Kumrat Valley

Kumrat Valley Kumrat Valley, Upper Dir – A scenic paradise of lush meadows, dense forests & waterfalls. To show these picnic spot to the world, i started my struggle.
(218)

Perfect for trekking, camping & nature escapes in Pakistan’s stunning Hindu Kush mountains.

https://kumratvalley.blogspot.com/ Dir Kohistan contains some most beautiful spots in Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan. It comprises many stunning areas as Kumrat Valey, Jehaz Banda, Badgoyi , Junki Valley, Shabanal, Takki Top, Kund Banda and Shar Banda. These Paradise were hi

dden form the World and no one know about these hidden Paradises. As we all aware that to get attention of the mainstream media in Pakistan is impossible for a common man. So i got help of various Social Media Platforms to show these spots to the World. I Created a this page on September 26, 2011 and a twitter account on January 2013 with a handle . Today thousands of tourists visit the valley every year and have boosted the local economy and changed the life style and economic status of many locals. it all become possible with the support of my team, especially Imran Khan Azad aka Gumnam Kohistan. I am also indebt of support of my friends and followers who supported the aim and motive behind this page and supported me on every moment. for more detail visit
https://kumratvalley.blogspot.com

18/08/2026

BEAUTIFUL JEHAZ BANDA KUMRATVALLEY KHYBER PAKHTUNKHWA PAKISTAN 🇵🇰

کمراٹ ویلی اور ہماری ترجیحات یہ کمراٹ ویلی کا مشہور و معروف لال گاہ آبشار ہے جو کمراٹ ویلی کے علاقے کوتگل میں واقع ہے۔ ہ...
17/08/2026

کمراٹ ویلی اور ہماری ترجیحات

یہ کمراٹ ویلی کا مشہور و معروف لال گاہ آبشار ہے جو کمراٹ ویلی کے علاقے کوتگل میں واقع ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح اس خوبصورت آبشار کا نظارہ کرنے یہاں آتے ہیں۔ بلندی سے گرتا ہوا ٹھنڈا، شفاف اور میٹھا پانی، بلند پہاڑ اور قدرتی حسن اسے کمراٹ کے اہم سیاحتی مقامات میں شامل کرتا ہے۔ اس آبشار کے قریب بڑے بڑے پتھروں پر جگہ جگہ پتھروں پر ایک جملہ لکھا نظر آتا ہے
"کپڑے نکالنا منع ہے۔"

یہ تحریر مقامی لوگوں کی جانب سے سیاحوں کے لیے لکھی گئی ہے کیونکہ بعض سیاح یہاں آ کر آبشار کے ٹھنڈے پانی میں نہاتے ہیں۔ مقامی لوگوں نے اگرچہ یہ صرف اس وجہ سے لکھا کہ بقول ان کے کپڑے نکالنے سے بے حیائی پھیلتی ہے وغیرہ وغیرہ۔
اچھی کوشش ہے بے حیائی وغیرہ تو اپنی جگہ لیکن اگر لوگ آبشار میں نہائیں گے تو صابن، شیمپو اور دیگر اشیا پانی میں شامل ہوں گی جس سے یہ صاف اور قدرتی پانی آلودہ ہوگا۔ یعنی نہانے پر پابندی صرف ثقافت یا اخلاقیات کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے قدرتی وسائل اور ماحول کے تحفظ کا مسئلہ بھی ہے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔
اگر ہم تین جگہوں پر یہ لکھ سکتے ہیں کہ "یہاں نہانا منع ہے"، تو ایک جگہ یہ کیوں نہیں لکھ سکتے کہ "یہاں کچرا پھینکنا منع ہے ؟

اگر ایک پتھر پر کپڑے اتارنے سے منع کیا جا سکتا ہے تو دوسرے پتھر پر پلاسٹک کی بوتلیں، شاپر، چپس کے پیکٹ اور دیگر کچرا پھینکنے سے منع کرنے کا پیغام بھی لکھا جا سکتا ہے۔
لیکن ہم ایسا نہیں لکھتے کیونکہ ہماری ترجیحات مختلف ہیں۔ ہمیں اس بات کی فکر ہے کہ کوئی یہاں کپڑے نہ اتارے کیونکہ اس سے بے حیائی پھیل سکتی ہے، ہماری ثقافت متاثر ہو سکتی ہے اور اس کے ایمان کو خطرہ ہو سکتا ہے لیکن کچرا پھینکنے سے نہ تو بے حیائی کوفروغ ملتا ہے نہ ہماری ثقافت متاثر ہوتی اس لئے ہم ایسا نہیں لکھ سکتے۔ چاہے کمراٹ کی ندیوں، آبشاروں، جنگلات اور سیاحتی مقامات کے اطراف کچرے کے ڈھیر لگ جائیں ہمیں اتنی تشویش نہیں ہوتی۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کے ایمان اور کردار کی نگرانی سے پہلے ہمیں اپنے علاقے، اپنے ماحول اور اپنے قدرتی وسائل کی حفاظت کی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ ہم کسی کے ایمان کے محافظ نہیں مگر اپنے علاقے کے محافظ ضرور ہیں۔
ہمیں اپنے بچوں کے لیے صاف پانی، صاف دریا، محفوظ جنگلات اور خوبصورت وادیاں چھوڑنی ہیں۔ اگر آج ہم نے پلاسٹک، شیمپو، بوتلوں اور دیگر کچرے کو معمولی سمجھا تو کل یہی خوبصورت مقامات ہمارے ہاتھوں تباہ ہو جائیں گے۔
ثقافت بھی ضروری ہے، اخلاق بھی ضروری ہیں مگر ماحول بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ لہٰذا ہماری ترجیحات میں یہ بھی شامل ہونا چاہیے کہ یہاں کچرا پھینکنا منع ہے، اپنا کچرا واپس لے جائیں، پانی کو آلودہ نہ کریں، کمراٹ کو صاف رکھیں۔
خوبصورت وادی صرف تصویروں میں خوبصورت نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہماری عملی ذمہ داری سے بھی خوبصورت رہنی چاہیے۔
آئیے لوگوں کے کپڑوں سے زیادہ اپنی وادی کے داغوں کی فکر کریں۔ لوگوں کی بے حیائی سے پہلے کمراٹ ویلی میں پھیلتے کچرے کے خلاف آواز اٹھائیں۔ اور سب سے بڑھ کر اپنی ترجیحات کو درست کریں۔

کمراٹ ہمارا گھر ہے اسے صاف رکھنا صرف حکومت یا سیاحوں کی نہیں ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
گمنام کوہستانی
#کوتگل #سیاحت

گوردیش کا تاریخی ٹیلہ، ایک بھولی ہوئی ہجرت کی خاموش یادگاراگرچہ آج کالاش قبائل کو چھوڑ کر ہندوکش میں آباد باقی داردی قبا...
16/08/2026

گوردیش کا تاریخی ٹیلہ، ایک بھولی ہوئی ہجرت کی خاموش یادگار
اگرچہ آج کالاش قبائل کو چھوڑ کر ہندوکش میں آباد باقی داردی قبائل مسلمان ہیں لیکن اس خطے کی اسلامائزیشن کی تاریخ محض پُرامن تبلیغ اور رضاکارانہ مذہبی تبدیلی کی داستان نہیں۔
مختلف ادوار میں یہاں اسلامائزیشن کا عمل طاقت، مزاحمت اور تصادم کے ماحول سے گزرا جس کے دوران مقامی آبادی کو شدید استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ ہزاروں لوگ قتل ہوئے، ان کے مال و اسباب پر قبضہ کیا گیا اور انہیں اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل ہونا پڑا۔
جو لوگ جبری مذہبی تبدیلی سے بچنا چاہتے تھے انہوں نے اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر قریبی وادیوں اور نسبتاً محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کی۔
کامدیش کی گوردیش وادی میں واقع یہ ٹیلہ اسی بھولی ہوئی ہجرت کی ایک خاموش مگر زندہ یادگار ہے۔ آج یہاں شاید صرف مٹی کے ٹیلے، شکستہ آثار اور چند مقامی روایات باقی ہیں مگر ان خاموش پتھروں کے اندر ایک ایسی تاریخ دفن ہے جسے ابھی پوری طرح پڑھا اور سمجھا نہیں گیا۔
مقامی روایات کے مطابق 1896 عیسوی کے زمانے میں جب امیر افغانستان نے داردستان بلورستان کے آخری مرکز کافرستان پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کیا اور نورستان کا نام دیا یہ مقام نورستان کے کامدیش ضلع کی گوردیش وادی میں آباد ایک قدیم آبادی کا مرکز تھا۔ شمال اور جنوب کی سمت واقع ٹیلوں پر تقریباً پچیس مقامی خاندانوں کے گھر آباد تھے۔ ان گھروں کے چاروں طرف بلند دیواریں تعمیر کی گئی تھیں اور دو جانب دروازے تھے۔ رات کے وقت یہاں باقاعدہ اور منظم پہرہ دیا جاتا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ یہاں آباد لوگ جیش ( کام، کتہ قبائل کا موجودہ علاقوں میں آباد ہونے سے پہلے کے قدیمی آبادکار ) قبیلے سے الگ ہونے والی ایک چھوٹی شاخ تھے جو کامدیش سے ہجرت کرکے یاں آ کر آباد ہوئی تھی۔ یہ قبیلہ یہاں کب پہنچا اس کوئی مستند تاریخ آج دستیاب نہیں تاہم مقامی روایات اسے تقریباً پانچ سو سال قدیم قرار دیتی ہیں۔

مقامی روایات کے مطابق یہ قبیلہ لوی دری کے راستے پہلے کمو اور پھر دہن گوردیش پہنچا۔ وہاں سے ایک بڑی قبیلائی آبادی ارندو، پاکستان اور دوکلام کے درمیان واقع رام گرام وادی کے راستے دیر کوہستان ( کمراٹ ویلی) کی جانب منتقل ہوئی۔ اسی ہجرت کے دوران اس گروہ سے الگ ہونے والی ایک چھوٹی شاخ دہن گوردیش سے جدا ہو کر اسی مقام پر آ کر آباد ہوئی۔
بعد کے زمانے میں کامدیش کے دیگر قبائل بھی اس علاقے میں آ کر آباد ہوتے گئے اور مختلف خاندانوں نے یہاں مل جل کر زندگی گزاری۔ پھر وقت کے ساتھ انہوں نے یہاں اپنا قدیم مذہب ترک کیا اور اس ٹیلے سے نکل کر وادی کے دوسرے علاقوں میں جا بسے۔ آج اسی خطے میں متعدد آباد دیہات موجود ہیں اور مقامی آبادی تقریباً پانچ ہزار افراد تک پہنچ چکی ہے۔
یہ معلوم نہیں کہ اس قدیم آبادی کے لوگ معاشی اعتبار سے کتنے خوش حال تھے تاہم اس مقام کے تاریخی آثار نے ہمیشہ لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق بعض افراد قدیم نوادرات اور دفینوں کی تلاش میں کئی مرتبہ رات کی تاریکی میں یہاں کھدائیاں کرتے ہوئے بھی دیکھے گئے ہیں۔
اس علاقے میں ان قدیم لوگوں کی رہائشی آبادی کے متعدد آثار آج بھی زمین پر نمایاں ہیں۔ انہی آثار کے درمیان اس ٹیلے سے متصل ایک غار بھی موجود ہے جسے مقامی طور پر "پشاع کتوا" کہا جاتا ہے۔ قدیم مقامی روایات کے مطابق یہ غار ان خواتین کے لیے مخصوص تھا جو بچوں کی پیدائش کے دنوں میں یہاں قیام کرتی تھیں۔

یہ محض ایک مٹی کا ٹیلہ نہیں۔ یہ ایک ایسی آبادی کے قدموں کے نشان ہیں جو وقت، مذہبی تبدیلی اور ہجرت کے طوفانوں سے گزر کر تاریخ کے پردے میں کہیں گم ہوگئی۔ اس کے گرد بکھرے ہوئے آثار، خاموش دیواریں اور مقامی لوگوں کے سینوں میں محفوظ روایات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ پہاڑوں کی تاریخ صرف کتابوں میں نہیں لکھی ہوتی بلکہ وہ مٹی، پتھر، غاروں اور ویران بستیوں میں بھی سانس لے رہی ہوتی ہے۔
یہ ٹیلہ گوردیش کے لوگوں کے لیے آج بھی ایک خاص اور منفرد تاریخی مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ نورستان کونڑ کے اہلِ ذوق، تاریخ دوست اور تحقیق سے دلچسپی رکھنے والے لوگ بھی اس مقام کی طرف متوجہ ہوں تاکہ اس خاموش تاریخ کے کچھ اوراق آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیے جا سکیں۔
نوٹ: مذکورہ ٹیلے اور اس سے وابستہ تاریخی و مقامی معلومات عنایت قیناط نورستانی سے حاصل کی گئی ہیں۔ یہ معلومات بنیادی طور پر مقامی روایات اور زبانی تاریخ پر مبنی ہیں اس لیے ان کی مزید تاریخی و آثارِ قدیمہ کی تحقیق وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گمنام کوہستانی
#ہندوکش #داردی #بلورستانی #تارہخ #اسلامائیزیشن #جیشی #گاوری #گبریک #کٹار #کافرستان #نورستان

16/08/2026

Jehaz Banda Khyber Pakhtunkhwa Pakistan 🇵🇰
16/08/2026

Jehaz Banda Khyber Pakhtunkhwa Pakistan 🇵🇰

15/08/2026

کھانے پینے کا 5 کلو سامان لے کر جا سکتے ہیں لیکن آدھا 1 کلو کچرا واپس نہیں لا سکتے؟؟
کچرا اپنی کار میں ہی رکھ دیں اور بعد میں کسی کچرے دان میں ڈال دیں۔

14/08/2026

مولانہ قائد اعظم آفریدی🤣🤣

14/08/2026

کمراٹ ویلی میں آپ کا جس ڈرائیور کے ساتھ واسطہ پڑا، آپ نے انہیں کیسا پایا؟
کمراٹ ویلی کے سفر میں ڈرائیور کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ راستے، موسم اور دشوار گزار پہاڑی سڑکوں سے واقف مقامی ڈرائیور ہی سفر کو محفوظ اور خوشگوار بنا سکتے ہیں۔
آپ کا کمراٹ ویلی میں جس ڈرائیور کے ساتھ واسطہ پڑا، ان کا رویہ، ڈرائیونگ، کرایہ اور مسافروں کے ساتھ برتاؤ کیسا تھا؟
اپنا تجربہ ضرور کمنٹس میں شیئر کریں۔ آپ کی رائے دوسرے سیاحوں کے لیے بھی رہنمائی کا باعث بن سکتی ہے۔

چودہ اگست کے موقع پر کمراٹ آنے والے دوستوں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید❣️ہمیں امید ہے کہ کمراٹ ویلی کی خوبصورت وادیاں ...
13/08/2026

چودہ اگست کے موقع پر کمراٹ آنے والے دوستوں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید❣️
ہمیں امید ہے کہ کمراٹ ویلی کی خوبصورت وادیاں آپ کو مایوس نہیں کریں گی، بلکہ یہاں کا قدرتی حسن، اور پُرسکون ماحول آپ کے سفر کو یادگار بنا دے گی۔

پنجاب اور بالخصوص لاہور سے آنے والے دوستوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ احمد برادز نے لاہور سے دیر بالا تک یوٹانگ بس سروس شروع کر دی ہے۔ بس روزانہ صبح 9 بجے دیر بالا کے مرکزی اڈے سے لاہور کے لیے روانہ ہوگی، جبکہ لاہور سے دیر بالا کے لیے شام 9 بجے روانگی ہوگی۔
سیاح دوست لاہور کے بتی چوک میں واقع احمد ٹریول سے دیر بالا کے لیے ٹکٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ دیر بالا پہنچنے کے بعد کمراٹ ویلی تھل کے لیے لوکل گاڑیاں باآسانی مل جاتی ہیں۔
لاہور سے آنے والے دوست مزید معلومات کے لیے احمد برادز کے عملے سے ان نمبرز پر رابطہ کر سکتے ہیں:
منیجر وحید شاہ، دیر بالا: 03009133379
منیجر جمال، بتی چوک لاہور: 03009494818

اگر آپ اپنی گاڑی پر پشاور، مردان یا اسلام آباد کی طرف سے آ رہے ہیں تو سوات موٹروے کے ذریعے چکدرہ پہنچیں اور وہاں سے سوات کے بجائے اپر دیر کی طرف سفر کریں۔
اپر دیر شہر سے تقریباً چار پانچ کلومیٹر پہلے چکیاتن کے مقام پر دیر، چترال روڈ چھوڑ کر بابِ کمراٹ کے راستے تھل کی طرف آئیں۔
تھل تک اپنی کار وغیرہ میں باآسانی آیا جا سکتا ہے۔ چکدرہ سے شرینگل پاتراک تک سڑک کافی بہتر ہے، جبکہ پاتراک سے آگے صورتِ حال تھوڑی مختلف ہے کہیں پکی اور کہیں کچی سڑک ہے۔ تاہم عام کار بھی آرام سے تھل تک پہنچ سکتی ہے
اگر آپ پشاور، کوہاٹ یا دیگر علاقوں سے لوکل ٹرانسپورٹ کے ذریعے آ رہے ہیں تو پہلے مردان یا تیمرگرہ پہنچیں۔ مردان اور تیمرگرہ سے روزانہ تھل کے لیے لوکل گاڑیاں نکلتی ہیں۔
کمراٹ ویلی ایک پُرامن اور محفوظ علاقہ ہے۔ یہاں رات کے وقت بھی سفر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم فارسٹ ایریا میں احتیاط ضرور کریں۔
سوات کی طرف سے آنے والے دوست اس بات کا خیال رکھیں کہ کالام اور اتروڑ تک عام گاڑی جا سکتی ہے جبکہ اس کے بعد جیپ ٹریک ہے۔ اگر آپ کے پاس وقت بھی ہے اور فور بائی فور (4×4) گاڑی بھی تو یہ راستہ ایک بہترین انتخاب ہو سکتا ہے، کیونکہ اس راستے پر آپ مدین، بحرین، کالام اور اتروڑ کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دشتِ لیلیٰ اور باڈگوئی ٹاپ عبور کرکے تھل پہنچ سکتے ہیں۔
کمراٹ ہم سب کا ہے، اس لیے اسے صاف رکھنا بھی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ لھذا کچرا پھیلانے کے بجائے اسے سمیٹنے کی کوشش کریں۔ درختوں کے نیچے ہانڈی پکانے یا کھانا کھانے کے بعد کچرا بیگز میں ڈالیں اور قریب ترین ہوٹل یا مناسب مقام پر موجود ڈسٹ بن میں تلف کریں۔

اگر کوئی شخص کچرا پھیلاتا ہوا نظر آئے تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے محبت اور احترام سے سمجھائیں کہ قدرتی ماحول کو صاف رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

کمراٹ ویلی کے ہوٹلوں میں قیام یا کھانے کا انتخاب کرتے وقت یہ ضرور دیکھیں کہ وہاں کچرے کے لیے مناسب ڈسٹ بن موجود ہیں یا نہیں۔ اگر کسی ہوٹل کے اردگرد کچرا پھیلا ہوا نظر آئے تو ہوٹل انتظامیہ کو مؤدبانہ انداز میں توجہ دلائیں کہ صفائی کا مناسب انتظام کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

سیاحوں کی رائے اور رویہ کاروبار پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔ اگر ہم اجتماعی طور پر صفائی کا خیال رکھنے والے ہوٹلوں کو ترجیح دیں اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی حوصلہ شکنی کریں تو یقیناً آنے والے سالوں میں صورتِ حال مزید بہتر ہو سکتی ہے۔
دریائے پنجکوڑہ میں جال کے ذریعے مچھلی کے شکار پر پابندی ہے۔ براہِ کرم اس پابندی کا احترام کریں۔

اگر آپ کے لیے کسی ہوٹل والے نے جال یا جال کے ذریعے مچھلی پکڑنے کا انتظام کیا اور اس حوالے سے کوئی قانونی کارروائی ہوئی تو اس کی ذمہ داری آپ پر عائد ہو سکتی ہے۔
ایک ضروری گزارش آپ لوگ جب کمراٹ آتے ہیں تو راستے میں بچے مختلف چیزیں بیچتے نظر آتے ہیں۔
ہم آپ کے خلوص، محبت اور پیار کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں، لیکن راستے میں کھڑے ان بچوں کو مفت پیسے دینے سے گریز کیجیے۔ مفت رقم دینے کا یہ سلسلہ رفتہ رفتہ انہیں گداگری کی طرف مائل کر رہا ہے۔
اس لیے آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ بچوں کو مفت رقم دینے کے بجائے اگر ان سے کچھ خریدیں تو مہربانی ہوگی۔ اس سے ان میں کاروبار کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا اور مانگنے کی عادت بھی پیدا نہیں ہوگی۔ یہ ان کے لیے آپ کی محبت کا کہیں بہتر اور خوبصورت تحفہ ہوگا۔

کیا چیزیں ساتھ لانی چاہئیں؟
کمراٹ آتے ہوئے گرم کپڑے اور جوتے ضرور ساتھ لائیں، کیونکہ بارش کے بعد یہاں کا موسم اچانک سرد ہو سکتا ہے۔ اس کے علاؤہ اپنے ساتھ ٹیلی نار، وارد یا جاز کی سم بھی ضرور رکھیں۔ باقی روزمرہ ضرورت کی زیادہ تر چیزیں تھل بازار میں دستیاب ہیں۔
تھل سے کمراٹ تک راستہ فور بائی فور گاڑیوں کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اس لیے اپنی کار پر رحم کریں۔ عام کار کمراٹ کے راستے پر چلتی کم اور قیلولہ زیادہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں ٹریفک جام ہو جاتا ہے اور دوسرے سیاحوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گمنام کوہستانی







Address

Kumrat Valley Dir Upper KP
Kumrat
18000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kumrat Valley posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share