر کی سیاحت کا ارادہ رکھنے والے سیاح حضرات کی معلومات کے ...
25/03/2022

نیلم ویلی کی سیر و تفریح کرنے کا آسان طریقہ:
نیلم ویلی آزاد کشمیر کی سیاحت کا ارادہ رکھنے والے سیاح حضرات کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ پاکستان کے کسی بھی شہر سے نیلم ویلی آنے کے لیے اسلام آباد سے براستہ ایکسپریس ہائی وے مری سے ہوتے ہوئے آئیں۔ ایکسپریس ہائی وے کے اختتام پر بائیں جانب مری روڈ کے ذریعے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کا سفر جاری رکھیں۔ (ہزارہ سے آنے والے معزز مہمان ہزارہ موٹر وے کا استعمال کریں)
خبردار- (اسلام آباد سے تقریباً 2 گھنٹے کے فاصلے پر نیلم پوائنٹ کے نام سے دریائے جہلم کے کنارے سیاحوں کو نیلم ویلی کا دھوکہ دینے کے لیے ایک کاروباری مرکز کھلا ہوا ہے جس کا آزاد کشمیر یا نیلم ویلی سے سرے سے کوئی تعلق نہیں ہے، یاد رکھیں یہ جگہ آزاد کشمیر یا نیلم ویلی قطعاً نہیں ہے. لہٰذا دھوکہ کھانے سے بچیں)
اسی مقام کے پاس کوہالہ پل کراس کرنے کے بعد ریاست آزاد جموں و کشمیر کا آغاز ہوتا ہے۔ کوہالہ سے تقریباً ایک گھنٹہ کے فاصلے پر مظفرآباد شہر واقع ہے۔ سیاح حضرات اپنے وقت کے حساب سے فیصلہ کر لیں کہ انہوں نے رات مظفرآباد میں قیام کرنا ہے یا نیلم ویلی کی طرف نکلنا ہے۔ عموماً رات کے وقت نیلم ویلی کا سفر سیاحوں کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ اگر آپ شام کے وقت مظفرآباد پہنچے ہیں تو رات مظفرآباد میں قیام کیجئے۔ مظفرآباد شہر میں 1500/2000 روپے فی کمرہ سے لے کر پی- سی ہوٹل تک ہر معیار کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز موجود ہیں۔ اگر آپ دن کے وقت مظفرآباد پہنچے ہیں اور آپ کا ارادہ آگے بڑھنے کا ہے تو مظفرآباد شہر کی مرکزی شاہراہ یا براستہ نلوچھی گوجرہ بائی پاس روڈ چہلہ بانڈی کی طرف نکل جائیں ۔ چہلہ بانڈی سے نکل کر آپکا نیلم ویلی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ راستے میں مختلف ٹورسٹ پوائنٹس (دھنی واٹرفال، نیلم جہلم ڈیم، لائین آف کنٹرول چلہانہ کا وزٹ کرتے ہوئے تقریباً 3 گھنٹے بعد آپ کنڈل شاہی پہنچ جائیں گے. کنڈل شاہی واٹرفال وزٹ کرنے کے بعد رات کا قیام کنڈل شاہی، کٹن یا آٹھمقام کریں. ان مقامات پر متعدد گیسٹ ہاؤسز سیاحوں کی رہائش کے لیے موجود ہیں۔ اگر آپ کے پاس وقت ہے یا ان جگہوں پر رہائش کے لیے جگہ موجود نہیں تو آپ آٹھمقام سے 35 منٹس کے فاصلے پر کیرن یا پھر اپر نیلم کے مقام پر بھی قیام کر سکتے ہیں۔ اپر نیلم گاؤں کو نیلم ویلی کی سیاحت میں ایک خاص مقام حاصل ہے جو کہ اسکی خوبصورتی اور لائن آف کنٹرول کے بالکل سامنے ہونے کی وجہ سے ہے.
رات کے قیام کے بعد اگلی صبح ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد اگر آپکا ارادہ رتی گلی جھیل کا ہے تو کیرن سے تقریباً 30 منٹس کے فاصلے پر دواریاں گاؤں سے ایک لنک روڈ رتی گلی جھیل کی طرف جاتی ہے۔ اگر آپ کے پاس اپنی 4WD گاڑی نہیں ہے تو دواریاں سے جیپ کرائے پر لے لیں جو تقریباً 7 سے 8 ہزار روپے میں مل جاتی ہے۔ اگر آپکا پیدل ٹریکنگ کا ارادہ ہے تو اپنے ساتھ انرجی فوڈز جیسے انرجی بسکٹ، انسٹنٹ پاؤدر جوسز، دودھ وغیرہ لازمی رکھیں۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر کی سوغات کلچہ بھی کافی کار آمد رہتا ہے۔ اگر آپ کے پاس اپنی 4WD گاڑی ہے تو بھی کوشش کریں کہ دواریاں سے کسی مقامی ڈرائیور کو ساتھ رکھ لیں جو مناسب دیہاڑی پر مل جائے گا۔ رتی گلی روڈ پر نا تجربہ کار حضرات خود ڈرائیونگ سے گریز کریں۔
دواریاں سے رتی گلی بیس کیمپ جہاں تک گاڑیاں جا سکتی ہیں تقریباً 18 کلومیٹر پر مشتمل ہے اور یہ 18 کلو میٹر کا فاصلہ تقریباً 2.5 سے 3 گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ رات قیام رتی گلی بیس کیمپ میں کریں جہاں آپ اپنے ٹینٹ بھی لگا سکتے ہیں، بصورت دیگر بیس کیمپ میں مناسب کرائے پر ٹینٹ دستیاب ہوتے ہیں۔ رتی گلی بیس کیمپ میں رات کے قیام کے بعد صبح بیس کیمپ سے رتی گلی جھیل کی طرف پیدل ٹریکنگ کریں، بیس کیمپ سے رتی گلی جھیل تقریباً 40 منٹ کے فاصلے پر ہے۔ اپنی زندگی کا حسین ترین دن رتی گلی جھیل پر گزار کر دن کو موسم کی صورتحال کا اندازہ کرنے کے بعد 12 بجے تک واپس بیس کیمپ پہنچیں اور پھر واپس دواریاں کا سفر شروع کر دیں. دواریاں پہنچ کر شاردہ کے لیے نکل جائیں۔ دواریاں سے شاردہ کا فاصلہ تقریباً 2 گھنٹے کا ہے۔ یاد رکھیں دواریاں سے آگے سڑک کی صورتحال زیادہ اچھی نہیں ہے، لہٰذا محتاط ڈرائیونگ کریں۔ رات کا قیام شاردہ میں کریں، جہاں بہت سے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز موجود ہیں۔ اگر آپ کے پاس وقت ہے اور آپ کا آگے جانے کا ارادہ ہے تو انتہائی محتاط ڈرائیونگ کرتے ہوئے آپ شاردہ سے تقریباً 1.5 گھنٹے کے بعد کیل پہنچ جائیں گے، اپنی گاڑی پارکنگ میں کھڑی کریں اور کیل سے بذریعہ چیئرلفٹ اڑنگ کیل کے لیے روانہ ہو جائیں. چیئرلفٹ کے بعد تقریباً 35 سے 40 منٹس کا ہائیکنگ ہے. (یاد رکھیں کہ چیئرلفٹ اکثر مغرب سے پہلے پہلے بند ہو جاتی ہے)
رات قیام اڑنگ کیل کریں اور صبح سویرے اٹھ کر خوبصورت وادی کا نظارہ کریں۔ اس کے بعد کیل واپس آکر کیل سے بذریعہ جیپ یا ذاتی 4WD گاڑی تاؤبٹ کے لیے نکل جائیں۔ کیل سے تاؤبٹ کا فاصلہ 40 کلومیٹر کے لگ بھگ ہے جو تقریباً 3 گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے۔ کوشش کریں رات قیام تاؤبٹ کے پرفضا مقام پر ہی کریں، اگر آپکا ارادہ واپسی کا ہے تو دن کو تقریباً 2 بجے واپس کیل کی جانب نکل آئیں۔ کوشش کریں رات واپس کنڈل شاہی یا کٹن پہنچ جائیں.
رات قیام کے بعد اگلی صبح اٹھیں اور براستہ جاگراں بابون ویلی کی طرف نکل جائیں. جاگراں تک آپ کی اپنی کار جا سکتی ہے یا پھر آپ کٹن سے ہی 4WD گاڑی لے جائیں جو کہ 7 سے 8 ہزار تک مل جائے گی. آپ آدھے گھنٹے میں جاگراں پہنچ جائیں گے. جاگراں سے تقریباً 2 گھنٹے میں آپ بابون ویلی پہنچ جائیں گے اور پہنچتے ساتھ ہی آپ کی زبان سے پہلا لفظ جو نکلے گا وہ کچھ یوں ہو گا.
''واہ بابون تیری کیا بات ہے''
دن بھر اللہ پاک کی قدرت کے نظارے کرنے کے بعد رات واپس قیام کٹن کریں.
اگلی صبح ناشتہ کرنے کے بعد کنڈل شاہی واٹرفال کے نظارے کرتے ہوئے واپسی کا سفر شروع کر دیں. اللہ تعالیٰ آپ کا نگہبان ہو

کچھ ضروری گزارشات:
1. کیونکہ نیلم ویلی پہاڑی علاقہ ہے، انتہائی احتیاط کے ساتھ ڈرائیونگ کریں. اور سپیشلی نیند کی حالت میں مسلسل ڈرائیو کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
2. نیلم ویلی آتے وقت اپنی ضرورت کے مطابق گرم شال، گرم کپڑے، جیکٹ، ٹوپی، دستانے اور جرابیں ضرور ساتھ رکھیں۔
3. چونکہ نیلم ویلی میں ہسپتال وغیرہ تک جلدی پہنچنا ممکن نہیں ہے اس لیے اپنے ساتھ ایمرجنسی میڈیسنز جیسے بخار، زکام، دست، الٹی، قبض وغیرہ کی ادویات، پٹیاں اور پائیوڈین وغیرہ بھی ساتھ رکھیں۔
4. رتی گلی اور بابون ویلی سطح سمندر سے انتہائی بلندی پر واقع ہے لہٰذا اپنی جلد کو الٹرا وائیلٹ شعاؤں سے بچانے کے لیے اچھے معیار کی سن بلاک کریمز ضرور ساتھ رکھیں۔
5. دریائے نیلم کی موجیں انتہائی طاقتور اور خطرناک ہیں لہٰذا دریا، ندی نالوں میں اترنے سے گریز کریں، ایک سیلفی یا کسی بھی نالے یا لکڑی کے پل پر ایک تصویر کا شوق آپ کی جان لے سکتا ہے۔ اپنی اور اپنے پیاروں کی جان کی حفاظت کریں۔
6. کسی بھی علاقے کی سیر کے دوران اس علاقے کے قدرتی حسن کا خیال کریں اور اپنے ساتھ لائی ہوئی کھانے پینے کی اشیا کے ریپرز کو وہاں پھینکنے کے بجائے کسی شاپنگ بیگ میں رکھ کر اپنے ساتھ واپس لے جا کر کسی مخصوص جگہ پر ڈسپوز کریں اور باشعور شہری ہونے کا ثبوت دیں۔
7. کسی بھی علاقے کی سیر کے دوران وہاں کے مقامی لوگوں کی عزت اور پرائیویسی کا خیال رکھیں اور بغیر اجازت کسی گھر یا عورت کی تصویر نہ بنائیں، یہ آپ کے لیئے جھگڑے اور بدمزگی کا سبب بن سکتا ہے۔
8. یہ کہ 4WD گاڑی کے علاوہ کوئی بھی گاڑی کچی یا سولنگ والی سڑکوں پر لے جانے کی کوشش مت کریں کیونکہ یہ آپکی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔۔
نوٹ: یہ ایک جنرل ٹور ہے باقی بھی اس کے علاوہ بہت ساری جگہیں ہیں وزٹ کرنے کے لیے جن میں شونٹھر ویلی، چٹہ کٹھہ جھیل، پتلیاں جھیل، گٹیاں جھیل، سرال جھیل وغیرہ قابل ذکر ہیں.
ہم نیلم ویلینز تمام معزز مہمانوں کو دل کی گہرائیوں سے نیلم ویلی آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں

تحریر :وقار احمد قریشی.
نیلم ویلی کشمیر یا دیگر کسی بھی شمالی علاقے کا ٹور کرنے کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں۔

ر•وس-یوکر•ین جنگ۔۔۔۔ پہلے دن کی مکمل رپورٹ !( ستونت کور )24 فروری 2022 کی صبح 6 بجے کے قریب ر•وسی افواج نے یوکر•ین پر حم...
24/02/2022

ر•وس-یوکر•ین جنگ۔۔۔۔ پہلے دن کی مکمل رپورٹ !
( ستونت کور )
24 فروری 2022 کی صبح 6 بجے کے قریب ر•وسی افواج نے یوکر•ین پر حملے کا آغاز کیا ۔
حملے کی شروعات پورے یوکر•ین میں 30 کے قریب مقامات کی جانب درجنوں بیلسٹک و کروز میزائل داغنے سے کی گئی جن میں دارالحکومت کیئف سر فہرست ہے۔
۔
ر•سی افواج درج ذیل محاذوں سے یوکر•ین پر حملہ آور ہوئیں :
محاذ اول - ڈونیسک ، لوہانسک اور خارکیو۔
محاذ دوم - بحیرہ ازاو۔
محاذ سوم - کیئف براستہ بیلاروس۔
محاذ چہارم- خرسون براستہ کرائمیا۔
۔
حملے کی پہلی لہر کے ساتھ ہی ر•وسی فضائیہ کے طیاروں اور گنشپ ہیلی کاپٹروں نے یوکر•ینی اہداف پر بمباری کا آغاز کردیا ۔
صبح 7:40 پر ر•وس نے بحیرہ ازاو کے راستے میریوپول کے ساحلوں پر اپنی فوجیں اتاردیں اور دوپہر کے اوقات میں خارکیو کی فضاوں میں ر•وسی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بڑی تعداد میں پیراٹروپرز کو اتارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔
۔
یوکر•ین کے صدر مملکت ولادی میر زلنسکی نے ملک میں مارشل لاء کا نفاذ کرتے ہوئے عوام کو نفیر عامہ کی ترغیب دی ہے۔۔۔۔زلنسکی نہ یہ بھی بتایا کہ یوکر•ینی افواج نے نہ صرف میریوپول کا اکثر علاقہ بازیاب کروالیا ہے بلکہ ڈونیسک، لوہانسک اور خارکیو میں زبردست جوابی کاروائی کرتے ہوئے جا•رح ر•وسی افواج کے قدم بھی روک لیے ہیں۔
۔
شام 4 بجے ر•وسی افواج نے یوکر•ین کے تاریخی شہر "چرنوبل" پر حملہ کردیا جہاں اب تک جھڑپیں جاری ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نقصانات:
بات کی جائے پہلے دن کے نقصانات کی ، یوں تو ہر دو ممالک مسلسل ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کررہے ہیں تاہم نیوٹرل ذرائع کے مطابق ۔
یوکرین :
متعدد عسکری تنصیبات اور ائیرپورٹس جزوی یا کلی طور پر تباہ ۔
100+ عسکری اموات۔
1000+ زخمی۔
50+ سویلین اموات۔
سینکڑوں زخمی۔
1 عسکری ٹرانسپورٹ طیارہ کریش۔
1 ہیلی کاپٹر تباہ۔
4 ڈرونز تباہ۔
14 سپاہی گرفتار۔
۔۔۔۔۔
روس :
100+ فوجی اموات۔
سینکڑوں زخمی۔
6 طیارے مار گرائے گئے۔
3 ہیلی کاپٹر تباہ۔
4 ٹینک تباہ۔
50 کے قریب جنگی گاڑیاں تباہ یا شدید ڈیمج۔
10 کے قریب فوجی گرفتار۔
لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال سے آگاہ رہنے کے لیے ہمارے ساتھ رہیں۔۔۔

تریگام سے تہاڑ تک جدوجہد کا لازوال سفر تحریر  شمیم خانعظیم یونانی فلسفی سقراط کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے اپنے ...
11/02/2022

تریگام سے تہاڑ تک

جدوجہد کا لازوال سفر

تحریر شمیم خان

عظیم یونانی فلسفی سقراط کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے اپنے مقدمے کی پیروی خود کی اور اپنے بیان کے ابتدائیہ میں کہا
جیوری میں شامل کوئی شخص مجھے یہ کہہ سکتا ہیکہ میرا طرز عمل باعث شرم ہے جسکے نتیجے میں آج مجھے موت کا سامنا ہے میرا جواب یہ ہیکہ اگر تم سب یہ سمجھتے ہو کہ کسی شخص میں اگر سچ بولنے کی طاقت ہے اسے زندگی اور موت کا حساب رکھنا چاہیے تو میرے نزدیک یہ بات درست نہیں
سچے انقلابی کو موت سے خوفزدہ ہونے کی بجائے یہ فکر کرنی چاہیے کہ اسکا موقف درست ہے یا غلط
سقراط کی کہی اس بات کو ہر زمانے کے انقلابیوں نے ایک روایت کے طور پر زندہ رکھا اور موت سے خوفزدہ ہونے کی بجائے مسکرا کر موت کو گلے لگایا عین اسی طرح جسطرح سقراط نے ہر پیشکش ٹھکرا کر زہر کا پیالہ پی کر موت کا استقبال کیا تھا
تاریخ انسانی کے اوراق پر نظر دوڑائیے تو ایسے انسانوں کی ایک مالا نظر آئیگی جنھوں نے وقت کی روایات کے خلاف ہمیشہ علم بغاوت بلند کیا اور فکر اور سوچ کو نئی سمت عطا کی
سقراط سے حضرت عیسی' تک، ابوذر غفاری سے حسین ابن علی تک ، منصور سے سرمد تک چی گویرا سے بھگت سنگھ تک اور عمر مختار سے مقبول بٹ شہید تک انقلابیوں کی ایک ایسی لڑی جسکا ہر موتی انمول ہے جنکی موت کو چشم فلک بھی حیرت سے دیکھے
انھی انقلابیوں میں سے ایک مقبول بٹ شہید کا آج یوم شہادت ہے جسے 11 فروری 1984 کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک نے دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی چڑھا دیا
منقسم جموں کشمیر کا یہ عظیم بیٹا اپنی دھرتی سے محبت کے جرم میں سولی چڑھا دیا گیا
اٹھارہ فروری انیس سو اڑتیس کو تریگام ضلع بارہ مولا کہ ایک کسان گھرانے میں پیدا ہونے والا بچپن میں ہی ماں کی شفقت و محبت سے محروم ہو گی ہزاروں کشمیریوں کی طرح مقبول بٹ شہید کا خاندان بھی کسمپرسی کی زندگی گزار رہا تھا
مقبول بٹ شہید کی طبعیت ابتدا سے ہی باغیانہ راہوں پر چل پڑی اسکول میں امیر اور غریب بچوں کو الگ الگ بٹھانے پر مقبول بٹ نے احتجاج کے طور پر اسکول کی جانب سے دیا جانے والا ایوارڈ وصول کرنے سے انکار کر دیا یوں مقبول بٹ نے بہت کم عمری میں پرخار راہوں کا انتخاب کیا جس پر چلتے چلتے وہ ساری زمدگی لہولہان ہوتے رہے
ابتدائی تعلیم کے بعد مقبول بٹ نے سینٹ جوزف کالج سے گرئیجویشن کیا یہاں سے انھوں نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا اور اپنی جاندار تقاریر سے ہم عصروں کو متاثر کرتے رہے
سینٹ جوزف کالج کے پرنسپل جارج شنکس نے کہا تھا
This young man, if managed to pass through the hardships, will become a great person. But these types of people usually face extreme difficulties in society. The kind of freedom this type of youngsters demand is very hard to achieve. Subsequently, they get sacrificed on their way to freedom."

ایک زمانہ شناس شخص کے کہے ہوئے الفاظ حرف بہ حرف درست ثابت ہوئے مقبول بٹ شہید ایک ایسی ہی آزادی کا خواہاں تھا جسکا حصول مشکل تھا لیکن ایک انقلابی کسی کا کو ناممکن نہیں سمجھتا اور وہ جان کی پرواہ کیے بغیر جدوجہد کا راستہ اپناتا ہے اور اس راہ میں جان کی قربانی بھی دیتا ہے اور وہی مقبول بٹ شہید نے کیا
مقبول بٹ گریجویشن مکمل کرنے کے بعد اپنے چچا کے ہمراہ پاکستان چلے گئے اور وہاں ایک صحافی کے طور پر کام کرنے لگے ساتھ میں اپنی تعلیم بھی مکمل کی لیکن ایک انقلابی روح حالات سے سمجھوتہ نہ کر سکی اور سیاست کی پرخار راہوں کا انتخاب کیا محاذ رائے شماری کے بانیوں میں سے ایک مقبول بٹ بھی تھے پھر عسکری ونگ این ایل ایف بنائی اور بھارتی زیر انتظام کشمیر میں گوریالا کارروائیاں کرنے لگے گرفتار ہوئے اور انھیں سزائے موت سنائی گئی لیکن جیل توڑ کر فرار ہوئے اور ہفتوں کے پیدل سفر کے بعد آزاد کشمیر میں داخل ہوئے لیکن یہاں بھی جیل کی سلاخیں انکی منتظر تھیں انیس سو اکہتر میں بھارتی طیارے گنگا کے اغوا کے بعد شاہی قلعہ لاہور کے بدنام زمانہ عقوبت خانے میں پاکستانی ایجنسیوں اور پولیس کی فسطائیت کا جوانمردی سے سامنا کیا اور پھر لاہور ہائیکورٹ کے تاریخی فیصلے نے مقبول بٹ کی سچائی پر مہر ثبت کی اور وہ رہا ہو گئے مقبول بٹ شہید نے سیاسی جدوجہد کا انداز اپنانے کی کوشش کی اور محاذ رائے شماری کے پلیٹ فارم سے انتخابی سیاست کی لیکن ایک کالونی کے انتخابات کب کسی ایسے شخص کو قبول کرتے ہیں جو تہی دست ہو جو روایات کے خلاف ہو اور ایک جدید سوچ کا علمبردار ہو
مقبول بٹ بھی اس طرز سیاست سے دلبرداشتہ ہوئے اور پھر عسکری محاذ کا رخ کیا اور ایک بار پھر وادی کشمیر جا پہنچے لیکن بدقسمتی سے ایک بار پھر گرفتار ہوئے اور اس بار قابض بھارتی حکام ماضی کی غلطی دہرانا نہیں چاہتے تھے لہذا مقبول بٹ کو تہاڑ جیل دہلی منتقل کیا گیا جہاں گیارہ فروری انیس سو چوراسی کو انھیں پھانسی دی گئ
مقبول بٹ شہید کی زندگی بڑی پر آزمائش رہی سری نگر کے مہتاب باغ سے مظفراباد کے دلائی کیمپ تک اور لاہور کے شاہی قلعے سے دہلی کے تہاڑ جیل تک جدوجہد کا ایک ایسا لازوال سفر ہے جس پر جموں کشمیر کے ہر فرد کو فخر ہے مقبول بٹ ایک ایسا کردار جس کے معترف دشمن بھی ہیں ویسے تو مقبول بٹ شہید کی شہادت پر اس طرز کا ردعمل نہیں ہوا جسکے وہ مستحق تھے محض آزاد کشمیر میں ہی احتجاج کیا گیا لیکن بٹ شہید کی شہادت کے چند برس بعد وادی کشمیر یکدم تبدیل ہو گئی اور آگ و خون کی وہ ہولی کھیلی گئی کہ جسکی مثال ملنا مشکل ہے

معروف کشمیری حریت پسند اعظم انقلابی کہتے
two days before the ex*****on of Maqbool Bhat, India, Pakistan Foreign Secretary meeting was held in New Delhi and probably during the meeting Pakistan had given a green signal to India to go ahead with the ex*****on of Maqbool Bhat.
(Kashmir observer 12 Febraury 2015)
بٹ شہید کی شہادت
سے دو دن قبل نئی دہلی میں پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹریز کی ملاقات ہوئی اور غالب امکان یہی ہیکہ پاکستان کی طرف سے اس اقدام کے لیے بھارت کو گرین سگنل دیا گیا
اعظم انقلابی مزید لکھتے ہیں کہ

I love Pakistan and for me it is the only country in the world which feels the pain of Kashmiri people but that day I was shocked why it didn�t broadcast the news about Bhat�s hanging. Later on I came to know that Pakistan allowed India to hang Maqbool to make Kashmiri people feel that they are a subjugated lot,� claimed Azam Inqalabi.
(Kashmir observer 12 Febraury 2015
میں پاکستان سے محبت کرتا ہوں اور میری سوچ کے مطابق پاکستان وہ واحد ملک ہے جو کشمیریوں کی حمایت کرتا ہے لیکن اس دن جب مقبول بٹ کو پھانسی ہوئی تو جھٹکا لگا جب ریڈیو پاکستان نے رات آٹھ بجے کے بلیٹن میں مقبول بٹ کی پھانسی کو کوئی ذکر نہیں کیا بعد میں مجھے پتہ چلا کہ پاکستان کی رضامندی سے بھارت نے مقبول بٹ کو پھانسی دی
مقبول بٹ کی پھانسی پر وادی کشمیر میں کوئی خاص ردعمل نہیں ہوا سوائے عبدالغنی لون کے کسی صف اول کے لیڈر نے صدائے احتجاج بلند نہیں کیا
جماعت اسلامی بارمولہ کے ممبر اشرف ایڈووکیٹ نے بارمولہ میں احتجاج کیا جس پر جماعت کے امیر پیر صلاح الدین نے اشرف ایڈووکیٹ کی بنیادی رکنیت معطل کردی
ان سب ہتھکنڈوں کے باوجود مقبول بٹ شہید کی قربانی اور انکی شخصیت آزادی کا استعارہ بنکر ابھرا اور آج نہ صرف ریاست کے اندر بلکہ بیرونی دنیا جہاں جہاں ریاستی باشندے آباد ہیں اپنے اس قومی ہیرو کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں

مقبول بٹ کی شخصیت اور کردار کو خونی لکیر کے دونوں طرف قابضین نے داغدار کرنے کی بھرپور کوشش کی اور ہر طرح کا پروپیگنڈہ کیا انکی شخصیت کو کبھی دہشت گرد کبھی بھارتی اور پاکستانی ایجنٹ کبھی ڈاکو اور لٹیرا اور کبھی مجاہد بنا کر پیش کیا گیا لیکن ان سب ہتکھنڈوں کے باوجود ہر گزرتے دن مقبول بٹ کی شخصیت انکے نظریات اور انکی قربانی نکھر کر سامنے آتی رہی
تہاڑ جیل کے جیلر سنیل گپتا اپنی کتاب بلیک وارنٹ میں لکھتے ہیں
It was very clear that Maqbool was a political prisoner and he was treated as one too. Unlike others who would spend their time gossiping or trying to make trouble, all he did was read. When he took a break from reading, he would regale us with his discourse on Kashmir and why he was fighting for its freedom from India and Pakistan. Or he would tell us stories of his travels between India and Pakistan and the various adventures he undertook. It was fascinating and we were a bit in awe of this international figure, even though he was considered anti-India. We could see why he had a massive following in Kashmir and abroad
(Black Warrant by Sunil Gupta)

مقبول بٹ ایک سیاسی قیدی تھا اور پاکستان اور ہندوستان سے آزادی کا خواہاں تھا دوسروں کے برعکس جو ہر وقت کوئی نہ کوئی مشکل کھڑی کر رکھتے ہیں مقبول بٹ اپنا زیادہ وقت مطالعے میں صرف کرتے تھے یا پھر اپنی جدوجہد کی باتیں ہمیں سنایا کرتے تھے
سنیل گپتا مزید لکھتے ہیں
The other impact that Butt made was more dramatic. When he reached Tihar, we were still bound by the British prison manual which said stationery was contraband in jail. Apparently, there was a fear that prisoners may write and smuggle out incendiary material so writing instruments and material was kept away from inmates. This became another battle that Butt fought and won for other prisoners and won. I cannot remember a single instance when he created a problem for us or broke any rules. If he fought the system, it was by petitioning authorities in the right manner. Even his jail uniform (white kurta pyjama) was always pristine, spotless and sparkling. Just like his prison record.
(Black Warrant by Sunil Gupta)
ہم برطانوی قوانین کے پابند تھے جنکے مطابق اسٹیشنری جیل کے اندر ممنوع تھی لیکن مقبول بٹ نے اسے چیلنج کیا اور اور وہ یہ جنگ جیت بھی گئے
مجھے کوئی بھی ایک ایسا موقع یاد نہیں جب مقبول بٹ نے ہمارے لیے کوئی مشکل کھڑی کی ہو
سنیل گپتا لکھتے ہیں کہ مقبول بٹ کا جیل کا لباس کرتا پاجامہ ہمیشہ بے داغ اور چمکدار تھا انکے جیل ریکارڈ کی طرح
سنیل گپتا مزید لکھتے ہیں

To my mind, Butt was a victim of circumstances. I always felt that if the Indian diplomat, Ravindra Mhatre, had not been kidnapped and murdered in Birmingham, Butt would have stayed in jail for a long time, despite serving out a death sentence. It was rumoured that Butt could be released as a goodwill gesture to speed up the process of integration. But his fate was sealed as soon as news came in on 3 February 1984 that the assistant high commissioner at the Indian consulate in Birmingham had been kidnapped and an unknown group, Kashmir Liberation Front (KLF), had claimed responsibility. They had also demanded the release of Maqbool Butt.
(Black Warrant by Sunil Gupta)
میرے خیال میں مقبول بٹ حالات کا شکار رہا میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے ہیکہ اگر انڈین سفارت کار اغوا اور قتل نہ کیا جاتا تو مقبول بٹ سزائے موت سے بچ سکتا تھا
اور اسطرح کی افواہیں بھی تھی کہ مقبول بٹ کو انکے اچھے کردار کے باعث رہا بھی کیا جا سکتا ہے لیکن تین فروری کے واقعے نے انکی قسمت کا فیصلہ کر دیا
مقبول بٹ شہید پھانسی چڑھ کر بھی اج ہزاروں دلوں میں زندہ ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ اسکی جدوجہد، نظریات اور قربانی کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے
آج ریاست اور بیرون ریاست مقبول بٹ کے چاہنے والے اسکی برسی بنا رہے ہیں ان سے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں مقبول بٹ ہماری تاریخ کا لازوال کردار ہے جس نے آزادی کے پرچم کو اپنے لہو سے سرخ رو کیا مقبول بٹ کی شہادت نے ہمارے قومی وجود کو نیا شعور عطا کیا اور اپنے سوز یقین سے لاکھوں محبان وطن کے سینے روشن کیے

بقول شاعر
ذہن کے بند دریچوں پہ صدا دی میں نے
اپنے قاتل کو بھی جینے کی دعا دی میں نے
میں کہ اب قلعہ لاہور سے ہوتا ہوں طلوع
پھر اس وضع اس طور سے ہوتا ہوں طلوع
میں کہ ہر دور کی تہذیب کا معمار ہوں میں
پھر کسی خنجر قاتل کا طلبگار ہوں میں
میں کہ ہر عصر کی تہذیب کا سرمایہ ہوں
اپنے مقتل کی طرف آپ چلا آیا ہوں
قتل ہی میرا مقدر ہے تو یوں ہی سہی
مجھ پہ شب خوں ہی ضروری ہے تو شب خوں ہی سہی
مجھ کو پھر دار پہ کھینچو کہ میں کچھ کہہ نہ سکوں
میں کہ سقراط ہوں عیسی' ہوں حسن ناصر ہوں

Address

Islamabad

Telephone

+923337637125

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Being kashmiri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Being kashmiri:

Share

Category