Roll Gaba

Roll Gaba
(2)

ظاہر ہے، رجب بٹ اور ایمان کے حالیہ تنازع اور سوشل میڈیا کے بدلتے ہوئے رویوں پر ایک تنقیدی کالم ملاحظہ فرمائیں:"ڈیجیٹل مح...
16/03/2026

ظاہر ہے، رجب بٹ اور ایمان کے حالیہ تنازع اور سوشل میڈیا کے بدلتے ہوئے رویوں پر ایک تنقیدی کالم ملاحظہ فرمائیں:

"ڈیجیٹل محبتیں اور ویوز کی قربان گاہ"

آج کے دور میں شہرت کا راستہ کٹھن نہیں رہا، مگر اس شہرت کو سنبھالنا شاید پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ رجب بٹ، جو کبھی اپنی سادہ ویڈیوز اور عوامی انداز کی وجہ سے لاکھوں دلوں کی دھڑکن بنے تھے، آج ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ان کی نجی زندگی کسی فلمی اسکرپٹ کی طرح سرِ عام نیلام ہو رہی ہے۔ ایمان سے ان کی علیحدگی اور 'طلاق' کا معاملہ محض ایک گھریلو جھگڑا نہیں رہا، بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے اس ڈیجیٹل المیے کی عکاسی کرتا ہے جہاں رشتے 'کیمرے کی آنکھ' کے لیے بنتے اور وہیں ٹوٹ جاتے ہیں۔
رجب بٹ پر سب سے بڑی تنقید ان کا اپنا بیانیہ ہے۔ جب آپ اپنی محبت، اپنی شادی اور اپنے گھر کی دیواروں کے اندر کے سکون کو 'کونٹینٹ' (Content) بنا کر مارکیٹ میں بیچتے ہیں، تو پھر آپ عوام سے یہ گلہ نہیں کر سکتے کہ وہ آپ کے دکھ پر تبصرہ کیوں کر رہے ہیں۔ رجب نے ایمان کے ساتھ اپنے تعلق کو جس طرح ایک 'آئیڈیل جوڑی' کے طور پر پیش کیا، اس نے نوجوان نسل کے لیے ایک مصنوعی معیار قائم کیا۔ لیکن جیسے ہی اس چمک دھمک کے پیچھے چھپی تلخی سامنے آئی، تو وہی کیمرے جو مسکراہٹیں ریکارڈ کرتے تھے، اب آنسوؤں اور الزامات کی تجارت کرنے لگے۔
ایمان سے علیحدگی کے معاملے میں رجب کا رویہ ایک خاص قسم کی 'مظلومیت' کا عکاس نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وضاحتی ویڈیوز، جذباتی بیانات اور پھر ان کے مداحوں کی جانب سے دوسرے فریق پر حملے—یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ رجب نے اس حساس معاملے کو بھی ایک 'وی لاگ' (Vlog) کے طور پر ہی ڈیل کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ٹوٹتا ہوا رشتہ اتنی توقیر بھی نہیں رکھتا کہ اسے چار دیواری کے اندر خاموشی سے حل کیا جائے؟ یا پھر کیا اب ہماری زندگی کا ہر دکھ تب تک معتبر نہیں جب تک اس پر 'ملین ویوز' نہ آ جائیں؟
ناقدین درست کہتے ہیں کہ رجب بٹ نے اپنی نجی زندگی کو 'برانڈ' بنا لیا تھا۔ اور جب برانڈ ٹوٹتا ہے تو شور مچتا ہے۔ ایمان کے حوالے سے ہونے والی گفتگو میں جس طرح کی اخلاقی گراوٹ دکھائی گئی، اس کی ذمہ داری کسی حد تک رجب پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے ہی اپنے بیڈ روم تک کا راستہ عوام کو دکھایا تھا۔
یہ کالم رجب بٹ کی ذات سے زیادہ اس 'یوٹیوبر کلچر' پر ایک سوالیہ نشان ہے جو شہرت کی ہوس میں رشتوں کی تقدیس کو پامال کر رہا ہے۔ رجب کو شاید یہ سمجھنے میں دیر لگی کہ کیمرے کے سامنے دی گئی صفائیاں کبھی ٹوٹے ہوئے دلوں کو نہیں جوڑ سکتیں، بلکہ یہ صرف تماشائیوں کا لہو گرم کرنے کے کام آتی ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور معاشرہ یہ سوچیں کہ کیا ہم کسی کی نجی زندگی کے تماشائی بن کر اپنی اخلاقیات تو نہیں کھو رہے؟ اور کیا رجب جیسے انفلوئنسرز (Influencers) یہ سیکھ پائیں گے کہ زندگی کے کچھ باب ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں عوام کے لیے نہیں، بلکہ خدا اور ضمیر کے لیے کھلا چھوڑنا چاہیے

23/02/2026

22/02/2026

Address

Jalalpur Pirwala

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Roll Gaba posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share