Shaloom Selwyn travels

Shaloom Selwyn travels "Explore with Queen" is a tourism agency based in Pakistan. We provide services to the tourist from all over the world . LET'S TRAVEL TOGETHER."

We love the nature and believe in exploring the beauty of Nature.

کارگاہ بدھاپاکستان کے خوبصورت علاقے گلگت سے تقریباً دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کارگاہ بدھا ایک ایسا تاریخی مقام ہے جو ص...
27/03/2026

کارگاہ بدھا

پاکستان کے خوبصورت علاقے گلگت سے تقریباً دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کارگاہ بدھا ایک ایسا تاریخی مقام ہے جو صدیوں پرانی تہذیب اور ثقافت کی یاد دلاتا ہے۔ یہ عظیم مجسمہ ایک بڑی چٹان کو تراش کر بنایا گیا ہے اور آج بھی اس علاقے کی تاریخ اور روحانیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے پہاڑوں کے درمیان موجود یہ مجسمہ سیاحوں اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔

کارگاہ بدھا دراصل بدھ مت کے دور کی ایک اہم یادگار ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مجسمہ تقریباً ساتویں صدی عیسوی میں بنایا گیا تھا۔ اس زمانے میں موجودہ گلگت بلتستان کا علاقہ بدھ مت کا ایک اہم مرکز تھا اور یہاں کئی خانقاہیں، عبادت گاہیں اور مذہبی یادگاریں موجود تھیں۔ اسی دور میں اس عظیم مجسمے کو ایک بلند چٹان پر تراش کر بنایا گیا تاکہ یہ دور دور سے نظر آئے اور مذہبی اہمیت کا حامل رہے۔

یہ مجسمہ بدھا کو کھڑے ہوئے انداز میں دکھاتا ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے کچھ حصے متاثر ہوئے ہیں، لیکن پھر بھی اس کی ساخت اور انداز آج بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس مجسمے کے گرد پھیلے ہوئے پہاڑ اور سرسبز مناظر اس جگہ کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ جب سیاح یہاں پہنچتے ہیں تو انہیں تاریخ اور قدرت دونوں کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔

کارگاہ بدھا کے قریب بہنے والی وادی اور خاموش پہاڑی ماحول اس مقام کو مزید پُرسکون بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ گلگت کی سیر کے لیے آتے ہیں وہ اس تاریخی مقام کو دیکھنے ضرور جاتے ہیں۔ یہاں کھڑے ہو کر انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ صدیوں پرانی تہذیب کے سامنے کھڑا ہے

آج بھی دنیا کے مختلف ممالک سے بدھ مت کے ماننے والے اس تاریخی مقام کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ خاص طور پر جاپان، چین، تھائی لینڈ، سری لنکا، جنوبی کوریا اور نیپال سے آنے والے بدھ مت کے پیروکار اس مقام کو ایک روحانی اور تاریخی ورثہ سمجھتے ہیں۔ جب یہ لوگ یہاں آتے ہیں تو وہ مجسمے کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں، تصویریں بناتے ہیں اور اس قدیم تہذیب کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔

ایگل نیست (دوئیکار) سے التت گاؤں، دریائے ہنزہ اور شاہراہ قراقرم کا خوبصورت نظارہ
28/10/2025

ایگل نیست (دوئیکار) سے التت گاؤں، دریائے ہنزہ اور شاہراہ قراقرم کا خوبصورت نظارہ

کیا ہی بات ہے میرے پاکستان کی سرزمین کی، جہاں قدرت نے ایسے حسین اور شاندار پہاڑ عطا کیے ہیں جو دنیا بھر کے سیاحوں کو اپن...
17/09/2025

کیا ہی بات ہے میرے پاکستان کی سرزمین کی، جہاں قدرت نے ایسے حسین اور شاندار پہاڑ عطا کیے ہیں جو دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ انہی قدرتی عجوبوں میں ایک ہے لیڈی فنگر پیک، جسے مقامی زبان میں بُبُلی موتون بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عظیم پہاڑ گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ میں واقع ہے اور اپنی نکیلے اور منفرد ڈیزائن کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔
لیڈی فنگر کی اونچائی تقریباً 6,000 میٹر (19,700 فٹ) ہے۔ یہ چوٹی قراقرم رینج کا حصہ ہے اور الٹار سر کے قریب واقع ہے۔ اس پہاڑ کی خاص بات اس کا نوکیلا سرا ہے جو آسمان کو چھوتا ہوا دکھائی دیتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسے "لیڈی فنگر" یعنی عورت کی انگلی کہا جاتا ہے۔
یہ چوٹی کوہ پیمائی کے شوقین افراد کے لیے ہمیشہ ایک خواب رہی ہے کیونکہ یہ نہ صرف مشکل بلکہ انتہائی دلکش اور منفرد پہاڑ ہے۔ اس کے اردگرد کا ماحول، ہنزہ کی وادیاں، بلورے جیسے صاف چشمے اور برف سے ڈھکی بلند چوٹیاں انسان کو ایک اور ہی دنیا میں لے جاتی ہیں۔
دنیا کے مختلف ممالک سے سیاح اور کوہ پیما ہر سال یہاں کا رخ کرتے ہیں تاکہ لیڈی فنگر پیک کی خوبصورتی کو قریب سے دیکھ سکیں۔ یہ صرف ایک پہاڑ نہیں بلکہ پاکستان کی قدرتی عظمت اور حسن کی ایک زندہ مثال ہے۔

شودیر (شادیر) - بالائی چترال میں تاریخ کا ایک ان کہی بابشودیر جسے شادیر بھی کہا جاتا ہے، بالائی چترال کی وادی کشم میں چھ...
16/09/2025

شودیر (شادیر) - بالائی چترال میں تاریخ کا ایک ان کہی باب

شودیر جسے شادیر بھی کہا جاتا ہے، بالائی چترال کی وادی کشم میں چھپا ایک تاریخی خزانہ ہے۔ اس قدیم مقام میں ہزاروں نشانیاں اور نوشتہ جات موجود ہیں جو صدیوں پہلے اس خطے سے گزرنے والے قافلوں اور مسافروں کی کہانیاں خاموشی سے بیان کرتے ہیں۔ پتھروں اور چٹانوں پر کندہ یہ نشانات نہ صرف بھولے ہوئے سفر کے نشانات ہیں بلکہ ماضی کو حال سے جوڑتے ہوئے گہری تاریخی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔

صدیوں تک یہ نشانات آثار قدیمہ کے ماہرین اور مورخین کی طرف سے کسی کا دھیان نہیں رہے۔ ان کے مطالعہ یا تحفظ کے لیے کوئی باضابطہ کوشش نہیں کی گئی، اور انہیں وسیع دنیا کے لیے نامعلوم چھوڑ دیا گیا۔ تاہم، آج، شودیر نے آخرکار توجہ حاصل کر لی ہے جس کا وہ مستحق ہے۔

کشم کا ہی قابل فخر فرزند ڈاکٹر عبدالحمید نے اس شاندار ورثے کا مطالعہ کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ وہ ہزارہ یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسرز اور آثار قدیمہ اور تاریخ کے دیگر ماہرین کے ساتھ مل کر ایک تحقیقی منصوبے کی قیادت کر رہے ہیں۔ چترال کے ڈائریکٹر نوادرات بھی اس سرشار ٹیم کا حصہ ہیں۔ وہ مل کر ان نوشتہ جات میں چھپے اسرار کو کھولنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق شودیر (شادیر) میں پائے جانے والے نوشتہ جات کی تعداد بالائی اور زیریں چترال میں مشترکہ طور پر دریافت ہونے والوں سے زیادہ ہے۔ ان کے ابتدائی نتائج بتاتے ہیں کہ یہ نوشتہ جات تقریباً ایک ہزار سے بارہ سو سال پرانے ہیں، جو شودیر کو خطے کے امیر ترین آثار قدیمہ کے مقامات میں سے ایک بناتے ہیں۔

یہ دریافت قدیم سلک روٹ اور اس کے آس پاس کی تہذیبوں کی ثقافتی، سماجی اور تجارتی تاریخ پر نئی روشنی ڈالنے کا وعدہ کرتی ہے۔ خدا کی مرضی سے، ایک بار جب ڈاکٹر حمید کی تحقیق مکمل ہو جائے گی، شودیر چترال، وسطی ایشیا اور اس سے آگے کی تاریخ کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کرے گا۔

شودیر صرف پتھروں اور نقش و نگار کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ ماضی کا ایک زندہ میوزیم ہے، جو پہچان اور تحفظ کا منتظر ہے۔ اس کی دوبارہ دریافت چترال کے لیے فخر کا لمحہ ہے، اور خطے کی گہری اور متنوع تاریخی جڑوں کی یاد دہانی ہے۔

Let me guide you in to paradise on the planet, called Rash Lake. The highest lake in Pakistan and 2nd highest in the wor...
02/09/2025

Let me guide you in to paradise on the planet, called Rash Lake. The highest lake in Pakistan and 2nd highest in the world.Rash lake is situated in Hoper valley 4695 m above sea level surrounded by highest peaks like golden peak, astonishing glaciers and countless unseen wonders.

آج کی تصویر۔پتھروں میں تاریخجی ہاں یہ 1988 چلاس کی ایک تصویر ہے ۔ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ چلاس دریا سندھ کے ساتھ ایسے ...
31/08/2025

آج کی تصویر۔پتھروں میں تاریخ
جی ہاں یہ 1988 چلاس کی ایک تصویر ہے ۔ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ چلاس دریا سندھ کے ساتھ ایسے 60 ہزار پتھروں پر قدیم تحریریں درج ہیں وہ بھی بہت جلد بھاشا ڈیم بننے کے بعد پانی میں ڈوب جائیگی بالکل اسی طرح جس طرح اس خطے کی ماضی کی تاریخ تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے ، اس آرٹیکل میں ایک اور بات کا بھی انکشاف ہے کہ چلاس کے علاقے تھلپن اور شنگ نالہ میں دریائے سندھ کے کنارے کچھ قدیم پتھروں پر سنسکرت زبان میں ایسی تحریریں ملی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ آج کا گلگت بلتستان، جسے 2009 سے پہلے 'شمالی علاقہ' کہا جاتا تھا، بدھ مت کے دور میں بھی اسی نام سے جانا جاتا تھا۔ ان تحریروں میں 'اتراپیتھ' کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے 'شمالی راستہ' یا 'شمالی علاقہ'۔ ایک تحریر میں لکھا ہے: 'شری بدھ یہاں شمالی علاقہ میں وارد ہو کر سفر کرتا ہے'۔ یہ جملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خطہ نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم تھا بلکہ روحانی طور پر بھی بدھ مت کے سفر کا حصہ رہا ہے۔" اور اگلے کچھ سالوں میں یہ تاریخ یہ تہذیب دریا برد ہو جائیگی معلومات جان کے جیو

عطا آباد جھیل کیسے بنی؟عطا آباد جھیل وادئ ہنزہ، صوبہ گلگت بلتستان، پاکستان میں واقع ہے۔ یہ جھیل پہاڑ کے ایک حصے کے سرکنے...
06/08/2025

عطا آباد جھیل کیسے بنی؟
عطا آباد جھیل وادئ ہنزہ، صوبہ گلگت بلتستان، پاکستان میں واقع ہے۔ یہ جھیل پہاڑ کے ایک حصے کے سرکنے یعنی لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں 2010ء میں وجود میں آئی۔ یہ جھیل عطا آباد نامی گاؤں کے نزدیک ہے جو کریم آباد سے 22 کلومیٹر اوپر کی جانب واقع ہے۔

یہ واقعہ 4 جنوری 2010ء میں پیش آیا جب زمین سرکنے سے کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے اور شاہراہ قراقرم کا کچھ حصہ اس میں دب گیا اور دریائے ہنزہ کا بہاؤ 5 ماہ کے لیے رک گیا۔ جھیل کے بننے اور اس کی سطح بلند ہونے سے کم از کم 6000 افراد بے گھر ہوئے جبکہ 25000 مزید افراد متاثر ہوئے۔ اس کے علاوہ شاہرائے قراقرم کا 19 کلومیٹر طویل حصہ بھی اس جھیل میں ڈوب گیا۔ جون 2010ء کے پہلے ہفتے میں اس جھیل کی لمبائی 21 کلومیٹر جبکہ گہرائی 100 میٹر سے زیادہ ہو چکی تھی۔ اس وقت پانی زمین کے سرکنے سے بننے والے عارضی بند کے اوپر سے ہو کر بہنے لگا۔ تاہم اس وقت تک ششکٹ کا نچلا حصہ اور گلمت کے کچھ حصے زیر آب آ چکے تھے۔ گوجال کا سب ڈویژن سیلاب سے سب سے زیادہ متائثر ہوا جہاں 170 سے زیادہ گھر اور 120 سے زیادہ دوکانیں سیلاب کا شکار ہوئیں۔ شاہرائے قراقرم کے بند ہونے سے خوراک اور دیگر ضروری ساز و سامان کی قلت پیدا ہو گئی۔ 4 جون کو جھیل سے نکلنے والے پانی کی مقدار 3700 معکب فٹ فی سیکنڈ ہو چکی تھی.

دیوسائی — دیووں کی سرزمیندیوسائی (Deosai)، پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں واقع ایک دل موہ لینے والا قدرتی شاہکا...
01/08/2025

دیوسائی — دیووں کی سرزمین

دیوسائی (Deosai)، پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں واقع ایک دل موہ لینے والا قدرتی شاہکار ہے، جو دنیا کی بلند ترین سطح مرتفع (plateaus) میں شمار ہوتا ہے۔ نام ہی سے ظاہر ہے: "دیوسائی" یعنی "دیوؤں کی سرزمین" — اور حقیقت میں، یہاں کا ماحول، قدرتی وسعت، نیلا فلک، بہتے چشمے اور نایاب جنگلی حیات انسان کو کسی طلسماتی دنیا کا گمان دلاتی ہے۔

یہ عجیب و غریب خوبصورتی سطحِ سمندر سے تقریباً 13,500 فٹ (4,114 میٹر) کی بلندی پر بسی ہوئی ہے۔ سال کا بیشتر حصہ یہ وادی برف کی سفید چادر اوڑھے رکھتی ہے اور صرف موسم گرما (جون تا ستمبر) میں اپنے جلوے دکھاتی ہے۔ سردیوں میں یہاں کا درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی نیچے چلا جاتا ہے۔

دیوسائی کا اصل حسن اس کی وسعت، خاموشی اور فطری رنگوں میں چھپا ہے۔ تا حدِ نظر پھیلے سبزہ زار، خوش رنگ جنگلی پھول، ندی نالے، خوشبو بکھیرتی جڑی بوٹیاں، اور نیلے آسمان تلے پہاڑوں کا حسین منظر ایک روح پرور احساس جگاتا ہے۔

یہ علاقہ دیوسائی نیشنل پارک کو بطور نیشنل پارک قومی ورثے میں شامل کیا گیا ہے تاکہ یہاں پائی جانے والی نایاب جنگلی حیات جیسے ہمالیائی براؤن بیئر، سنو لیپرڈ، لال لومڑی وغیرہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے
دیوسائی صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ قدرت کی کاریگری کا عظیم نمونہ ہے۔ ہر گوشہ، ہر منظر، ہر ہوا کا جھونکا دل و جان کو تازگی بخشتا ہے۔ یہ سرزمین نہ صرف فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے جنت ہے بلکہ پاکستان کی قدرتی خوبصورتی کا زندہ ثبوت بھی۔
ہم سب پر فرض ہے ہم اس قومی ورثے کی حفاظت کریں اور بطور باشعور سیاح کسی بھی غیری فطری عمل کا حصہ نہ بنیں شکریہ

یہ نقشہ دیکھیں۔ جیسے ہی آپ بابو سر ٹاپ کی فل بلندی 14000 فٹ پر پہچنے کے بعد آگے چلاس کی طرف بڑھتے ہیں تو بلندی سے ایک دم...
23/07/2025

یہ نقشہ دیکھیں۔ جیسے ہی آپ بابو سر ٹاپ کی فل بلندی 14000 فٹ پر پہچنے کے بعد آگے چلاس کی طرف بڑھتے ہیں تو بلندی سے ایک دم نیچے سڑک اترتی ہے اور دس پندرہ کلو میٹر دور ہی آپ 14000 سے 4000 فٹ کے نشیب پر آجاتے ہیں۔۔بابو سر ٹاپ کا 18 ڈگڑی کا درجہ حرارت ایک دم نیچے آنے سے 40 ڈگری کا ہو جاتا ہے۔۔جہاں میں نے سرخ نشان لگایا ہے یہ چلاس اور آگے جگلوٹ تک ایک گرم بھٹی کی طرح علاقہ ہے۔۔ذرا غور کریں کے اس پیالے نما ٹرین کے اردگرد صرف چند کلومیٹر پر گلیشئر ہی گلیشئر ہیں اور ice cap ہیں اور نانگا پربت بھی پاس ہے۔۔اب یہاں شدید گرمی اور مون سون کی نم ہواوں کی وجہ سے ایک سسٹم ڈویلپ ہوتا ہے، جو سپر سیل میں تبدیل ہو کر ایسا کلاوڈ برسٹ ہوتا ہے کہ اس بارش سے کچھ چھوٹے گلیشئر بھی ٹوٹنے کی اطلاع ملتی ہے۔ جن سے سائیڈ سکرٹ کے ندی نالے پانیوں سے بھر گئے اور بابو سر چلاس روڈ کے ساتھ چلتا دریا میں شامل ہوکر اس کی سطح کو منٹوں میں بلند کرتے ہیں اور ساتھ میں دونوں اطراف کے خشک مٹی اور پتھر والے پہاڑوں کو کھورتے ہوئے ایک سیلابی ریلے کی شکل اختیار کرتے ہے۔۔دریا اور سڑک میں فرق ختم ہو جاتا ہے جو زد میں آیا سب بہہ گیا۔
انٹرنیشنل weather stations پر اس آفات کی مکمل فورکاسٹ 15 دن پہلے ہی دی جا چکی تھی۔۔

بابوسر ٹنل کے ساتھ نئی موٹروے 240 کلومیٹر مانسہرہ- ناران- جلکھڈ- چلاس: بجٹ 2024-25 میں فزیبلٹی اسٹڈیNew Motorway 240 Km ...
18/07/2025

بابوسر ٹنل کے ساتھ نئی موٹروے 240 کلومیٹر مانسہرہ- ناران- جلکھڈ- چلاس: بجٹ 2024-25 میں فزیبلٹی اسٹڈی

New Motorway 240 Km Mansehra-Naran-Jalkhad-Chilas with Babusar Tunnel: Feasibility Study in Budget 2024-25

پروجیکٹ کی تجویز: مانسہرہ سے چلاس تک 240 کلومیٹر موٹر وے ناران، جلکھڈ اور بابوسر ٹنل کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی 25-2024 کے بجٹ میں شامل ہے۔

سیاحت کو فروغ: یہ موٹروے موسم گرما اور سردیوں کے لیے سال بھر سیاحتی راہداری ہوگی۔

وقت کی بچت: سفر کا وقت 7 گھنٹے سے کم ہو کر صرف 2 گھنٹے ہو جائے گا۔

اقتصادی اثر: اس منصوبے کا مقصد مقامی معیشت کو فروغ دینا، ملازمتیں پیدا کرنا اور علاقائی رابطوں کو بڑھانا ہے۔

ہر موسم تک رسائی: بابوسر ٹنل اس بات کو یقینی بنائے گی کہ راستہ ہر موسم میں قابل رسائی ہے۔

پتھروں پر لکھی گئی تاریخ — گلگت بلتستان کے شاتیال کے حیرت انگیز پیٹروگلفس(پاکستان کی سرزمین پر 10,000 سال پرانی انسانی د...
18/07/2025

پتھروں پر لکھی گئی تاریخ — گلگت بلتستان کے شاتیال کے حیرت انگیز پیٹروگلفس
(پاکستان کی سرزمین پر 10,000 سال پرانی انسانی داستانیں)

یہ تصویر بظاہر ایک خوبصورت منظر دکھاتی ہے — پہاڑوں کے دامن میں بچھا ایک پتھریلا راستہ۔ لیکن اگر آپ غور سے دیکھیں، تو یہ پتھر دراصل صفحات ہیں — ایسی کتاب کے، جسے انسان نے ہزاروں سال پہلے اپنے ہاتھوں سے لکھا تھا۔

یہ ہیں شاتیال (Shatial) کے پیٹروگلفس (Petroglyphs) — گلگت بلتستان کے علاقے میں قراقرم ہائی وے پر واقع وہ نایاب چٹانی نقش و نگار، جو 10,000 سال پرانے ہو سکتے ہیں، یعنی قبل از تاریخ (Stone Age) سے تعلق رکھتے ہیں۔

جب انسان نے پہلی بار بات کرنا سیکھی — پتھروں کے ذریعے

اس دور میں نہ کاغذ تھا، نہ قلم۔ زبان بھی شاید مکمل نہیں بنی تھی۔ لیکن انسان کے اندر اظہار کی پیاس تھی — اور اس نے پتھروں پر نقوش، تصویریں، علامات بنا کر اپنی کہانیاں، اپنے عقائد، اپنے خواب اور خدشات کو محفوظ کر لیا۔

شاتیال کے یہ نقش و نگار ہزاروں کی تعداد میں پہاڑوں پر پھیلے ہوئے ہیں، جن میں شامل ہیں:

جانوروں کی شکلیں (بکریاں، ہرن، یاک)

شکار کے مناظر

بدھ مت کے اسٹوپاز اور مہا یان روایات کی علامات

قدیم رسم

Address

Karachi
75600

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shaloom Selwyn travels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shaloom Selwyn travels:

Share

Category