17/12/2025
جو پکڑا جائے گا۔ یورپی یونین سے باہر قائم ڈیپورٹیشن سینٹر جائے گا۔ یورپین یونین کا بل منظور۔۔
یورپی یونین کے 27 ممالک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس منعقدہ برسلز میں نئے قوائد و ضوابط کے بل ابتدائی منظوری دے دی گئی ہے۔
ان سینٹرز کو میلونی سینٹرز کا نام دیا گیا ہے۔ کیونکہ یورپ میں سب سے پہلے اطالوی وزیر اعظم میلونی نے البانیہ میں یہ مرکز قائم کیا تھا۔
اس نئے بل کی منظوری کے بعد "محفوظ تیسرے ملک" کی نئی "ٹرم" استعمال کی گئی ہے۔ یہ نیا یورپی ضابطہ ریاستوں کو تارکین وطن کو غیر یورپی یونین کے ممالک میں ڈی پورٹ کرنے کی اجازت دے گا۔ جہاں سے وہ پناہ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، چاہے ان کا اس ملک سے کوئی تعلق ہو یا نہ ہو یا یورپ پہنچنے کے لیے اس کے ذریعے سفر کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
ان ممالک کی فہرست میں ابتدائی طور پر مراکش، کولمبیا، بنگلہ دیش، مصر، بھارت، کوسوو، اور تیونس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے تمام امیدوار ممالک، جن میں البانیہ، بوسنیا اور ہرزیگووینا، جارجیا، مالڈووا، سربیا اور ترکی کو شامل کیا گیا ہے۔ یعنی ان درج بالا ممالک میں یہ مراکز قائم کیے جا سکیں گے۔
سپین کے وزیر خارجہ میرلاسکا نے اس بل کی مخالفت میں تقریر کی تھی۔ سپین کو اگرچہ فرانس اور پرتگال کی حمایت حاصل تھی۔ جو کہ 27 ممالک کے اجلاس میں بل کو منظوری سے روکنے کیلئے انتہائی ناکافی تھے۔
سپینش وزارت داخلہ کے مطابق، میرلاسکا نے ڈیپورٹیشن مراکز کے بارے میں "سنگین قانونی، سیاسی، اور اقتصادی خدشات" کا اظہار کیا ہے۔ وزیر داخلہ سپین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ محفوظ تیسرے ملک کا ضابطہ ہجرت کے معاہدے کی حیثیت کو "کمزور" کرتا ہے "اس کے لاگو ہونے سے پہلے"۔ ہسپانوی حکومت، پناہ/ازائلم کے متلاشیوں کے حقوق اور متعلقہ ممالک کی ذمہ داریوں کے احترام کے بارے میں قانونی سوالات اٹھاتی رہے گی۔
اس حوالے سے کلیدی خطاب یورپی یونین کے موجودہ صدر ملک ڈنمارک کے وزیر داخلہ کا تھا۔ جن کے مطابق، "یورپی یونین کے ممالک، بے قاعدہ تارکین وطن کی بہت زیادہ تعداد میں آمد کا سامنا کر رہے ہیں، اور ہمارے ممالک دباؤ کا شکار ہیں۔ ہزاروں لوگ بحیرہ روم میں ڈوب رہے ہیں یا نقل مکانی کے راستوں پر بدسلوکی کا شکار ہیں، جب کہ انسانی سمگلر ان کی اس مجبوری یا خواہش کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ نظام، غیر قانونی تارکین وطن میں یورپ منتقلی کی ترغیبات پیدا کرتا ہے۔
بل کو اب یورپین پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔ یقینی طور پر منظوری کے بعد بل مارچ 2026 میں یوپین کمیشن میں حتمی منظوری کیلئے چلا جائے گا۔